🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1818. -- باب: إثبات فرض الحج على من استطاع إليه سبيلا وكان حرا بالغا عاقلا مسلما
-- باب: جو اس (خانہ کعبہ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو اور وہ آزاد، بالغ، عاقل اور مسلمان ہو اس پر حج کی فرضیت ثابت ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8608
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ {وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ} [آل عمران: ٩٧] أَنَّ مَنْ حَجَّ لَمْ يَرَهُ بِرًّا وَمَنْ تَرَكَهُ لَمْ يَرَهُ إِثْمًا. وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ مِثْلَ مَا قَالَ عِكْرِمَةُ.
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ﴿وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة آل عمران: 97] سے مراد وہ شخص ہے کہ اگر وہ حج کرے تو اسے نیکی نہ سمجھے اور اگر اسے ترک کرے تو اسے گناہ نہ سمجھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8608]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تفسير طبري: 3/ 357»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8609
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ ⦗٥٣٢⦘ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ {وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا} [آل عمران: ٨٥] قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قَالَ أَهْلُ الْمِلَلِ كُلُّهُمْ: نَحْنُ مُسْلِمُونَ، فَأَنْزَلَ اللهُ {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ} [آل عمران: ٩٧] قَالَ يَعْنِي عَلَى النَّاسِ فَحَجَّ الْمُسْلِمُونَ وَتَرَكَهُ الْمُشْرِكُونَ.
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا﴾ [سورة آل عمران: 85] نازل ہوئی تو تمام اہل ادیان نے مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ﴾ [سورة آل عمران: 97] ”لوگوں پر اللہ کی رضا کی خاطر بیت اللہ کا حج فرض ہے“ نازل فرمائی تو مسلمانوں نے حج کیا اور مشرکین نے نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8609]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8610
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُرَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا نَعْرِفُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَهُ إِلَى رُكْبَتِهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ السَّبِيلَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: صَدَقْتَ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟" قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" ذَاكَ جَبْرَائِيلُ أَتَاكُمْ يعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ عَنْ كَهْمَسٍ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انتہائی سیاہ بالوں اور بہت ہی سفید کپڑوں والا شخص نمودار ہوا، اس پر نہ تو سفر کے آثار تھے اور نہ ہی ہم اس کو جانتے تھے حتیٰ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے ساتھ ملا دیے اور اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھا، پھر کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے کہ اسلام کیا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے۔“ تو اس آدمی نے کہا کہ آپ سچ فرماتے ہیں (اس ساری حدیث کو ذکر کیا)۔ پھر کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تو جانتا ہے، یہ سائل کون تھا؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8610]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 8، نسائي4990»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8611
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي كِتَابِ مَعْرِفَةِ الْحَدِيثِ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنَّا نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ وَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَأْتِيَهُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ:" صَدَقَ" قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ، قَالَ:" اللهُ" قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ:" اللهُ" قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ؟ قَالَ:" اللهُ" قَالَ: فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا هَذِهِ الْمَنَافِعَ؟ قَالَ:" اللهُ" قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا هَذِهِ الْمَنَافِعَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا، قَالَ:" صَدَقَ" قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَدَقَةً فِي أَمْوَالِنَا، قَالَ:" صَدَقَ" قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرٍ فِي سَنَتِنَا، قَالَ:" صَدَقَ" قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ، فَلَمَّا مَضَى، قَالَ:" لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ". ⦗٥٣٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ عَنْ أَبِي النَّضْرِ هَاشِمِ بْنِ الْقَاسِمِ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی چیز کا سوال کرنے سے منع کیا جاتا تھا اور ہم یہ چاہتے تھے کہ دیہاتیوں میں سے کوئی شخص آئے اور وہ سوال کرے اور ہم سنیں، تو ایک شخص انہیں میں سے آیا اور اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آیا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس بدوی نے کہا: آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ اس نے کہا کہ یہ پہاڑ کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ اس نے کہا: تو ان میں یہ فائدے کس نے رکھے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ تو اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، پہاڑوں کو نصب کیا اور ان میں فوائد رکھے، کیا اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!“ اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!“ اس نے کہا کہ آپ کے قاصد نے یہ سمجھا ہے کہ ہمارے ذمہ ہمارے مالوں کا صدقہ بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے، کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!“ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم پر سال میں ایک مہینے کے روزے فرض ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے، کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!“ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر حج بیت اللہ فرض ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول بنایا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!“ تو وہ کہنے لگا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میں ان میں نہ تو کمی کروں گا، نہ اضافہ۔ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8611]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 12»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8612
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَبْلُغَ الْحِنْثَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ". وَرُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي ظَبْيَانَ وَأَبِي الضُّحَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سویا ہوا شخص جب تک وہ بیدار نہ ہو، بچہ جب تک وہ بالغ نہ ہو اور دیوانہ، جب تک اس کو افاقہ نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8612]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8613
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَيُّمَا صَبِيٍّ حَجَّ ثُمَّ بَلَغَ الْحِنْثَ فَعَلَيْهِ أَنْ يَحُجَّ حَجَّةً أُخْرَى وَأَيُّمَا أَعْرَابِيٌّ حَجَّ ثُمَّ هَاجَرَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى وَأَيُّمَا عَبْدٍ حَجَّ ثُمَّ أُعْتِقَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بچہ بھی حج کرے اور پھر وہ سنِ بلوغت کو پہنچ جائے تو اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہے، جو کوئی دیہاتی حج کرے پھر ہجرت کر لے تو اس پر لازم ہے کہ دوسرا حج کرے، جو بھی غلام حج کر لے، پھر وہ آزاد ہو جائے تو اس پر پھر حج کرنا ضروری ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8613]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن خزيمه 3050۔ حاكم 1/ 655»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8614
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا حَجَّ الْأَعْرَابِيُّ ثُمَّ هَاجَرَ فَإِنَّ عَلَيْهِ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ وَالصَّبِيُّ. هَكَذَا رَوَاهُ مَوْقُوفًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب دیہاتی حج کر لے، پھر ہجرت کرے تو اس پر اسلام کا حج فرض ہے اور اسی طرح غلام اور بچے کا معاملہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8614]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه 4875»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1819. -- باب: وجوب الحج مرة واحدة
-- باب: زندگی میں ایک بار حج کے واجب ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8615
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ، ح وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا" فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ ⦗٥٣٤⦘ عَامٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ" ثُمَّ قَالَ:" ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، لہٰذا حج کرو۔“ ایک شخص کہنے لگا: ”ہر سال؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے یہ بات تین مرتبہ کہی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال حج کرنا) فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھ سکتے۔“ پھر فرمایا: ”جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم مجھے چھوڑے رکھا کرو۔ یقیناً تم سے پہلے لوگ اپنے زیادہ سوالوں اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، لہٰذا جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو بقدر استطاعت اس کو سرانجام دو اور جب میں کسی کام سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8615]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1337»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8616
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ بِبَغْدَادَ، فِي مَسْجِدِ الرَّصَاْفَةِ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّاْدُ، ثنا الْحَاْرِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ: مُتْعَتُنَا هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ:" لَا بَلْ لِلْأَبَدِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے حجِ افراد کا تلبیہ کہا۔ انھوں نے یہ ساری حدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی فرمایا کہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہمارا یہ حجِ تمتع اے اللہ کے رسول! اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8616]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6933، مسلم 1213»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8617
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ" فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا، الْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ". تَابَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، وَقَالَ عَقِيلٌ: عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سِنَانٍ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، وَفِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: مُتْعَتُنَا هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ:" لَا بَلْ لِلْأَبَدِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض فرما دیا ہے“ تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال (حج فرض ہے)؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کہہ دوں تو (ہر سال حج کرنا) واجب ہو جائے گا اور اگر واجب ہو جائے تو تم کر نہ سکو گے اور نہ ہی اس کی استطاعت تم میں ہو گی، حج ایک مرتبہ (فرض) ہے، جو زائد کر لے تو وہ نفلی ہے۔“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ فائدہ ہمارے لیے صرف اس سال ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8617]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ سنن ابي داود 1721۔ نسائي 2620»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں