السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1886. -- باب: رفع الصوت بالتلبية
-- باب: بلند آواز سے تلبیہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9016
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، أنبأ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أِيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" الْعَجُّ وَالثَّجُّ" كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ.
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند آواز سے تلبیہ کہنا اور قربانی کا خون بہانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9016]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ ابن ماجه 2934»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 9017
وَقَدْ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أِيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الْعَجُّ وَالثَّجُّ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ عَنْهُ الْبُخَارِيَّ فَقَالَ: هُوَ عِنْدِي مُرْسَلٌ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، قُلْتُ: فَمَنْ ذَكَرَ فِيهِ سَعِيدًا؟، قَالَ: هُوَ خَطَأٌ لَيْسَ فِيهِ عَنْ سَعِيدٍ، قُلْتُ لَهُ: إِنَّ ضِرَارَ بْنَ صُرَدٍ، وَغَيْرَهُ رَوَوْا عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَالُوا: عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَيْسَ بِشَيْءٍ، ⦗٦٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَا قَالَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فِيمَا بَلَغَنَا عَنْهُ.
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا حج افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند آواز سے تلبیہ کہنا اور قربانی کا خون بہانا۔“
ابوعیسیٰ (ترمذی) کہتے ہیں: میں نے اس کے بارے میں امام بخاری سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میرے نزدیک یہ مرسل ہے، محمد بن منکدر نے عبدالرحمن بن یربوع سے نہیں سنا۔ میں نے کہا: جنہوں نے اس میں سعید کا ذکر کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ غلطی ہے، اس میں سعید کا واسطہ نہیں ہے۔ میں نے ان سے کہا: ضرار بن صرد وغیرہ نے یہ حدیث ابن ابی فدیک سے روایت کی ہے اور کہا ہے: سعید بن عبدالرحمن سے، وہ اپنے والد سے۔ انہوں نے فرمایا: یہ کچھ بھی نہیں۔ شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: ہمیں امام احمد بن حنبل سے بھی یہی بات پہنچی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9017]
ابوعیسیٰ (ترمذی) کہتے ہیں: میں نے اس کے بارے میں امام بخاری سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میرے نزدیک یہ مرسل ہے، محمد بن منکدر نے عبدالرحمن بن یربوع سے نہیں سنا۔ میں نے کہا: جنہوں نے اس میں سعید کا ذکر کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ غلطی ہے، اس میں سعید کا واسطہ نہیں ہے۔ میں نے ان سے کہا: ضرار بن صرد وغیرہ نے یہ حدیث ابن ابی فدیک سے روایت کی ہے اور کہا ہے: سعید بن عبدالرحمن سے، وہ اپنے والد سے۔ انہوں نے فرمایا: یہ کچھ بھی نہیں۔ شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: ہمیں امام احمد بن حنبل سے بھی یہی بات پہنچی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9017]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد»
الحكم على الحديث: منكر الاسناد
حدیث نمبر: 9018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَبُو حَرِيزٍ سَهْلٌ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي الْغَيْثِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا بَلَغْنَا الرَّوْحَاءَ حَتَّى سَمِعْتُ عَامَّةَ النَّاسِ قَدْ بُحَّتْ أَصْوَاتُهُمْ مِنَ التَّلْبِيَةِ" أَبُو حَرِيزٍ هَذَا ضَعِيفٌ، وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ صُهْبَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ابھی ہم روحاء تک نہیں پہنچے تھے کہ میں نے سنا کہ لوگوں کی آوازیں تلبیہ کی وجہ سے بیٹھ رہی تھیں۔
یہ ابوحریز ضعیف ہے، اور اسے عمر بن صہبان نے بھی، جو ضعیف ہے، ابوالزناد سے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9018]
یہ ابوحریز ضعیف ہے، اور اسے عمر بن صہبان نے بھی، جو ضعیف ہے، ابوالزناد سے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9018]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
1887. -- باب: التلبية في كل حال، وما يستحب من لزومها
-- باب: ہر حال میں تلبیہ پڑھنے اور اس کی پابندی کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9019
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُلَبٍّ يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ مِنْ شَجَرٍ وَحَجَرٍ حَتَّى تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ مِنْ هُنَا وَهُنَا" يَعْنِي عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے تو اس کے دائیں بائیں کے تمام پتھر اور درخت بھی تاحدِ زمین تلبیہ کہتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9019]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ترمذي 828۔ ابن ماجه 2921»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9020
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْهَمَذَانِيُّ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَضْحَى مُؤْمِنٌ يُلَبِّي حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ إِلَّا غَابَتْ بِذُنُوبِهِ حَتَّى يَعُودَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: قُلْتُ لِلثَّوْرِيِّ: مِنْ أَيْنَ لَكَ عَاصِمٌ؟ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا الْكُوفَةَ زَمَانَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَحَدَّثَنَا..
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مومن بھی سورج نکلنے سے غروب ہونے تک تلبیہ کہتا رہتا ہے تو اس کے گناہ بھی سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9020]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن ماجه 2925۔ ابن عدي في الكامل 5/ 227»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 9021
قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9021]
تخریج الحدیث: «منكر۔ احمد 3/ 373»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 9022
وَقَدْ قِيلَ فِي هَذَا، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَضْحَى يَوْمًا مُلَبِّيًا حَتَّى ⦗٦٨⦘ تَغْرُبَ الشَّمْسُ غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ، فَعَادَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ فَذَكَرَهُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مومن بھی سورج نکلنے سے غروب ہونے تک تلبیہ کہتا رہتا ہے تو اس کے گناہ بھی سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اس کو جنم دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9022]
تخریج الحدیث: «منكر۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 9023
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ يُلَبِّي رَاكِبًا وَنَازِلًا وَمُضْطَجِعًا".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سوار ہوں یا پیادہ یا لیٹے ہوئے، تلبیہ کہتے رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9023]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مسند شافعي 573»
الحكم على الحديث: ضعيف
1888. -- باب: من استحب ترك التلبية في طواف القدوم، وعلى الصفا والمروة ومن رآها واسعة
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے طواف قدوم میں اور صفا و مروہ پر تلبیہ ترک کرنے کو مستحب سمجھا، اور جنہوں نے اس میں گنجائش دیکھی۔
حدیث نمبر: Q9024
بَابُ مَنِ اسْتَحَبَّ تَرْكَ التَّلْبِيَةِ فِي طَوَافِ الْقُدُومِ، وَعَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَمَنْ رَآهَا وَاسِعَةً.
اس شخص کے بیان کا باب جس نے طوافِ قدوم میں اور صفا و مروہ پر تلبیہ ترک کرنے کو مستحب قرار دیا، اور جس نے اس معاملے میں وسعت و گنجائش سمجھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q9024]
حدیث نمبر: 9024
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لَا يُلَبِّي وَهُوَ يَطُوفُ حَوْلَ الْبَيْتِ قَالَ الشَّيْخُ: وَأَمَّا الصَّفَا وَالْمَرْوَةُ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُقُوفِ عَلَيْهِمَا دُعَاءٌ وَتَكْبِيرٌ، وَفِي السَّعْيِ بَيْنَهُمَا دُعَاءٌ، فَأَسْتَحِبُّ أَنْ أَفْعَلَ مِنْ هَذَا مَا فَعَلَ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَكُونَ التَّلْبِيَةُ بَيْنَهُمَا مَكْرُوهَةً، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا بَيِّنٌ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي صِفَةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے تلبیہ نہیں کہتے تھے۔ [صحیح: موطا مالک، 749]
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ صفا و مروہ کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان پر ٹھہر کر دعا کرنا اور تکبیر کہنا ہی روایت کیا گیا ہے اور ان دونوں کے درمیان سعی کرتے ہوئے دعا کرنا ہے، تو مجھے بھی یہی پسند ہے کہ میں وہ کام کروں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، یعنی تلبیہ کو مکروہ کہے بغیر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9024]
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ صفا و مروہ کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان پر ٹھہر کر دعا کرنا اور تکبیر کہنا ہی روایت کیا گیا ہے اور ان دونوں کے درمیان سعی کرتے ہوئے دعا کرنا ہے، تو مجھے بھی یہی پسند ہے کہ میں وہ کام کروں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، یعنی تلبیہ کو مکروہ کہے بغیر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9024]