السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
924. -- باب: في قيام الليل
-- باب: قیام اللیل (رات کی نماز) کے بیان میں
حدیث نمبر: 4638
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ (ح) قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ثنا قَتَادَةُ، ثنا زُرَارَةُ بْنُ أَوَفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَنْ؟ قَالَ: عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأْتِهَا فَسَلْهَا، ثُمَّ أَعْلِمْنِي مَا تَرُدُّ عَلَيْكَ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهَا فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَصْحَبْتُهُ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى عَائِشَةَ، فَاسْتَأْذَنَّا فَدَخَلْنَا، فَقَالَتْ:" مَنْ هَذَا؟" قَالَ: حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ، فَقَالَتْ:" مَنْ هَذَا مَعَكَ؟" قُلْتُ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَتْ:" وَمَنْ هِشَامٌ؟" قُلْتُ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَتْ:" نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ، أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ" قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ:" فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ" قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي، فَقُلْتُ:" أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ" قَالَتْ:" أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ:" فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى افْتَرَضَ الْقِيَامَ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، ⦗٧٠٤⦘ وَأَمْسَكَ اللهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ" قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي وِتْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ:" كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ، ثُمَّ يَحْمَدُ رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ وَيَدَعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنِيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ، يَا بُنِيَّ، وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَلَبَهُ قِيَامُ اللَّيْلِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَّاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا قَطُّ كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ" فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَدِيثِهَا، فَقَالَ: صَدَقْتَ وَكَانَ أَوَّلَ أَمْرِ سَعْدٍ، قَالَ ابْنُ بِشْرٍ: يَعْنِي أَوَّلُ أَمْرِهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَةً، ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَبِيعُ عَقَارًا لَهُ بِهَا وَيَجْعَلُهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ، ثُمَّ يُجَاهِدُ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ فَبَلَغَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْهُمْ سِتَّةً أَرَادُوا وَذَلِكَ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، لَفْظُ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور وتر کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”کیا میں تجھے بتاؤں کہ تمام لوگوں سے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے متعلق کون جانتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: کون؟ فرمایا: ”عائشہ رضی اللہ عنہا، ان کے پاس جاؤ اور سوال کرو، جو جواب دیں مجھے بھی بتانا۔“ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف چلا اور راستے سے حکیم بن افلح کو ساتھ لے لیا۔ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اجازت لے کر داخل ہوئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ”یہ کون؟“ میں نے کہا: حکیم بن افلح۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ”آپ کے ساتھ کون؟“ میں نے کہا: سعد بن ہشام۔ کہنے لگیں: ”ہشام کون؟“ میں نے کہا: ابن عامر۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: ”عامر اچھا آدمی تھا، احد کے دن زخمی کیا گیا۔“ میں نے کہا: ام المؤمنین! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں خبر دیں، فرمانے لگیں: ”کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تو تھا۔“
سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا، پھر مجھے (ایک اور سوال) سوجھا۔ میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بارے میں خبر دیں۔ فرمانے لگیں: ”کیا تو نے پڑھا نہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] اے کپڑا اوڑھنے والے!“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ فرمایا: ”اس سورہ کی ابتدا میں اللہ نے رات کا قیام فرض قرار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم ایک سال تک اتنا قیام کرتے کہ ان کے پاؤں سوج جاتے۔ اللہ نے اس حکم کو آسمانوں میں بارہ مہینے روکے رکھا، پھر اس سورہ کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی، قیام اللیل نفل ہوگیا۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وتر یاد آ گیا۔ میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتاؤ۔ فرمانے لگیں: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کا جتنا حصہ بیدار کرنا چاہتے کردیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک اور وضو کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات پڑھتے، صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے، پھر کھڑے ہوجاتے اور سلام نہیں پھیرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نویں رکعت پڑھتے اور بیٹھ جاتے، پھر اللہ کی حمد بیان کرتے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے۔ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے تھے، یہ گیارہ رکعات ہیں۔ اے بیٹے! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بڑھ گئی اور بدن بھاری ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعات وتر پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعات پڑھیں۔ اے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی نماز پڑھتے اور پسند فرماتے تھے کہ اس پر ہمیشگی کی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اللیل اگر کسی وجہ سے رہ جاتا تو دن کو بارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات میں مکمل قرآن کی تلاوت کی ہو، پوری رات کا قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینہ کے کامل روزے رکھے ہوں۔“ راوی کہتے ہیں پھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان کو خبر دی تو وہ کہنے لگے: ”وہ سچ فرماتی ہیں۔“ اور سعد کا ابتدائی معاملہ یہ تھا، ابن بشر کہتے ہیں: یعنی ان کا ابتدائی معاملہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور مدینہ کی طرف کوچ کیا تاکہ وہاں اپنی جائیداد بیچ کر ہتھیار اور گھوڑے خریدیں، پھر مرتے دم تک رومیوں سے جہاد کریں۔ پھر ان کی ملاقات اپنی قوم کے کچھ لوگوں سے ہوئی تو انہوں نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ان میں سے چھ آدمیوں نے یہی ارادہ کیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4638]
سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا، پھر مجھے (ایک اور سوال) سوجھا۔ میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بارے میں خبر دیں۔ فرمانے لگیں: ”کیا تو نے پڑھا نہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] اے کپڑا اوڑھنے والے!“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ فرمایا: ”اس سورہ کی ابتدا میں اللہ نے رات کا قیام فرض قرار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم ایک سال تک اتنا قیام کرتے کہ ان کے پاؤں سوج جاتے۔ اللہ نے اس حکم کو آسمانوں میں بارہ مہینے روکے رکھا، پھر اس سورہ کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی، قیام اللیل نفل ہوگیا۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وتر یاد آ گیا۔ میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتاؤ۔ فرمانے لگیں: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کا جتنا حصہ بیدار کرنا چاہتے کردیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک اور وضو کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات پڑھتے، صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے، پھر کھڑے ہوجاتے اور سلام نہیں پھیرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نویں رکعت پڑھتے اور بیٹھ جاتے، پھر اللہ کی حمد بیان کرتے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے۔ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے تھے، یہ گیارہ رکعات ہیں۔ اے بیٹے! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بڑھ گئی اور بدن بھاری ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعات وتر پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعات پڑھیں۔ اے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی نماز پڑھتے اور پسند فرماتے تھے کہ اس پر ہمیشگی کی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اللیل اگر کسی وجہ سے رہ جاتا تو دن کو بارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات میں مکمل قرآن کی تلاوت کی ہو، پوری رات کا قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینہ کے کامل روزے رکھے ہوں۔“ راوی کہتے ہیں پھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان کو خبر دی تو وہ کہنے لگے: ”وہ سچ فرماتی ہیں۔“ اور سعد کا ابتدائی معاملہ یہ تھا، ابن بشر کہتے ہیں: یعنی ان کا ابتدائی معاملہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور مدینہ کی طرف کوچ کیا تاکہ وہاں اپنی جائیداد بیچ کر ہتھیار اور گھوڑے خریدیں، پھر مرتے دم تک رومیوں سے جہاد کریں۔ پھر ان کی ملاقات اپنی قوم کے کچھ لوگوں سے ہوئی تو انہوں نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ان میں سے چھ آدمیوں نے یہی ارادہ کیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4638]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 746»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4639
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَنْبُوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" فِي الْمُزَّمِّلِ {قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِصْفَهُ} [المزمل: ٢] نَسَخَتْهُ الْآيَةُ الَّتِي فِيهَا {عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} وَنَاشِئَةُ اللَّيْلِ: أَوَّلُهُ، كَانَتْ صَلَاتُهُمْ لَأَوَّلِ اللَّيْلِ يَقُولُ: هُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا، مَا فَرَضَ اللهُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْإِنْسَانَ إِذَا نَامَ لَمْ يَدْرِ مَتَى يَسْتَيْقِظُ، وَقَوْلُهُ: {أَقْومُ قِيلًا} [المزمل: ٦] هُوَ أَجْدَرُ أَنْ يُفْقَهَ فِي الْقُرْآنِ، وَقَوْلُهُ {إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا} [المزمل: ٧] يَقُولُ: فَرَاغًا طَوِيلًا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورہ المزمل کی آیت ﴿قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا * نِصْفَهُ﴾ [سورة المزمل: 2-3] ”رات کا قیام کریں مگر تھوڑا، آدھی رات“ کو منسوخ کر دیا اس آیت نے: ﴿عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ [سورة المزمل: 20] ”اللہ جانتا ہے کہ تم اس کو ہرگز نہ نبھا سکو گے، پس اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا جتنا قرآن تمہارے لیے آسان ہے اتنا ہی پڑھو۔“ یہ ان کی ابتدائی رات کی نماز تھی۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ زیادہ مناسب ہے کہ تم شمار کر سکو جو اللہ نے رات کی نماز سے تمہارے اوپر فرض کیا ہے۔ جب انسان سو جاتا ہے، وہ نہیں جانتا وہ کب بیدار ہو گا، اور اللہ کا فرمان ﴿أَقْوَمُ قِيلًا﴾ [سورة المزمل: 6] ”اور بات کو بہت درست کر دینے والا ہے“ یہ زیادہ لائق ہے کہ وہ قرآن کو سمجھ سکے، اور اللہ کا فرمان ﴿إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا﴾ [سورة المزمل: 7] ”یقیناً دن میں آپ کو بہت مصروفیت رہتی ہے“ سے مراد «سَبْحًا طَوِيلًا» ”زیادہ فراغت“ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4639]
حدیث نمبر: 4640
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ:" لَمَّا نَزَلَ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا، فَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا قَرِيبٌ مِنْ سَنَةٍ".
سماک حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ جب سورہ مزمل کا ابتدائی حصہ نازل ہوا تو لوگ رات کا قیام ماہ رمضان کی طرح کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورہ مزمل کا آخری حصہ نازل ہوا۔ سورہ مزمل کے ابتدائی حصہ اور آخری حصہ کے نزول میں تقریباً ایک سال کا وقفہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4640]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
925. -- باب: الترغيب في قيام الليل
-- باب: قیام اللیل کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 4641
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا، فَقَالَ:" أَلَا تُصَلِّيَانِ؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَيَقُولُ: {وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: ٥٤] رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے اور اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم دونوں رات کو نماز نہیں پڑھتے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں بیدار کرنا چاہے تو ہمیں بیدار کر دیتا ہے، جب میں نے جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا اور میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس جاتے ہوئے فرما رہے تھے اور اپنے ہاتھ اپنی ران پر مار رہے تھے: ” ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [سورة الكهف: 54] “ ”انسان بہت زیادہ جھگڑالو ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4641]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4642
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا أَعْزُبَ، فَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ: فَرَأَيْتُ كَأَنَ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي قَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: انْطَلِقْ بِهِ إِلَى النَّارِ قَالَ: فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ النَّارِ قَالَ: فَلَقِيَنَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي: لَمْ تُرَعْ، قَالَ: فَانْطَلَقُوا بِي حَتَّى وَقَفْنَا عَلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَيِ الْبِيرِ، قَالَ: وَرَأَيْتُ فِيهَا رِجَالًا أَعْرِفُهُمْ قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهَا فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللهِ لَوْ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ" قَالَ سَالِمٌ: فَكَانَ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مَحْمُودٍ، وَإِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جب کوئی آدمی خواب دیکھتا تو اپنا خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کرتا۔ وہ فرماتے ہیں کہ میری بھی تمنا تھی کہ میں خواب دیکھوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کروں، میں کنوارہ نوجوان تھا اور مسجد میں سوتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ دو فرشتے میرے پاس آئے، ایک نے کہا: ”اس کو آگ کی طرف لے چلو۔“ میں نے کہنا شروع کر دیا: ”میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جہنم سے۔“ پھر ہمیں دوسرا فرشتہ ملا اس نے مجھے کہا: ”گھبراؤ نہیں“، وہ مجھے جہنم کی طرف لے کر چلے اور ہم جہنم کے کنارے پر کھڑے تھے، اس کی دو منڈیریں تھیں جیسے کنوئیں کی ہوتی ہیں، میں نے ان میں ایسے مرد دیکھے جن کو میں جانتا تھا۔ صبح کے وقت میں نے اپنا خواب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو سنایا تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ کتنا اچھا آدمی ہے اگر وہ رات کا قیام کرے۔“ سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو بہت کم سوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4642]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2479»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4643
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ، كُلُّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ مَكَانَهَا عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَإِنْ ذَكَرَ رَبَّهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ ⦗٧٠٦⦘ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہ لگا دیتا ہے۔ ہر گرہ لگاتے وقت وہ کہتا ہے کہ رات بڑی لمبی ہے تو سو جا، جب وہ بیدار ہوتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس کی گرہ کھل جاتی ہے۔ اگر وضو کرلے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور انسان صبح خوشی کی حالت میں کرتا ہے۔ اگر وہ یہ کام نہ کرے تو صبح کرتا ہے اور وہ بالکل سست ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4643]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 7776»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4644
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ (ح) وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رحم فرمائے اس شخص پر جو رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتا ہے، اگر وہ انکار کرے تو اس پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے، اور اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتی ہے اور اپنے خاوند کو بیدار کرتی ہے، اگر وہ بیدار ہونے سے انکار کر دے تو اس کے چہرے پر چھینٹے مارتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4644]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن خزيمه 1148»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4645
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِهْرَجَانِيُّ ابْنُ السِّقَاءِ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ أَخُو الْحَسَنِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ثنا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا كُتِبَا لَيْلَتَئِذٍ مِنَ الذَّاكِرِينَ اللهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ".
سیدنا ابو سعید اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو بیدار ہو اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے اور دونوں اکٹھے دو رکعات نماز پڑھیں، تو اس رات ان دونوں کو اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4645]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن حبان 2569»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4646
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَلَا ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، جَعَلَهُ فِي كَلَامِ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: فَأَرَاهُ ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدِيثُ سُفْيَانَ مَوْقُوفٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ مَرْفُوعًا نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
ایضاً۔
سفیان نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا اور نہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا، بلکہ اسے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کا قول بنایا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4646]
سفیان نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا اور نہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا، بلکہ اسے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کا قول بنایا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4646]
حدیث نمبر: 4647
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: لَمَّا أَنْ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَانْجَفَلَ النَّاسُ قَبْلَهُ، فَقَالُوا: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجِئْتُ فِي النَّاسِ؛ لَأَنْظُرَ إِلَى وَجْهِهِ، فَلَمَّا أَنْ رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ ⦗٧٠٧⦘ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ سَمِعْتُ مِنْهُ أَنْ قَالَ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ".
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے اور کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں بھی لوگوں کے ساتھ مل کر آیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کروں۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ دیکھا تو میں نے پہچان لیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا، سب سے پہلی جو بات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی وہ یہ ہے: ”اے لوگو! کھانا کھلاؤ، سلام کرو، صلہ رحمی کرو اور رات کو نماز پڑھو، جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4647]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ترمذي 2485»
الحكم على الحديث: صحيح