السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2270. جماع أبواب الخراج بالضمان والرد بالعيوب وغير ذلك -- باب: ما جاء في التدليس وكتمان العيب بالمبيع
الخراج بالضمان (منافع ضمانت کے بدلے ہیں) اور عیوب کی وجہ سے چیز واپس کرنے اور دیگر مسائل پر مشتمل جامع ابواب۔ -- باب: فروخت کی جانے والی چیز میں دھوکہ دہی اور عیب چھپانے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10732
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا، فَقَالَ:" كَيْفَ تَبِيعُ؟" فَأَخْبَرَهُ فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ" أَنْ أَدْخِلْ يَدَكَ فِيهِ" فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَإِذَا هُوَ مَبْلُولٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جو غلہ فروخت کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیسے فروخت کر رہے ہو؟“ اس نے بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی آئی کہ اپنا ہاتھ اس میں داخل کرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ داخل کیا، اچانک وہ تر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دھوکا کیا وہ ہم سے نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10732]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداود 3552۔ ابن ماجه 2224»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10733
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟" قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَيَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ داخل کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو تری لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے غلے والے! یہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بارش آ گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ اس کو ڈھیر کے اوپر کر دیتے تاکہ لوگ دیکھ لیں، جس نے دھوکا کیا وہ مجھ سے نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10733]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 102»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10734
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ إِنْ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ أَنْ لَا يُبَيِّنَهُ لَهُ".
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ سامان فروخت کرے اور اگر اس میں عیب ہو تو اس کی وضاحت نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10734]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ماجه 22461»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10735
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، أنا أَبُو سِبَاعٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ نَاقَةً مِنْ دَارِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ فَلَمَّا خَرَجْتُ أَدْرَكَنَا وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ وَهُوَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، قَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ اشْتَرَيْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ بُيِّنَ لَكَ مَا فِيهَا؟ قُلْتُ: وَمَا فِيهَا إِنَّهَا لَسَمِينَةٌ ظَاهِرَةُ الصِّحَّةِ؟، فَقَالَ: أَرَدْتَ بِهَا لَحْمًا أَوْ أَرَدْتَ بِهَا سَفَرًا؟، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ أَرَدْتُ عَلَيْهَا الْحَجَّ، قَالَ: فَإِنَّ ⦗٥٢٤⦘ بِخُفِّهَا نَقْبًا، قَالَ: فَقَالَ صَاحِبُهَا: أَصْلَحَكَ اللهُ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا تُفْسِدُ عَلَيَّ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ بَاعَ شَيْئًا فَلَا يَحِلُّ لَهُ حَتَّى يُبَيِّنَ مَا فِيهِ، وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ يَعْلَمُ ذَلِكَ أَنْ لَا يُبَيِّنَهُ".
ابوسباع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی۔ جب میں گھر سے نکلا تو ہم نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ اپنی چادر گھسیٹ رہے تھے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے بندے! تو نے اونٹنی خریدی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ واثلہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کیا اس کے عیب کی وضاحت کی گئی ہے؟ میں نے کہا: اس میں کیا ہے؟ ظاہری طور پر موٹی تازی اور صحت مند ہے، واثلہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ نے گوشت کے لیے خریدی ہے یا سواری کرنا چاہتے ہو؟ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: میں حج کا سفر کرنا چاہتا ہوں۔ واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے پاؤں میں سوراخ ہیں، اس کا ساتھی (یعنی اونٹنی والا) کہتا ہے کہ اللہ آپ کی اصلاح فرمائے، آپ نے معاملہ ہی خراب کر دیا۔ واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ: ”جو شخص کوئی چیز فروخت کرنا چاہے تو اس کے عیب کو بیان کر دے اور یہ جائز نہیں کہ جانتے ہوئے پھر عیب کی وضاحت نہ کی جائے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10735]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 3/ 419»
الحكم على الحديث: ضعيف
2271. -- باب: صحة البيع الذي وقع فيه التدليس مع ثبوت الخيار فيه
-- باب: اس بیع کے صحیح ہونے کا بیان جس میں دھوکہ دہی واقع ہوئی ہو، ساتھ ہی اس میں خیار (سودا منسوخ کرنے کا اختیار) ثابت ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10736
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ، وَالْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اونٹوں اور بکریوں کے تھنوں میں دودھ مت روکو، جس نے اس کے بعد (ایسا جانور) خرید لیا تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دو اختیار حاصل ہیں۔ اگر چاہے تو جانور کو رکھ لے یا واپس کر دے، اگر واپس کرتا ہے تو ایک صاع کھجور کا بھی ساتھ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10736]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضيٰ قريباً»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10737
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: اشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَرِيكِ النَّوَّاسِ إِبِلًا هِيمًا، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اشْتَرَى إِبِلًا هِيَامًا مِنْ شَرِيكٍ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ نَوَّاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَأَخْبَرَ نَوَّاسًا أَنَّهُ بَاعَهَا مِنْ شَيْخٍ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ نَوَّاسٌ: وَيْلَكَ ذَاكَ ابْنُ عُمَرَ فَجَاءَ نَوَّاسٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّ شَرِيكِي بَاعَكَ إِبِلًا هِيَامًا وَلَمْ يُعَرِّفْكَ، قَالَ:" فَاسْتَقْهَا إِذًا"، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَسْتَاقَهَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" دَعْهَا رَضِينَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ وَقَالَ هِيمٌ.
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نواس کے شریک سے پیاس کی بیماری والے اونٹ خرید لیے۔
(ب) عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نواس کے شریک سے پیاس کی بیماری والے اونٹ خرید لیے تو اس نے نواس کو بتایا کہ میں نے فلاں شیخ کو فروخت کر دیے ہیں۔ نواس کہنے لگے: افسوس تجھ پر! وہ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے، تو نواس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ گئے اور کہنے لگے کہ میرے ساتھی نے آپ کو پیاس کی بیماری والے اونٹ فروخت کر دیے ہیں، اور آپ کو (اس بیماری سے) آگاہ نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا: ان کو ہانک کر لے جاؤ۔ جب وہ لے جانے کے لیے ہانکنے لگا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: چھوڑو! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی ہیں کہ ”بیماری متعدی نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10737]
(ب) عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نواس کے شریک سے پیاس کی بیماری والے اونٹ خرید لیے تو اس نے نواس کو بتایا کہ میں نے فلاں شیخ کو فروخت کر دیے ہیں۔ نواس کہنے لگے: افسوس تجھ پر! وہ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے، تو نواس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ گئے اور کہنے لگے کہ میرے ساتھی نے آپ کو پیاس کی بیماری والے اونٹ فروخت کر دیے ہیں، اور آپ کو (اس بیماری سے) آگاہ نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا: ان کو ہانک کر لے جاؤ۔ جب وہ لے جانے کے لیے ہانکنے لگا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: چھوڑو! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی ہیں کہ ”بیماری متعدی نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10737]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 19993»
الحكم على الحديث: صحيح
2272. -- باب: المشتري يجد بما اشتراه عيبا وقد استغله زمانا
-- باب: خریدار اپنی خریدی ہوئی چیز میں عیب پائے جبکہ وہ ایک عرصے تک اس سے فائدہ اٹھا چکا ہو۔
حدیث نمبر: 10738
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا جَدِّي، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو كَشْمَرْدُ، أنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ ⦗٥٢٥⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ"..
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آمدنی (منافع) ضمانت کے بدلے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10738]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 3508»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10739
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَاخْتَلَفُوا عَلَى ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ فِي قِصَّةِ الْحَدِيثِ.
ابن ابی ذئب نے یہی حدیث ذکر کی، مگر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ ”خراج (آمدنی) ضمانت کے بدلے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10739]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10740
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ شُرَكَائِي عَبْدٌ فَاقْتَوَيْنَاهُ فِيمَا بَيْنَنَا، قَالَ: وَكَانَ مِنْهُمْ غَائِبٌ فَقَدِمَ فَخَاصَمَنَا إِلَى هِشَامٍ فَقَضَى أَنْ يُرَدَّ الْعَبْدُ وَخَرَاجُهُ، وَقَدْ كَانَ اجْتَمَعَ مِنْ خَرَاجِهِ أَلْفُ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ" قَالَ: فَأَتَيْتُ هِشَامًا فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَرَدَّ ذَلِكَ وَأَجَازَهُ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُسِمِّ الْأَلْفَ وَلَا هِشَامًا، وَقَالَ: إِلَى بَعْضِ الْقُضَاةِ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَسَمَّاهُمَا.
مخلد بن خفاف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرا اور میرے ساتھیوں کا ایک غلام تھا، ہم نے اپنے درمیان اس کی قیمت لگائی۔ ان میں سے ایک غائب تھا، جب وہ آیا تو ہم جھگڑا لے کر ہشام کے پاس گئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ غلام لوٹایا جائے اور اس کا منافع بھی، جبکہ اس کے منافع سے ایک ہزار درہم جمع ہو چکے تھے۔ مخلد بن خفاف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں عروہ رحمہ اللہ کے پاس آیا تو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اخراجات کے بدلے منافع“ کا فیصلہ فرمایا تھا۔ میں ہشام کے پاس آیا تو انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے کر اس کو درست کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10740]
حدیث نمبر: 10741
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: خَاصَمْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي عَبْدٍ دَلَّسَ لَنَا فَأَصَبْنَا مِنْ غَلَّتِهِ وَعِنْدَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثَهُ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ" وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَمَّنْ لَا يُتَّهَمُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
مخلد بن خفاف غفاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس ایک غلام کے بارے میں جھگڑا لے کر گیا جس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا، ہم نے اس کے غلے کو پا لیا اور ان کے پاس عروہ بن زبیر رحمہ اللہ تھے، عروہ رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ خراج (آمدنی) ضمانت کے بدلے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10741]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف