🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1936. -- باب: المحرم يستظل بما شاء ما لم يمس رأسه
-- باب: محرم جس چیز سے چاہے سایہ حاصل کر سکتا ہے جب تک کہ وہ اس کے سر کو نہ چھوئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9190
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ ⦗١١٢⦘ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّ أُمَّ الْحُصَيْنِ، حَدَّثَتْهُ قَالَتْ: حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ، وَبِلَالًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ وَ، الْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ.
ام حصین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا تو میں نے بلال اور اسامہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان میں سے ایک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار تھامی ہوئی تھی اور دوسرا اپنے کپڑے کو بلند کیے ہوئے تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرمی سے بچا رہا تھا، حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں ماریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9190]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 298۔ ابوداود 1834»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9191
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: صَحِبْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْحَجِّ فَمَا رَأَيْتُهُ مُضْطَرِبًا فُسْطَاطًا حَتَّى رَجَعَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَظُنُّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِ أَوْ غَيْرِهِ: كَانَ يَنْزِلُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَيَسْتَظِلُّ بِنِطْعٍ أَوْ بِكِسَاءٍ وَالشَّيْءِ.
(الف) عبداللہ بن عیاش بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حج میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں، میں نے انہیں خیمہ لگاتے نہیں دیکھا حتیٰ کہ حج سے لوٹ آئے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے متعلق میرا گمان ہے کہ اس حدیث یا اس کے علاوہ دوسری حدیث میں کہا: وہ کسی درخت کے نیچے اترتے اور چمڑے کے بچھونے سے سایہ حاصل کرتے یا کپڑے اور دوسری چیز سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9191]
تخریج الحدیث: «حسن۔ شافعي 1682»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1937. -- باب: من استحب للمحرم أن يضحى للشمس
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے محرم کے لیے دھوپ میں رہنے کو مستحب قرار دیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9192
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ: أَبْصَرَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا عَلَى بَعِيرِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَدِ اسْتَظَلَّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّمْسِ، فَقَالَ لَهُ: اضْحَ لِمَنْ أَحْرَمْتَ لَهُ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو اپنے اونٹ پر سوار دیکھا جو سورج سے سایہ کیے ہوئے تھا جب کہ وہ محرم تھا تو انہوں نے فرمایا: جس کے لیے تو نے احرام باندھا ہے اس کے لیے دھوپ میں رہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9192]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه 14253»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9193
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ أَنَّ عَطَاءً حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ جَعَلَ عَلَى وَسَطِ رَاحِلَتِهِ عُودًا وَجَعَلَ ثَوْبًا يَسْتَظِلُّ بِهِ مِنَ الشَّمْسِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَقِيَهُ ابْنُ عُمَرَ فَنَهَاهُ.
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی اونٹنی کے درمیان میں لکڑی رکھی ہوئی تھی اور اس پر کپڑا رکھ کر سایہ حاصل کر رہے تھے جبکہ وہ محرم تھے۔ انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما ملے تو انہوں نے اس کو منع فرما دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9193]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9194
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُحْرِمٍ يَضْحَى لِلشَّمْسِ حَتَّى تَغْرُبَ إِلَّا غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ حَتَّى يَعُودَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَمَا قَبْلَهُ مَوْقُوفٌ وَحَدِيثُ أُمِّ الْحُصَيْنِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو محرم شخص بھی سورج کی دھوپ میں رہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے، تو وہ سورج اس کے گناہوں کو لے کر ڈوبتا ہے، حتیٰ کہ وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس کو اس کی ماں نے جنم دیا ہو۔“
یہ سند ضعیف ہے، اور اس سے پہلے والی روایت موقوف ہے، اور ام حصین رضی اللہ عنہا کی حدیث صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9194]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن ماجه 2925۔ احمد 3/ 373»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1938. -- باب: المحرم يموت
-- باب: محرم کی وفات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ الْقَزَّازُ الْعَبْدُ الصَّالِحُ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ بِعَرَفَةَ فَوَقَصَتْهُ أَوْ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ" أَوْ قَالَ:" فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ عَنْ حَمَّادٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی اونٹنی پر سوار میدان عرفات میں کھڑا تھا، اس کی اونٹنی نے اس کو گرا دیا تو وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دے دو اور دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اس کو خوشبو نہ لگاؤ، اس کا سر نہ ڈھانپو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو تلبیہ کہتے ہوئے اٹھائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9195]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ومسلم 1206»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9196
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، سَمِعَ عَمْرًا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ وَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَادْفِنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ وَهُوَ يُهِلُّ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ سُفْيَانَ،.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ ایک آدمی اپنی سواری سے گرا، اس کا منکا ٹوٹا اور وہ مر گیا جب کہ وہ محرم تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے دو اور اس کو اسی کے دو کپڑوں میں دفن کر دو اور اس کا سر نہ ڈھانپو، یقیناً اللہ اس کو اس حال میں اٹھائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9196]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1206»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9197
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ زَادَ: قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: وَزَادَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ قَالَ: زَادَ فِيهِ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا".
سابقہ حدیث ہی بیان کی اور اس بات کا اضافہ کیا کہ ”خوشبو اس کے قریب بھی نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9197]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1742۔ مسلم 1206»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9198
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ ابْنًا لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تُوُفِّيَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يُخَمِّرْ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُقَرِّبْهُ طِيبًا.
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا حالتِ احرام میں فوت ہو گیا، تو انہوں نے اس کا سر نہ ڈھانپا اور خوشبو نہ لگائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9198]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1939. جماع أبواب دخول مكة -- باب: الغسل لدخول مكة
0مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9199
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَقْدَمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ، ثُمَّ يَدْخُلَ مَكَّةَ نَهَارًا، وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَعَلَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَيُّوبَ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی مکہ جاتے تو رات ذی طویٰ میں گزارتے، صبح کو غسل کرتے، پھر دن کے وقت مکہ میں داخل ہوتے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9199]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1680۔ مسلم 1259»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں