🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1530. -- باب: السن التي تؤخذ في الغنم
-- باب: بکریوں کی زکوٰۃ میں لی جانے والی عمر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7300
قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ مُسْلِمِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ سَعْرِ بْنِ دَيْسَمٍ عَنْ رَسُولَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا قَالَا فِي الشَّاةِ الَّتِي أَعْطَاهُمَا: هَذِهِ شَافِعٌ وَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا، وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا وَلَدُهَا، قَالَ: فَقُلْتُ: أِيَّ شَيْءٍ تَأْخُذَانِ؟ قَالَا: عَنَاقًا جَذَعَةً أَوْ ثَنِيَّةً قَالَ: فَأَخْرَجْتُ إِلَيْهِمَا عَنَاقًا قَالَا: ارْفَعْهَا إِلَيْنَا فَتَنَاوَلَاهَا فَحَمَلَاهَا عَلَى بَعِيرِهِمَا ⦗169⦘.
مسلم بن شعبہ کی سعر بن دیسم سے اور ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو قاصدوں سے مروی حدیث گزر چکی ہے کہ ان دونوں نے اس بکری کے بارے میں کہا جو انہیں دی گئی تھی: ”یہ «شَافِعٌ» ہے اور بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم «شَافِعًا» لیں۔“ اور «الشَّافِعُ» وہ مادہ ہے جس کے پیٹ میں اس کا بچہ ہو۔ سعر کہتے ہیں، تو میں نے پوچھا: ”پھر آپ دونوں کیا لیں گے؟“ انہوں نے کہا: ” «عَنَاقًا جَذَعَةً» (ایک سالہ پٹھی) یا «ثَنِيَّةً» (دو سالہ بکری)۔“ سعر کہتے ہیں: تو میں نے ان کی طرف ایک «عَنَاقًا» (پٹھی) نکالی، انہوں نے کہا: ”اسے ہماری طرف اٹھا دو۔“ چنانچہ انہوں نے اسے پکڑا اور اپنے اونٹ پر لاد لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7300]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7300
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّ شَيْخَنَا لَمْ يُثْبِتِ اسْمَ سَعْرِ بْنِ دَيْسَمٍ.
عمرو بن ابی سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے مسلم بن شعبہ رحمہ اللہ نے ایسے ہی حدیث سنائی، مگر یہ کہ ہمارے شیخ نے سعر بن دیسم کا نام ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7300]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7301
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ أَبَاهُ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَلَى الطَّائِفِ وَمَخَالِيفِهَا، فَخَرَجَ مُصَدِّقًا فَاعْتَدَّ عَلَيْهِمْ بِالْغِذَاءِ وَلَمْ يَأْخُذْهُ مِنْهُمْ فَقَالُوا لَهُ: إِنْ كُنْتَ مُعْتَدًّا عَلَيْنَا بِالْغِذَاءِ فَخُذْهُ مِنَّا فَأَمْسَكَ حَتَّى لَقِيَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ: اعْلَمْ أَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّا نَظْلِمُهُمْ نَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ بِالْغِذَاءِ وَلَا نَأْخُذُهُ مِنْهُمْ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:" فَاعْتَدَّ عَلَيْهِمْ بِالْغِذَاءِ حَتَّى بِالسَّخْلَةِ يَرُوُحُ بِهَا الرَّاعِي عَلَى يَدِهِ، وَقُلْ لَهُمْ لَا آخُذُ مِنْكُمُ الرُّبَّى وَلَا الْمَاخِضَ وَلَا ذَاتَ الدَّرِّ وَلَا الشَّاةَ الْأَكُولَةَ وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَخُذِ الْعَنَاقَ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ، فَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْمَالِ وَخِيَارِهِ".
بشر بن عاصم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے والد سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو طائف اور اس کے گرد و نواح پر عامل بنا کر بھیجا تو وہ زکوٰۃ لینے کے لیے نکلے۔ انہوں نے ان پر (بکریوں کے) چھوٹے بچوں کو بھی شمار کیا اور ان سے وہ نہ لیے تو انہوں نے کہا: اگر تم ہم پر چھوٹے بچے شمار کرتے ہو تو پھر انہیں ہم سے لے لو، تو وہ رک گئے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا: جان لیجیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان پر ظلم کرتے ہیں کہ ان کے چھوٹے بچے شمار کرتے ہیں اور انہیں ان سے لیتے نہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم ان پر چھوٹے بچے شمار کرو، یہاں تک کہ اس نوزائیدہ بچے کو بھی جسے چرواہا اپنے ہاتھ پر اٹھا کر لاتا ہے، اور ان سے کہہ دو کہ میں تم سے نہ نئی بچہ دینے والی، نہ حاملہ، نہ دودھ والی، نہ کھانے کے لیے پالی ہوئی موٹی بکری اور نہ ہی بکریوں کا سانڈ لوں گا، اور تم بکری کا بچہ «جَذَعَة» ”جذعہ (سال سے کم عمر کا)“ اور «ثَنِيَّة» ”دوندا (ثنیہ)“ وصول کرو، یہ مال کے چھوٹے بچوں اور اس کے عمدہ جانوروں کے درمیان انصاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7301]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7302
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ جَدِّهِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَهُ مُصْدِقًا وَكَانَ يَعُدُّ عَلَى النَّاسِ بِالسَّخْلِ، فَقَالُوا: أَتَعُدُّ عَلَيْنَا بِالسَّخْلِ وَلَا تَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا؟ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:" نَعَمْ نَعُدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلَةِ يَحْمِلُهَا الرَّاعِي وَلَا نَأْخُذُهَا وَلَا نَأْخُذُ الْأَكُولَةَ وَلَا الرُّبَّى وَلَا الْمَاخِضَ وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَنَأْخُذُ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ وَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْمَالِ وَخِيَارِهِ".
سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں عامل بنا کر بھیجا اور وہ لوگوں پر ان کی بکریوں کے بچے بھی شمار کرتے تھے، تو وہ کہنے لگے کہ کیا تم ہمارے بکری کے بچے بھی شمار کرتے ہو! مگر ان میں سے لیتے نہیں ہو۔ جب وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو اس بات کا تذکرہ کیا جس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، ہم ان کے بچے شمار کریں گے جسے اس کا چرواہا اٹھاتا ہے مگر اسے نہیں لیں گے اور نہ ہی کھانے کے لیے پالی ہوئی موٹی بکری اور نہ بچوں والی اور نہ ہی حاملہ اور نہ ہی بکریوں کا سانڈ لیں گے، بلکہ ہم «جَذَعَة» ”جذعہ“ یا «ثَنِيَّة» ”ثنیہ“ عمر کی بکریاں وصول کریں گے اور یہ مال کے چھوٹے بچوں اور اس کے عمدہ جانوروں کے درمیان انصاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7302]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1531. -- باب: لا يؤخذ كرائم أموال الناس
-- باب: لوگوں کے عمدہ ترین مال (زکوٰۃ میں) نہ لیے جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7303
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ:" إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ فَلْيَكُنْ أَوْلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا عَرَفُوا اللهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ ⦗١٧٠⦘ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ بِسْطَامٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: ”تو ایک ایسی قوم کے پاس جا رہا ہے جو اہل کتاب ہیں۔ سو تو انہیں سب سے پہلے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دینا، جب وہ اللہ کو جان لیں تو پھر انہیں بتا: اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ یہ کر لیں تو انہیں آگاہ کرو کہ اللہ نے ان پر زکوٰۃ بھی فرض کی ہے جو مال داروں سے وصول کر کے غریبوں کو دی جائے گی۔ جب وہ اس بات کی اطاعت کر لیں تو وہ ان سے لو اور ان کے عمدہ اموال سے بچ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7303]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7304
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: سِرْتُ أَوْ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَارَ مَعَ مُصَدِّقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ لَا تَأْخُذْ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَكَانَ إِنَّمَا يَأْتِي الْمِيَاهَ حِينَ تُرَدُّ الْغَنَمُ فَيَقُولُ: أَدُّوا صَدَقَاتِ أَمْوَالِكُمْ". قَالَ فَعَمَدَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَى نَاقَةٍ كَوْمَاءَ قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا صَالِحٍ مَا الْكَوْمَاءُ؟ قَالَ: عَظِيمَةُ السَّنَامِ، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْخُذَ خَيْرَ إِبِلِي، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا قَالَ: فَخَطَمَ لَهُ أُخْرَى دُونَهَا فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، ثُمَّ خَطَمَ لَهُ أُخْرَى دُونَهَا فَقَبِلَهَا وَقَالَ: إِنِّي آخُذُهَا وَأَخَافُ أَنْ يَجِدَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَمَدْتَ إِلَى رَجُلٍ فَتَخَيَّرْتَ عَلَيْهِ إِبِلَهُ.
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس نے خبر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عامل کے ساتھ گیا تھا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: ”وہ دودھ پلانے والا جانور نہ لے اور نہ ہی جدا جدا چرنے والیوں کو اکٹھا کرے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا کیا جائے۔“ پس وہ ان کے پاس پانی پلانے کی جگہ پر آتے اور انہیں کہتے، جب بکریاں وہاں آتیں کہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی «كَوْمَاء» اونٹنی کا قصد کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابو صالح! یہ «كَوْمَاء» کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: عظیم کوہان والی۔ وہ کہتے ہیں، انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا تو اس نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تم میرے عمدہ اونٹوں میں سے لو مگر مصدق نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور پھر اس نے دوسرا پیش کیا تو انہوں نے وہ لینے سے بھی انکار کر دیا، پھر اس نے تیسرا پیش کیا تو انہوں نے وہ قبول کر لیا اور کہا کہ میں لے تو رہا ہوں مگر میں ڈرتا ہوں کہ پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم میرا مؤاخذہ نہ کریں اور کہیں کہ: ”تو ایک شخص کے پاس گیا اور تو نے اس کے اونٹوں میں سے چن کر عمدہ اونٹ لے لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7304]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7305
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ فِي عَهْدِي" أَنْ لَا آخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ" وَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ كَوْمَاءَ فَقَالَ: خُذْهَا فَأَبَى.
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مصدق آیا تو میں اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا، میں نے ان سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ”میرے عہد میں یہ بات شامل ہے کہ میں دودھ پلانے والا جانور نہ لوں اور نہ ہی جدا جدا چرنے والیوں کو یکجا کروں اور نہ ہی یکجا چرنے والیوں کو جدا جدا کروں“ تو اس کے پاس ایک آدمی بڑی کوہان والی اونٹنی لے کر آیا اور اس نے کہا: ”یہ وصول کرلو“ مگر مصدق نے وصول کرنے سے انکار کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7305]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7306
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: أَخَذْتُ بِيَدِ مُصَدِّقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَيْتُهُ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ فَقَالَ:" أِيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي وَأِيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي إِذَا أَخَذْتُ خِيَارَ مَالِ امْرِئٍ فَأَتَيْتُهُ بِنَاقَةٍ مِنَ الْإِبِلِ فَقَبِلَهَا".
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ایک بڑی اونٹنی کے پاس لے آیا تو وہ کہنے لگا کہ کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اٹھائے گی، اگر میں کسی کا عمدہ مال وصول کروں گا؟ تو پھر میں ان کے پاس اونٹوں میں سے ایک اونٹنی لایا تو وہ انہوں نے قبول کر لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7306]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن ماجه»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7307
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الطَّيَالِسِيُّ حَمُّوَيْهِ ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ أَتَى مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَأَخَذَ بِيَدِي فَقَرَأْتُ فِي ⦗١٧١⦘ عَهْدِهِ أَنْ" لَا يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ"، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ مُلَمْلَمَةٍ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، ثُمَّ أَتَاهُ بِأُخْرَى دُونَهَا فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، ثُمَّ أَتَاهُ بِأُخْرَى دُونَهَا فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، ثُمَّ قَالَ: أِيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي وَأِيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي إِذَا أَنَا أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذْتُ خِيَارَ إِبِلِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ حِينَ خَرَجَ مُصَدِّقًا وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الْأَخْذِ إِذَا تَطَوَّعَ بِهِ صَاحِبُهُ.
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں نے اس کی تحریر میں یہ بات پڑھی کہ ”یکجا چرنے والیوں کو جدا جدا نہ کیا جائے اور جدا جدا چرنے والیوں کو یکجا نہ کیا جائے زکوۃ کے ڈر سے۔“ ایک آدمی بڑی اونٹنی لے کر حاضر ہوا تو انہوں نے اسے وصول کرنے سے انکار کر دیا، پھر وہ اس کے علاوہ دوسری لایا تو انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا، پھر وہ اس کے علاوہ اور لایا تو اس سے بھی انکار کر دیا اور کہا: ”کون سی زمین مجھے اٹھائے گی اور کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور میں نے ایک مسلمان آدمی کے عمدہ اونٹ لے لیے ہوں گے۔“ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جب وہ عامل بن کر نکلے اور اس میں نفلی صدقہ لینے کے جواز کی دلیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7307]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7308
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا فِي مَكَانِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ جُبَّةٌ صُوفٌ، وَفِي رِوَايَةِ الْحَارِثِ قَالَ: رَأَيْتُ فِي مَجْلِسِ أَيُّوبَ أَعْرَابِيًّا عَلَيْهِ جُبَّةٌ صُوفٌ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمَ يَتَحَدَّثُونَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَوْلَايَ قُرَّةُ بْنُ دَعْمُوصٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَأَصْحَابُهُ حَوْلَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اسْتَغْفِرْ لِلْغُلَامِ النُّمَيْرِيِّ، فَقَالَ:" غَفَرَ اللهُ لَكَ"، قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضَّحَّاكَ سَاعِيًا قَالَ: فَجَاءَ بِإِبِلٍ جُلَّةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَيْتُ هِلَالَ بْنَ عَامِرٍ وَنُمَيْرَ بْنَ عَامِرٍ وَعَامِرَ بْنَ رَبِيعٍ فَأَخَذْتُ جُلَّةَ أَمْوَالِهِمْ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ الْغَزْوَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَكَ بِإِبِلٍ تَرْكَبُهَا وَتَحْمِلُ عَلَيْهَا أَصْحَابَكَ، فَقَالَ:" وَاللهِ لَلَّذِي تَرَكْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي جِئْتَ بِهِ، اذْهَبْ فَرُدَّهَا عَلَيْهِمْ وَخُذْ صَدَقَاتِهِمْ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ".
سیدنا قرہ بن دعموص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد تھے۔ میں نے چاہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو کر بیٹھوں مگر میں قریب نہ جا سکا، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اپنے نمیری غلام کے لیے استغفار کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «غَفَرَ اللهُ لَكَ» ”اللہ تجھے معاف کرے“۔ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضحاک رضی اللہ عنہ کو عامل بنا کر بھیجا تو وہ ایک بڑا اونٹ لے آئے، تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ہلال بن عامر اور نمیر بن عامر اور عامر بن ربیعہ کے پاس آیا ہے اور ان کے عمدہ مال کو لیا ہے“ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوے کا تذکرہ کر رہے تھے تو میں نے چاہا کہ ایسا اونٹ لاؤں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوں اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جو تو چھوڑ کر آیا ہے وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب تھا جسے تو لے کر آیا ہے، جا اور اسے واپس لوٹا اور ان کے عام مال سے زکوۃ وصول کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7308]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحارث»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں