🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2400. -- باب: صلح المعاوضة، وأنه بمنزلة البيع يجوز فيه ما يجوز في البيع، ولا يجوز فيه ما لا يجوز في البيع
-- باب: معاوضے کی صلح کا بیان، اور یہ کہ یہ بیع (خرید و فروخت) کے قائم مقام ہے، اس میں وہ سب جائز ہے جو بیع میں جائز ہے، اور وہ ناجائز ہے جو بیع میں ناجائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11354
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالْمُخَارَجَةِ فِي الْمِيرَاثِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما میراث سے خارج ہونے میں حرج نہیں خیال کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11354]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11355
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" صُولِحَتِ امْرَأَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ نَصِيبِهَا رُبُعَ الثَّمَنِ عَلَى ثَمَانِينَ أَلْفًا" وَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ عَارِفَةً بِمِقْدَارِ نَصِيبِهَا.
ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی بیوی سے اس کے حصے یعنی آٹھویں حصے کے چوتھائی پر 80 ہزار کے بدلے صلح کی گئی۔
اور یہ اس بات پر محمول ہے کہ وہ اپنے حصے کی مقدار جانتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11355]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11356
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ" كَانَ إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَلَيْهِ الذَّهَبُ أَوِ الْوَرِقُ خَيَّرَهُ حِينَ يَقْضِيهِ: أِيُّ الصِّنْفَيْنِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ ثُمَّ يَقْضِيهِ بِصَرْفِ النَّاسِ، أَوْ يَصْرِفُ فَيَقْضِيهِ، فَإِذَا قَبِلَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَمْ يَرَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بَأْسًا".
سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب ابن عمر رضی اللہ عنہما پر کسی آدمی کا سونا یا چاندی ہوتی تو ادائیگی کے وقت وہ اسے اختیار دے دیتے کہ دونوں صنفوں میں سے کون سی تجھے زیادہ پسند ہے؟ پھر وہ لوگوں کے رائج نرخ کے مطابق اسے ادا کر دیتے یا تبدیل کروا کر ادا کر دیتے۔ جب وہ آدمی اسے قبول کر لیتا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11356]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11357
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْمَرْوَزِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ لِي عَلَى ابْنِ عُمَرَ دَرَاهِمُ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ:" إِذَا خَرَجَ عَطَائِي قَضَيْتُكَ" قَالَ: فَخَرَجَ عَطَاؤُهُ مِائَةَ دِينَارٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ:" اذْهَبْ بِهَذِهِ الدَّنَانِيرِ إِلَى السُّوقِ، فَإِذَا قَامَتْ عَلَى ثَمَنٍ فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ بِدَرَاهِمِهِ، وَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَبِيعَهَا بِالدَّرَاهِمِ فَبِعْهَا وَأَعْطِهِ دَرَاهِمَهُ".
حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے غلام سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر درہم تھے، میں نے ان سے وہ لینے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے کہا: جب مجھے پیسے ملیں گے تو تم کو دے دوں گا۔ سعید کہتے ہیں: جب ان کو 100 دینار مل گئے تو میں ان کے پاس آیا۔ انہوں نے اپنے غلام سے کہا: یہ دینار بازار لے جاؤ، جب قیمت لگ جائے تو ان سے اس کے درہم واپس کر دینا اور اگر اسے اچھا لگے کہ تو درہموں کے بدلے انہیں بیچ دے تو ایسا کر لینا اور اسے اس کے درہم دے دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11357]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2401. -- باب: ما جاء في التحلل، وما يحتج به من أجاز الصلح على الإنكار
-- باب: ایک دوسرے کو معاف کروا لینے کے متعلق کیا وارد ہوا ہے، اور ان دلائل کا بیان جن سے اس شخص نے حجت پکڑی جس نے صلح علی الانکار (انکار کے باوجود صلح کرنے) کو جائز قرار دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11358
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهَا؛ فَإِنَّهُ لَيْسَتْ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ لِأَخِيهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَتْ مِنْ سَيِّئَاتِ أَخِيهِ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ اس سے معاف کروائے؛ اس لیے کہ آخرت میں درہم و دینار نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو (مظلوم) کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11358]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري 2449۔6534»

الحكم على الحديث: صحيح بخاري 2449
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11359
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسَةً، فَجَاءَهُ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَشْيَاءَ قَدْ دُرِسَتْ وَبَادَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ فِيهِ شَيْءٌ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ بِحُجَّةٍ أَرَاهَا فَاقْتَطَعَ بِهَا مِنْ مَالِ أَخِيهِ ظُلْمًا أَتَى بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَبَكَى الرَّجُلَانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي ⦗١٠٩⦘ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ الَّذِي أَطْلُبُ، قَالَ:" لَا، وَلَكِنِ اذْهَبَا فَاسْتَهِمَا وَتَوَخَّيَا، ثُمَّ لِيُحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ انصار کے دو آدمی آئے۔ وہ آپس میں کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو کر مٹ چکی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان صرف ان معاملات میں فیصلہ کرتا ہوں جن کے بارے میں مجھ پر کچھ نازل نہیں ہوا۔ پس جس کے حق میں میں کسی ایسی دلیل کی بنا پر فیصلہ کر دوں جو مجھے درست لگے اور وہ اس کے ذریعے اپنے بھائی کے مال میں سے کچھ ظلم کے ساتھ لے لے تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کی گردن میں آگ کی سلاخ ہو گی۔“ وہ دونوں آدمی رونے لگے اور ہر ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس حق کا میں مطالبہ کر رہا ہوں وہ اس کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن جاؤ اور قرعہ ڈالو اور حق کا ارادہ کرو، پھر تم میں سے ہر ایک دوسرے کو معاف کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11359]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11360
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَزْهَرَ، عَنْ مُحَارِبٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" رُدُّوا الْخُصُومَ حَتَّى يَصْطَلِحُوا؛ فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُحْدِثُ بَيْنَ الْقَوْمِ الضَّغَائِنَ".
محارب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «رُدُّوا الْخُصُومَ حَتَّىٰ يَصْطَلِحُوا، فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُحْدِثُ بَيْنَ الْقَوْمِ الضَّغَائِنَ» ”مخالفین (جھگڑنے والوں) کو واپس لوٹا دیا کرو یہاں تک کہ وہ صلح کر لیں، اس لیے کہ فیصلہ کن فیصلہ لوگوں کے درمیان کینے (اور دشمنیاں) پیدا کر دیتا ہے۔“ [ضعیف] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11360]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، ثنا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" رُدُّوا الْخُصُومَ لَعَلَّهُمْ أَنْ يَصْطَلِحُوا؛ فَإِنَّهُ أَبْرَأُ لِلصِّدْقِ، وَأَقَلُّ لِلْحِنَاتِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جھگڑا کرنے والوں کو لوٹا دو تاکہ وہ صلح کر لیں، یہ سچائی کے قریب اور عداوت سے دور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11361]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11362
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ الْجَزَرِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" رُدُّوا الْخُصُومَ إِذَا كَانَ بَيْنَهُمْ قَرَابَةٌ؛ فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُوَرِّثُ بَيْنَهُمُ الشَّنَآنَ" هَذِهِ الرِّوَايَاتُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جھگڑا کرنے والوں کو لوٹا دیا کرو جب ان کے درمیان قرابت ہو، بے شک فیصلے سے لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوجاتی ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایات منقطع ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11362]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2402. -- باب: نصب الميزاب وإشراع الجناح
-- باب: پرنالہ لگانے اور چھجا نکالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11363
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ فَقَطَرَ مِيزَابٌ عَلَيْهِ لِلْعَبَّاسِ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُلِعَ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: قَلَعْتَ مِيزَابِي، وَاللهِ مَا وَضَعَهُ حَيْثُ كَانَ إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" وَاللهِ ⦗١١٠⦘ لَا يَضَعُهُ إِلَّا أَنْتَ بِيَدِكَ، ثُمَّ لَا يَكُونُ لَكَ سُلَّمٌ إِلَّا عُمَرَ"، قَالَ: فَوَضَعَ الْعَبَّاسُ رِجْلَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْ عُمَرَ، ثُمَّ أَعَادَهُ حَيْثُ كَانَ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ عُمَرَ وَعَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا..
حضرت یعقوب بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن نکلے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پرنالے کا پانی ان پر گرا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے اکھاڑ دینے کا حکم دیا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ نے میرے پرنالے کو اکھاڑ دیا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پہ اپنے ہاتھ سے نصب کیا تھا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! اسے آپ اپنے ہاتھ سے رکھیں گے اور عمر کی پشت اس کے لیے حاضر ہوگی۔“ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے پاؤں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کندھوں پر رکھے اور دوبارہ پرنالہ اسی جگہ پر نصب کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11363]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں