السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1956. -- باب: استحباب الاستلام في كل طوفة وإلا ففي كل وتر
-- باب: ہر چکر میں استلام کے مستحب ہونے کا بیان، اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو ہر طاق چکر میں۔
حدیث نمبر: 9260
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: مَا لِي رَأَيْتُكَ تُزَاحِمُ عَلَى هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُزَاحِمُ عَلَيْهِمَا غَيْرَكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَسْحُهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا".
عبید بن عمیر لیثی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں، آپ ان دونوں رکنوں پر بھیڑ کرتے ہیں، میں نے آپ کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی اور کو ان پر رش کرتے نہیں دیکھا؟ تو کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ”ان کو چھونا گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9260]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ترمذي 909۔ احمد 2/3»
الحكم على الحديث: صحيح
1957. -- باب: الاستلام في الزحام
-- باب: ہجوم میں استلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9261
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ إِمْلَاءً فِي مَسْجِدِ رَجَاءِ بْنِ مُعَاذٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُمَرُ إِنَّكَ رَجُلٌ قَوِيُّ لَا تُؤْذِ الضَّعِيفَ إِذْ أَرَدْتَ اسْتِلَامَ الْحَجَرِ، فَإِنْ خَلَا لَكَ فَاسْتَلِمْهُ وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْهُ وَكَبِّرْ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! تو قوی آدمی ہے، کمزور کو تکلیف نہ دے، جب تو حجر اسود کو چھونا چاہے تو اگر جگہ خالی ہو تو استلام کر لے، وگرنہ اس کی طرف متوجہ ہو اور تکبیر کہہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9261]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 3/ 29»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9262
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ خُزَاعَةَ قَالَ: وَكَانَ اسْتَخْلَفَهُ الْحَجَّاجُ عَلَى مَكَّةَ فَقَالَ: إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ رَجُلًا شَدِيدًا وَكَانَ يُزَاحِمُ عِنْدَ الرُّكْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُمَرُ لَا تُزَاحِمْ عِنْدَ الرُّكْنِ فَإِنَّكَ تُؤْذِي الضَّعِيفَ فَإِنْ رَأَيْتَ خَلْوَةً فَاسْتَلِمْهُ وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْهُ وَكَبِّرْ وَامْضِ" رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْخُزَاعِيِّ. قَالَ سُفْيَانُ: وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ كَانَ الْحَجَّاجُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَيْهَا مُنْصَرَفَهُ مِنْهَا وَهُوَ شَاهِدٌ لِرِوَايَةِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ.
ابویعفور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خزاعہ کے ایک بزرگ کو حجاج نے مکہ پر نائب مقرر کیا تھا۔ اس نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سخت آدمی تھے اور رکن پر مزاحمت کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: ”اے عمر! رکن کے پاس مزاحمت نہ کر، تو ضعیف کو تکلیف دیتا ہے۔ اگر تو خالی جگہ دیکھے تو استلام کر، وگرنہ اس کی طرف متوجہ ہو، تکبیر کہہ اور چلتا جا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9262]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 1/ 28۔ عبدالرزاق 890»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9263
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:"" كَيْفَ صَنَعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ؟"" قَالَ: اسْتَلَمْتُ وَتَرَكْتُ، قَالَ:"" أَصَبْتَ"" ⦗١٣١⦘ هَذَا مُرْسَلٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ هِشَامٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَحْسَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ:"" أَصَبْتَ"" أَنَّهُ وَصَفَ لَهُ أَنَّهُ اسْتَلَمَ فِي غَيْرِ زِحَامٍ، وَتَرَكَ فِي زِحَامٍ.
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”اے ابو محمد! تو کیسے کرتا ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: استلام بھی کرلیتا ہوں اور کبھی چھوڑ بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو درست کرتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن سے کہا: ”تو نے درست کیا“، ان کی تعریف اس لیے کی کہ انہوں نے بھیڑ کے علاوہ استلام کیا اور بھیڑ میں چھوڑ دیا۔
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9263]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن سے کہا: ”تو نے درست کیا“، ان کی تعریف اس لیے کی کہ انہوں نے بھیڑ کے علاوہ استلام کیا اور بھیڑ میں چھوڑ دیا۔
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9263]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن حبان 3823»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9264
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِذَا وَجَدْتَ عَلَى الرُّكْنِ زِحَامًا فَانْصَرِفْ وَلَا تَقِفْ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رکن پر بھیڑ ہو تو چلا جا، وہاں نہ رک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9264]
تخریج الحدیث: «حسن۔ شافعي 594»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9265
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ الْفَقِيهُ، بِالْبَصْرَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ الضَّالُّ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِنَّمَا أُمِرْتُمْ أَنْ تَطُوفُوا، فَإِنْ تَيَسَّرَ عَلَيْكُمْ فَتَسْتَلِمُوا".
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”تمہیں طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اگر میسر آئے تو استلام کرلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9265]
تخریج الحدیث: «حسن۔ طبراني كبير 11348»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9266
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِذَا حَاذَيْتَ بِهِ فَكَبِّرْ، وَادْعُ، وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب تو اس کے برابر ہو جائے تو تکبیر کہہ، دعا مانگ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9266]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ابي شيبه 13153»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9267
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، وَرَوْحٌ، قَالَا: ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُهُ زَاحَمَ عَلَى الْحَجَرِ قَطُّ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ مَرَّةً زَاحَمَ حَتَّى رُثِمَ أَنْفُهُ وَابْتَدَرَ مِنْخَرَاهُ دَمًا".
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حجر اسود پر بھیڑ کرتے کبھی نہیں دیکھا، ایک مرتبہ دیکھا تھا انہوں نے بھیڑ میں حصہ لیا حتیٰ کہ ناک سرخ ہو کر سوج گئی اور خون بہنے لگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9267]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبدالرزاق 8903»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9268
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ مَنْبُوذِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَدَخَلَتْ عَلَيْهَا مَوْلَاةٌ لَهَا فَقَالَتْ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ طُفْتُ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَاسْتَلَمْتُ الرُّكْنَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" لَا أَجَرَكِ اللهُ لَا أَجَرَكِ اللهُ تُدَافِعِينَ الرِّجَالَ، أَلَا كَبَّرْتِ وَمَرَرْتِ؟" ⦗١٣٢⦘ وَرُوِّينَا عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَهُنَّ:" إِذَا وَجَدْتُنَّ فُرْجَةً مِنَ النَّاسِ فَاسْتَلِمْنَ وَإِلَّا فَكَبِّرْنَ وَامْضِينَ".
منبوذ بن ابی سلیمان فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں کہ ان کی ایک غلام عورت آئی اور کہنے لگی: اے ام المؤمنین! میں نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے ہیں اور رکن کا استلام صرف دو مرتبہ کیا ہے یا تین مرتبہ، تو انہوں نے کہا: اللہ تجھے اجر نہ دے، اللہ تجھے اجر نہ دے، تو مردوں کے ساتھ دھکم پیل کرتی رہی ہے؟ تو تکبیر کہہ کر کیوں نہیں گزر گئی۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ان عورتوں سے کہتے تھے، جب انہیں لوگوں سے آسانی ہو (بھیڑ نہ ہو) تو وہ استلام کر لیں، وگرنہ تکبیر کہیں اور گزر جائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9268]
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ان عورتوں سے کہتے تھے، جب انہیں لوگوں سے آسانی ہو (بھیڑ نہ ہو) تو وہ استلام کر لیں، وگرنہ تکبیر کہیں اور گزر جائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9268]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ شافعي 595»
الحكم على الحديث: ضعيف
1958. -- باب: الرمل في الطواف في الحج والعمرة
-- باب: حج اور عمرے کے طواف میں رمل (اکڑ کر تیز چلنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9269
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ يَرْمُلُ الثَّلَاثَ الْأُوَلَ وَيَمْشِي الْأَرْبَعَةَ، وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ" قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ؟ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي؛ لِأَنَّهُ أَيْسَرُ لِاسْتِلَامِهِ.
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلے تین چکر رمل کرتے اور چار چکر آہستہ چل کر لگاتے اور کہتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کرتے تھے۔
(عبیداللہ کہتے ہیں:) میں نے نافع سے کہا: کیا وہ دونوں رکنوں کے درمیان چلتے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ صرف اس لیے چلتے تھے کہ اس سے استلام آسان ہو جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9269]
(عبیداللہ کہتے ہیں:) میں نے نافع سے کہا: کیا وہ دونوں رکنوں کے درمیان چلتے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ صرف اس لیے چلتے تھے کہ اس سے استلام آسان ہو جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9269]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 2/ 13، دارمي 1838»
الحكم على الحديث: صحيح