السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
934. -- باب: صفة القراءة في صلاة الليل في الرفع والخفض
-- باب: رات کی نماز میں بلند اور پست آواز سے قراءت کرنے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4698
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَدْرِ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ". رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: يَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ مَنْ وَرَاءَ الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ.
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرأت اس قدر بلند آواز سے کرتے کہ جو حجرہ میں ہو وہ سن لے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجرہ گھر میں تھا۔
(ب) سیدنا سعید بن منصور رحمہ اللہ، ابن ابی زناد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت حجرہ کے باہر تک سنائی دیتی تھی اور حجرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر میں ہی تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4698]
(ب) سیدنا سعید بن منصور رحمہ اللہ، ابن ابی زناد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت حجرہ کے باہر تک سنائی دیتی تھی اور حجرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر میں ہی تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4698]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداؤد 1327»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 4699
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَّ كُرَيْبًا أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ فَقَالَ:" كَانَ يَقْرَأُ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ فَيَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ مَنْ كَانَ خَارِجًا".
کریب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کیسی تھی؟ وہ کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی حجرہ میں تلاوت کرتے تو جو باہر ہوتا اس کو سن لیتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4699]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ النسائي في الكبري 499»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4700
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّالَحِينِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ، وَمَرَّ بِعُمَرَ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ، فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِكَ" قَالَ: لَقَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ فَقَالَ:" مَرَرْتُ بِكَ يَا عُمَرُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أحْتَسِبُ بِهِ، أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا"، وَقَالَ لِعُمَرَ:" اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا"..
عبداللہ بن رباح، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ آہستہ آواز سے تلاوت کر رہے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو وہ بلند آواز سے قرأت کر رہے تھے۔ جب دونوں رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابوبکر! میرا گزر تیرے پاس سے ہوا تو تم نماز کی حالت میں اپنی آواز کو پست کیے ہوئے تھے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سنا رہا تھا اس کو جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عمر! میں تیرے پاس سے گزرا تو تم نے اپنی آواز کو بلند کیا ہوا تھا۔“ تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں سوئے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنی آواز کو تھوڑا سا بلند کرو“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنی آواز کو تھوڑا سا پست کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4700]
تخریج الحدیث: «ابوداؤد 1329»
الحكم على الحديث: ابوداؤد 1329
حدیث نمبر: 4701
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا إِلَى قَوْلِهِ، قَالَ: فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللهِ، أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ".
ثابت بنانی رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سونے والوں کو بیدار کرنا چاہتا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4701]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداؤد 1329»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4702
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو حُصَيْنِ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ لَمْ يَذْكُرْ: فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" ارْفَعْ شَيْئًا" وَلَا لِعُمَرَ" اخْفِضْ شَيْئًا" قَالَ:" وَقَدْ سَمِعْتُكَ يَا بِلَالُ، وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ، وَمِنْ هَذِهِ السُّورَةِ". قَالَ: كَلَامٌ طَيِّبٌ يَجْمَعُهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّكُمْ قَدْ أَصَابَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قصہ کو نقل فرماتے ہیں، لیکن انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اپنی آواز کو بلند کرو اور نہ ہی یہ لفظ ذکر کیے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنی آواز کو پست کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! میں نے سنا ہے تو فلاں فلاں سورہ پڑھتا ہے۔“ وہ کہنے لگے: عمدہ اور پاکیزہ کلام ہے، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ جمع کر دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے درستگی کو پا لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4702]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداؤد 1330»
الحكم على الحديث: حسن
935. -- باب: من لم يرفع صوته بالقراءة شديدا إذا كان يتأذى به من حوله
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے قراءت میں اپنی آواز کو بہت زیادہ بلند نہیں کیا جب اس سے اردگرد کے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہو۔
حدیث نمبر: 4703
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَا: أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَكَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَكَشَفَ الْمَسْتُورَةَ وَقَالَ:" أَلَا إِنَّ كُلَّكُمْ يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا يَرْفَعَنَّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ صحابہ بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور فرمایا: ”کیا تم اپنے رب سے سرگوشی نہیں کر رہے؟ تم ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو اور تم ایک دوسرے سے نماز میں قراءت بلند نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4703]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداؤد 1332»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4704
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ التَّمَّارِ، عَنِ الْبَيَاضِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ:" إِنَّ الْمُصَلِّيَ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلْيَنْظُرْ مَا يُنَاجِيهِ بِهِ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ".
ابوحازم تمار، بیاضی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف آئے اور وہ نماز پڑھ رہے تھے اور قراءت کی وجہ سے ان کی آوازیں بلند تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، وہ دیکھے، وہ کیا سرگوشی کر رہا ہے اور تم ایک دوسرے سے قراءت بلند نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4704]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 177»
الحكم على الحديث: صحيح
936. -- باب: من جهر بها إذا كان من حوله لا يتأذى بقراءته
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے قراءت بآوازِ بلند کی جب اس کے اردگرد موجود لوگوں کو اس کی قراءت سے تکلیف نہ پہنچتی ہو۔
حدیث نمبر: 4705
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الزَّهْرَانِيُّ أَبُو إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ ⦗١٨⦘ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ بِاللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ:" يَرْحَمُهُ اللهُ، لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً نُسِّيتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ آدَمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، وَأَخْرَجَاهُ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا وہ رات کے وقت مسجد میں قرأت کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد کروا دی ہے، جو میں فلاں سورت سے بھول گیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4705]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2512»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4706
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُ اللهُ فُلَانًا، كَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ ذَكَّرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ أَسْقَطْتُهَا".
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک شخص نے رات کا قیام کیا اور بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں آدمی پر اللہ رحم کرے کہ اس نے مجھے فلاں آیت یاد کروا دی جو میں بھول گیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4706]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4707
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ:" رَحِمَهُ اللهُ، لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً كُنْتُ أَسْقَطْتُهَا عَنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ أُسَامَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا وہ رات کو قرأت کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَرْحَمُهُ اللهُ» ”اللہ اس پر رحم فرمائے، اس نے مجھے فلاں سورت کی آیت یاد کروا دی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4707]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح