🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
996. -- باب: ما يؤمر به من أكل شيئا من ذلك أن يميته بالطبخ
-- باب: ان میں سے کوئی چیز کھانے والے کو دیے گئے اس حکم کا بیان کہ وہ اسے پکا کر اس کی بو ختم کر دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5067
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يَسْتَطِعْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ". قَالَ: فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". ⦗١١٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْجُعْفِيِّ.
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل والے ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو جماعت کروائیں۔ تم تو یوسف علیہ السلام کی عورتوں کی طرح ہو۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لوگوں کو جماعت کروائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5067]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 663»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
997. جماع أبواب صلاة الإمام قاعدا بقيام، وقائما بقعود وغير ذلك -- باب: ما يستحب للإمام من الاستخلاف إذا لم يستطع القيام في الصلاة
امام کے بیٹھ کر اور مقتدیوں کے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے، یا امام کے کھڑے ہو کر اور مقتدیوں کے بیٹھ کر نماز پڑھنے اور اس کے علاوہ دیگر صورتوں کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: امام کے لیے کسی کو اپنا جانشین بنانا مستحب ہے جب وہ نماز میں کھڑا ہونے کی طاقت نہ رکھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5068
بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ لِلْإِمَامِ مِنَ الِاسْتِخْلَافِ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعِ الْقِيَامَ فِي الصَّلَاةِ.
یہ باب اس بارے میں ہے کہ جب امام نماز میں کھڑے ہونے کی استطاعت نہ رکھے تو اس کے لیے کسی دوسرے کو اپنا جانشین (خلیفہ) بنانا مستحب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q5068]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5068
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حسین بن علی (جعفی) نے اسی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے، البتہ انہوں نے کچھ الفاظ زائد ذکر کیے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5068]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5069
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: سَقَطَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب زخمی ہو گئی۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمار داری کے لیے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھی، ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا: ”امام بنایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ جب وہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہے تو تم بھی «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہے تو تم بھی «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”ربنا ولک الحمد“ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5069]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 371»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5070
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو گر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب زخمی ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز بیٹھ کر پڑھائی تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ اٹھے تو تم بھی اٹھو اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5070]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5071
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ ⦗١١٣⦘ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا". زَادَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: وَهُوَ شَاكٌّ فَصَلَّى جَالِسًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر بیٹھ کر نماز پڑھی اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ ”تم بھی بیٹھ جاؤ۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ اپنا سر اٹھا لے تو تم بھی سر اٹھا لو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ اور شافعی کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے تو بیٹھ کر نماز پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5071]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 656»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
998. -- باب: ما روي في صلاة المأموم جالسا إذا صلى الإمام جالسا
-- باب: اس روایت کا بیان کہ جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5072
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام بنایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا تم اس سے اختلاف نہ کرو۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ کہے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» تو تم «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5072]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 678»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5073
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْعَزَائِمِيُّ، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فَكَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ لِيُسْمِعَنَا، فَبَصُرَ بِنَا قِيَامًا، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ:" كِدْتُمْ أَنْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ لِعُظَمَائِهِمْ، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ، فَإِنْ صَلُّوا قِيَامًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلُّوا جُلُوسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا". لَفْظُ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ، وَزَادَ دَاوُدُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ، فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيُسْمِعَنَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ فِيهِ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ.
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی تکبیر کہی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ وہ ہمیں سنوا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھڑے ہوئے دیکھا تو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ جب نماز پوری کی تو فرمایا: ”قریب ہے کہ تم بھی وہی کام کرو جو فارس و روم والے اپنے بڑوں کے لیے کرتے تھے۔ تم اپنے اماموں کی اقتدا کیا کرو۔ اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“
(ب) داؤد کی حدیث میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو ابوبکر بھی تکبیر کہتے تاکہ ہمیں سنوا دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5073]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 413»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5074
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" صُرِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَقَعَدَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي تَطَوُّعًا، فَصَلَّى قَاعِدًا وَنَحْنُ ⦗١١٤⦘ قِيَامٌ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي صَلَاةً مَكْتُوبَةً قَاعِدًا، قَالَ: فَقُمْنَا، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا فَجَلَسْنَا، ثُمَّ قَالَ:" ائْتَمُّوا بِالْإِمَامِ، إِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَلَا تَفْعَلُوا كَمَا تَفْعَلُ فَارِسَ لِعُظَمَائِهَا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹخنا نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر بیٹھ گئے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری کے لیے آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ نفل نماز بیٹھ کر پڑھ رہے تھے اور ہم کھڑے تھے۔ پھر ہم آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز بیٹھ کر پڑھ رہے تھے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا، ہم بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا: ”تم اپنے امام کی پیروی کرو۔ اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور تم ایسا نہ کرو جیسے فارسی اپنے بڑوں کے لیے کرتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5074]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ماقبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5075
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الضُّبَعِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَؤُمَنَّ أَحَدٌ بَعْدِي جَالِسًا". قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ..
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کوئی بھی بیٹھ کر امامت نہ کروائے۔“
علی بن عمر (دارقطنی) فرماتے ہیں: اسے جابر جعفی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا اور وہ متروک ہے۔ اور یہ حدیث مرسل ہے، اس سے دلیل قائم نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5075]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الحارث في مسند 147»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں