السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2041. -- باب: سقاية الحاج والشرب منها ومن ماء زمزم
-- باب: حاجیوں کو پانی پلانے، اور اس سے اور آبِ زمزم سے پانی پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9659
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءٍ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ إِسْلَامِهِ إِلَى أَنْ قَالَ:" فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَصَاحِبُهُ فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ، ثُمَّ صَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَأَتَيْتُهُ وَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقَالَ:" مَتَى كُنْتَ هَا هُنَا؟" قُلْتُ: قَدْ كُنْتُ هَا هُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَيَوْمًا، قَالَ:" فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ؟" قُلْتُ: مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى ⦗٢٤١⦘ تَكَسَّرَ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ وَشِفَاءُ سُقْمٍ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام لانے کا قصہ سنایا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر نماز پڑھی۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے سب سے پہلے سلام کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”اور تم پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم یہاں کب سے ہو؟“ میں نے کہا: میں یہاں تیس دن اور رات سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہیں کھانا کون کھلاتا تھا؟“ میں نے کہا: میرا کھانا صرف آب زمزم تھا، میں موٹا تازہ ہو گیا حتیٰ کہ میرے پیٹ کا عکن (سلوٹیں) ٹوٹنے لگا اور میں نے ذرا بھی بھوک محسوس نہیں کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بابرکت ہے، یہ کھانے کا کھانا اور بیماری کی شفا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9659]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 3473»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9660
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ" تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ» ”زمزم کا پانی اسی لیے ہے جس کے لیے وہ پیا جائے۔“
اسے بیان کرنے میں عبداللہ بن مؤمل منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9660]
اسے بیان کرنے میں عبداللہ بن مؤمل منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9660]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه 3062۔ احمد 3/ 357»
الحكم على الحديث: ضعيف
2042. -- باب: الرجوع إلى منى أيام التشريق، والرمي بها كل يوم إذا زالت الشمس
-- باب: ایامِ تشریق میں منیٰ کی طرف لوٹنے، اور وہاں ہر روز زوالِ آفتاب کے بعد رمی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9661
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ فَمَكَثَ بِمِنًى لَيَالِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ، فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ ثُمَّ يَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے آخر میں ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد لوٹے، پھر آئے اور منیٰ میں ایام تشریق گزارے، جب سورج زائل ہوجاتا تو رمی جمار کرتے، ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس ٹھہرتے، لمبا قیام کرتے اور عاجزی کرتے۔ پھر تیسرے جمرے کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9661]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 1974۔ احمد 6/ 90»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9662
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ مِنًى رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، وَيَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، يدعو، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا ⦗٢٤٢⦘ قَالَ الزُّهْرِيُّ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ مُحَمَّدٌ يُقَالُ: إِنَّهُ ابْنُ يَحْيَى ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ.
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرہ کو مارتے جو منیٰ کی مسجد کے ساتھ ہے تو اسے سات کنکریاں مارتے، جب بھی کوئی کنکری مارتے تو تکبیر کہتے، پھر اس کے آگے آتے اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے، اپنے ہاتھ اٹھاتے، دعا کرتے اور لمبا قیام کرتے، پھر دوسرے جمرہ کے پاس آتے اور سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے اور وادی والی جانب بائیں طرف ہٹتے، وہاں قبلہ رو ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے، پھر اس جمرہ کے پاس آتے جو عقبہ کے پاس ہے، اس کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، پھر چلے جاتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔
زہری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9662]
زہری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9662]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1666۔ نسائي 3083»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9663
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خِنْبٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ" أَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عَلَى أَثَرِ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حَتَّى يُسْهِلَ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قِيَامًا طَوِيلًا فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَرْمِي الْوُسْطَى كَذَلِكَ فَيَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ فَيُسْهِلُ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قِيَامًا طَوِيلًا فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ ذَاتَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي فَلَا يَقِفُ وَيَقُولُ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہما قریب والے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے بعد تکبیر کہتے، پھر آگے بڑھتے اور قبلہ رو ہو کر طویل قیام کرتے اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے۔ پھر درمیانی جمرہ کو مارتے، پھر اسی طرح وہ بائیں جانب قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوتے، لمبا قیام کرتے، ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے، پھر عقبہ والے جمرہ کو وادی کے درمیان سے مارتے اور (وہاں) کھڑے نہ ہوتے اور فرماتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9663]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1665»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9664
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ مَتَى أَرْمِي الْجِمَارَ؟ قَالَ:" إِذَا رَمَى إِمَامُكَ فَارْمِهْ"، قَالَ: فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ، فَقَالَ:" كُنَّا نَتَحَيَّنُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَيْنَا"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
وبرہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں رمیِ جمار کب کروں؟ تو انہوں نے فرمایا: جب تیرا امام رمی کرے تو، تو بھی کر۔ میں نے دوبارہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہم اندازہ لگاتے، جب سورج زائل ہوتا تو ہم رمی کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9664]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1659۔ ابوداود 1972»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9665
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إمْلَاءً، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قِرَاءَةً وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ أَوَّلَ يَوْمٍ ضُحًى، ثُمَّ لَمْ يَرِمْ بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى زَالَتِ الشَّمْسُ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دن چاشت کے وقت رمیِ جمار کی، پھر اس کے بعد رمی نہیں کی حتیٰ کہ سورج ڈھل گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9665]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1299»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9666
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" لَا يَرْمِي الْجِمَارَ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ" وَعَنْ نَافِعٍ" أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فَيَقِفُ وُقُوفًا طَوِيلًا وَيُكَبِّرُ اللهَ وَيُسَبِّحُهُ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو اللهَ لَا يَقِفُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، وَعَنْ نَافِعٍ" أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُكَبِّرُ عِنْدَ رَمْيِ الْجِمَارِ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ تینوں دنوں میں رمیِ جمار نہیں کی جائے گی یہاں تک کہ سورج زائل ہو جائے اور نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے دو جمروں کے پاس لمبی دیر تک رکتے، اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح و تکبیر بیان کرتے اور جمرہ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرتے اور جب بھی جمروں کو کنکری مارتے تو تکبیر کہتے۔
نافع سے منقول ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رمیِ جمار کے وقت جب بھی کوئی کنکری مارتے، ساتھ ساتھ تکبیر بھی کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9666]
نافع سے منقول ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رمیِ جمار کے وقت جب بھی کوئی کنکری مارتے، ساتھ ساتھ تکبیر بھی کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9666]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 918»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9667
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ: قَامَ ابْنُ عُمَرَ حِينَ رَمَى الْجَمْرَةَ، عَنْ يَسَارِهَا، نَحْو مَا لَوْ شِئْتَ قَرَأْتَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ فِي حَزْرِ قِيَامِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" وَكَانَ قَدْرَ قِرَاءَةِ سُورَةِ يُوسُفَ"، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ بِقَدْرِ قِرَاءَةِ سُورَةٍ مِنَ الْمِئِينَ"، وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْلُو فِي الْجَمْرَتَيْنِ إِذَا رَمَاهُمَا"، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَرْفُوعًا فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي، وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" لَا تُرْمَ الْجَمْرَةُ حَتَّى يَمِيلَ النَّهَارُ".
(الف) وبرہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جمرہ کو کنکریاں ماریں تو اس کی بائیں جانب اتنی دیر تک رکے کہ اگر تو چاہے تو سورہ بقرہ پڑھ سکتا ہے۔
(ب) ابو مجلز سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قیام کے اندازے کے بارے میں منقول ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سورہ یوسف کی قراءت کے اندازے کے برابر ٹھہرتے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ تقریباً سو آیات والی (مئین) سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھنے کے اندازے کے برابر کھڑے رہتے۔
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جمروں میں اونچے مقام پر رہتے، جب انھیں کنکریاں مارتے۔
(ج) اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے وادی کے وسط سے جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے کے بارے میں مرفوع روایت منقول ہے۔
(د) اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: ”اس وقت تک جمرہ کو کنکریاں نہ مارو حتیٰ کہ دن ڈھل جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9667]
(ب) ابو مجلز سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قیام کے اندازے کے بارے میں منقول ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سورہ یوسف کی قراءت کے اندازے کے برابر ٹھہرتے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ تقریباً سو آیات والی (مئین) سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھنے کے اندازے کے برابر کھڑے رہتے۔
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جمروں میں اونچے مقام پر رہتے، جب انھیں کنکریاں مارتے۔
(ج) اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے وادی کے وسط سے جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے کے بارے میں مرفوع روایت منقول ہے۔
(د) اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: ”اس وقت تک جمرہ کو کنکریاں نہ مارو حتیٰ کہ دن ڈھل جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9667]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2043. -- باب: من شك في عدد ما رمى
-- باب: اس شخص کا بیان جسے اپنی ماری ہوئی کنکریوں کی تعداد میں شک پڑ جائے۔
حدیث نمبر: 9668
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ وَلَمْ أَدْرِ رَمَيْتُ سِتًّا أَوْ سَبْعًا، قَالَ: ائْتِ ذَاكَ الرَّجُلَ يُرِيدُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَهَبَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: أَمَّا أَنَا لَوْ فَعَلْتُ فِي صَلَاتِي لَأَعَدْتُ الصَّلَاةَ فَجَاءَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَ أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَكَأَنَّهُ أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ لَأَعَدْتُ الْمَشْكُوكَ فِي فِعْلِهِ كَذَلِكَ فِي الرَّمْيِ يُعِيدُ الْمَشْكُوكَ فِي رَمْيِهِ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْيَقِينِ، وَبِاللهُ التَّوْفِيقُ.
ابومجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں نے جمرہ کو رمی کی ہے، لیکن یاد نہیں کہ چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات۔ انہوں نے کہا: اس آدمی یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ۔ وہ گیا اور اس نے ان سے پوچھا تو وہ فرمانے لگے: اگر میرے ساتھ نماز میں یہ معاملہ بنے تو میں اپنی نماز دہراؤں گا۔ اس نے واپس آکر انہیں (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) کو بتایا تو انہوں نے کہا: ابو الحسن نے سچ کہا۔
شیخ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“! انہوں نے مشکوک کو دہرانے کا ارادہ کیا ہے، اسی طرح رمی میں بھی جس میں شک ہے، اس کو دہرایا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9668]
شیخ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“! انہوں نے مشکوک کو دہرانے کا ارادہ کیا ہے، اسی طرح رمی میں بھی جس میں شک ہے، اس کو دہرایا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9668]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح