🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
511. -- باب: السنة في وضع الراحتين على الركبتين ونسخ التطبيق
-- باب: ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھنے کی سنت اور تطبیق کے منسوخ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ:" كُنْتُ أُصَلِّي إِلَى جَنْبِ أَبِي فَلَمَّا رَكَعْتُ قُلْتُ كَذَا وَطَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رِجْلَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَ إِلَى الرُّكَبِ".
سیدنا مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے پاس نماز ادا کر رہا تھا۔ جب میں نے رکوع کیا تو میں نے اس طرح کیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو ملا کر انہیں اپنی ٹانگوں کے درمیان رکھ دیا۔ جب میرے والد نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا: ”ہم بھی اس طرح کیا کرتے تھے، لیکن بعد میں ہمیں حکم ملا کہ ہم ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2545]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2546
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ⦗١٢٠⦘ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: أَقْبَلَ عُمَرُ فَقَالَ:" يَا أيُّهَا النَّاسُ سُنَّتْ لَكُمُ الرُّكَبُ فَأَمْسِكُوا بِالرُّكَبِ".
ابو عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہارے لیے سنت طریقہ یہ ہے کہ تم گھٹنوں کو پکڑ لو، لہٰذا رکوع میں گھٹنوں کو پکڑ لیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2546]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2547
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: كُنَّا إِذَا رَكَعْنَا جَعَلْنَا أَيْدِينَا بَيْنَ أَفْخَاذِنَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ الْأَخْذَ بِالرُّكَبِ".
ابوعبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم رکوع کرتے ہوئے اپنے ہاتھ رانوں میں رکھ لیتے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سنت طریقہ گھٹنوں کو پکڑ لینا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2547]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2548
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ الْجُعْفِيِّ قَالَ:" قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَعَلْتُ أُطْبِقُ كَمَا يُطْبِقُ أَصْحَابُ عَبْدِ اللهِ وَأَرْكَعُ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا عَبْدَ اللهِ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا؟ قُلْتُ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يَفْعَلُهُ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ" قَالَ: صَدَقَ عَبْدُ اللهِ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا صَنَعَ الْأَمْرَ، ثُمَّ أَحْدَثَ اللهُ لَهُ الْأَمْرَ الْآخَرَ، فَانْظُرْ مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَاصْنَعْهُ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ كَانَ لَا يُطْبِقُ" قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي صَارَ الْأَمْرُ إِلَيْهِ مَوْجُودٌ فِي حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ وَغَيْرِهِ فِي صِفَةِ رُكُوعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي ذَلِكَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَعْرَفُ بِالنَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) خیثمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ ابوسبرہ جعفی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں مدینہ آیا۔ چونکہ میں بھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی طرح رکوع میں ہاتھ رانوں کے درمیان رکھ لیتا تھا۔ ایک آدمی نے کہا: آپ کو اس کام پر کس نے ترغیب دی؟ میں نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس طرح کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے تھے۔
اس نے کہا: عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرصہ اس طرح کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نیا حکم جاری کیا۔ لہٰذا مسلمانوں کے اتفاقی مسئلے پر عمل کرو۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ دوبارہ تشریف لائے تو تطبیق نہیں کرتے تھے۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی پر تمام لوگوں کا عمل ہے۔ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع کی کیفیت ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اہل مدینہ ناسخ اور منسوخ کے بارے میں اہل کوفہ سے زیادہ جان پہچان رکھتے ہیں۔ «وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ» [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2548]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
512. -- باب: صفة الركوع
-- باب: رکوع کے طریقے اور ہیئت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2549
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرْنَا صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ: أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهَ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ.
محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں بیٹھے تھے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم سب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو خوب یاد رکھنے والا ہوں۔ میں نے دیکھا آپ جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ دیتے تھے۔ پھر اپنی پیٹھ جھکا دیتے، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2549]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 828»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2550
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرُوا صَلَاتَهُ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ" إِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ كَفَّيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ غَيْرَ مُقْنِعٍ رَأْسَهُ وَلَا صَافِحٍ بِخَدِّهِ".
محمد بن عمرو عامری سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی مجلس میں تھا، وہ آپس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کر رہے تھے، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما لیتے اور انگلیوں کے درمیان فاصلہ رکھتے، پھر اپنی کمر کو جھکاتے اور نہ تو زیادہ جھکاتے اور نہ ہی اپنے رخساروں کو ظاہر کرتے، یعنی زیادہ اوپر نہ اٹھاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2550]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 626»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2551
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَجَافَى عَنْ جَنْبَيْهِ.
عباس بن سہل بیان کرتے ہیں کہ ابو حمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم (ایک جگہ) جمع تھے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا، ابو حمید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں تم سب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو زیادہ جاننے والا ہوں“، پھر مکمل حدیث ذکر کی، پھر فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا گویا کہ آپ گھٹنوں کو پکڑے ہوئے تھے، اپنے بازوؤں کو کمان کی تانت کی طرح تان لیا اور انہیں اپنے پہلوؤں سے دور رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2551]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 730»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2552
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ:" وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو تکبیر کے ساتھ شروع کرتے، پھر مکمل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ زیادہ اونچا رکھتے اور نہ زیادہ نیچا رکھتے، بلکہ سیدھا رکھتے، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2552]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 498»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2553
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أُرَاهُ رَفَعَهُ شَكَّ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ، وَفِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ تَسْلِيمَةٌ وَلَا صَلَاةَ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَغَيْرِهَا، فَرِيضَةً أَوْ غَيْرَ فَرِيضَةٍ، وَإِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَدْبَحْ تَدْبِيحَ الْحِمَارِ، وَلْيُقِمْ صُلْبَهُ، وَإِذَا سَجَدَ فَلْيَمُدَّ صُلْبَهُ، فَإِنَّ الْإِنْسَانَ يَسْجُدُ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ جَبْهَتِهِ، وَكَفَّيْهِ، وَرُكْبَتَيْهِ، وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ، وَإِذَا جَلَسَ فَلْيَنْصُبْ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَلْيَخْفِضْ رِجْلَهُ الْيُسْرَى".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا (اس میں ابو معاویہ کو شک ہے) کہ ”وضو نماز کی چابی ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر (تحریمہ) ہے اور اس سے حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے اور ہر دو رکعت میں سلام (پھیرنا ہے) اور کوئی فرض نماز یا نفل نماز ایسی نہیں جس میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورت نہ پڑھی جائے اور جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو گدھے کی طرح کوہان نہ بنائے (یعنی رکوع میں کمر پھیلا کر اور سر جھکا کر پیٹھ سے نیچے نہ کرے) بلکہ اپنی کمر سیدھی رکھے اور جب سجدہ کرے تب بھی اپنی کمر سیدھی رکھے، بیشک انسان سات ہڈیوں پر سجدہ کرتا ہے: اپنی پیشانی پر، دونوں ہاتھوں پر، دونوں گھٹنوں پر اور اپنے پاؤں کے اگلے حصے (انگلیوں) پر اور جب بیٹھے تو اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا رکھے اور بائیں پاؤں کو بچھا لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2553]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
513. -- باب: القول في الركوع
-- باب: رکوع میں پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2554
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقُلْتُ يَقْرَأُ مِائَةَ آيَةٍ، ثُمَّ يَرْكَعُ فَمَضَى، فَقُلْتُ يَخْتِمُهَا، ثُمَّ يَرْكَعُ فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ، وَآلَ عِمْرَانَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ فَيَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ" فَقَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ" فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ يَقُولُ:" فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى" لَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ وَتَعْظِيمٌ إِلَّا ذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة البقرة شروع کردی۔ میں نے (دل میں) سوچا شاید آپ (صرف) سو آیتیں پڑھیں گے، پھر رکوع فرمائیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید پڑھتے چلے گئے۔ پھر میں نے سوچا کہ آپ سورة مکمل کرکے رکوع کریں گے لیکن آپ پڑھتے رہے، حتیٰ کہ آپ نے سورة النساء اور آل عمران بھی پڑھ لی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کے برابر (لمبا) رکوع کیا اور «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا رب جو عظمت والا ہے“ پڑھتے رہے۔ پھر اپنا سر اٹھایا تو فرمایا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے پروردگار اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح لمبا قومہ کیا۔ پھر سجدہ کیا تو سجدے میں بھی دیر تک «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ”پاک ہے میرا رب جو بہت بلند ہے“ پڑھتے رہے۔ کوئی بھی خوف یا تعظیم کی آیت پڑھتے تو اللہ کو یاد کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 772»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں