السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1981. -- باب: بدء السعي بين الصفا والمروة
-- باب: صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ابتدا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9370
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَنْصُورٍ، أنبأ هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، وَأَيُّوبَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَوَّلُ مَا اتَّخَذَ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِيلَ اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا؛ لَتُعَفِّيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَبِابْنِهَا إِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهِيَ تُرْضِعُهُ حَتَّى وَضَعَهُمَا عِنْدَ الْبَيْتِ وَلَيْسَ بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ، وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ فَوَضَعَهُمَا هُنَالِكَ وَوَضَعَ عِنْدَهُمَا جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ وَسِقَاءً فِيهِ مَاءٌ، ثُمَّ قَفَّى إِبْرَاهِيمُ مُنْطَلِقًا فَتَبِعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، وَقَالَتْ: يَا إِبْرَاهِيمُ أَيْنَ تَذْهَبُ وَتَتْرُكُنَا بِهَذَا الْوَادِي الَّذِي لَيْسَ فِيهِ أَنِيسٌ وَلَا شَيْءٌ؟، قَالَتْ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَجَعَلَ لَا يَلْتَفِتُ فَقَالَتْ لَهُ: آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَتْ: إِذًا لَا يُضَيِّعُنَا، ثُمَّ رَجَعَتْ وَانْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الْبَيْتِ حَيْثُ لَا يَرَوْنَهُ اسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْبَيْتَ ثُمَّ دَعَا بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: {رَبِّ إِنِّي أَسَكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ} حَتَّى بَلَغَ {لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ} [إبراهيم: ٣٧] فَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تُرْضِعُ إِسْمَاعِيلَ وَتَشْرَبُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا فِي السِّقَاءِ عَطِشَتْ وَعَطِشَ ابْنُهَا، وَجَاعَ وَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتَلَوَّى، أَوْ قَالَ: يَتَلَبَّطُ فَانْطَلَقَتْ كَرَاهِيَةَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْهِ فَوَجَدَتِ الصَّفَا أَقْرَبَ جَبَلٍ فِي الْأَرْضِ يَلِيهَا فَقَامَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتِ الْوَادِيَ تَنْظُرُ هَلْ تَرَى أَحَدًا، فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَهَبَطَتْ مِنَ الصَّفَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْوَادِيَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا ثُمَّ سَعَتْ سَعْيَ الْإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ حَتَّى جَاوَزَتِ الْوَادِيَ، ثُمَّ أَتَتِ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ عَلَيْهَا فَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا، فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِذَلِكَ سَعَى النَّاسُ بَيْنَهُمَا" فَلَمَّا أَشْرَفَتْ عَلَى الْمَرْوَةِ سَمِعَتْ صَوْتًا فَقَالَتْ: ⦗١٦١⦘ صَهٍ تُرِيدُ نَفْسَهَا، ثُمَّ تَسَمَّعَتْ أَيْضًا فَسَمِعَتْ فَقَالَتْ: قَدْ أُسْمِعْتُ إنْ كَانَ عِنْدَكَ غِوَاثٌ فَإِذَا هِيَ بِالْمَلَكِ عِنْدَ مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَبَحَثَ بِعَقِبِهِ، أَوْ قَالَ: بِجَنَاحِهِ، حَتَّى ظَهَرَ الْمَاءُ فَجَعَلَتْ تُحَوِّضُهُ وَجَعَلَتْ تَغْرِفُ مِنَ الْمَاءِ فِي سِقَائِهَا وَهِيَ تَفُورُ بِقَدْرِ مَا تَغْرِفُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُ اللهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ، أَوْ قَالَ: لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا"، قَالَ: فَشَرِبَتْ وَأَرْضَعَتْ وَلَدَهَا وَقَالَ لَهَا الْمَلَكُ: لَا تَخَافِي مِنَ الضَّيْعَةِ فَإِنَّ هَا هُنَا بَيْتَ اللهِ يَبْنِيهِ هَذَا الْغُلَامُ وَأَبُوهُ، فَإِنَّ اللهَ لَا يُضَيِّعُ أَهْلَهُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورتوں نے پہلے جو کمر بند باندھا ہے یہ امِ اسماعیل کی طرف سے ہے، انھوں نے یہ کمر بند باندھا تاکہ اپنے اثرات سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا سے چھپالیں، پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام ان کو اور ان کے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو لے کر آئے اور وہ اسے دودھ پلا رہی تھیں، حتیٰ کہ ان کو بیت اللہ کے پاس رکھا اور ان دنوں مکہ میں کوئی نہیں تھا اور وہاں پر پانی بھی نہیں تھا، انھوں نے ان دونوں کو وہیں ٹھہرایا اور ان کے پاس ایک تھیلا رکھا، جس میں کھجوریں تھیں اور مشکیزہ رکھا جس میں پانی تھا۔ پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام منہ پھیر کر جانے لگے تو امِ اسماعیل ان کے پیچھے گئیں اور کہا: ”اے ابراہیم! آپ کہاں جا رہے ہیں؟ ہمیں اس وادی میں چھوڑ کر جس میں کوئی انیس نہیں جس سے مانوس ہوا جائے اور نہ کوئی چیز ہے۔“ انھوں نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی اور وہ ان کی طرف دیکھ ہی نہیں رہے تھے تو انھوں نے کہا: ”کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟“ انھوں نے کہا: «نَعَمْ» ”ہاں!“ کہنے لگیں: «إِذَنْ لَا يُضَيِّعَنَا» ”پھر وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔“ پھر وہ لوٹ آئیں اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام چلے گئے حتیٰ کہ جب بیت اللہ کے پاس پہنچے جہاں وہ ان کو نہیں دیکھ سکتے تھے تو اپنا چہرہ بیت اللہ کی طرف کیا۔ پھر یہ دعائیں مانگیں اور اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہا: ﴿رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ﴾ [سورة إبراهيم: 37] ”اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد کو بنجر زمین میں ٹھہرایا ہے تیرے عزت والے گھر کے پاس حتیٰ کہ وہ یہاں تک پہنچے تاکہ وہ شکر کریں“، تو امِ اسماعیل ان کو دودھ پلاتیں اور خود پانی پی لیتیں حتیٰ کہ جب پانی ختم ہوگیا تو وہ بھی پیاسی ہوگئیں اور ان کا بیٹا بھی اور بھوک نے بھی ستایا اور وہ اسے تڑپتا ہوا دیکھنے لگیں، تو اسے (اس حال میں) دیکھنا ناگوار سمجھتے ہوئے چل پڑیں اور صفا کو زمین میں اپنے سب سے قریب پہاڑ پایا تو اس پر کھڑی ہو کر وادی کی طرف منہ کر کے دیکھنے لگیں کہ کوئی نظر آتا ہے تو کوئی نظر نہ آیا تو صفا سے اتریں حتیٰ کہ وادی میں پہنچ گئیں تو اپنی چادر کا پلو اٹھایا اور پھر پوری کوشش کر کے وادی کو دوڑ کر پار کیا پھر مروہ پر آئیں اور اس پر کھڑی ہو کر اور دیکھنے لگیں کہ کوئی نظر آتا ہے تو کوئی نظر نہ آیا، انھوں نے یہ کام سات مرتبہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی وجہ سے لوگوں نے اس کی سعی کی“، تو جب وہ مروہ پر چڑھیں تو اس نے ایک آواز سنی۔ تو دل میں کہتیں: «صَهْ» ”خاموش!“ پھر اس نے غور سے سنا، کہنے لگی: ”تو نے سنا دیا ہے اگر تیرے پاس کچھ تعاون ہے“، تو اچانک وہ ایک فرشتے کے پاس تھیں زمزم والی جگہ پر، وہ اس کو اپنے پر یا ایڑی کے ساتھ کرید رہا تھا، حتیٰ کہ پانی نکل آیا تو وہ اس کو حوض بنانے لگی اور پانی سے اپنے مشکیزے میں چلو بھرنے لگی اور وہ اس قدر جوش مارتا جتنا وہ چلو بھرتی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ امِ اسماعیل پر رحم کرے، اگر وہ زمزم کو چھوڑ دیتیں یا چلو نہ بھرتیں تو زمزم ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا“، تو اس نے پیا اور بچے کو دودھ پلایا اور اس کو فرشتے نے کہا: ”گھبرانا نہیں یہاں اللہ کا گھر ہے جس کو یہ بچہ اور اس کا والد تعمیر کریں گے، اللہ اس کے رہنے والوں کو ضائع نہیں فرماتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9370]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري3184۔ احمد 1/347»
الحكم على الحديث: صحيح
1982. -- باب: من ترك شدة السعي في بطن المسيل ومشى
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے وادی (نشیب) کے درمیان تیز دوڑنا چھوڑ دیا اور معمول کے مطابق چلا۔
حدیث نمبر: 9371
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ عُمَرَ فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ: أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ؟، قَالَ:" إنْ أَمْشِي فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَإنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ".
ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا اور مروہ کی سعی میں کہا کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں، آپ چلتے ہیں اور لوگ سعی کرتے ہیں تو انہوں نے کہا: ”اگر میں چلوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلتے دیکھا ہے اور اگر میں سعی کروں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی کرتے دیکھا ہے اور میں بوڑھا آدمی ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9371]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 1904۔ ترمذي 864»
الحكم على الحديث: صحيح
1983. -- باب: الطواف راكبا
-- باب: سوار ہو کر طواف (سعی) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9372
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجِ وداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور رکن کو اپنی لاٹھی سے چھوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9372]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1530۔ مسلم 1272»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9373
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيرٍ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ فِي يَدِهِ وَكَبَّرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاهِينَ، ⦗١٦٢⦘ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ وَزَادَ فِيهِ: ثُمَّ قَبَّلَهُ،.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اونٹ پر سوار ہو کر کیا، جب بھی رکن کے پاس آتے تو کسی چیز کے ساتھ جو آپ کے ہاتھ میں ہوتی اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9373]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1551»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9374
أَخْبَرَنَاهُ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَفَّارُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَبِزِيَادَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَزِيدُ: يُقَبِّلُ ذَلِكَ الشَّيْءَ الَّذِي فِي يَدِهِ.
ایضاً۔ (اسی معنی میں اور اس اضافے کے ساتھ) یزید کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ والی اس چیز کو بوسہ دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9374]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9375
وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ وَهُوَ يَشْتَكِي فَطَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ اسْتَلَمَهُ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ، يَعْنِي مِنْ طَوَافِهِ أَنَاخَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ، ثنا عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ وَعَبْدُ الْأَعْلَى قَالَا: ثنا خَالِدٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ فَذَكَرَهُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ كَذَا قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَهَذِهِ زِيَادَةٌ تَفَرَّدَ بِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ بَيَّنَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ وَعَائِشَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ الْمَعْنَى طَوَافَهُ رَاكِبًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے اور وہ بیمار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی بیت اللہ کا طواف کیا۔ جب بھی رکن پر آتے تو اپنی لاٹھی کے ساتھ استلام فرماتے، جب طواف سے فارغ ہوئے تو اونٹنی کو بٹھایا اور دو رکعتیں ادا کیں۔
یزید بن ابی زیاد نے اسی طرح بیان کیا ہے، اور یہ ایسا اضافہ ہے جسے بیان کرنے میں وہ منفرد ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9375]
یزید بن ابی زیاد نے اسی طرح بیان کیا ہے، اور یہ ایسا اضافہ ہے جسے بیان کرنے میں وہ منفرد ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9375]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 1881۔ احمد 1/ 304»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9376
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ لِأَنْ يَرَاهُ النَّاسُ؛ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشَوْهُ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکن کو لاٹھی کے ساتھ چھوتے تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر سکیں، کیوں کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھانپ لیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9376]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1273»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9377
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؛ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشَوْهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف اپنی اونٹنی پر کیا تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیں اور سوال کر سکیں کیوں کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھانپ لیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9377]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1273»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9378
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَقِيهُ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو كَامِلٍ ⦗١٦٣⦘ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشَى أَرْبَعَةً أَسُنَّةٌ هُوَ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ، قَالَ: فَقَالَ:" صَدَقُوا وَكَذَبُوا"، قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهَزَلِ"، قَالَ:" وَكَانُوا يَحْسُدُونَهُ"، قَالَ:" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثًا وَيَمْشُوا أَرْبَعًا"، قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا أَسُنَّةٌ هُوَ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ، قَالَ:" صَدَقُوا وَكَذَبُوا"، قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ يَقُولُونَ: هَذَا مُحَمَّدٌ هَذَا مُحَمَّدٌ حَتَّى خَرَجْنَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ"، قَالَ:" وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ النَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ"، قَالَ:" فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ رَكِبَ، وَالْمَشْيُ وَالسَّعْيُ أَفْضَلُ" لَفْظُ عِمْرَانَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ الْجَحْدَرِيِّ.
ابوطفیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہا: آپ کا کیا خیال ہے کہ بیت اللہ کا طواف تین چکر رمل اور چار چل کر سنت ہے؟ آپ کی قوم تو سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے، تو انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ کہا ہے۔ میں نے کہا کہ سچ اور جھوٹ کہنے کا کیا مطلب؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی کمزوری کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکیں گے اور وہ اس پر حسد کرتے تھے، تو ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”تین چکر رمل کریں اور چار چل کر لگائیں“، کہتے ہیں کہ میں نے کہا: مجھے طواف کے بارے میں بتاؤ۔ صفا مروہ کے درمیان کیا یہ سوار ہو کر کرنا سنت ہے؟ آپ کی قوم تو یہی سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ بھی، میں نے کہا: آپ کے یہ کہنے کا کیا مقصد کہ سچ اور جھوٹ کہا ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگ زیادہ ہو گئے تھے اور کہتے تھے: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، حتیٰ کہ لڑکیاں بھی گھروں سے نکلیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے لوگوں کو ہٹایا نہ جاتا تھا۔ جب وہ زیادہ ہو گئے تو سوار ہو گئے اور چلنا اور سعی کرنا افضل ہے۔ [صحیح: مسلم: 1264] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9378]
حدیث نمبر: 9379
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ طَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ:" صَدَقُوا وَكَذَبُوا"، قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ:" صَدَقُوا قَدْ طَافَ عَلَى بَعِيرِهِ وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُدْفَعُ عَنْهُ النَّاسُ وَلَا يُصْرَفُونَ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرِهِ؛ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَيَرَوْا مَكَانَهُ وَلَا تَنَالَهُ أَيْدِيهِمْ".
ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہا کہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر صفا و مروہ کا طواف کیا ہے اور یہ سنت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سچ اور جھوٹ بولتے ہیں۔ میں نے کہا: یہ سچ اور جھوٹ بولنے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر طواف کیا ہے اور جھوٹ یہ کہ وہ سنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں کو ہٹایا نہیں جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر طواف کیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ کی بات سن سکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک ان کے ہاتھ نہ پہنچیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9379]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح