السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1720. -- باب: جواز الفطر في السفر القاصد دون القصير
-- باب: لمبے سفر میں روزہ چھوڑنے کے جواز کا بیان، نہ کہ چھوٹے سفر میں۔
حدیث نمبر: Q8141
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ} [البقرة: 184] .
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ ”پس تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرے۔“ [سورة البقرة: 184] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: Q8141]
حدیث نمبر: 8141
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٠٥⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، ثُمَّ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ مَعَهُ، وَكَانُوا يَأْخُذُونَ بِالْأَحْدَثِ فَالْأَحْدَثِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں فتح مکہ کے سال مکہ کی طرف روزے کی حالت میں نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کدید کے پاس پہنچے تو افطار کر دیا اور لوگوں نے بھی افطار کر لیا اور وہ (صحابہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام میں سے سب سے آخری، پھر اس سے پہلے والے کو اختیار کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8141]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8142
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ إِسْحَاقُ: أنبأ، وَقَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنَ الْمَدِينَةِ وَمَعَهُ عَشَرَةُ آلَافٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَذَلِكَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ، فَسَارَ بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَكَّةَ يَصُومُ وَيَصُومُونَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ وَهُوَ بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ فَلَمْ يَصُومُوا بَقِيَّةَ رَمَضَانَ شَيْئًا قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَكَانَ الْفِطْرُ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآخِرُ فَالْآخِرُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَصَبَّحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ غَيْلَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں مدینہ سے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار مسلمان تھے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کے ساڑھے آٹھ سال پورے ہونے پر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ مسلمان روزے کی حالت میں نکلے، پھر جب وہ کدید نامی جگہ پہنچے جو عسفان و قدید کے درمیان جگہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا اور مسلمانوں نے بھی افطار کیا۔ پھر بقیہ رمضان میں روزہ نہیں رکھا۔
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: افطار کرنا آخری حکم تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اس کا حکم فرمایا تھا اور آخری پر عمل کیا جاتا ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت مکہ تشریف لائے اور رمضان کی تیرہ راتیں گزر چکی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8142]
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: افطار کرنا آخری حکم تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اس کا حکم فرمایا تھا اور آخری پر عمل کیا جاتا ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت مکہ تشریف لائے اور رمضان کی تیرہ راتیں گزر چکی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8142]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8143
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَدِّهِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي صَاحِبُ ظَهْرٍ أُعَالِجُهُ، أُسَافِرُ عَلَيْهِ وَأُكْرِيهِ، وَأَنَّهُ رُبَّمَا صَادَفَنِي هَذَا الشَّهْرُ، يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ، وَأَنَا أَجِدُ الْقُوَّةَ وَأَنَا شَابٌّ، وَأَجِدُنِي أَنْ أَصُومَ يَا رَسُولَ اللهِ، أَهْوَنُ عَلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَخِّرَهُ فَيَكُونَ دَيْنًا، أَفَأَصُومُ يَا رَسُولَ اللهِ أَعْظَمَ لِأَجْرِي أَوْ أُفْطِرُ؟ قَالَ:" أِيَّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ" ⦗٤٠٦⦘ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ الرُّوذْبَارِيِّ:" أِيَّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ" وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الْفِطْرِ فِي السَّفَرِ الْمُبَاحِ.
سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سواری والا ہوں، میں اسے تیار رکھتا ہوں، اس پر سفر کرتا ہوں اور کرائے پر بھی چلاتا ہوں، بسا اوقات یہ مہینہ مجھ پر آجاتا ہے، میں طاقت بھی رکھتا ہوں اور جوان بھی ہوں، اے اللہ کے رسول! روزہ رکھنا میرے لیے آسان ہے اس سے کہ میں اسے مؤخر کر دوں اور وہ مجھ پر قرض بنا رہے، اے اللہ کے رسول! کیا میں روزہ رکھوں کہ یہ میرے لیے زیادہ اجر کا باعث ہے یا پھر افطار کرتا رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حمزہ! جیسے تو چاہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8143]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8144
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الْجَوْنِيُّ، ثنا ابْنُ زُغْبَةَ يَعْنِي عِيسَى بْنَ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ، أَنَّ دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ بِدِمَشْقَ إِلَى قَدْرِ قَرْيَةِ عُقْبَةَ مِنَ الْفُسْطَاطِ، وَذَلِكَ ثَلَاثَةُ أَمْيَالٍ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ أُنَاسٌ، فَكَرِهَ ذَلِكَ آخَرُونَ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ: وَاللهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَرَاهُ، أَنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: اللهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ قَالَ اللَّيْثُ: الْأَمْرُ الَّذِي اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَقْصُرُوا الصَّلَاةَ وَلَا يُفْطِرُوا إِلَّا فِي مَسِيرَةِ أَرْبَعَةِ بُرُدٍ، فِي كُلِّ بَرِيدٍ اثْنَا عَشَرَ مِيلًا قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ مَا دَلَّ عَلَى هَذَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَالَّذِي رُوِّينَا عَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ إِنْ صَحَّ ذَلِكَ فَكَأَنَّهُ ذَهَبَ فِيهِ إِلَى ظَاهِرِ الْآيَةِ فِي الرُّخْصَةِ فِي السَّفَرِ، وَأَرَادَ بِقَوْلِهِ: رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، أَيْ فِي قَبُولِ الرُّخْصَةِ، لَا فِي تَقْدِيرِ السَّفَرِ الَّذِي أَفْطَرَ فِيهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
منصور کلبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ دمشق میں اپنی بستی سے نکلے اور یہ تین میل دور ہے، یہ سفر رمضان میں تھا۔ پھر انہوں نے افطار کیا اور لوگوں نے بھی افطار کیا اور کچھ نے اسے ناپسند کیا۔ جب وہ اپنی بستی کی طرف پلٹے تو کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے ایسا معاملہ دیکھا ہے جس کا مجھے خیال نہیں تھا، میں نے دیکھا ہے کہ قوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے بے رغبتی کر رہی ہے اور صحابہ کے طریقے سے بھی۔“ یہ بات انہوں نے ان کے لیے کہی جنہوں نے روزہ رکھا تھا۔ تب انہوں نے کہا: ”اے اللہ! مجھے اپنے پاس بلا لے۔“ لیث کہتے ہیں: جس پر لوگوں کا اجماع ہے وہ یہ ہے کہ قصر نہ کریں، نہ نماز اور نہ ہی روزہ افطار کریں، مگر چار برد کے سفر پر۔ برد میں بارہ میل ہوتے ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: ہم نے کتاب الصلاۃ میں سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے وہ روایات نقل کی ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں۔ اور جو روایت دحیہ کلبی سے ہے، اگر وہ صحیح ہے تو گویا وہ اس میں سفر کی رخصت والی آیت کے ظاہر کی طرف گئے ہیں، اور ان کے قول: ”لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طریقے سے بے رغبتی کی“ سے ان کی مراد رخصت کو قبول کرنا ہے، نہ کہ اس سفر کی مقدار جس میں انہوں نے افطار کیا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8144]
شیخ فرماتے ہیں: ہم نے کتاب الصلاۃ میں سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے وہ روایات نقل کی ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں۔ اور جو روایت دحیہ کلبی سے ہے، اگر وہ صحیح ہے تو گویا وہ اس میں سفر کی رخصت والی آیت کے ظاہر کی طرف گئے ہیں، اور ان کے قول: ”لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طریقے سے بے رغبتی کی“ سے ان کی مراد رخصت کو قبول کرنا ہے، نہ کہ اس سفر کی مقدار جس میں انہوں نے افطار کیا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8144]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8145
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْغَابَةِ فَلَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْصُرُ.
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ جنگل کی طرف جاتے، مگر نہ افطار کرتے اور نہ ہی نماز قصر کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8145]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
1721. -- باب: تأكيد الفطر في السفر إذا كان يريد لقاء العدو
-- باب: سفر میں روزہ چھوڑنے کی تاکید کا بیان جب دشمن سے مقابلے کا ارادہ ہو۔
حدیث نمبر: 8146
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ، فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ، فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا، فَقَالَ:" أُولَئِكَ الْعُصَاةُ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں فتح والے سال نکلے تو انہوں نے روزہ رکھا حتیٰ کہ کراع الغمیم پہنچے اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزہ رکھا تو کہا گیا: اے اللہ کے رسول! لوگوں پر روزہ مشکل ہو گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا اور پی لیا اور لوگ دیکھ رہے تھے تو کچھ نے افطار کیا اور کچھ نے افطار نہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی کہ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نافرمان لوگ ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8146]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8147
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ:" وَإِنَّمَا يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ". ⦗٤٠٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
قتبیہ بن سعید، عبدالعزیز سے اسی معنی میں حدیث نقل فرماتے ہیں اور یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ وہ دیکھ رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8147]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8148
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: قَرَأْنَاهُ عَلَى أَبِي الْيَمَانِ، فَأَنْبَأَنِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِيلِ عَامَ الْفَتْحِ فِي لَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَخَرَجْنَا صُوَّامًا حَتَّى بَلَغْنَا الْكَدِيدَ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفِطْرِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ شَرْجَيْنِ، مِنْهُمُ الصَّائِمُ وَالْمُفْطِرُ، حَتَّى إِذَا بَلَغْنَا الْمَنْزِلَ الَّذِي نَلْقَى الْعَدُوَّ فِيهِ أَمَرَنَا بِالْفِطْرِ، فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعِينَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ يُوسُفَ: حَتَّى إِذَا بَلَغَ الظَّهْرَانَ آذَنَنَا بِلِقَاءِ الْعَدُوِّ، فَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ، فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعِينَ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح والے سال میں کوچ کا حکم دیا، جبکہ رمضان کی دو راتیں گزر چکی تھیں، تو ہم روزے کی حالت میں نکلے حتیٰ کہ جب ہم کدید مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں افطار کا حکم دیا تو لوگ دو حصوں میں بٹ گئے۔ ان میں «صَائِمٌ» ”روزہ دار“ بھی تھے اور «مُفْطِرٌ» ”بغیر روزے والے“ بھی تھے، حتیٰ کہ جب ہم اس مقام پر پہنچے جہاں ہم نے دشمن سے ملنا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کا حکم دیا تو ہم سب نے افطار کر لیا۔
ابن یوسف کی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ مرظہران پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دشمن سے مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ہمیں روزہ افطار کرنے کو کہا تو ہم سب نے افطار کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8148]
ابن یوسف کی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ مرظہران پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دشمن سے مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ہمیں روزہ افطار کرنے کو کہا تو ہم سب نے افطار کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8148]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8149
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَزَعَةُ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا سَأَلَكَ هَؤُلَاءِ، أَسْأَلُكَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ"، فَكَانَتْ رُخْصَةً، مِنَّا مَنْ صَامَ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ مُصَبِّحُوا عَدُوَّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ فَأَفْطِرُوا"، فَكَانَتْ عَزْمَةً فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف سفر کیا اور ہم روزے سے تھے، ہم منزل پر اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دشمن کے قریب ہو چکے ہو اور افطار کرنا قوت کا باعث ہو گا“ اور یہ رخصت تھی، تو ہم میں سے وہ بھی تھے جنہوں نے روزہ رکھا اور بعضوں نے افطار کیا۔ پھر ہم دوسری منزل پر اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تم دشمن پر صبح کرنے والے ہو اور افطار کرنا قوت کا باعث ہو گا، سو تم افطار کر لو۔“ یہ عزیمت تھی، سو ہم نے افطار کر لیا۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ اس کے بعد ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8149]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح