السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
501. -- باب: من قال يقتصر في الأخريين على فاتحة الكتاب
-- باب: جس نے کہا کہ آخری دو رکعتوں میں صرف سورۃ الفاتحہ پر اکتفا کیا جائے گا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2475
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ هَمَّامٌ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ وَيُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هَمَّامٍ.
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں مزید بھی پڑھتے تھے اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے اور ہمیں کوئی آیت سنا دیتے تھے اور جتنی لمبی پہلی رکعت کرتے، اتنی لمبی دوسری نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2475]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 776»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2476
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مِسْعَرٌ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ:" يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، يَعْنِي الْأُولَيَيْنِ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ: وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا فَوْقَ ذَاكَ، أَوْ قَالَ: مَا أَكْثَرُ مِنْ ذَاكَ" وَرُوِّينَا مَا دَلَّ عَلَى هَذَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کی قراءت بھی کی جائے اور کوئی دوسری سورت بھی اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ کی قراءت کی جائے گی۔ ”سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی“ البتہ مزید بھی پڑھ سکتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2476]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 3633»
الحكم على الحديث: صحيح
502. -- باب: من استحب قراءة السورة بعد الفاتحة في الأخريين
-- باب: جس نے آخری دو رکعتوں میں بھی سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت ملانے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2477
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ:" كُنَّا نُحْرِزُ قِيَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَرَزْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَاءَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَحَرَزْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفٍ مِنْ ذَلِكَ، وَحَرَزْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ⦗٩٣⦘ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ" لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ: عَلَى قَدْرِ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
(ا) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام سے اندازہ لگایا کرتے تھے کہ آپ نے دونوں رکعتوں میں کتنی قراءت کی، ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں اتنا قیام فرماتے جتنی دیر میں سورہ السجدہ کی تلاوت کی جا سکے اور آخری دو رکعتوں میں آپ کا قیام پہلی دو کے نصف کے برابر تھا۔ پھر ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ لگایا تو یہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کی قراءت کے برابر تھا اور عصر کی آخری دو رکعتوں میں عصر کی پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر تھا۔
(ب) مسدد کی حدیث میں ہے: تیس آیات کی قراءت کے برابر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2477]
(ب) مسدد کی حدیث میں ہے: تیس آیات کی قراءت کے برابر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2477]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 7755، مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2478
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ السَّنَدِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً أَوْ قَالَ: نِصْفَ ذَلِكَ، وَفِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تقریباً تیس آیات کے بقدر قراءت کرتے تھے اور ظہر کی آخری دو رکعتوں میں پندرہ آیات کے بقدر یا اس کے نصف کے برابر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور آخری دو رکعتوں میں اس کے نصف کے برابر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2478]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 452»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2479
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ قَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيّ، أَنَّهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ الْمَغْرِبَ، فَقَرَأَ أَبُو بَكْرٍ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ سُورَةٍ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ:" فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنَّ ثِيَابِي لَتَكَادُ أَنْ تَمَسَّ ثِيَابَهُ، فَسَمِعْتُهُ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَهَذِهِ الْآيَةِ {رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ} [آل عمران: ٨] زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ" قَالَ الشَّافِعِيُّ وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: لَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنْ كُنْتُ لَعَلَى غَيْرِ هَذَا حَتَّى سَمِعْتُ بِهَذَا فَأَخَذْتُ بِهِ.
قیس بن حارث فرماتے ہیں کہ مجھے ابو عبداللہ صنابحی نے خبر دی کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ منورہ آئے۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے مغرب کی نماز ادا کی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور چھوٹی سورتوں میں سے ایک ایک سورہ کی قرأت کی، پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں ان کے قریب ہو گیا حتیٰ کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مس ہوا چاہتے تھے۔ میں نے سنا، انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھی اور یہ آیت پڑھی: ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [سورة آل عمران: 8] ”اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا فرما، بیشک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔“
ابوسعید نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ روایت سنی تو فرمایا: ”سننے سے پہلے اس پر میرا عمل نہ تھا، اب میں نے سن لیا ہے تو اس پر عمل کروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2479]
ابوسعید نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ روایت سنی تو فرمایا: ”سننے سے پہلے اس پر میرا عمل نہ تھا، اب میں نے سن لیا ہے تو اس پر عمل کروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2479]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك وعنه الشافعي في الام 7/ 207۔ 228»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2480
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ" إِذَا صَلَّى وَحْدَهُ يَقْرَأُ فِي الْأَرْبَعِ ⦗٩٤⦘ جَمِيعًا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ، وَكَانَ أَحْيَانًا يَقْرَأُ بِالسُّورَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فِي الرَّكْعَةِ الْوَاحِدَةِ فِي صَلَاةِ الْفَرِيضَةِ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ كَذَلِكَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ سُورَةٍ" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّافِعِيُّ الْمَغْرِبَ.
سیدنا نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب اکیلے نماز پڑھتے تو چاروں رکعات میں قراءت کرتے، ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت بھی ملاتے اور کبھی کبھار فرض نماز کی ایک ایک رکعت میں دو دو اور تین سورتیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ اسی طرح مغرب کی دو رکعتوں میں بھی سورہ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے مغرب کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2480]
امام شافعی رحمہ اللہ نے مغرب کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2480]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ موطا 175»
الحكم على الحديث: صحيح
503. -- باب: السنة في تطويل الأوليين وتخفيف الأخريين
-- باب: پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرنے اور آخری دو کو مختصر کرنے کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 2481
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو عَمْرٍو شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ".
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اہل کوفہ نے ہر بات میں تمہاری شکایت کی ہے حتیٰ کہ نماز میں بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2481]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 770»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2482
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، وَاللَّفْظُ لِسُلَيْمَانَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى الصَّلَاةِ" قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَدَقْتَ، ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ" وَفِي حَدِيثِ شَبَابَةَ فَأَمُدُّ بِهِمْ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ بِهِمْ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَقَالَ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
(ا) ابوعون سے روایت ہے کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اہل کوفہ نے ہر بات میں حتیٰ کہ نماز میں بھی تیری شکایت کی ہے۔ انہوں نے عرض کیا: میں تو پہلی دو رکعتیں لمبی کرتا ہوں اور آخری دو رکعتیں مختصر کر کے پڑھتا ہوں اور یہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے لیا ہے، اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کرتا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے سچ فرمایا، تم سے یہی گمان تھا۔
(ب) شبابہ کی حدیث میں ہے کہ میں انہیں پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو اسحاق! میرا تمہارے بارے میں یہی گمان ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2482]
(ب) شبابہ کی حدیث میں ہے کہ میں انہیں پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو اسحاق! میرا تمہارے بارے میں یہی گمان ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2482]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2483
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ بِالطَّابَرَانِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ:" شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ فَعَزَلَهُ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا فَشَكَوْا حَتَّى ذَكَرُوا أَنَّهُ لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ هَؤُلَاءِ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَا تُحْسِنُ تُصَلِّي قَالَ: أَمَّا أَنَا وَاللهِ، فَإِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَخْرِمُ عَنْهَا أُصَلِّي صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَأَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ، فَأَرْسَلَ مَعَهُ رَجُلًا أَوْ ⦗٩٥⦘ رِجَالًا إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْأَلُ عَنْهُ أَهْلَ الْكُوفَةِ فَلَمْ يَدَعْ مَسْجِدًا إِلَّا سَأَلَ عَنْهُ، وَيُثْنُونَ مَعْرُوفًا حَتَّى دَخَلَ مَسْجِدَ بَنِي عَبْسٍ، فَجَلَسَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ أُسَامَةُ بْنُ قَتَادَةَ يُكْنَى أَبَا سَعْدَةَ قَالَ: أَمَا إِذَا أَنَشَدْتَنَا فَإِنَّ سَعْدًا كَانَ لَا يَسِيرُ بِالسَّرِيَّةِ، وَلَا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ وَلَا يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ، قَالَ سَعْدٌ: أَمَا وَاللهِ لَأَدْعُوَنَّ اللهَ بِثَلَاثٍ:" اللهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هَذَا كَاذِبًا قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهُ وَأَطِلْ فَقْرَهُ وَعَرِّضْهُ بِالْفِتَنِ، وَكَانَ بَعْدُ إِذْ يُسْأَلُ يَقُولُ: شَيْخٌ كَبِيرٌ مَفْتُونٌ أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعْدٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ مِنَ الْكِبَرِ، وَإِنَّهُ لَيَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِي فِي الطُّرُقِ يَغْمِزُهُنَّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کوفہ والوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شکایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں معزول کر دیا اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ والوں کا حاکم بنایا۔ کوفہ والوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی کئی شکایتیں کیں، حتیٰ کہ یہ بھی کہہ دیا کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہا: اے ابو اسحاق! کوفہ کے لوگ کہتے ہیں کہ تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے۔ انہوں نے عرض کیا: میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان کو اسی طرح نماز پڑھاتا تھا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھایا کرتے تھے۔ میں نے اس میں ذرا کوتاہی نہیں کی۔ میں عشا کی نماز پڑھاتا ہوں تو پہلی دو رکعتوں کو لمبا اور بعد والی دو رکعتوں کو ہلکا کرتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو اسحاق! تم سے یہی گمان تھا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ ایک یا چند آدمی روانہ کر کے کہا کہ کوفہ والوں سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی شکایات دریافت کریں۔ انہوں نے کوئی مسجد نہ چھوڑی جہاں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں نہ پوچھا ہو۔ سب نے ان کی تعریف ہی کی۔ پھر بنی عبس کی مسجد میں گئے، وہاں ایک شخص کھڑا ہوا جسے اسامہ بن قتادہ کہتے تھے، اس کی کنیت ابو سعدہ تھی۔ اس نے کہا: جب تم ہمیں قسم دیتے ہو تو سچ یہ ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کسی فوج کے ساتھ لڑائی کے لیے نہیں جاتے تھے اور مالِ غنیمت برابر تقسیم نہیں کرتے تھے اور جھگڑے میں انصاف کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھتے تھے۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: خدا کی قسم! میں تیرے لیے تین بددعائیں کروں گا۔ ”اے اللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر لمبی کر اور مدت تک اس کو فقر سے دوچار رکھ اور فتنوں میں مبتلا رکھ۔“ پھر اس شخص کا یہی حال ہوا، اس کے بعد جب اس سے کوئی حال پوچھتا تو کہتا: میں ایک بوڑھا ہوں، میرا یہ حال سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا کی وجہ سے ہوا ہے۔ عبدالملک کہتے ہیں: میں نے بھی اسے دیکھا تھا، وہ اتنا بوڑھا ہو گیا تھا کہ اس کی ابروئیں آنکھوں پر آ گئی تھیں اور وہ راستوں میں کھڑا ہو کر دوشیزاؤں کو آنکھیں مارتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2483]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ ایک یا چند آدمی روانہ کر کے کہا کہ کوفہ والوں سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی شکایات دریافت کریں۔ انہوں نے کوئی مسجد نہ چھوڑی جہاں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں نہ پوچھا ہو۔ سب نے ان کی تعریف ہی کی۔ پھر بنی عبس کی مسجد میں گئے، وہاں ایک شخص کھڑا ہوا جسے اسامہ بن قتادہ کہتے تھے، اس کی کنیت ابو سعدہ تھی۔ اس نے کہا: جب تم ہمیں قسم دیتے ہو تو سچ یہ ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کسی فوج کے ساتھ لڑائی کے لیے نہیں جاتے تھے اور مالِ غنیمت برابر تقسیم نہیں کرتے تھے اور جھگڑے میں انصاف کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھتے تھے۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: خدا کی قسم! میں تیرے لیے تین بددعائیں کروں گا۔ ”اے اللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر لمبی کر اور مدت تک اس کو فقر سے دوچار رکھ اور فتنوں میں مبتلا رکھ۔“ پھر اس شخص کا یہی حال ہوا، اس کے بعد جب اس سے کوئی حال پوچھتا تو کہتا: میں ایک بوڑھا ہوں، میرا یہ حال سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا کی وجہ سے ہوا ہے۔ عبدالملک کہتے ہیں: میں نے بھی اسے دیکھا تھا، وہ اتنا بوڑھا ہو گیا تھا کہ اس کی ابروئیں آنکھوں پر آ گئی تھیں اور وہ راستوں میں کھڑا ہو کر دوشیزاؤں کو آنکھیں مارتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2483]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 755»
الحكم على الحديث: صحيح
504. -- باب: السنة في تطويل الركعة الأولى
-- باب: پہلی رکعت کو لمبا کرنے کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 2484
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"" يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ يُطِيلُ فِي الْأُولَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ"" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت کرتے تھے، پہلی رکعت کو لمبا کرتے اور دوسری رکعت کو چھوٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں اسی طرح کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2484]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 779»
الحكم على الحديث: صحيح