السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2003. -- باب: ترك صوم يوم عرفة بعرفات
-- باب: میدانِ عرفات میں یومِ عرفہ کا روزہ ترک کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9470
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قَرَأَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ" أَنَّ نَاسًا، اخْتَلَفُوا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ" لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ رَوْحٍ: تَمَارَوْا وَقَالَ: فَشَرِبَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ يَخْطُبُ النَّاسَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.
امِ فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اختلاف کیا، بعض نے کہا کہ آپ روزے سے ہیں اور بعض نے کہا کہ نہیں، تو انہوں نے آپ کی طرف دودھ کا پیالہ بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر سوار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نوش فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9470]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1578۔ مسلم 1123»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9471
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ الْكَلْبِيُّ، ثنا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَوْشَبِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مَهْدِيٍّ الْهَجَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ" كَذَا قَالَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”میدانِ عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع کیا۔“
حارث بن عبید نے اسی طرح بیان کیا ہے، جبکہ محفوظ یہ ہے کہ یہ روایت عکرمہ عن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9471]
حارث بن عبید نے اسی طرح بیان کیا ہے، جبکہ محفوظ یہ ہے کہ یہ روایت عکرمہ عن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9471]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 9472
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ، عَنْ مَهْدِيٍّ الْهَجَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ حَوْشَبٍ، وَفِي حَدِيثِ أُمِّ الْفَضْلِ كِفَايَةٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”میدانِ عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنے“ سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9472]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابوداود 2440۔ ابن ماجه، حاكم 1/ 424»
الحكم على الحديث: منكر
2004. -- باب:: أفضل الدعاء دعاء يوم عرفة
-- باب: سب سے افضل دعا یومِ عرفہ کی دعا ہے۔
حدیث نمبر: 9473
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَفْضَلُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ" هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَوْصُولًا، وَوَصْلُهُ ضَعِيفٌ.
طلحہ بن عبید اللہ بن کریز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افضل ترین دعا عرفہ کے دن کی ہے اور افضل بات جو میں نے اور مجھ سے پہلے نبیوں نے کہی وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور امام مالک سے ایک دوسری سند کے ساتھ موصولاً بھی مروی ہے، لیکن اس کا موصول ہونا ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9473]
یہ روایت مرسل ہے، اور امام مالک سے ایک دوسری سند کے ساتھ موصولاً بھی مروی ہے، لیکن اس کا موصول ہونا ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9473]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 9474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِعَرَفَةَ يَدَاهُ إِلَى صَدْرِهِ كَاسْتِطْعَامِ الْمِسْكِينِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ میں دیکھا، آپ ہاتھ ایسے سینے کی طرف اٹھا کر دعا مانگ رہے تھے جیسے مسکین کھانا مانگتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9474]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ المعجم الاوسط للطبراني 2892»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9475
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّاسٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثَرُ دُعَائِي وَدُعَاءِ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي بِعَرَفَةَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا، اللهُمَّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ وَسْوَاسِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الْأَمْرِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا يَلِجُ فِي اللَّيْلِ وَشَرِّ مَا يَلِجُ فِي النَّهَارِ، وَشَرِّ مَا تَهُبُّ بِهِ الرِّيَاحُ، وَمِنْ شَرِّ بَوَائِقِ الدَّهْرِ" تَفَرَّدَ بِهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَمْ يُدْرِكْ أَخُوهُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي شُعْبَةَ أَنَّهُ قَالَ: رَمَقْتُ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ؛ لِأَسْمَعَ مَا يَدْعُو، قَالَ: فَمَا زَادَ عَلَى أَنْ قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی عرفہ میں زیادہ تر دعا یہ ہے: ”اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! میرے دل، سماعت، بصارت میں نور بنا دے، اے اللہ! میرا سینہ کھول دے اور میرا معاملہ آسان کر دے۔ میں سینے کے وسوسوں سے پناہ مانگتا ہوں اور معاملوں کے بکھرنے اور قبر کے فتنہ سے۔ میں دن اور رات میں داخل ہونے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور زمانے کی مصیبتوں اور جس چیز کے ساتھ ہوا چلتی ہے اس کے شر سے۔““
ابو شعبہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر اپنی نظر جمائے رکھی جب وہ عرفہ میں تھے، جو وہ پڑھ رہے تھے، میں اس کو سن رہا تھا، فرماتے ہیں کہ انھوں نے «لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ» ”اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے“ سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا۔
اس روایت کو بیان کرنے میں موسیٰ بن عبیدہ منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں، اور ان کے بھائی (عبداللہ بن عبیدہ) نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9475]
ابو شعبہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر اپنی نظر جمائے رکھی جب وہ عرفہ میں تھے، جو وہ پڑھ رہے تھے، میں اس کو سن رہا تھا، فرماتے ہیں کہ انھوں نے «لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ» ”اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے“ سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا۔
اس روایت کو بیان کرنے میں موسیٰ بن عبیدہ منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں، اور ان کے بھائی (عبداللہ بن عبیدہ) نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9475]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ابي شيبه 15130»
الحكم على الحديث: ضعيف
2005. -- باب: التعريف بغير عرفات
-- باب: میدانِ عرفات کے علاوہ کسی اور جگہ یومِ عرفہ کے اجتماع (تعریف) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9476
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُ الْحَسَنَ الْبَصْرِيَّ يَوْمَ عَرَفَةَ بَعْدَ الْعَصْرِ جَلَسَ، فَدَعَا وَذَكَرَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ" وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: رَأَيْتُ الْحَسَنَ خَرَجَ يَوْمَ عَرَفَةَ مِنَ الْمَقْصُورَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَعَدَ فَعَرَّفَ.
ابوعوانہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصری رحمہ اللہ کو عرفہ کے دن عصر کے بعد دیکھا، انہوں نے اللہ سے دعا مانگی، ذکر کیا تو لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے۔
اور مسلم (بن ابراہیم) کی روایت میں ہے کہ میں نے حسن کو دیکھا کہ وہ یومِ عرفہ کو مقصورہ (پردے والی جگہ) سے عصر کے بعد نکلے، پھر بیٹھ گئے اور (دعا و ذکر کر کے) عرفہ منایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9476]
اور مسلم (بن ابراہیم) کی روایت میں ہے کہ میں نے حسن کو دیکھا کہ وہ یومِ عرفہ کو مقصورہ (پردے والی جگہ) سے عصر کے بعد نکلے، پھر بیٹھ گئے اور (دعا و ذکر کر کے) عرفہ منایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9476]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9477
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَكَمَ وَحَمَّادًا عَنِ اجْتِمَاعِ النَّاسِ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي الْمَسَاجِدِ فَقَالَا:" هُوَ مُحْدَثٌ" وَعَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: هُوَ مُحْدَثٌ، وَعَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ ابْنُ عَبَّاسٍ.
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد سے عرفہ کے دن لوگوں کے مسجدوں میں جمع ہونے کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ بدعت ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بواسطہ حسن رحمہ اللہ منقول ہے کہ سب سے پہلے یہ کام ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9477]
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ بدعت ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بواسطہ حسن رحمہ اللہ منقول ہے کہ سب سے پہلے یہ کام ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9477]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن الجعد 279»
الحكم على الحديث: صحيح
2006. -- باب: ما جاء في فضل عرفة
-- باب: عرفہ کی فضیلت کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 9478
حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظُّفُرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحُسَيْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ مَاتِي، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَأُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ:" أِيُّ آيَةٍ؟" قَالَ: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} [المائدة: ٣] فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَقَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَالْمَكَانَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ جُمُعَةٍ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّبَّاحِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! ایک آیت جسے آپ اپنی کتاب میں پڑھتے ہو اگر وہ ہم یہودیوں پر اترتی تو ہم اس دن عید مناتے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے کہا: ﴿آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا ہے﴾ [سورة المائدة: 3] ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس دن کو جانتے ہیں اور اس جگہ کو بھی جہاں یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی، یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میدانِ عرفات میں جمعہ کے دن نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9478]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 45۔ مسلم 3017»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9479
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ⦗١٩٢⦘: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} [المائدة: ٣] نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" قَدْ عَلِمْتُ الْمَوْضِعَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ وَالْيَوْمَ، وَالسَّاعَةَ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِعَرَفَةَ عَشِيَّةَ جُمُعَةٍ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ.
طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر کاش یہ آیت ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ الخ﴾ [سورة المائدة: 3] ہم یہودیوں پر اترتی تو ہم اس دن کو عید مناتے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس جگہ، دن اور وقت کا علم ہے، جب یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی جبکہ ہم عرفہ میں تھے اور جمعہ کا دن (سہ پہر کا وقت) تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9479]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح