السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1848. -- باب: المتمتع بالعمرة إلى الحج إذا أقام بمكة حتى ينشئ الحج إن شاءه من مكة لا من الميقات
-- باب: حجِ تمتع کرنے والا (جو عمرہ کر کے حج تک متمتع ہو) جب مکہ میں قیام کرے تو اگر چاہے وہیں مکہ سے حج کا آغاز کرے، نہ کہ میقات سے۔
حدیث نمبر: 8787
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَهُوَ يُخْبِرُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا طُفْنَا أَنْ نَحِلَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْطَلِقُوا إِلَى مِنًى فَأَهِلُّوا" قَالَ: فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْبَطْحَاءِ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بیان کر رہے تھے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کرنے کے بعد حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں اور فرمایا: ”جب تم منیٰ جانے کا ارادہ کرو تو تلبیہ کہنا شروع کر دو۔“ پس ہم نے بطحا سے تلبیہ کا آغاز کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8787]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم1214۔ احمد3/378»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8788
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ فِي مَسْجِدِ الرَّصَافَةِ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ مُوسَى بْنُ نَافِعٍ الْأَسَدِيُّ قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا مُتَمَتِّعٌ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَقَالَ لِي أُنَاسٌ مِنْ أَهَلِ مَكَّةَ تَصِيرُ الْآنَ حَجَّتُكَ مَكِّيَّةً، فَدَخَلْتُ عَلَى عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَسْتَفْتِيهِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَاقَ الْبُدْنَ وَقَدْ أَهَلَّوْا بِالْحَجِّ مُفْرِدًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَقْصِرُوا وَأَنْتُمْ حَلَالٌ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدَّمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً" قَالُوا: كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ؟ فَقَالَ:" افْعَلُوا مَا أَمَرْتُكُمْ فَلَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُكُمْ بِهِ وَلَكِنْ لَا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ" فَفَعَلُوا ⦗٥٨٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
موسیٰ بن نافع اسدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مکہ آیا اور میں حج تمتع کرنے والا تھا، میں یوم ترویہ سے تین دن پہلے مکہ داخل ہوا تو مجھے لوگوں نے کہا: اب تیرا حج مکی بن جائے گا، تو میں عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے گیا تو انہوں نے کہا: مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا جب وہ قربانیاں ساتھ لے کر گئے اور انہوں نے اکیلے حج کا تلبیہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: ”بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر کے احرام کھول دو اور بال کٹوا لو تم حلال ہو۔ جب ترویہ کا دن آئے تو حج کا تلبیہ کہہ اور اس کو حج تمتع بنا لو۔“ کہنے لگے کہ ہم اس کو تمتع کیسے بنا لیں جب کہ ہم نے تو حج کا نام لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تمہیں کہا گیا ہے، وہ کرو! اگر میں قربانی ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسا میں تمہیں کہہ رہا ہوں، لیکن میں احرام اس وقت تک نہیں کھول سکتا جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ لگ جائے“ تو انہوں نے ایسا ہی کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8788]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1493۔ مسلم 1216»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8789
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَضَاقَتْ بِذَلِكَ صُدُورُنَا وَكَبُرَ عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحِلُّوا فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي فَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي تَفْعَلُونَ" قَالَ: فَأَحْلَلْنَا حَتَّى وَطِئْنَا النِّسَاءَ وَفَعَلْنَا مِثْلَ مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ حَتَّى إِذَا كَانَ عَشِيَّةُ التَّرْوِيَةِ وَجَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ وَقَالَ أَهْلَلْنَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج سے چار دن پہلے مکہ پہنچے تو ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو عمرہ بنا لیں، تو یہ بات ہمارے دلوں کو تنگ لگی اور گراں گزری، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! حلال ہو جاؤ، اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو تم کرتے۔“ وہ کہتے ہیں کہ پھر ہم حلال ہو گئے حتیٰ کہ ہم نے عورتوں سے جماع بھی کیا اور وہ سب کچھ کیا جو ایک حلال آدمی کرتا ہے، حتیٰ کہ جب ترویہ کی رات آئی اور ہم نے مکہ کو پیچھے چھوڑا تو ہم نے حج کا تلبیہ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8789]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1216۔ نسائي 2994»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8790
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَتَّعُونَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ فَإِذَا لَمْ يَحُجُّوا عَامَهُمْ ذَلِكَ لَمْ يَهْدُوا شَيْئًا".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم حج کے مہینوں میں تمتع کرتے تھے اور سال حج نہ کیا تو کچھ بھی قربانی نہ کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8790]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ابي شيبة 13012»
الحكم على الحديث: ضعيف
1849. -- باب: المفرد أو القارن يريد العمرة بعد الفراغ من نسكه خرج من الحرم ثم أهل من أين شاء
-- باب: حجِ افراد یا حجِ قران کرنے والا جب اپنے مناسک سے فارغ ہونے کے بعد عمرے کا ارادہ کرے تو وہ حدودِ حرم سے باہر نکلے، پھر جہاں سے چاہے احرام باندھ لے۔
حدیث نمبر: 8791
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا خَالِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ثنا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَفِي حَرَمِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ مَعَهُ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَا" فَمِنْهُمُ الْآخِذُ بِهَا وَمِنْهُمُ التَّارِكُ لَهَا مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَأَمَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ وَمَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَهُمْ قُوَّةٌ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا شَأْنُكِ" فَقُلْتُ: سَمِعْتُ كَلَامَكَ مَعَ أَصْحَابِكَ فِي الْعُمْرَةِ قَالَ:" مَا لَكِ" قُلْتُ لَا أُصَلِّي قَالَ:" فَلَا يَضُرُّكِ تَكُونِي فِي حَجَّةٍ وَعَسَى اللهُ أَنْ يَرْزُقَكِهَا وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ كَتَبَ اللهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ" قَالَتْ: فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّى نَزَلْنَا مِنًى فَطَهُرْتُ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي ⦗٥٨١⦘ بَكْرٍ، فَقَالَ:" اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَأَفْرِغَا حَتَّى تَأْتِيَانِي فَإِنِّي أَنْتَظِرْكُمَا هَا هُنَا" قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْنَا ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَجِئْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ:" هَلْ فَرَغْتُمْ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ عَنْ أَفْلَحَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُلَيْمَانَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے مہینوں میں حج کا تلبیہ کہتے ہوئے نکلے اور حج کا ہی احرام باندھا تھا، حتیٰ کہ جب مقامِ سرف پر پہنچے تو اپنے ساتھیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی نہیں ہے اور وہ اس کو عمرہ بنانا چاہتا ہے تو بنا لے اور جس کے پاس قربانی ہے، وہ ایسا نہیں کر سکتا۔“ تو کچھ نے تو اس بات پر عمل کر لیا اور کچھ نے یہ رخصت قبول نہ کی، جن کے پاس قربانی نہیں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور آپ کے ان اصحاب کے پاس جو طاقتور تھے، قربانیاں موجود تھیں، فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرا کیا معاملہ ہے؟“ میں نے کہا: عمرہ کے بارے میں جو آپ نے اپنے اصحاب سے بات کہی ہے وہ میں نے سن لی ہے تو فرمانے لگے: ”پھر تجھے کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں نماز نہیں پڑھ سکتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں، تو اپنا حج جاری رکھ، امید ہے کہ اللہ تجھے عمرہ بھی کروا دے گا اور تو بناتِ آدم میں سے ہے، تیرے ساتھ بھی وہ معاملہ ہے جو بناتِ آدم کے ساتھ ہوتا ہے۔“ کہتی ہیں: میں نکلی اپنے حج میں حتیٰ کہ جب ہم منیٰ پہنچے تو میں پاک ہو گئی اور بیت اللہ کا طواف کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ محصب میں اترے اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور فرمایا: ”اپنی بہن کو لے کر حرم سے نکل جا تاکہ وہ عمرہ کا تلبیہ کہے اور بیت اللہ کا طواف کرے اور فارغ ہو کر دونوں میرے پاس پہنچو، میں یہیں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔“ کہتی ہیں کہ ہم دونوں نکلے ہم نے تلبیہ کہا، پھر میں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا اور رات کے وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور وہ اپنی جگہ پر ہی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم فارغ ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں نکلنے کا اعلان کیا، پس آپ نکلے بیت اللہ کے پاس سے گزرتے ہوئے، فجر سے پہلے اس کا طواف کیا پھر مدینہ کی طرف نکل گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8791]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1696۔ مسلم 1211»
الحكم على الحديث: صحيح
1850. -- باب: من استحب الإحرام بالعمرة من الجعرانة
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے مقامِ جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھنے کو مستحب قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 8792
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ عَمْرَةُ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةٌ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةٌ مِنَ الْجِعْرَانَةِ حِينَ قَسَمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتُهُ مَعَ حَجَّتِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے اور چاروں ذوالقعدہ میں، مگر وہ عمرہ جو اپنے حج کے ساتھ کیا تھا، ایک عمرۂ حدیبیہ ذوالقعدہ میں اور عمرہ اگلے سال ذوالقعدہ میں اور ایک عمرہ جعرانہ سے جب حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں وہ بھی ذوالقعدہ میں اور ایک عمرہ حج کے ساتھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8792]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3917۔ مسلم 1253»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8793
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ لَيْلًا فَاعْتَمَرَ وَأَصْبَحَ بِهَا كَبَائِتٍ..
محرش کعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات جعرانہ سے نکلے اور عمرہ کیا اور صبح کو واپس آگئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8793]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ترمذي 935۔ نسائي 286»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 8794
وَبِإِسْنَادِهِ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ يَعْنِي عَنْ مُزَاحِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَهُوَ مُخَرِّشٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَصَابَ ابْنُ جُرَيْجٍ لِأَنَّ وَلَدَهُ عِنْدَنَا يَقُولُونَ بَنُو مُخَرِّشٍ.
ایضاً [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8794]
حدیث نمبر: 8795
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، هُوَ الْأَصَمُّ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ لَيْلًا مُعْتَمِرًا فَدَخَلَ مَكَّةَ لَيْلًا فَقَضَى عُمْرَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ لَيْلَتِهِ فَأَصْبَحَ بِالْجِعْرَانَةِ كَذَا قَالَ مُحَرِّشٌ بِالْحَاءِ وَكَأَنَّ الرِّوَايَةَ هَكَذَا وَابْنُ جُرَيْجٍ رَأَى أَنَّ ذَلِكَ بِالْخَاءِ مُعْجَمَةً فِي رِوَايَةِ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ عَنْهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا محرش کعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے عمرہ کرنے کے لیے نکلے، رات کے وقت ہی مکہ میں داخل ہوئے، عمرہ مکمل کیا اور رات ہی کو واپس لوٹ آئے اور صبح جعرانہ میں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8795]
تخریج الحدیث: «حسن۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن
1851. -- باب: من أحرم بها من التنعيم
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے مقامِ تنعیم سے اس کا احرام باندھا۔
حدیث نمبر: 8796
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ فَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ.
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیچھے بٹھا کر تنعیم سے عمرہ کروائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8796]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1693۔ مسلم 1212»
الحكم على الحديث: صحيح