🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1052. -- باب: الصلاة خلف من لا يحمد فعله
-- باب: اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جس کے افعال قابلِ ستائش نہ ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5304
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْبَكَّاءِ قَالَ:" أَدْرَكْتُ عَشَرَةً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ يُصَلِّي خَلْفَ أَئِمَّةِ الْجَوْرِ".
عبد الکریم بکاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے دس صحابہ رضی اللہ عنہم کو پایا جو تمام ظالم امراء کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5304]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ بخاري في تاريخهٖ 6/90»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5305
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي الْمَخْرَمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا يُونُسُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُسَلِّمُ عَلَى الْخَشَبِيَّةِ وَالْخَوَارِجِ وَهُمْ يَقْتَتِلُونَ، فَقَالَ:" مَنْ قَالَ: حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ أَجَبْتُهُ، وَمَنْ قَالَ: حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ أَجَبْتُهُ، وَمَنْ قَالَ: حِيَّ عَلَى قَتْلِ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ وَأَخْذِ مَالِهِ، قُلْتُ: لَا".
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خشبیہ اور خوارج کو سلام کہتے تھے اور وہ آپس میں لڑتے بھی تھے۔ فرماتے تھے: ”جو کہتا ہے نماز کی طرف آؤ، میں اس کی بات کو قبول کرتا ہوں اور جو کہتا ہے «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“ میں اس کی بات بھی قبول کرتا ہوں اور جو کہے گا کہ اپنے مسلمان بھائی کو قتل کر یا اس کا مال لوٹنے کے لیے آؤ تو میں انکار کر دوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5305]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابو نعيم في العلية 1/309»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1053. -- باب: الصلاة بأمر الوالي
-- باب: حاکم کے حکم سے نماز پڑھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5306
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّلَاةِ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ"، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيحَ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ التُفِتَ إِلَيْهِ، فَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ". ⦗١٧٥⦘ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی طرف صلح کی خاطر گئے اور نماز کا وقت ہو گیا۔ مؤذن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے کہ میں اقامت کہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“، آپ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور لوگ نماز میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (صفوں کو) جدا کرتے ہوئے آئے اور صف میں کھڑے ہو گئے۔ پھر لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں التفات نہیں کرتے تھے۔ جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے التفات کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ”اپنی جگہ پر رہو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے اور اللہ کی حمد بیان کی، اس بات پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹے اور صف میں کھڑے ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! کس چیز نے آپ کو منع کیا کہ آپ اپنی جگہ پر ثابت رہیں؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یہ بات ابن ابی قحافہ کو لائق نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز پڑھائے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں بہت زیادہ تالیاں بجاتے دیکھتا ہوں؟ جب کوئی مسئلہ نماز میں پیش آئے تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہا کرو، کیونکہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کی وجہ سے اس کی جانب التفات کیا جائے گا اور تالیاں بجانا تو عورتوں کا کام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5306]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5254»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5307
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَقَالَ لِبِلَالٍ:" إِذَا حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَلَمْ آتِكَ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَقَدَّمَ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِي آخِرِهِ:" إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ، وَلْتُصَفِّقِ النِّسَاءُ". قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ لِبِلَالٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ حَفِظَهَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَالزِّيَادَةُ فِي مِثْلِهِ مَقْبُولَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان لڑائی ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے بعد ان کے درمیان صلح کے لیے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر عصر کا وقت ہو جائے اور میں تمہارے پاس نہ آؤں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہنا کہ وہ نماز پڑھائیں۔“ جب عصر کا وقت ہوا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ پھر اقامت کہی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا، وہ آگے بڑھے۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ ”جب نماز میں کوئی چیز پیش آئے تو مردوں کے لیے «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا اور عورتوں کے لیے تالیاں بجانے کا حکم ہے۔“
اس حدیث میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ایک اضافہ ہے جسے حماد بن زید نے محفوظ رکھا ہے، اور اس جیسی صورت میں اضافہ مقبول ہوتا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5307]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1054. -- باب: الصلاة بغير أمر الوالي
-- باب: حاکم کے حکم کے بغیر نماز پڑھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5308
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَحَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَحَمْزَةَ ابْنَيِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَارَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَلَمَّا دَنَا الْفَجْرُ عَدَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَعَدَلْتُ مَعَهُ، فَأَنَاخَ فَتَبَرَّزَ، وَمَعِي إِدَاوَةٌ فِيهَا مَاءٌ، فَلَمَّا جَاءَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَنِي فَسَكَبْتُ عَلَى يَدِهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ فِي جُبَّتِهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَتَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ مَعَهُ الْمُغِيرَةُ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَقَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يُصَلِّي لَهُمْ، فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ، فَفَزِعَ النَّاسُ لِذَلِكَ وَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ لِلنَّاسِ:" قَدْ أَصَبْتُمْ أَوْ أَحْسَنْتُمْ". كَذَا قَالَا فِي إِسْنَادِهِ عَنْ عَبَّادٍ عَنْ عُرْوَةَ وَحَمْزَةَ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے، جب فجر قریب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف کو ہوئے، میں بھی ایک جانب ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، میرے پاس پانی کا ایک لوٹا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو مجھے حکم دیا، میں نے لوٹے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دھویا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازو جبہ سے نکال رہے تھے، جب جبہ کی آستینیں تنگ ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکال لیے اور ان کو کہنیوں تک دھویا۔ پھر سر اور موزوں کا مسح کیا اور وضو کیا۔ پھر متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغیرہ (رضی اللہ عنہ) بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز کی حالت میں پایا اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے قبل فجر کی ایک رکعت پڑھا دی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر دوسری رکعت میں لوگوں کے ساتھ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بنائی۔ جب سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کی۔ لوگ اس وجہ سے گھبرا گئے اور اکثر نے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو فرمایا: ”تم درستگی کو پہنچ گئے“ یا فرمایا: ”تم نے درست کام کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5308]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 356»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5309
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، فَقَالَ عَنْ عُرْوَةَ فَقَطْ، وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ:" أَحْسَنْتُمْ أَوْ قَدْ أَصَبْتُمْ" يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُ". أَخْبَرَنَاهُ بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو صحابہ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم نے اچھا کیا“ یا فرمایا: ”تم نے درستگی کو پا لیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر رشک کیا کہ انہوں نے اپنی نماز کو وقت پر پڑھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5309]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ في مسلم 421»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5310
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ:" شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَشَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ".
ابنِ ازہر کے غلام ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عید کی نماز حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ ادا کی ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5310]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 429»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5311
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّفَّارِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيٍّ يَعْنِي ابْنَ الْخِيَارِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ، وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَقَالَ:" إِنِّي أُحْرَجُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَ هَؤُلَاءِ وَأَنْتَ الْإِمَامُ" قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ:" إِنَّ الصَّلَاةَ أَحْسَنُ مَا عَمِلَ النَّاسُ، فَإِذَا رَأَيْتَهُمْ يُحْسِنُونَ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ يُسِيئُونَ فَاجْتَنِبْ مُسِيئَهُمْ".
عبید اللہ بن عدی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جب کہ وہ محصور تھے اور علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ اور کہا: مجھے ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے میں حرج محسوس ہوتا ہے جبکہ امام آپ ہیں، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز لوگوں کے تمام اعمال سے بہتر ہے۔ جب تو دیکھے کہ وہ نیکی کرتے ہیں تو تو بھی ان کے ساتھ نیکی کر اور جب تو دیکھے کہ لوگ برائی کرتے ہیں تو تو ان سے بچ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5311]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 663»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5312
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ: أَنَّهُ رَأَى صَاحِبَ الْمَقْصُورَةِ فِي الْفِتْنَةِ حِينَ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ يَتْبَعُ النَّاسَ، يَقُولُ: مَنْ يُصَلِّي لِلنَّاسِ؟ حَتَّى انْتَهَى إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ:" إِذًا تَقَدَّمْ أَنْتَ فَصَلِّ بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ".
قاری ابو جعفر فرماتے ہیں کہ انہوں نے صاحبِ مقصورہ کو فتنے کے دور میں دیکھا، جب نماز کا وقت ہوا تو وہ لوگوں کے پیچھے پیچھے نکلے اور پوچھتے جاتے: لوگوں کو کون نماز پڑھائے گا؟ یہاں تک کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچ گئے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تب تو آپ خود آگے بڑھیں اور لوگوں کو امامت کرائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5312]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن قدامه المفتي 2/90»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1055. -- باب: الإمام يؤخر الصلاة والقوم لا يخشونه
-- باب: امام نماز کو مؤخر کرے اور لوگ اس (کے تسلط) سے نہ ڈرتے ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5313
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ أَخَّرَ ⦗١٧٧⦘ الصَّلَاةَ بِالْكُوفَةِ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْوَلِيدُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ أَجَاءَكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ فَسَمْعٌ وَطَاعَةٌ؟ أَمِ ابْتَدَعْتَ الَّذِي صَنَعْتَ؟ قَالَ: لَمْ يَأْتِنَا مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ، وَمَعَاذَ اللهِ أَنْ أَكُونَ ابْتَدَعْتُ، أَبَى الله عَلَيْنَا وَرَسُولُهُ أَنْ نَنْتَظِرَكَ فِي صَلَاتِنَا وَنَتَّبِعَ حَاجَتَكَ".
قاسم بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ولید بن عقبہ نے کوفہ میں نماز کو مؤخر کر دیا اور میں اپنے والد کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، تکبیر کہی اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ولید نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ کو اس پر کس چیز نے ابھارا؟ کیا امیر المؤمنین کی جانب سے کوئی اطاعت کا حکم آیا یا آپ نے اپنی جانب سے اس کی ابتدا کی ہے؟ کہنے لگے: نہ تو امیر المؤمنین کی جانب سے کوئی حکم آیا اور نہ ہی میں نے بدعت جاری کی ہے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے منع کرتے ہیں کہ ہم اپنی نمازوں میں تمہارا انتظار کریں اور تم اپنے کاموں میں مصروف رہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5313]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 1/450»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں