السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2388. -- باب: الحجر على الصبي حتى يبلغ ويؤنس منه الرشد
-- باب: بچے پر پابندی (حجر) عائد رکھنے کا بیان یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے اور اس سے سمجھداری محسوس کی جائے۔
حدیث نمبر: 11294
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ: مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ:" وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي: مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ، وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ، ضَعِيفُ الْعَطَاءِ مِنْهَا، فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ، فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ..
یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف خط لکھا، جس میں انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ تو مجھے قسم ہے! جب آدمی کی داڑھی اگ آتی ہے اور ابھی تک وہ اپنے لیے کچھ حاصل نہیں کر سکتا، کچھ دے نہیں سکتا ہوتا، اس لیے جب وہ اپنے لیے کوئی اچھی چیز حاصل کرے جیسے دوسرے لوگ حاصل کرتے ہیں تو اس وقت اس کی یتیمی ختم ہو جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11294]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1812»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11295
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَقَالَ لِيَزِيدَ: اكْتُبْ إِلَيْهِ: وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْيَتِيمِ: مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ؟ وَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ حَتَّى يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ الرُّشْدُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ حروری نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف خط لکھا، پھر راوی نے مذکورہ حدیث ذکر کی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یزید سے کہا: ”لکھ، آپ نے پوچھا کہ یتیم کو کب تک یتیم کہہ سکتے ہیں تو جواب یہ ہے کہ جب تک بالغ نہ ہو جائے اور اس سے رشد معلوم نہ ہو، یتیم کہہ سکتے ہیں۔ جب یہ دونوں چیزیں واضح ہو جائیں تو یتیم نہیں رہے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11295]
حدیث نمبر: 11296
وَرَوَاهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" وَأَمَّا مَا سَأَلْتَ عَنِ انْقِضَاءِ يُتْمِ الْيَتِيمِ، فَإِذَا بَلَغَ الْحُلُمَ، وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدُهُ، فَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ، فَادْفَعْ إِلَيْهِ مَالَهُ" أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
جریر بن حازم فرماتے ہیں کہ میں نے قیس سے سنا، بقیہ پچھلی حدیث کی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11296]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2389. -- باب: البلوغ بالسن
-- باب: عمر کے لحاظ سے بالغ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11297
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" عَرَضَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَأَجَازَنِي" فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَعُمَرُ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ، فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْحَدُّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنِ افْرِضُوا ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَأَلْحِقُوهُ بِالْعِيَالِ لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ..
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کے لیے مجھے حاضر دیکھا اور میں اس وقت چودہ سال کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت نہیں دی۔ پھر جب خندق کا موقع آیا تو میں اس وقت پندرہ سال کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ پھر میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس آیا اور وہ ان دنوں خلیفہ تھے، میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: بڑے اور چھوٹے کے درمیان یہی حد ہے اور انہوں نے اپنے گورنروں کی طرف لکھا: پندرہ سال والے پر فرض کرو، جو اس سے کم عمر ہوں انہیں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ملاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11297]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2664، مسلم 1868»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11298
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرَيْشٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَعَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي. قَالَ نَافِعٌ: فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَاجْعَلُوهُ فِي الْعِيَالِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ من وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ..
عبید اللہ رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا ہے، مگر اس میں صرف یہ زیادتی ہے: ”اور خندق والے دن مجھے دیکھا اور میں اس وقت پندرہ سال کا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جانے دیا۔“ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس آیا، پھر حدیث بیان کی اور انہوں نے یہ بھی کہا: ”اور جو اس سے کم عمر کا ہو اسے اس کے اہل و عیال کے ساتھ کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11298]
حدیث نمبر: 11299
وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَزَادَ فِيهِ عِنْدَ قَوْلِهِ: فَلَمْ يُجِزْنِي: وَلَمْ يَرَنِي بَلَغْتُ، وَأَخْبَرَنِيهِ الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْإِمَامُ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: فِي الْعِيَالِ. قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ حَرْفٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ قَوْلُهُ: وَلَمْ يَرَنِي بَلَغْتُ.
مذکورہ حدیث کی طرح ہے، اس میں صرف عیال کے الفاظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11299]
حدیث نمبر: 11300
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَاسْتَصْغَرَنِي، ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ عَامَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي" ⦗٩٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ: فَاسْتَصْغَرَنِي فَرَدَّنِي مَعَ الْغِلْمَانِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ احد کے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا اور اس وقت میری عمر چودہ سال تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوٹا قرار دیا۔ پھر اگلے سال خندق کے موقع پر مجھے پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لڑائی کے لیے جانے دیا۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوٹا قرار دیا اور مجھے بچوں کی طرف لوٹا دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11300]
حدیث نمبر: 11301
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" عَرَضَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَاسْتَصْغَرَنِي وَرَدَّنِي مَعَ الْغِلْمَانِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ عَرَضَنِي وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، قَالَ: فَأَجَازَنِي" قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: أَنْ أَجِيزُوا فِي الْفَرْضِ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: لَا أَرَى نَافِعًا إِلَّا حَدَّثَهُ بِهَذَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَفِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبِلَ ابْنَ عُمَرَ وَرَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُمَا ابْنَا خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً. رَوَاهُ إِسْحَاقُ عَنْ رَوْحٍ عَنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احد کے دن مجھے دیکھا، میں اس وقت چودہ سال کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوٹا قرار دیا اور مجھے بچوں میں واپس بھیج دیا۔ جب غزوۂ خندق کا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، میں اس وقت پندرہ سال کا ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جہاد میں شرکت کی اجازت دے دی۔ عبیداللہ کہتے ہیں اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا کہ پندرہ سال والے کو فرض (جہاد) میں شامل کرو۔ ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عمر اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کو غزوۂ خندق کے دن قبول فرما لیا تھا اور وہ اس وقت پندرہ سال کی عمر کے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11301]
حدیث نمبر: 11302
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، لَمْ يُجِزْنِي فِي الْمُقَاتِلَةِ، وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي فِي الْمُقَاتِلَةِ، وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي فِي الْمُقَاتِلَةِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بدر والے دن مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، میں اس وقت تیرہ سال کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مجاہدین میں شامل نہیں کیا۔ پھر مجھے احد والے دن پیش کیا گیا، اس وقت میں چودہ سال کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین میں مجھے شامل نہیں کیا، پھر مجھے خندق والے دن پیش کیا گیا، اس وقت میں پندرہ سال کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین میں مجھے شامل کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11302]
حدیث نمبر: 11303
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ:" هَذِهِ مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي قَاتَلَ فِيهَا: يَوْمُ بَدْرٍ فِي رَمَضَانَ مِنْ سَنَةِ اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ قَاتَلَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَاتَلَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ وَبَنِي قُرَيْظَةَ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ، ثُمَّ قَاتَلَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَبَنِي لِحْيَانَ فِي شَعْبَانَ مِنْ سَنَةِ خَمْسٍ، ثُمَّ قَاتَلَ يَوْمَ خَيْبَرَ مِنْ سَنَةِ سِتٍّ، ثُمَّ قَاتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ مِنْ سَنَةِ ثَمَانٍ، وَقَاتَلَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَحَاصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مغازی ہیں، رمضان 2ھ میں غزوہ بدر ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال 3ھ میں غزوہ احد لڑی۔ 4ھ میں غزوہ خندق جسے احزاب بھی کہتے ہیں اور غزوہ بنی قریظہ لڑی۔ پھر شعبان 5ھ میں غزوہ بنی مصطلق اور غزوہ بنی لحیان لڑی، 6ھ میں غزوہ خیبر۔ رمضان 8ھ میں غزوہ فتح مکہ اور شوال 8ھ میں غزوہ حنین اور اہل طائف کا محاصرہ کیا۔ پھر راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11303]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4026»
الحكم على الحديث: صحيح