السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
400. -- باب: من قال بتثنية الإقامة وترجيع الأذان
-- باب: اقامت کے کلمات دو دو بار (جفت) کہنے اور اذان میں ترجیع کے قائلین کا بیان
حدیث نمبر: 1970
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، أنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ ⦗٦١٥⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشَرَةٍ مِنْ مَكَّةَ أَطْلُبُهُمْ فَسَمِعْتُهُمْ يُؤَذِّنُونَ لِلصَّلَاةِ فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَقَدْ سَمِعْتُ فِي هَؤُلَاءِ تَأْذِينَ إِنْسَانٍ حَسَنِ الصَّوْتِ" فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَأَذَّنَّا رَجُلًا رَجُلًا فَكُنْتُ آخَرَهُمْ فَقَالَ حِينَ أَذَّنْتُ:" تَعَالَ" فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِي وَبَارَكَ عَلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ فَأَذِّنْ عِنْدَ الْبَيْتِ الْحَرَامِ قُلْتُ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَعَلَّمَنِي الْأَذَانَ كَمَا يُؤَذِّنُونَ الْآنَ بِهَا: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ ألَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَلَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِي الْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ قَالَ: وَقَدْ عَلَّمَنِي الْإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي هَذَا عُثْمَانُ كُلَّهُ عَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ كَذَا رَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس لوٹے تو میں دسواں مکہ سے نکلا تاکہ میں انہیں تلاش کروں۔ میں نے لوگوں کو سنا وہ نماز کے لیے اذان کہتے تھے، ہم کھڑے ہوتے اور ہم بھی اذان دیتے تھے اور ان کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان لوگوں میں اچھی آواز والے انسان کی اذان سنی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف کسی کو بھیجا تو ایک ایک نے اذان دی، میں ان میں سے آخری تھا۔ جب میں نے اذان دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور تین مرتبہ میرے لیے برکت کی دعا کی، پھر فرمایا: ”جا تو بیت اللہ کے پاس اذان دے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیسے۔؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اذان سکھائی جس طرح اب مؤذن اذان دیتے ہیں: «اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے“ صبح کی پہلی اذان میں، «اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ اس نے کہا اور مجھ کو دو دو مرتبہ اقامت سکھائی: «اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، یقیناً نماز کھڑی ہو گئی، یقیناً نماز کھڑی ہو گئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1970]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1971
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ثنا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِيُّ ثنا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، أَخْبَرَنِي أَبِي وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي التَّكْبِيرِ فِي صَدْرِ الْأَذَانِ أَرْبَعًا قَالَ: وَعَلَّمَنِي الْإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَذَكَرَ الْإِقَامَةَ مُفْرَدَةً كَمَا تَرَى وَصَارَ قَوْلُهُ مَرَّتَيْنِ عَائِدًا إِلَى كَلِمَةِ الْإِقَامَةِ وَعَلَى ذَلِكَ تَدُلُّ أَيْضًا رِوَايَةُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ⦗٦١٦⦘.
(الف) سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حنین کی طرف نکلے انہوں نے اذان کے شروع میں چار مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا: ”آپ نے مجھ کو دو مرتبہ اقامت سکھائی: «اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» “ اقامت کے کلمات مفرد کہے اور «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» دو مرتبہ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1971]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1972
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبٍ مَوْلَاهُمْ، عَنْ أَبِيهِ الشَّيْخِ مَوْلَى أَبِي مَحْذُورَةَ وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ حَجَّاجٍ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: إِذَا أَقَمْتَ فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ أَسَمِعْتَ، وَزَادَ فَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لَا يُجُزُّ نَاصِيَتَهُ وَلَا يَفْرِقُهَا لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ: التَّرْجِيعُ فِي الْأَذَانِ مَعَ تَثْنِيَةِ الْإِقَامَةِ مِنْ جِنْسِ الِاخْتِلَافِ الْمُبَاحِ فَمُبَاحٌ أَنْ يُؤَذِّنَ الْمُؤَذِّنُ فَيُرَجِّعَ فِي الْأَذَانِ وَيُثَنِّيَ الْإِقَامَةَ وَمُبَاحٌ أَنْ يُثَنِّيَ الْأَذَانَ وَيُفْرِدَ الْإِقَامَةَ إِذْ قَدْ صَحَّ كِلَا الْأَمْرَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا تَثْنِيَةُ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فَلَمْ يَثْبُتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَمْرَ بِهِمَا، قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي صِحَّةِ التَّثْنِيَةِ فِي كَلِمَاتِ الْإِقَامَةِ سِوَى التَّكْبِيرِ وَكَلِمَتَيِ الْإِقَامَةِ نَظَرٌ فَفِي اخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ مَا يُوهِمُ أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ بِالتَّثْنِيَةِ عَادَ إِلَى كَلِمَتَيِ الْإِقَامَةِ وَفِي دَوَامِ أَبِي مَحْذُورَةَ وَأَوْلَادِهِ عَلَى تَرْجِيعِ الْأَذَانِ وَإِفْرَادِ الْإِقَامَةِ مَا يُوجِبُ ضَعْفَ رِوَايَةِ مَنْ رَوَى تَثْنِيَتَهُمَا أَوْ يَقْتَضِي أَنَّ الْأَمْرَ صَارَ إِلَى مَا بَقِيَ عَلَيْهِ هُوَ وَأَوْلَادُهُ وَسَعْدُ الْقَرَظُ وَأَوْلَادُهُ فِي حَرَمِ اللهِ تَعَالَى وَحَرَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ وَقَعَ التَّغَيُّرُ فِي أَيَّامِ الْمِصْرِيِّينَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
(الف) سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور اس حدیث کے آخر میں ہے کہ ”جب تو اقامت کہے تو دو مرتبہ کہہ: «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» کیا تو نے سن لیا؟“
اور اس نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے: ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اپنی پیشانی کے بال نہیں کاٹتے تھے اور نہ ہی مانگ نکالتے تھے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ہاتھ پھیرا تھا۔
(ب) محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اذان میں ترجیع، اقامت کے دو مرتبہ کے ساتھ جنسِ اختلاف ہے، مؤذن کا اذان ترجیع سے کہنا اور اقامت دو مرتبہ کہنا مباح ہے۔ اس طرح اذان کے کلمات دو دو بار کہنا اور اقامت مفرد کہنا بھی مباح ہے۔ یہ دونوں طریقے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ اذان اور اقامت کے کلمات دو دو بار کہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ (جس طرح آج کل مروجہ طریقہ ہے)
(ج) «اللَّهُ أَكْبَرُ» اور «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» کے سوا باقی کلماتِ اقامت دوبارہ کہنا محل نظر ہے۔ روایات میں اختلاف سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم دو بار کا صرف «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» کے لیے ہے۔ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کا اذان میں ترجیع اور اقامت کے مفرد کہنے پر ہمیشگی کرنا ان روایات کے ضعیف ہونے کے وجوب پر دلیل ہے، جس نے انہیں دو دو بار نقل کیا۔ یہ معاملہ اس بات کا متقاضی ہے کہ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد، سیدنا سعد قرظ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد جب تک زندہ رہی حرم میں اذان کہتی رہی اور اس کے بعد تغیر مصریوں کے دورِ حکومت میں واقع ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1972]
اور اس نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے: ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اپنی پیشانی کے بال نہیں کاٹتے تھے اور نہ ہی مانگ نکالتے تھے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ہاتھ پھیرا تھا۔
(ب) محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اذان میں ترجیع، اقامت کے دو مرتبہ کے ساتھ جنسِ اختلاف ہے، مؤذن کا اذان ترجیع سے کہنا اور اقامت دو مرتبہ کہنا مباح ہے۔ اس طرح اذان کے کلمات دو دو بار کہنا اور اقامت مفرد کہنا بھی مباح ہے۔ یہ دونوں طریقے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ اذان اور اقامت کے کلمات دو دو بار کہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ (جس طرح آج کل مروجہ طریقہ ہے)
(ج) «اللَّهُ أَكْبَرُ» اور «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» کے سوا باقی کلماتِ اقامت دوبارہ کہنا محل نظر ہے۔ روایات میں اختلاف سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم دو بار کا صرف «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» کے لیے ہے۔ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کا اذان میں ترجیع اور اقامت کے مفرد کہنے پر ہمیشگی کرنا ان روایات کے ضعیف ہونے کے وجوب پر دلیل ہے، جس نے انہیں دو دو بار نقل کیا۔ یہ معاملہ اس بات کا متقاضی ہے کہ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد، سیدنا سعد قرظ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد جب تک زندہ رہی حرم میں اذان کہتی رہی اور اس کے بعد تغیر مصریوں کے دورِ حکومت میں واقع ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1972]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1973
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: أَدْرَكْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ يُؤَذِّنُ كَمَا حَكَى ابْنُ مُحَيْرِيزٍ يَعْنِي بِالتَّرْجِيعِ قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْنَى مَا حَكَى ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَسَمِعْتُهُ يُقِيمُ فَيَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ ⦗٦١٧⦘ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَسَمِعْتُهُ يَحْكِي الْإِقَامَةَ خَبَرًا كَمَا يَحْكِي الْأَذَانَ وَفِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيِّ عَنِ الشَّافِعِيِّ فِي مَسْأَلَةِ كَيْفِيَّةِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: الرِّوَايَةُ فِيهِ تُكَلِّفُ الْأَذَانَ خَمْسَ مَرَّاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ فِي الْمَسْجِدَيْنِ عَلَى رُءُوسِ الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرِينَ وَمُؤَذِّنُو مَكَّةَ آلُ أَبِي مَحْذُورَةَ، وَقَدْ أَذَّنَ أَبُو مَحْذُورَةَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَّمَهُ الْأَذَانَ ثُمَّ وَلَّاهُ بِمَكَّةَ وَأَذَّنَ آلُ سَعْدِ الْقَرَظِ مُنْذُ زَمَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَزَمَنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كُلُّهُمْ يَحْكُونَ الْأَذَانَ وَالْإِقَامَةَ وَالتَّثْوِيبَ وَقْتَ الْفَجْرِ كَمَا قُلْنَا فَإِنْ جَازَ أَنْ يَكُونَ هَذَا غَلَطًا مِنْ جَمَاعَتِهِمْ وَالنَّاسُ بِحَضْرَتِهِمْ وَيَأْتِينَا مِنْ طَرَفِ الْأَرْضِ مَنْ يُعَلِّمُنَا جَازَ لَهُ أَنْ يَسْأَلَهُ عَنْ عَرَفَةَ وَعَنْ مِنًى ثُمَّ يُخَالِفُنَا وَلَوْ خَالَفَنَا فِي الْمَوَاقِيتِ كَانَ أَجْوَزَ لَهُ فِي خِلَافِنَا مِنْ هَذَا الْأَمْرِ الظَّاهِرِ الْمَعْمُولِ بِهِ.
(الف) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبدالملک بن ابی محذورہ کو پایا، وہ اسی طرح اذان دیتے تھے جیسے ابن محیریز نے بیان کیا ہے، یعنی ترجیع کے ساتھ، اور میں نے انہیں اپنے والد سے، انہوں نے ابن محیریز سے، انہوں نے سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی بیان کرتے سنا جو ابن جریج نے بیان کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے انہیں اقامت کہتے سنا، وہ کہتے تھے: «اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ، حَيَّ عَلَی الصَّلٰوةِ، حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے انہیں اقامت کو بھی اسی طرح بطورِ روایت بیان کرتے سنا جیسے وہ اذان کو بیان کرتے تھے۔
(ب) حسن بن محمد بن صباح زعفرانی کی روایت میں، جو امام شافعی رحمہ اللہ سے اذان اور اقامت کی کیفیت کے مسئلے میں ہے، امام صاحب فرماتے ہیں: اس مسئلے میں روایات کا سہارا لینا تکلف ہے، کیونکہ دونوں مسجدوں میں دن رات پانچ مرتبہ انصار و مہاجرین کے سامنے اذان ہوتی ہے، اور مکہ کے مؤذن آلِ ابو محذورہ ہیں۔ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اذان سکھائی، پھر انھیں مکہ میں مقرر فرمایا، اور آلِ سعد قرظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مدینہ میں اذان دیتے رہے۔ وہ سب اذان، اقامت اور فجر کے وقت تثویب «اَلصَّلٰوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» کو اسی طرح بیان کرتے ہیں جیسے ہم نے کہا۔ اگر یہ ممکن ہو کہ یہ ان سب کی غلطی ہو، حالانکہ لوگ ان کے سامنے موجود ہیں، اور زمین کے کنارے سے کوئی ہمیں سکھانے آ جائے، تو اس کے لیے یہ بھی جائز ہوگا کہ وہ عرفہ اور منیٰ کے بارے میں پوچھے پھر ہماری مخالفت کرے، اور اگر وہ مواقیت میں ہماری مخالفت کرتا تو یہ اس کے لیے اس ظاہر اور معمول بہ معاملے میں مخالفت سے زیادہ جائز ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1973]
(ب) حسن بن محمد بن صباح زعفرانی کی روایت میں، جو امام شافعی رحمہ اللہ سے اذان اور اقامت کی کیفیت کے مسئلے میں ہے، امام صاحب فرماتے ہیں: اس مسئلے میں روایات کا سہارا لینا تکلف ہے، کیونکہ دونوں مسجدوں میں دن رات پانچ مرتبہ انصار و مہاجرین کے سامنے اذان ہوتی ہے، اور مکہ کے مؤذن آلِ ابو محذورہ ہیں۔ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اذان سکھائی، پھر انھیں مکہ میں مقرر فرمایا، اور آلِ سعد قرظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مدینہ میں اذان دیتے رہے۔ وہ سب اذان، اقامت اور فجر کے وقت تثویب «اَلصَّلٰوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» کو اسی طرح بیان کرتے ہیں جیسے ہم نے کہا۔ اگر یہ ممکن ہو کہ یہ ان سب کی غلطی ہو، حالانکہ لوگ ان کے سامنے موجود ہیں، اور زمین کے کنارے سے کوئی ہمیں سکھانے آ جائے، تو اس کے لیے یہ بھی جائز ہوگا کہ وہ عرفہ اور منیٰ کے بارے میں پوچھے پھر ہماری مخالفت کرے، اور اگر وہ مواقیت میں ہماری مخالفت کرتا تو یہ اس کے لیے اس ظاہر اور معمول بہ معاملے میں مخالفت سے زیادہ جائز ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1973]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1974
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ السُّنَّةِ فِي الْأَذَانِ فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ أَنْتُمْ فِي الْأَذَانِ وَعَمَّنْ أَخَذْتُمُ الْأَذَانَ؟ قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَابْنُ جَابِرٍ وَغَيْرُهُمَا أَنَّ بِلَالًا لَمْ يُؤَذِّنْ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرَادَ الْجِهَادَ فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ مَنْعَهُ وَحَبْسَهُ فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ أَعْتَقْتَنِي لِلَّهِ فَلَا تَحْبِسْنِي عَنِ الْجِهَادِ وَإِنْ كُنْتَ أَعْتَقْتَنِي لِنَفْسِكَ أَقَمْتُ، فَخَلَّى سَبِيلُهَ وَكَانَ بِالشَّامِ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْجَابِيَةَ فَسَأَلَ الْمُسْلِمُونَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَسْأَلَ لَهُمْ بِلَالًا يُؤَذِّنُ لَهُمْ فَسَأَلَهُ فَأَذَّنَ لَهُمْ يَوْمًا أَوْ قَالُوا: صَلَاةً وَاحِدَةً قَالُوا: فَلَمْ يُرَ يَوْمًا كَانَ أَكْثَرَ بَاكِيًا مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ حِينَ سَمِعُوا صَوْتَهُ ذِكْرًا مِنْهُمْ لِرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: فَنَحْنُ نَرَى أَوْ نَقُولُ: إِنَّ أَذَانَ أَهْلِ الشَّامِ عَنْ أَذَانِهِ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ مَالِكٌ: لَا أَدْرِي مَا أَذَانُ يَوْمٍ أَوْ صَلَاةُ يَوْمٍ أَذَّنَ سَعْدُ الْقَرَظُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ فِيهِ فَلَمْ يُنْكِرْهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فَكَانَ سَعْدٌ وَبَنُوهُ يُؤَذِّنُونَ بِأَذَانِهِ إِلَى الْيَوْمِ وَلَوْ كَانَ وَالٍ يَسْمَعُ مِنِّي لَرَأَيْتُ أَنْ يَجْمَعَ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَلَى أَذَانِهِمْ فَقِيلَ لِمَالِكٍ: فَكَيْفَ كَانَ أَذَانُهُمْ؟ قَالَ: يَقُولُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ⦗٦١٨⦘ حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ قَالَ: وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ: فَأَرَى فُقَهَاءَ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ قَدْ أَجْمَعُوا عَلَى إِفْرَادِ الْإِقَامَةِ وَاخْتَلَفُوا فِي الْأَذَانِ فَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ أَذَانَ أَبِي مَحْذُورَةَ مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَأَصْحَابُهُمَا وَاخْتَارَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ أَذَانَ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ الشَّيْخُ: مِنْهُمُ الْأَوْزَاعِيُّ كَانَ يَخْتَارُ تَثْنِيَةَ الْأَذَانِ وَإِفْرَادَ الْإِقَامَةِ وَإِلَى إِفْرَادِ الْإِقَامَةِ ذَهَبَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ وَالزُّهْرِيُّ وَمَكْحُولٌ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي مَشْيَخَةٍ جِلَّةٍ سِوَاهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
ولید بن مسلم کہتے ہیں: میں نے سیدنا مالک بن انس رحمہ اللہ سے اذان میں سنت طریقے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”تم اذان میں کیا کہتے تھے اور تم نے اذان کس سے سیکھی ہے؟“ ولید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: مجھ کو سعید بن عبد العزیز اور ابن جابر اور ان کے علاوہ نے خبر دی کہ بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لیے اذان نہیں دی اور انہوں نے جہاد کا ارادہ کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں روکنا چاہا تو انہوں نے کہا: ”اگر آپ نے مجھے اللہ کے لیے آزاد کیا ہے تو آپ مجھے جہاد سے نہ روکیں اور اگر آپ نے اپنی ذات کے لیے آزاد کیا ہے تو میں ٹھہر جاتا ہوں“، انہوں نے ان کا راستہ چھوڑ دیا، وہ شام میں تھے یہاں تک کہ ان کے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جابیہ میں آئے، مسلمانوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ ان کے لیے بلال رضی اللہ عنہ سے اذان کہنے کا کہیں، انہوں نے کہا تو بلال رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے اس دن اذان دی یا انہوں نے کہا: ایک نماز کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ اس دن ان سے زیادہ رونے والا کوئی نہ تھا جس وقت انہوں نے ان کی آواز سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرتے ہوئے۔ انہوں نے کہا: ہم دیکھتے ہیں یا کہا: ہم کہتے ہیں اہل شام کی اذان اس دن ان کی اذان کے مطابق تھی۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا سعد القرظ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اس مسجد میں صحابہ کرام کی کثیر تعداد کی موجودگی میں ایک دن یا ایک نماز کی اذان نہیں کہی بلکہ تسلسل سے اذان کہتے رہے اور کسی نے بھی انکار نہیں کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے آج تک اذان دیتے ہیں اور اگر کوئی والی ہوتا جو مجھ سے سنتا اور میں دیکھتا کہ وہ اس امت کو ان کی اذان پر جمع کرتا۔ امام مالک رحمہ اللہ سے کہا گیا: ان کی اذان کیسے تھی؟ انہوں نے کہا: وہ کہتے تھے: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں“، پھر لوٹتے کہتے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ اور اقامت ایک ایک مرتبہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1974]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
401. -- باب: ما روي في تثنية الأذان والإقامة
-- باب: اذان اور اقامت کے کلمات دو دو بار کہنے کے متعلق مروی روایات کا بیان
حدیث نمبر: 1975
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ ثنا وَكِيعٌ ثنا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ:" رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ رَجُلًا قَامَ عَلَى جِذْمِ حَائِطٍ فَأَذَّنَ مَثْنَى وَأَقَامَ مَثْنَى وَقَعَدَ قَعْدَةً وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ" هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذٍ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا جو دیوار کے اوپر کھڑا تھا، اس نے دوہری اذان کہی اور دوہری اقامت کہی، پھر وہ بیٹھ گیا، اس پر دو سبز چادریں تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1975]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 5/232»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1976
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو صَالِحِ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ثنا الْمَسْعُودِيُّ ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ:" أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي رُؤْيَا عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ وَذَكَرَ الْأَذَانَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: فِي آخِرِ أَذَانِهِ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ثُمَّ أَمْهَلَ شَيْئًا ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَ الَّذِي قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذٍ وَقِيلَ: عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز تین حالتوں میں تبدیل کی گئی، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کی حدیث بیان کی اور دو دو مرتبہ اذان ذکر کی، پھر اذان کے آخر میں کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پھر تھوڑی دیر رکے رہے، پھر کھڑے ہوئے اور اسی کی مثل کہا، مگر «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”یقیناً نماز کھڑی ہوگئی، یقیناً نماز کھڑی ہوگئی“ کے الفاظ زیادہ کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1976]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1977
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ ثنا ابْنُ ⦗٦١٩⦘ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِهِ فِي رُؤْيَا هُوَ كَذَلِكَ رَوَاهُ شَرِيكٌ وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: اسْتَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فِي الْأَذَانِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: فَأَذَّنَ مَثْنَى مَثْنَى ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَةً ثُمَّ أَقَامَ مَثْنَى مَثْنَى..
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے اذان کے متعلق مشورہ لیا۔۔۔ پھر لمبی حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ انہوں نے اذان دو دو مرتبہ کہی، پھر بیٹھ گئے، پھر دو دو مرتبہ اقامت کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1977]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1978
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، فَذَكَرَهُوَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ ابْنُ فُضَيْلٍ وَغَيْرُهُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَالْحَدِيثُ مَعَ الِاخْتِلَافِ فِي إِسْنَادِهِ مُرْسَلٌ لِأَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا وَلَا عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ وَلَمْ يُسَمِّ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْهُمَا وَلَا عَنْ أَحَدِهِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَلَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ صَاحِبِ الْأَذَانِ فَغَيَرُ جَائِزٍ أَنْ يُحْتَجَّ بِخَبَرٍ غَيْرِ ثَابِتٍ عَلَى أَخْبَارٍ ثَابِتَةٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ أَخْبَارٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ قَدْ بَيَّنْتُ ضَعْفَهَا فِي الْخِلَافِيَّاتِ وَأَمْثَلُ إِسْنَادٍ رُوِيَ فِي تَثْنِيَةِ الْإِقَامَةِ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ⦗٦٢١⦘ وَهُوَ إِنْ صَحَّ فَكُلُّ أَذَانٍ رَوَى ثُنَائِيَّةً فَهُوَ بَعْدَ رُؤْيَا عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ فَيَكُونُ أَوْلَى مِمَّا رُوِيَ فِي رُؤْيَاهُ مَعَ الِاخْتِلَافِ فِي كَيْفِيَّةِ رُؤْيَاهُ فِي الْإِقَامَةِ فَالْمَدَنِيُّونَ يَرْوُونَهَا مُفْرَدَةً وَالْكُوفِيُّونَ يَرْوُونَهَا ⦗٦٢٢⦘ مَثْنَى مَثْنَى وَإِسْنَادُ الْمَدَنِيِّينَ مَوْصُولٌ وَإِسْنَادُ الْكُوفِيِّينَ مُرْسَلٌ وَمَعَ مَوْصُولِ الْمَدَنِيِّينَ مُرْسَلُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَهُوَ أَصَحُّ التَّابِعِينَ إِرْسَالًا ثُمَّ مَا رُوِّينَا مِنَ الْأَمْرِ بِالْإِفْرَادِ بَعْدَهُ وَفِعْلُ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(الف) حصین نے ہمیں بیان کیا ہے۔ (ب) محدثین کی ایک جماعت نے عبدالرحمن بن ابولیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ (ج) یہ حدیث اپنی سند میں اختلاف کے باوجود مرسل ہے، کیونکہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے نہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو پایا اور نہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو، اور نہ ہی انہوں نے اس شخص کا نام لیا جس نے ان دونوں سے یا ان میں سے کسی ایک سے انہیں یہ حدیث بیان کی۔
محمد بن اسحاق بن خزیمہ کہتے ہیں: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے نہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اور نہ صاحبِ اذان سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ سے، لہٰذا غیر ثابت روایت کو ثابت روایات کے مقابلے میں دلیل بنانا جائز نہیں۔
اس باب میں دوسری سندوں سے بھی روایات آئی ہیں جو سب ضعیف ہیں، میں نے ان کا ضعف الخلافیات میں بیان کر دیا ہے۔ اقامت کو دو دو مرتبہ کہنے کے بارے میں سب سے بہتر سند عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی حدیث ہے، اور اگر وہ صحیح بھی ہو تو ہر وہ اذان جو دو دو مرتبہ روایت کی گئی ہے وہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کے بعد کی ہے، تو وہ ان کے خواب میں مروی کیفیت سے اولیٰ ہوگی، جبکہ ان کے خواب میں اقامت کی کیفیت میں بھی اختلاف ہے: اہل مدینہ اسے مفرد روایت کرتے ہیں اور اہل کوفہ دو دو مرتبہ۔ اہل مدینہ کی سند موصول ہے اور اہل کوفہ کی سند مرسل، اور اہل مدینہ کی موصول روایت کے ساتھ سعید بن مسیب کی مرسل روایت بھی ہے جو تابعین میں سب سے زیادہ صحیح مرسل روایت کرنے والے ہیں، پھر اس کے بعد مفرد کہنے کا وہ حکم ہے جو ہم نے روایت کیا ہے، اور اہل حرمین کا عمل بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1978]
محمد بن اسحاق بن خزیمہ کہتے ہیں: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے نہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اور نہ صاحبِ اذان سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ سے، لہٰذا غیر ثابت روایت کو ثابت روایات کے مقابلے میں دلیل بنانا جائز نہیں۔
اس باب میں دوسری سندوں سے بھی روایات آئی ہیں جو سب ضعیف ہیں، میں نے ان کا ضعف الخلافیات میں بیان کر دیا ہے۔ اقامت کو دو دو مرتبہ کہنے کے بارے میں سب سے بہتر سند عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی حدیث ہے، اور اگر وہ صحیح بھی ہو تو ہر وہ اذان جو دو دو مرتبہ روایت کی گئی ہے وہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کے بعد کی ہے، تو وہ ان کے خواب میں مروی کیفیت سے اولیٰ ہوگی، جبکہ ان کے خواب میں اقامت کی کیفیت میں بھی اختلاف ہے: اہل مدینہ اسے مفرد روایت کرتے ہیں اور اہل کوفہ دو دو مرتبہ۔ اہل مدینہ کی سند موصول ہے اور اہل کوفہ کی سند مرسل، اور اہل مدینہ کی موصول روایت کے ساتھ سعید بن مسیب کی مرسل روایت بھی ہے جو تابعین میں سب سے زیادہ صحیح مرسل روایت کرنے والے ہیں، پھر اس کے بعد مفرد کہنے کا وہ حکم ہے جو ہم نے روایت کیا ہے، اور اہل حرمین کا عمل بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1978]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
402. -- باب: التثويب في أذان الصبح
-- باب: صبح (فجر) کی اذان میں تثویب (الصلاة خير من النوم کہنے) کا بیان
حدیث نمبر: 1979
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو الْمُثَنَّى ثنا مُسَدَّدٌ ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِي سُنَّةَ الْأَذَانِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ:" حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَإِنْ كَانَ صَلَاةُ الصُّبْحِ قُلِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ".
محمد بن عبدالملک بن ابومحذورہ اپنے دادا (سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اذان کا طریقہ سکھاؤ۔“ اس میں ہے کہ «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”اگر صبح کی نماز ہو تو کہو: «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ»، «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1979]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ