السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2127. -- باب: من لم ير الإحلال بالإحصار بالمرض
-- باب: ان کا بیان جو بیماری کی وجہ سے روکے جانے پر حلال ہونے کے قائل نہیں۔
حدیث نمبر: 10095
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، قَالَ: خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالدُّثَيْنَةِ، وَقَعْتُ عَنْ رَاحِلَتِي فَكُسِرْتُ فَبَعَثْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ فَسُئِلَا فَقَالَا:" لَيْسَ لَهُ وَقْتٌ كَوَقْتِ الْحَجِّ يَكُونُ عَلَى إِحْرَامِهِ حَتَّى يَصِلَ إِلَى الْبَيْتِ"، قَالَ: فَتَنَقَّلْتُ تِلْكَ الْمِيَاهَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ أَوْ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَى الْبَيْتِ هُوَ أَبُو الْعَلَاءِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ مِنْ ثِقَاتِ الْبَصْرِيِّينَ.
ایوب ابوالعلا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمرہ کی غرض سے نکلا اور دثینہ کے مقام پر آگیا۔ میں اپنی سواری سے گر پڑا اور میرا کوئی عضو ٹوٹ گیا۔ میں نے کسی کو ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف روانہ کیا تاکہ ان دونوں سے سوال کیا جائے۔ ان دونوں نے کہا: اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں جیسے حج کے لیے ہوتا ہے، وہ اپنے احرام میں رہے جب تک بیت اللہ نہ پہنچ جائے۔ کہتے ہیں: میں چھ ماہ یا سات ماہ انہی پانی کے مقامات پر منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ میں بیت اللہ پہنچا۔
یہ ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن شخیر ہیں، جو بصرہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10095]
یہ ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن شخیر ہیں، جو بصرہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10095]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 80»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10096
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، وَمَرْوَانَ، وَابْنَ الزُّبَيْرِ أَفْتَوُا ابْنَ حُزَابَةَ الْمَخْزُومِيَّ وَإِنَّهُ صُرِعَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ أَنْ يَتَدَاوَى بِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ وَيَفْتَدِيَ فَإِذَا صَحَّ اعْتَمَرَ فَحَلَّ مِنْ إِحْرَامِهِ، وَكَانَ عَلَيْهِ أَنْ يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا وَيُهْدِيَ".
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر، مروان اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم ان سب نے ابن حزابہ مخزومی کو فتویٰ دیا جس وقت وہ حالتِ احرام میں مکہ کے راستے میں سواری سے گر پڑا کہ وہ ضروری علاج کروائے اور اس کا فدیہ دے، جب درست ہو جائے تو عمرہ کرے، پھر اپنے احرام سے حلال ہو جائے، لیکن آئندہ سال اس پر حج ہے اور قربانی دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10096]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10097
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ ⦗٣٦٠⦘ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا نَعْلَمُ حَرَامًا يَحِلَّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ" وَمَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ فِي مَسْأَلَةِ الِاسْتِثْنَاءِ فِي الْحَجِّ دَلِيلٌ فِي هَذِهِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسی چیز معلوم نہیں جو محرم کو حلال کرے سوائے بیت اللہ کے طواف کے۔
اور حج میں استثناء (شرط لگانے) کے مسئلہ میں جو ہم ان شاء اللہ ذکر کریں گے وہ اس بارے میں دلیل ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10097]
اور حج میں استثناء (شرط لگانے) کے مسئلہ میں جو ہم ان شاء اللہ ذکر کریں گے وہ اس بارے میں دلیل ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10097]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد 1862»
الحكم على الحديث: صحيح
2128. -- باب: من رأى الإحلال بالإحصار بالمرض
-- باب: ان کا بیان جو بیماری کی وجہ سے روکے جانے پر حلال ہونے کے قائل ہیں۔
حدیث نمبر: 10098
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَعِيلَ الطَّابَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحٌ، ثنا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ كُسِرَ أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ أُخْرَى" قَالَ: فَحَدَّثْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَا: صَدَقَ. لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَفِي رِوَايَةِ رَوْحٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ وَقَالَ:" فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى"، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، وَهَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَأَبُو عَاصِمٍ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى ذَكَرُوا فِيهِ سَمَاعَ عِكْرِمَةَ مِنَ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ، وَقَدْ خَالَفَهُ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فَأَدْخَلَ بَيْنَهُمَا رَجُلًا.
حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”کوئی عضو ٹوٹ گیا یا وہ لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو جائے اور اس پر دوسرا حج ہے۔“ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
(ب) ایک روایت میں روح حضرت حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”وہ حلال ہو جائے اور اس پر دوسرا حج ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10098]
(ب) ایک روایت میں روح حضرت حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”وہ حلال ہو جائے اور اس پر دوسرا حج ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10098]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 186»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10099
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ عَنْ حَبْسِ الْمُسْلِمِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كُسِرَ أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ" قَالَ عِكْرِمَةُ: فَحَدَّثْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَا: صَدَقَ الْحَجَّاجُ. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَثْبَتُ..
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن رافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے مسلمان کے روکے جانے کے بارے میں سوال کیا تو وہ فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے وہ حلال ہو جائے، اس پر آئندہ سال دوبارہ حج ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے (یہ بات) کہی تو ان دونوں نے فرمایا کہ حجاج رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔
علی بن مدینی فرماتے ہیں: حجاج صواف کی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت زیادہ پختہ (اثبت) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10099]
علی بن مدینی فرماتے ہیں: حجاج صواف کی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت زیادہ پختہ (اثبت) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10099]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10100
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، فَذَكَرَهُ. ⦗٣٦١⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ حَمَلَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنْ صَحَّ عَلَى أَنَّهُ يَحِلُّ بَعْدَ فَوَاتِهِ بِمَا يَحِلُّ بِمَنْ يَفُوتُهُ الْحَجُّ بِغَيْرِ مَرَضٍ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ثَابِتًا عَنْهُ، قَالَ: لَا حَصْرَ إِلَّا حَصْرَ عَدُوٍّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ایضاً۔
شیخ فرماتے ہیں: بعض اہل علم نے اس حدیث کو، اگر یہ صحیح ہو، اس پر محمول کیا ہے کہ حج فوت ہو جانے کے بعد وہ اسی طریقے سے حلال ہوگا جس طریقے سے وہ شخص حلال ہوتا ہے جس کا حج بیماری کے بغیر فوت ہو جائے، کیونکہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: رکاوٹ تو صرف دشمن کی رکاوٹ ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10100]
شیخ فرماتے ہیں: بعض اہل علم نے اس حدیث کو، اگر یہ صحیح ہو، اس پر محمول کیا ہے کہ حج فوت ہو جانے کے بعد وہ اسی طریقے سے حلال ہوگا جس طریقے سے وہ شخص حلال ہوتا ہے جس کا حج بیماری کے بغیر فوت ہو جائے، کیونکہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: رکاوٹ تو صرف دشمن کی رکاوٹ ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10100]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10101
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الَّذِي لُدِغَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْعُمْرَةِ فَأُحِصَرَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" ابْعَثُوا بِالْهَدْيِ، وَاجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ يَوْمَ أَمَارٍ فَإِذَا ذَبَحَ الْهَدْيَ بِمَكَّةَ حَلَّ هَذَا" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ الْكِسَائِيُّ: الْأَمَارُ: الْعَلَامَةُ الَّتِي يُعْرَفُ بِهَا الشَّيْءُ، يَقُولُ: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ يَوْمًا تَعْرِفُونَهُ لِكَيْلَا تَخْتَلِفُوا.
عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ شخص جس کو ڈس لیا گیا اور اس نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا تھا، پھر وہ روک دیا گیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس کی قربانی مکہ روانہ کرو اور اپنے اور اس کے درمیان ایک دن علامت کے طور پر مقرر کرو، جب قربانی مکہ میں ذبح کر دی جائے تو وہ حلال ہو جائے۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسائی نے کہا: «الْأَمَارُ» کا معنی ”علامت“ ہے، جس کے ذریعہ کسی چیز کو پہچانا جائے؛ ایک معروف دن مقرر کر لو تاکہ تمہارے درمیان اختلاف نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10101]
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسائی نے کہا: «الْأَمَارُ» کا معنی ”علامت“ ہے، جس کے ذریعہ کسی چیز کو پہچانا جائے؛ ایک معروف دن مقرر کر لو تاکہ تمہارے درمیان اختلاف نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10101]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي575»
الحكم على الحديث: صحيح
2129. -- باب: الاستثناء في الحج
-- باب: حج (کی نیت) میں استثناء (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10102
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ:" أَمَا تُرِيدِينَ الْحَجَّ؟" فَقَالَتْ: إِنِّي شَاكِيَةٌ، فَقَالَ لَهَا:" حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي" قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ: لَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ عُرْوَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِثْنَاءِ لَمْ أَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَحِلُّ عِنْدِي خِلَافُ مَا ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ ثَبَتَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ فَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعۃ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو حج کا ارادہ نہیں رکھتی؟“ اس نے کہا: میں بیمار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج کر اور شرط لگا کہ میرے حلال ہونے کی وہ جگہ ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا: اگر استثنا کے بارے میں عروہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ثابت ہو تو میں اس سے ہٹ کر کسی اور بات کی طرف نہ جاؤں گا، کیونکہ میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ بات کی مخالفت جائز نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے ثابت ہے، رہی ابن عیینہ کی ہشام سے روایت تو وہ موصول بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10102]
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا: اگر استثنا کے بارے میں عروہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ثابت ہو تو میں اس سے ہٹ کر کسی اور بات کی طرف نہ جاؤں گا، کیونکہ میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ بات کی مخالفت جائز نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے ثابت ہے، رہی ابن عیینہ کی ہشام سے روایت تو وہ موصول بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10102]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الدارقطني 2/ 219»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10103
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِضُبَاعَةَ وَهِيَ شَاكِيَةٌ، فَقَالَ:" أَتُرِيدِينَ الْحَجَّ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَحُجِّي وَاشْتَرِطِي وَقُولِي: اللهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي" ⦗٣٦٢⦘ وَصَلَهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ وَهُوَ ثِقَةٌ، عَنْ سُفْيَانَ وَأَرْسَلَهُ غَيْرُهُ، وَقَدْ وَصَلَهُ أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ. وَمَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے اور وہ بیمار تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ حج کا ارادہ رکھتی ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو حج کر اور شرط لگا اور کہہ: «اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”اے اللہ! میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے۔““
عبدالجبار نے، جو ثقہ ہیں، اسے سفیان سے موصول بیان کیا ہے جبکہ دوسروں نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10103]
عبدالجبار نے، جو ثقہ ہیں، اسے سفیان سے موصول بیان کیا ہے جبکہ دوسروں نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10103]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 4801»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10104
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا:" أَرَدْتِ الْحَجَّ؟" قَالَتْ: وَالِلَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، فَقَالَ لَهَا:" حُجِّي وَاشْتَرِطِي وَقُولِي: اللهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي". وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو حج کا ارادہ رکھتی ہے؟“ وہ کہنے لگیں: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو تکلیف ہی میں پاتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو حج کر اور شرط لگا اور کہہ: «اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”اے اللہ! میرے حلال ہونے کی وہی جگہ ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔““ اور یہ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10104]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انطر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح