السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
948. -- باب: من أوتر بخمس أو ثلاث لا يجلس ولا يسلم إلا في الآخرة منهن
-- باب: جس نے پانچ یا تین وتر پڑھے، وہ ان کے آخر ہی میں بیٹھے اور سلام پھیرے۔
حدیث نمبر: 4808
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ قَالَ: قِيلَ لِلْحَسَنِ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسَلِّمُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ، فَقَالَ:" كَانَ عُمَرُ أَفْقَهَ مِنْهُ، كَانَ يَنْهَضُ فِي الثَّالِثَةِ بِالتَّكْبِيرِ".
حبیب معلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما وتر کی دو رکعات میں سلام پھیرتے تھے۔ وہ کہنے لگے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے زیادہ سمجھدار تھے، وہ تو تیسری رکعت میں تکبیر کے ذریعہ اٹھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4808]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ حاكم 1/447»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4809
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ" أَنَّهُ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ، وَلَا يَتَشَهَّدُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ.
قیس بن سعد رحمہ اللہ، عطا رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ تین وتر پڑھتے تھے اور درمیان میں نہ بیٹھتے تھے اور تشہد بھی آخری رکعت میں پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4809]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ حاكم 1/447»
الحكم على الحديث: صحيح
949. -- باب: من أوتر بتسع أو بسبع يجلس في الأخريين منهن ويسلم في آخرهن
-- باب: جس نے نو یا سات وتر پڑھے، وہ ان کی آخری دو رکعتوں میں بیٹھے اور ان کے آخر میں سلام پھیرے۔
حدیث نمبر: 4810
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا وَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ، ثُمَّ يُجَاهِدُ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ، فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَيْسَ فِيكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟" فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى رَجْعَتِهَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ:" أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" إِيتِ عَائِشَةَ فَسَلْهَا، ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ". قَالَ: فَأَتَيْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ:" مَا أَنَا بِقَارِبِهَا، إِنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الْبَيْعَتَيْنِ شَيْئًا، فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا"، فَأَقْسَمْتُ فَجَاءَ مَعِي فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: حَكِيمٌ؟ وَعَرَفَتْهُ، قَالَ: نَعَمْ، أَوْ بَلَى، قَالَتْ: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَتْ: ابْنُ عَامِرٍ؟ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ، وَقَالَتْ:" نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ" فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْقُرْآنِ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي قِيَامُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَأَمْسَكَ اللهُ خَاتِمَتَهَا فِي ⦗٤٤⦘ السَّمَاءِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا مِنْ بَعْدِ فَرِيضَةٍ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ ثُمَّ بَدَا لِي وِتْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كُنَّا نَعُدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَجْلِسُ وَيُذْكُرُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو وَيَسْتَغْفِرُ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ فَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ، فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يَدُومَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ أَوْ مَرَضٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ، وَمَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ". فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ: صَدَقَتْ، أَمَا لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي مُشَافَهَةً". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ.
زرارہ بن ابی اوفی، سعد بن ہشام رحمہما اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر مدینہ کی طرف کوچ کیا تاکہ اپنے گھر کا سامان بیچ دیں اور اس سے اسلحہ خرید کر رومیوں کے خلاف جہاد میں شامل ہوجائیں اور اپنی شہادت تک جہاد کرتے رہیں۔ وہ کہتے ہیں: میری قوم کے لوگوں کا ایک گروہ مجھے ملا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں چھ آدمیوں نے اس بات کا ارادہ کیا تھا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے لیے میری ذات میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے منع کر دیا۔ چنانچہ سعد بن ہشام نے انہیں اپنی بیوی سے رجوع پر گواہ بنا لیا۔ پھر وہ ہماری طرف لوٹے اور انہوں نے بتایا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تجھے اس کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمام لوگوں سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کو جانتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں سوال کرو، پھر واپس آ کر مجھے بھی بتانا جو وہ جواب دیں۔ سعد بن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں حکیم بن افلح رحمہ اللہ کے پاس آیا اور میں نے ان کو ساتھ لیا، وہ کہنے لگے: میں ان کے قریب نہیں جاؤں گا، میں نے ان کو منع کیا تھا کہ وہ ان دو بیعتوں کے بارے میں کچھ نہ کہیں، مگر انہوں نے ان کے بارے میں اپنی رائے پر چلنے کے سوا ہر بات سے انکار کر دیا۔ تو میں نے انہیں قسم دی۔ سعد بن ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھ حکیم بن افلح آئے اور ہم سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے تو سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: حکیم؟ انہوں نے آپ کو پہچان لیا تو حکیم نے کہا: جی ہاں۔ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تیرے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: سعد بن ہشام۔ فرماتی ہیں: عامر کا بیٹا؟ اللہ ان پر رحم کرے، اور فرمایا: عامر اچھا آدمی تھا۔ میں نے کہا: اے ام المؤمنین! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے۔ فرماتی ہیں: کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تھا۔ سعد بن ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیامِ لیل کے بارے میں پوچھنے کا خیال آیا، تو سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے یہ سورت نہیں پڑھی: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! فرماتی ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا میں رات کے قیام کو فرض کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک سال تک رات کا قیام کیا یہاں تک کہ ان کے پاؤں سوج گئے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے اختتام کو بارہ ماہ تک روکے رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرما دی، چنانچہ فرض ہونے کے بعد رات کا قیام نفل بن گیا۔ سعد بن ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھنے کا خیال آیا۔ میں نے کہا: اے ام المؤمنین! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتائیے۔ فرماتی ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر دیتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ رات کے جس حصے میں چاہتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کر دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک اور وضو فرماتے، پھر آٹھ رکعتیں نماز ادا کرتے، ان میں کسی رکعت میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے، اس میں بیٹھتے، اللہ کا ذکر کرتے، دعا مانگتے اور پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے، پھر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھ جاتے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے، اس کا ذکر کرتے اور دعا مانگتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا سلام پھیرتے جو ہمیں سنا دیتے تھے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، اے میرے بیٹے! یہ گیارہ رکعتیں ہو جاتی تھیں۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک زیادہ ہو گئی اور جسم بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات وتر پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کیں، اے میرے بیٹے! یہ نو رکعتیں تھیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی کو پسند فرماتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے قیام سے نیند، تکلیف یا بیماری مانع ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں بارہ رکعتیں ادا فرما لیتے، اور مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک ہی رات میں صبح تک پورا قرآن پڑھا ہو، یا پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں۔ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو وہ فرمانے لگے: سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے سچ فرمایا ہے، اگر میں ان کے پاس جاتا تو میں ان سے بالمشافہ بات کر لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4810]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 746»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4811
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ:" فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ فَيَحْمَدُ اللهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ، ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِي السَّابِعَةِ فَيَحْمَدُ اللهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بڑھ گئی اور جسم بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعات پڑھتے اور چھٹی رکعت میں تشہد کرتے اور اللہ کی حمد و ثنا کرتے، اللہ سے دعا کرتے، پھر کھڑے ہو جاتے، لیکن سلام نہ پھیرتے تھے۔ پھر ساتویں رکعت میں بیٹھ جاتے۔ اللہ کی حمد کرتے، اللہ سے دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سنوا دیا کرتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے، اے بیٹے! یہ نو رکعات تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4811]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ماقبله»
الحكم على الحديث: صحيح
950. -- باب: من أوتر بثلاث موصولات بتشهدين وتسليم
-- باب: جس نے دو تشہد اور ایک سلام کے ساتھ متصل تین وتر پڑھے۔
حدیث نمبر: 4812
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" الْوِتْرُ ثَلَاثٌ كَوِتْرِ النَّهَارِ الْمَغْرِبِ". هَذَا صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ قَوْلِهِ غَيْرَ مَرْفُوعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَفَعَهُ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي الْحَوَاجِبِ الْكُوفِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرِوَايَتُهُ تُخَالِفُ رِوَايَةَ الْجَمَاعَةِ عَنِ الْأَعْمَشِ.
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”وتر تین ہیں جیسے دن کا وتر مغرب ہے“، یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہے۔
یحییٰ بن زکریا بن ابی الحواجب کوفی نے اسے اعمش سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بنا کر روایت کیا ہے، لیکن وہ ضعیف ہے اور اس کی روایت اعمش سے روایت کرنے والی جماعت کی روایت کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4812]
یحییٰ بن زکریا بن ابی الحواجب کوفی نے اسے اعمش سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بنا کر روایت کیا ہے، لیکن وہ ضعیف ہے اور اس کی روایت اعمش سے روایت کرنے والی جماعت کی روایت کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4812]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطبراني في الكبير 9420»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4813
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" الْوِتْرُ سَبْعٌ أَوْ خَمْسٌ وَلَا أَقَلُّ مِنْ ثَلَاثٍ". وَقِيلَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَمَوْقُوفٌ.
اعمش رحمہ اللہ اپنے بعض ساتھیوں سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وتر سات یا پانچ ہیں، تین سے کم نہیں ہیں۔
اعمش سے ابراہیم کے واسطے سے بھی منقول ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا، لیکن یہ منقطع اور موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4813]
اعمش سے ابراہیم کے واسطے سے بھی منقول ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا، لیکن یہ منقطع اور موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4813]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4814
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسَلِّمُ فِي رَكْعَتَيِ الْوِتْرِ" كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عُرْوَةَ، وَقَالَ أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ: يُوتِرُ بِثَلَاثٍ لَا يَقْعُدُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ. وَرَوَاهُ الْجَمَاعَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، وَهَمَّامِ بْنِ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ كَمَا سَبَقَ ذِكْرُهُ فِي وِتْرِهِ بِتِسْعٍ ثُمَّ بِسَبْعٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، ⦗٤٦⦘ وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الْوَهَّابِ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ اخْتِصَارًا مِنَ الْحَدِيثِ. وَرِوَايَةُ أَبَانَ خَطَأٌ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ وَرَدَ الْخَبَرُ بِالنَّهْيِ عَنِ الْوِتْرِ بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مُتَشَبِّهَةً بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ.
سعد بن ہشام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی دو رکعات میں سلام نہیں پھیرتے تھے۔
(ب) ابان، قتادہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ تین وتر پڑھتے اور آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
عبدالوہاب کی روایت حدیث کا اختصار معلوم ہوتی ہے اور ابان کی روایت غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4814]
(ب) ابان، قتادہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ تین وتر پڑھتے اور آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
عبدالوہاب کی روایت حدیث کا اختصار معلوم ہوتی ہے اور ابان کی روایت غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4814]
تخریج الحدیث: «حاكم 1/446»
الحكم على الحديث: حاكم 1/446
حدیث نمبر: 4815
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُوتِرُوا بِثَلَاثٍ تُشَبِّهُوا بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ، أَوْتِرُوا بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تین وتر نہ پڑھو، تم اس کو مغرب کی نماز کے مشابہ کر دو گے، وتر سات یا پانچ پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4815]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن حبان 2429»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4816
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ طَاهِرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقِ بْنِ قُرَّةَ بْنِ نَهِيكَ بْنِ مُجَاهِدٍ الْهِلَالِيُّ بِمِصْرَ ثنا أَبِي، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُوتِرُوا بِثَلَاثٍ تُشَبِّهُوا بِالْمَغْرِبِ، وَلَكِنْ أَوْتِرُوا بِخَمْسٍ أَوْ بِسَبْعٍ أَوْ بِتِسْعٍ أَوْ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ". وَرَوَاهُ ابْنُ بُكَيْرٍ عَنِ اللَّيْثِ كَمَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تین وتر نہ پڑھو اور اس کو مغرب کے مشابہہ نہ کرو بلکہ تم پانچ، سات، نو، گیارہ یا اس سے زیادہ رکعات وتر پڑھا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4816]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ حاكم 1/446»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 4817
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" لَا تُوتِرُوا بِثَلَاثٍ". قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ مَوْقُوفًا.
عراک بن مالک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”تم تین وتر نہ پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4817]
تخریج الحدیث: «جيد۔ الطحاوي 1/292»
الحكم على الحديث: جيد