🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1155. -- باب: الإنصات للخطبة
-- باب: خطبے کے لیے خاموش رہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ ⦗٣١١⦘ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ: أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ، عَلَيْكَ بِنَفْسِكَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہے کہ خاموش ہو جا تو تو نے فضول بات کی، صرف اپنے آپ کو روکے رکھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5830]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5831
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا: ثنا يَزِيدُ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: فَرَجُلٌ حَضَرَهَا يَلْغُو فَهُوَ حَظُّهُ مِنْهَا، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا يَدْعُو فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللهَ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} [الأنعام: ١٦٠] ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ جمعہ میں حاضر ہوتے ہیں: ایک وہ جو حاضر ہوتا ہے اور فضول کام کرتا ہے، یہ اس کا حصہ ہے۔ دوسرا جو دعا کی غرض سے حاضر ہوتا ہے، وہ اللہ سے دعا کرتا ہے، اگر اللہ چاہے تو اس کو عطا کر دے، اگر چاہے تو روک لے۔ تیسرا وہ جو حاضر ہوا اور خاموش رہا، نہ تو اس نے کسی مسلمان کی گردن کو روندا اور نہ ہی کسی کو تکلیف دی، اس کا اجر یعنی ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک، بلکہ تین دن زائد بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ [سورة الأنعام: 160] جو ایک نیکی کرتا ہے اس کے لیے دس گنا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5831]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابو داؤد 1113»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5832
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسْتُ قَرِيبًا مِنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ بَرَاءَةَ، فَقُلْتُ لِأُبَيٍّ: مَتَى نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ فَحَصَرَ وَلَمْ يُكَلِّمْنِي فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قُلْتُ لِأُبَيٍّ: إِنِّي سَأَلْتُكَ فَنَجَهْتَنِي وَلَمْ تُكَلِّمْنِي، فَقَالَ أُبَيٌّ: مَا لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ كُنْتُ بِجَنْبِ أُبِيِّ وَأَنْتَ تَقْرَأُ بَرَاءَةَ فَسَأَلْتُهُ: مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ فَنَجَهَنِي وَلَمْ يُكَلِّمْنِي ثُمَّ قَالَ: مَا لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ أُبَيٌّ". وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَجَعَلَ الْقِصَّةَ بَيْنَهُمَا. وَرَوَاهُ حَرْبُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَجَعَلَ الْقِصَّةَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُبَيٍّ. وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَ مَعْنَى هَذِهِ الْقِصَّةِ بَيْنَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَرَوَاهُ الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَعَلَ مَعْنَى هَذِهِ الْقِصَّةِ بَيْنَ رَجُلٍ غَيْرِ مُسَمًّى، وَبَيْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَجَعَلَ الْمُصِيبَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ بَدَلَ أُبَيٍّ، وَلَيْسَ فِي الْبَابِ أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي ذَكَرْنَا إِسْنَادَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ. فَقَدْ رَوَاهُ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُرْسَلًا بَيْنَ أَبِي ذَرٍّ وَبَيْنَ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي شَيْءٍ سَأَلَهُ عَنْهُ، وَأَسْنَدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
عطاء بن یسار سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ براءت پڑھی۔ میں نے ابی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یہ سورہ کب نازل ہوئی؟ وہ خاموش رہے اور مجھ سے کلام نہ کیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کی تو میں نے ابی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: میں نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے پیچھے کر دیا اور مجھ سے بات نہیں کی۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری نماز سے صرف جو فضول بات آپ نے کی یہی ملے گی۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ براءت پڑھ رہے تھے، میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یہ سورہ کب نازل ہوئی؟ انہوں نے مجھے پیچھے ہٹا دیا اور کلام نہیں کیا، پھر کہنے لگے: تیری نماز میں سے صرف فضول بات تیرے حصہ میں آئے گی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابی بن کعب نے سچ کہا ہے۔“
اس باب میں اس حدیث سے زیادہ صحیح کوئی روایت نہیں جس کی سند ہم نے ذکر کی ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5832]
تخریج الحدیث: «جيد۔ ابن خزيمه 1807»

الحكم على الحديث: جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5833
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَمَا ⦗٣١٢⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَالَ أَبُو ذَرٍّ لِأُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ: مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ لَهُ: مَا لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَأَتَى أَبُو ذَرٍّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" صَدَقَ أُبَيٌّ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ سورت کب نازل کی گئی؟ انہوں نے جواب نہیں دیا۔ جب انہوں نے نماز پوری کی تو فرمایا: تمہیں نماز کا اجر و ثواب نہیں ملے گا، صرف لغو بات تمہارے کھاتے میں آئے گی۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابی بن کعب نے سچ کہا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5833]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الطيالسي 2365»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1156. -- باب: الإنصات للخطبة وإن لم يسمعها
-- باب: خطبے کے لیے خاموش رہنے کا بیان اگرچہ خطبہ سنائی نہ دے رہا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5834
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَسَانِيُّ، عَنْ مَوْلًى لِامْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ غَدَتِ الشَّيَاطِينُ بِرَايَاتِهَا إِلَى الْأَسْوَاقِ يَأْخُذُونَ النَّاسَ الرَّبَائِثَ، وَيُذَكِّرُونَهُمُ الْحَوَائِجَ، وَيُثَبِّطُونَهُمْ عَنِ الْجُمُعَةِ، وَتَغْدُو الْمَلَائِكَةُ بِرَايَاتِهَا إِلَى الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ عَلَى رَجُلٍ السَّاعَةَ الَّتِي جَاءَ فِيهَا، فُلَانٌ جَاءَ مِنْ سَاعَةٍ، فُلَانٌ مِنْ سَاعَتَيْنِ، فَإِذَا الرَّجُلُ جَلَسَ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الِاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَإِذَا جَلَسَ فِيهِ مَجْلِسًا فَنَأَى وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الِاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلَانِ. أَوْ قَالَ: كِفْلٌ مِنْ وِزْرٍ، وَمَنْ قَالَ لِأَخِيهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: صَهْ، فَقَدْ لَغَا، وَمَنْ لَغَا فَلَيْسَ لَهُ مِنْ جَمَعْتِهِ شَيْءٌ. ثُمَّ يَقُولُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ ذَلِكَ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.
ام عثمان رضی اللہ عنہا کے غلام کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ منبر پر تھے: ”جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے جھنڈے لے کر بازاروں کی طرف نکل جاتے ہیں، وہ لوگوں کو رکاوٹوں کے ذریعے سے روکتے ہیں اور ان کو کام یاد کرواتے ہیں، ان کو جمعہ سے روکتے ہیں اور صبح سویرے فرشتے اپنے جھنڈے لے کر نکلتے ہیں، مسجد کے دروازوں کی طرف، وہ لکھتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں گھڑی آیا اور فلاں فلاں گھڑی آیا۔ جب آدمی اپنی جگہ بیٹھ جاتا ہے اور خطبہ غور سے سنتا ہے، کوئی فضول بات نہیں کرتا تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور جب اپنی جگہ بیٹھتا ہے اور دور ہوتا ہے، خاموش رہتا ہے اور کوئی لغو بات نہیں کرتا تو اس کا ایک اجر ہے اور جب آدمی اپنی جگہ پر رہتا ہے اور خطبہ ممکن حد تک غور سے سنتا ہے لیکن لغو کام کر لیتا ہے اور خاموش نہیں رہتا، اس کے اوپر دوہرا عذاب ہے یا فرمایا: اس پر بوجھ ہے اور جس نے اپنے ساتھی سے جمعہ کے دن کہا: رک جا، اس نے بھی لغو بات کی اور جو فضول بات کرتا ہے اس کا جمعہ نہیں۔“ اس کے آخر میں ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5834]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 1/93»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5835
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبَى إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، أنبأ ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ قَلَّمَا يَدَعُ ذَلِكَ إِذَا خَطَبَ:" إِذَا قَامَ الْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا فَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِي لَا يَسْمَعُ فِي الْحَظِّ مِثْلَ مَا لِلسَّامِعِ الْمُنْصِتِ، فَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بِالْمَنَاكِبِ فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ لَا يُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَهُ رِجَالٌ قَدْ وَكَّلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَيُخْبِرُونَهُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ، فَيُكَبِّرُ".
مالک بن ابی عامر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے، اور جب خطبہ دیتے تو بہت کم اس کو چھوڑتے: جب امام جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہو تو تم غور سے سنو اور خاموش رہو کیونکہ جو خاموش رہے لیکن (خطبہ) سن نہ سکے اس کے لیے (اجر میں) اتنا ہی حصہ ہے جتنا سننے والے خاموش شخص کے لیے ہے۔ جب اقامت ہو جائے تو صفیں درست کر لو اور کندھوں کو برابر کر لو کیونکہ ”صفوں کا درست کرنا نماز کو پورا کرنا ہے۔“ پھر اتنی دیر تکبیر نہ کہتے، جتنی دیر صفوں کو درست کرنے والا اس کی اطلاع نہ دے دے کہ صفیں درست ہو چکیں، جب وہ خبر دیتے کہ صفیں درست ہو گئیں تب آپ نماز شروع کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5835]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 229»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5836
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ" أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَذْكُرَ اللهَ فِي نَفْسِهِ تَكْبِيرًا وَتَهْلِيلًا وَتَسْبِيحًا. قَالَ: وَأَنْبَأَ قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّ مَنْصُورَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَأَلَ إِبْرَاهِيمَ: أَتَقْرَأُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ:" عَسَى أَنْ لَا يَضُرَّكَ".
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی (خطبہ کے دوران) اپنے دل میں تکبیر، تہلیل اور تسبیح کے ساتھ اللہ کا ذکر کرے۔
منصور بن معتمر رحمہ اللہ نے ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا: کیا آپ جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران قراءت کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: قریب ہے کہ وہ تجھے نقصان نہ دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5836]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1157. -- باب: الإشارة بالسكوت دون التكلم به
-- باب: بولنے کے بجائے اشارے سے خاموش کرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5837
يُذْكَرُ عَنْ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا تَكَلَّمَ رَجُلٌ وَكَانَ مِنْكَ قَرِيبًا فَاغْمِزْهُ، وَإِنْ كَانَ بَعِيدًا فَأَشِرْ إِلَيْهِ".
سیدنا زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص کلام کرے اور وہ تمہارے قریب ہو تو اسے ہاتھ سے دباؤ، اور اگر وہ دور ہو تو اسے اشارہ کر کے منع کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: Q5837]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5837
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنبأ جَدِّي، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شَرِيكٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ أَنِ اسْكُتْ، فَسَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْدَ الثَّالِثَةِ:" وَيْحَكَ، مَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
شریک فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب قائم ہوگی؟ لوگوں نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ خاموش ہو جا۔ اس نے تین مرتبہ سوال کیا اور لوگ اس کو اشارہ کر رہے تھے کہ خاموش ہو جا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: ”افسوس! تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5837]
تخریج الحدیث: «جيد۔ ابن خزيمة 796»

الحكم على الحديث: جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1158. -- باب: حجة من زعم أن الإنصات للإمام اختيار وأن الكلام فيما يعنيه أو يعني غيره والإمام يخطب مباح
-- باب: اس شخص کی دلیل جس نے یہ گمان کیا کہ امام کے لیے خاموش رہنا اختیاری ہے اور امام کے خطبہ دینے کے دوران اپنے یا کسی دوسرے کے مطلب کی بات کرنا مباح ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5838
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَارِمٌ، وَسُلَيْمَانُ، وَمُسَدَّدٌ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ:" صَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟" قَالَ: لَا قَالَ:" قُمْ فَارْكَعْ". لَفْظُ عَارِمٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَارِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي رَبِيعٍ عَنْ حَمَّادٍ وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ وَجَمَاعَةٍ فِي بَابِ كَلَامِ الْإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ، وَحَدِيثُ الرَّجُلِ الَّذِي طَلَبَ مَخْرَجًا فِي كِتَابِ الِاسْتِسْقَاءِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑا ہو اور نماز پڑھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5838]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5689»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں