🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2074. -- باب: المفسد لعمرته يقضيها من حيث أحرم ما أفسد وكذلك المفسد لحجه
-- باب: اپنے عمرے کو فاسد کرنے والا اس کی قضا وہیں سے کرے جہاں سے اس نے فاسد کیے گئے عمرے کا احرام باندھا تھا، اور اپنے حج کو فاسد کرنے والے کا بھی یہی حکم ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q9809
رُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مُحْرِمٍ بِحَجَّةٍ أَصَابَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ مُحْرِمَةٌ، قَالَ:" يَقْضِيَانِ حَجَّهُمَا وَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ مِنْ حَيْثُ كَانَا أَحْرَمَا" وَرُوِّينَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَمَّا مَنْ ذَهَبَ إِلَى أَنَّ عَائِشَةَ رَفَضَتْ عُمْرَتَهَا ثُمَّ أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ تَقْضِيَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ فَقَدْ دَلَّلْنَا فِيمَا مَضَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَهَا بِإِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ فَكَانَتْ قَارِنَةً، وَإِنَّمَا كَانَتْ عُمْرَتُهَا شَيْئًا اسْتَحَبَّتْهُ.
ہمیں عطاء سے، انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں روایت کیا گیا ہے جو حالتِ احرامِ حج میں ہو اور اپنی بیوی سے صحبت کر لے جبکہ وہ بھی احرام میں ہو، آپ نے فرمایا: ”وہ دونوں اپنے اس حج کو پورا کریں اور ان پر آئندہ سال اسی جگہ سے حج کرنا فرض ہے جہاں سے انہوں نے (پہلے) احرام باندھا تھا۔“
اور یہی مضمون ہمیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا گیا ہے۔
رہے وہ لوگ جو اس بات کی طرف گئے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا عمرہ فسخ (ترک) کر دیا تھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تنعیم سے اس کی قضا کرنے کا حکم دیا تھا، تو ہم نے سابقہ دلائل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صرف عمرے پر حج داخل کرنے کا حکم دیا تھا جس کی بنا پر وہ قارنہ (قران کرنے والی) بن گئی تھیں، اور (بعد میں تنعیم سے) ان کا عمرہ کرنا محض ایک ایسا عمل تھا جسے انہوں نے پسند فرمایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q9809]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9809
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" طَوَافُكِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَكْفِيكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ".
عطاء سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی تیرے حج و عمرہ کے لیے کافی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9809]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 1897»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9810
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَكْفِيكَ طَوَافٌ وَاحِدٌ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ".
حضرت عطاء رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے عرفہ میں وقوف کے بعد ایک طواف تیرے حج و عمرہ کے لیے کافی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9810]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الدارقطني 2/ 262»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9811
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ، وَحَاضَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حِينَ حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّفْرِ:" سَعْيُكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ" فَأَبَتْ فَبَعَثَ مَعَهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وُهَيْبٍ.
ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھا، لیکن بیت اللہ کے طواف سے پہلے حائضہ ہو گئیں، باقی سارے مناسک ادا کیے۔ انہوں نے حج کا تلبیہ کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نفر کے دن ان سے فرمایا: ”تمہاری سعی تمہارے حج اور عمرہ دونوں کے لیے کافی ہے“ لیکن انہوں نے انکار کر دیا، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو مقامِ تنعیم تک روانہ کیا، پھر انہوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9811]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1211»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2075. -- باب: إدراك الحج بإدراك عرفة قبل طلوع الفجر من يوم النحر
-- باب: قربانی کے دن کی فجر طلوع ہونے سے پہلے وقوفِ عرفہ پا لینے سے حج پا لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9812
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ، يَقُولُ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْحَجُّ عَرَفَةُ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ"، أَوْ" تَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ".
سیدنا عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”حج عرفہ کا ہی نام ہے، جس نے وقوفِ عرفہ کو طلوعِ فجر سے پہلے پا لیا اس نے حج کو پا لیا یا اس کا مکمل ہوگیا اور منیٰ کے تین دن ہیں۔ جو پہلے دو دنوں میں جلدی کرلیتا ہے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو مؤخر کر دے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9812]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمذي 2985»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9813
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ الدِّيلِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَاتٍ فَأَتَاهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَمَرُوا رَجُلًا فَنَادَى يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ الْحَجُّ، كَيْفَ الْحَجُّ؟ قَالَ: فَأَمَرَ رَجُلًا فَنَادَى:" الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ مَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ" ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا مِنْ خَلْفِهِ فَنَادَى بِذَلِكَ.
سیدنا عبدالرحمن بن یعمر دیلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں تھے، صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک گروہ آپ کے پاس آیا، انہوں نے ایک آدمی کو حکم دیا، اس نے آواز دی: ”اے اللہ کے رسول! حج کیسے ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کرے: ”حج عرفہ کا دن ہے۔ جو عرفات میں رات کو صبح کی نماز سے پہلے آ گیا، اس کا حج مکمل ہے۔ منیٰ کے (قیام کے) تین دن ہیں۔ جو دو دن میں جلدی کرے (کنکر مارنے میں) اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے پیچھے سوار کیا تو اس نے یہ اعلان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9813]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9814
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو الزِّنْبَاعِ، ثنا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَزَكَرِيَّا، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامَ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْتُ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ فَوَاللهِ مَا جِئْتُ حَتَّى ⦗٢٨٣⦘ أَتْعَبْتُ نَفْسِي وَأَنْضَيْتُ رَاحِلَتِي وَمَا تَرَكْتُ مِنْ هَذِهِ الْجِبَالِ شَيْئًا إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْفَجْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَكَانَ قَدْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ" قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ زَكَرِيَّا فِيهِ وَكَانَ أَحْفَظَ الثَّلَاثَةِ لِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَيْتُ هَذِهِ السَّاعَةَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ قَدْ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟، فَقَالَ:" مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى يُفِيضَ، وَكَانَ قَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ"، قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بِشْرَانَ.
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مزدلفہ میں آیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں طی کے دو پہاڑوں کے درمیان سے آیا ہوں، قسم بخدا! میں اپنے آپ کو تھکا کر آیا ہوں اور اپنی سواری کو بھی۔ میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا مگر میں نے اس پر ضرور وقوف کیا ہے۔ کیا میرے لیے حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ مزدلفہ میں نماز فجر میں ہمارے ساتھ حاضر ہو جاتا ہے اور اس نے وقوف عرفہ دن یا رات کے حصہ میں کیا ہوا ہے، اس کا حج مکمل ہو گیا اور میل کچیل ختم ہو گئی۔“ سفیان کہتے ہیں کہ زکریا نے اس میں کچھ اضافہ کیا ہے، وہ تینوں سے اس حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والے ہیں، کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس وقت طی کے پہاڑوں سے آیا ہوں۔ میں نے اپنی سواری اور اپنے آپ کو بھی تھکا دیا ہے، کیا میرے لیے حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ اس نماز میں حاضر ہوا اور ہمارے ساتھ وقوف کیا یہاں تک کہ وہ (مزدلفہ سے) روانہ ہو اور رات و دن کے حصہ میں عرفہ کے اندر وقوف کیا اس کا حج مکمل ہو گیا، گندگی دور ہو گئی۔“ سفیان کہتے ہیں کہ داود بن ابی ہند نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جب فجر طلوع ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9814]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 1960۔ ابن ماجه 3016»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9815
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَوْرَةُ بْنُ الْحَكَمِ صَاحِبُ الرَّأْيِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ قَبْلَ الصُّبْحِ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَمَنْ فَاتَهُ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عرفات سے صبح سے پہلے واپس پلٹ آیا اس کا حج مکمل ہو گیا اور جس کا وقوف عرفہ رہ گیا تو اس کا حج بھی رہ گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9815]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9816
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ:" لَا يَفُوتُ الْحَجُّ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ"، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَبَلَغَكَ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ عَطَاءٌ:" نَعَمْ".
ابن جریج رحمہ اللہ حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”حج فوت نہیں ہوتا یعنی نہیں رہ جاتا جب تک کہ مزدلفہ کی رات کے بعد فجر طلوع نہ ہو جائے۔“ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا یہ بات آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچی ہے؟ فرمانے لگے: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9816]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9817
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9817]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں