🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1788. -- باب: ما ورد من النهي عن تخصيص يوم السبت بالصوم
-- باب: ہفتے کے دن کو روزے کے لیے خاص کرنے کی ممانعت کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8497
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو ⦗٤٩٩⦘ الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثُونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ أِيِّ الْأَيَّامِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ لَهَا صِيَامًا، فَقَالَتْ: يَوْمُ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَلِكَ فَقَامُوا بِأَجْمَعِهِمْ إِلَيْهَا فَقَالُوا: إِنَّا بَعَثْنَا إِلَيْكِ هَذَا فِي كَذَا وَكَذَا فَذَكَرَ أَنَّكِ قُلْتِ: كَذَا وَكَذَا فَقَالَتْ: صَدَقَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ يَوْمَ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ، وَكَانَ يَقُولُ:" إِنَّهُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَهُمْ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کچھ لوگوں نے انہیں سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ وہ ان ایام کے بارے میں پوچھیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر روزہ رکھتے تھے، تو انہوں نے کہا: ہفتہ اور اتوار۔ پھر میں ان کے پاس پلٹ آیا اور انہیں یہ خبر دی تو گویا وہ اسے عجیب تصور کر رہے تھے، تو وہ سب ان کے پاس چلے گئے کہ ہم نے اس مسئلے کے لیے آپ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا اور یہ کہتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نے یہ بات کہی ہے، تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ہفتے اور اتوار کا روزہ رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: ”یہ مشرکین کے عید کے ایام تھے اور میں ان کی مخالفت کرنا چاہتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8497]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابن حبان»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1789. -- باب: المرأة لا تصوم تطوعا وبعلها شاهد إلا بإذنه
-- باب: عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8498
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت روزہ نہ رکھے اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر جب اس کا خاوند موجود ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8498]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8499
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ نَهَيْتُهَا عَنْهُمَا، وَقُلْتُ: لَوْ كَانَتْ سُورَةٌ وَاحِدَةٌ لَكَفَتِ النَّاسَ، وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ وَتَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَا أَصْبِرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" لَا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا" وَأَمَّا قَوْلُهَا بِأَنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ:" فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ".
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور ہم آپ کے پاس تھے تو اس نے کہا: ”یا رسول اللہ! جب میں نماز پڑھتی ہوں تو میرا خاوند صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ مجھے مارتا ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں تو وہ افطار کروا دیتا ہے اور خود فجر کی نماز بھی نہیں پڑھتا حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: صفوان رضی اللہ عنہ بھی پاس ہی تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بات کے متعلق پوچھا جو عورت نے کہی تھی تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! جہاں تک اس کی یہ بات ہے کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مارتا ہے تو وہ یہ بات ہے کہ وہ ایسی سورتیں پڑھتی ہے جن سے میں نے منع کیا ہے اور میں کہتا ہوں کہ اگر تو ایک ہی سورہ پڑھ لے تو سب کو کافی ہو، اور اس کا یہ کہنا کہ جب میں روزے رکھتی ہوں تو وہ افطار کروا دیتا ہے تو یہ روزے ہی رکھتی چلی جاتی ہے اور میں نوجوان ہوں، صبر نہیں کر پاتا۔“ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت (نفلی) روزہ نہ رکھے مگر خاوند کی اجازت سے۔“ اور اس کا یہ کہنا کہ میں سورج طلوع ہونے کے بعد نماز فجر ادا کرتا ہوں تو جس خاندان سے میرا تعلق ہے وہ مشہور ہے کہ ہم سورج کے طلوع ہونے سے قبل بیدار ہو نہیں سکتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو بیدار ہو تو نماز پڑھ لیا کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8499]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1790. -- باب: في فضل شهر رمضان وفضل الصيام على سبيل الاختصار
-- باب: ماہِ رمضان کی فضیلت اور روزے کی فضیلت کا اختصار کے ساتھ بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8500
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ" ⦗٥٠٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8500]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ مَرَدَةُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجِنَّانِ فَلَا يُغْلَقُ مِنْهَا بَابٌ وَنَادَى مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بھی نہیں کھولا جاتا ہے، مگر جنتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا اور اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے: اے نیکی کے متلاشی! تو آگے بڑھ اور اے برائی کے متلاشی! تو کم کر کہ (رُک جا) اور اللہ تعالیٰ جہنم سے آزاد بھی کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8501]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الترمذي»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8502
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ح وَثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، وَاللَّفْظُ لَهُ ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ إِمْلَاءً، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَظَلَّكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَضَى عَلَى الْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ وَلَا بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْهُ بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَكْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَدْخُلَ وَيَكْتُبَ وِزْرَهُ وَشَقَاءَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ وَذَلِكَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يَعُدُّ لَهُ النَّفَقَةَ لِلْعِبَادَةِ وَأَنَّ الْمُنَافِقَ يَعُدُّ فِيهِ غَفَلَاتِ الْمُسْلِمِينَ وَاتِّبَاعَ عَوْرَاتِهِمْ فَهُوَ غَنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ يغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر رمضان کا مہینہ سایہ فگن ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسمیہ بات کہی کہ: ”مسلمانوں پر اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں گزرا اور نہ ہی منافقین پر کوئی مہینہ جو اس سے زیادہ ان کے لیے برا ہو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلفیہ بیان کیا کہ: ”اللہ تعالیٰ اس میں داخل ہونے سے پہلے ہی اس کے نوافل کا اجر لکھ لیتا ہے، اس کے گناہ اور اس کی بدبختیاں بھی اس کے داخل ہونے سے پہلے لکھتا ہے۔ وہ اس لیے کہ مومن اس کی عبادت کا اہتمام کرتا ہے اور منافق مسلمانوں کی غفلت کا اہتمام کرتا ہے اور ان کے عیوب کے پیچھے چلتا ہے، سو وہ مومن کے لیے غنیمت ہے اور فاجر اسے (اپنے لیے) غنیمت بنا لیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8502]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8503
أَخْبَرْنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَرَّاقُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَنَقْمَةٌ لِلْفَاجِرِ.
عمرو بن تمیم رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا سوائے اس کے کہ یہ کہا کہ ”فاجر کے لیے نقصان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8503]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8504
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ خَرْزَاذَ قَاضِي الْأَهْوَازِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَقَى الْمِنْبَرَ فَقَالَ:" آمِينَ آمِينَ آمِينَ" ⦗٥٠١⦘ فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا كُنْتَ تَصْنَعُ هَذَا؟ فَقَالَ:" قَالَ لِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ، ثُمَّ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَقُلْتُ: آمِينَ، ثُمَّ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ فَقُلْتُ: آمِينَ" لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَفِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ رَقِيَ الْمِنْبَرَ وَقَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ أَوْ بَعْدُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو فرمایا: «آمِينَ، آمِينَ، آمِينَ» ”آمین، آمین، آمین“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ ایسا تو نہیں کرتے تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل امین نے کہا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس پر رمضان کا مہینہ داخل ہوا، پھر اس نے بخشش نہ کروائی، تو میں نے کہا: «آمِينَ» ”آمین“۔ پھر انہوں نے کہا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس آپ کا تذکرہ کیا گیا اور اس نے آپ پر درود نہ پڑھا، تو میں نے کہا: «آمِينَ» ”آمین“۔ پھر انہوں نے کہا کہ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے والدین دونوں یا ایک کو پایا، پھر ان کی وجہ سے جنت میں داخل نہ ہوا، تو میں نے کہا: «آمِينَ» ”آمین“۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8504]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8505
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدِّهْقَانُ، بِمَرْوٍ أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ قُرْطٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَعَرَفَ حُدُودَهُ وَتَحَفَّظَ لَهُ مَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَحَفَّظَ فِيهِ كَفَّرَ مَا قَبْلَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اپنی حدود و قیود کو جانا اور اس قدر حفاظت کی جو اس کے بس میں تھا تو اس کے پہلے گناہ مٹ گئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8505]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8506
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8506]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں