السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2419. -- باب: التوكيل في المال، وطلب الحقوق وقضائها، وذبح الهدايا وقسمها، والبيع والشراء والنفقة، وغير ذلك
-- باب: مال، حقوق طلب کرنے اور ان کی ادائیگی، ہدی (قربانی کے جانور) ذبح کرنے اور انہیں تقسیم کرنے، خرید و فروخت، خرچ کرنے اور دیگر امور میں کسی کو وکیل (نمائندہ) مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11432
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ قَالَ: أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَقَالَ" إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا؛ فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يَدَكَ عَلَى تَرْقُوَتِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے خیبر کی طرف جانے کا ارادہ کیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے سلام کہا اور کہا کہ میں خیبر کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو میرے وکیل کے پاس جائے تو اس سے پندرہ وسق کھجور لے لینا۔ پس اگر وہ تجھ سے کوئی نشانی مانگے تو اپنا ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11432]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 3632»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11433
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرَقِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ عَلَى الْبُدْنِ فَأَمَرَنِي فَقَسَمْتُ لُحُومَهَا، ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَسَمْتُ جِلَالَهَا وَجُلُودَهَا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”میں قربانیوں پر کھڑا ہوں اور مجھے ان کا گوشت تقسیم کرنے کا، ان کی جھول اور ان کا چمڑا تقسیم کرنے کا حکم دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11433]
تخریج الحدیث: «بخاري 1940، مسلم 1317»
الحكم على الحديث: بخاري 1940، مسلم 1317
حدیث نمبر: 11434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبُدْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قِصَّةِ الرَّجُلِ الَّذِي تَقَاضَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنًّا كَانَتْ لَهُ عَلَيْهِ:" اشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ"، وَفِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ بَيْعِ بَعِيرِهِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ، اقْضِهِ وَزِدْهُ" فَأَعْطَاهُ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ، وَزَادَهُ قِيرَاطًا.
ایک روایت کے الفاظ ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانیوں پر مقرر کیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت اس آدمی کے قصے میں ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹوں کا تقاضا کیا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تھے کہ ”اس کے لیے اونٹ خریدو اور اسے وہی دے دو۔“ ایک روایت کے الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دو اور زیادہ بھی دینا۔“ چنانچہ انہوں نے چار دینار اور ایک قیراط زائد دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11434]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ الْهَوْزَنِيُّ يَعْنِي أَبَا عَامِرٍ الْهَوْزَنِيَّ قَالَ: لَقِيتُ بِلَالًا مُؤَذِّنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَلَبَ، فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ، حَدِّثْنِي كَيْفَ كَانَتْ نَفَقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا كَانَ لَهُ شَيْءٌ إِلَّا أَنَا الَّذِي كُنْتُ أَلِي ذَلِكَ مِنْهُ مُنْذُ بَعَثَهُ اللهُ إِلَى أَنْ تُوُفِّيَ، فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ الْمُسْلِمُ فَرَآهُ عَارِيًا يَأْمُرُنِي فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَقْرِضُ فَأَشْتَرِيَ الْبُرْدَةَ وَالشَّيْءَ فَأَكْسُوَهُ وَأُطْعِمَهُ، حَتَّى اعْتَرَضَنِي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: يَا بِلَالُ، إِنَّ عِنْدِي سَعَةً، فَلَا تَسْتَقْرِضْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مِنِّي، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ تَوَضَّأْتُ ثُمَّ قُمْتُ لِأُؤَذِّنَ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا الْمُشْرِكُ فِي عِصَابَةٍ مِنَ التُّجَّارِ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: يَا حَبَشِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا لَبَيَّهِ، فَتَجَهَّمَنِي وَقَالَ قَوْلًا غَلِيظًا، فَقَالَ: أَتَدْرِي كَمْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الشَّهْرِ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَرِيبٌ، قَالَ: إِنَّمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَرْبَعُ لَيَالٍ، فَآخُذُكَ بِالَّذِي لِي عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَمْ أُعْطِكَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ مِنْ كَرَامَتِكَ، وَلَا مِنْ كَرَامَةِ صَاحِبِكَ، وَلَكِنْ أَعْطَيْتُكَ لِتَجِبَ لِي عَبْدًا؛ فَأَرُدُّكَ تَرْعَى الْغَنَمَ كَمَا كُنْتَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَأَخَذَ فِي نَفْسِي مَا يَأْخُذُ فِي أَنْفُسِ النَّاسِ، فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ أَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ، حَتَّى إِذَا صَلَّيْتُ الْعَتَمَةَ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنَّ الْمُشْرِكَ الَّذِي ذَكَرْتُ لَكَ أَنِّي كُنْتُ أَتَدَيَّنُ مِنْهُ قَدْ قَالَ كَذَا وَكَذَا، وَلَيْسَ عِنْدَكَ مَا تَقْضِي عَنِّي، وَلَا عِنْدِي، وَهُوَ فَاضِحِي، فَأَذِنَ لِي أَنْ آتِيَ إِلَى بَعْضِ هَؤُلَاءِ الْأَحْيَاءِ الَّذِينَ قَدْ أَسْلَمُوا حَتَّى يَرْزُقَ اللهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقْضِي عَنِّي، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَنْزِلِي، فَجَعَلْتُ سَيْفِي وَجِرَابِي وَرُمْحِي وَنَعْلِي عِنْدَ رَأْسِي وَاسْتَقْبَلْتُ بِوَجْهِيَ الْأُفُقَ، فَكُلَّمَا نِمْتُ انْتَبَهْتُ فَإِذَا رَأَيْتُ عَلَيَّ لَيْلًا نِمْتُ، حَتَّى انْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ الْأَوَّلِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ، فَإِذَا إِنْسَانٌ يَسْعَى يَدْعُو: يَا بِلَالُ، أَجِبْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَإِذَا أَرْبَعُ رَكَائِبَ عَلَيْهِنَّ أَحْمَالُهُنَّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنْتُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرْ؛ فَقَدْ جَاءَكَ اللهُ بِقَضَائِكَ"، فَحَمِدْتُ اللهَ، وَقَالَ:" أَلَمْ تَمُرَّ عَلَى الرَّكَائِبِ الْمُنَاخَاتِ الْأَرْبَعِ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ لَكَ رِقَابَهُنَّ وَمَا عَلَيْهِنَّ"، وَإِذَا عَلَيْهِنَّ كِسْوَةٌ وَطَعَامٌ أَهْدَاهُنَّ لَهُ عَظِيمُ فَدَكٍ،" فَاقْبِضْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اقْضِ دَيْنَكَ"، قَالَ: فَفَعَلْتُ فَحَطَطْتُ عَنْهُنَّ أَحْمَالَهُنَّ ثُمَّ عَقَلْتُهُنَّ ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَى تَأْذِينِ صَلَاةِ الصُّبْحِ، حَتَّى إِذَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتُ إِلَى الْبَقِيعِ فَجَعَلْتُ أُصْبُعِي فِي أُذُنِي، فَنَادَيْتُ وَقُلْتُ: مَنْ كَانَ يَطْلُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنًا فَلْيَحْضُرْ، فَمَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَقْضِي وَأَعْرِضُ وَأَقْضِي حَتَّى لَمْ يَبْقَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى فَضُلَ عِنْدِي أُوقِيَّتَانِ أَوْ أُوقِيَّةٌ وَنِصْفٌ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَقَدْ ذَهَبَ عَامَّةُ النَّهَارِ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحْدَهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي:" مَا فَعَلَ مَا قِبَلَكَ؟" قَالَ: قُلْتُ: قَدْ قَضَى اللهُ كُلَّ شَيْءٍ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ، فَقَالَ:" فَضُلَ شَيْءٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ دِينَارَانِ، قَالَ:" ⦗١٣٤⦘ انْظُرْ أَنْ تُرِيحَنِي مِنْهُمَا، فَلَسْتُ بِدَاخِلٍ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِي حَتَّى تُرِيحَنِي مِنْهُمَا"، فَلَمْ يَأْتِنَا، فَبَاتَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَصْبَحَ، وَظَلَّ فِي الْمَسْجِدِ الْيَوْمَ الثَّانِي حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ النَّهَارِ جَاءَ رَاكِبَانِ فَانْطَلَقْتُ بِهِمَا فَكَسَوْتُهُمَا وَأَطْعَمْتُهُمَا، حَتَّى إِذَا صَلَّى الْعَتَمَةَ دَعَانِي فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الَّذِي قِبَلَكَ؟" قُلْتُ: قَدْ أَرَاحَكَ اللهُ مِنْهُ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللهَ شَفَقًا مِنْ أَنْ يُدْرِكَهُ الْمَوْتُ وَعِنْدَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَاءَ أَزْوَاجَهُ فَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ امْرَأَةٍ حَتَّى أَتَى فِي مَبِيتِهِ، فَهَذَا الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ.
سیدنا ابو عامر عبداللہ ہوزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حلب مقام پر ملا، میں نے کہا: اے بلال! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے بارے میں آگاہ کرو، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: جب سے اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، اس وقت سے وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی چیز ایسی نہیں جس کا میں والی نہ بنا ہوں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مسلمان آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ننگا دیکھ لیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے، میں جاتا اور قرض لے کر چادر خرید کر لاتا یا کوئی چیز اور میں اسے پہنا دیتا اور اسے کھلاتا، یہاں تک کہ مشرکین کے ایک آدمی نے مجھ پر اعتراض کیا اور کہا: اے بلال! بے شک میں اتنی وسعت والا ہوں، میرے علاوہ کسی اور سے قرض نہ لینا، چنانچہ میں نے اس سے قرض لینا شروع کر دیا، ایک دن میں نے وضو کیا، نماز کے لیے اذان کہنے لگا تو وہ مشرک آدمی تاجروں کی ایک جماعت میں سے نمودار ہوا، مجھے دیکھا تو کہنے لگا: اے حبشی! میں نے ہاں کہا تو وہ مجھ پر متوجہ ہوا اور سخت باتیں کرنے لگا، کہنے لگا: کیا تجھے پتا ہے تیرے مہینے کے وعدے میں کتنے دن رہ گئے ہیں؟ میں نے کہا: وعدہ قریب ہے، اس نے کہا: چار راتیں رہ گئی ہیں، میں تجھ سے اپنا قرض لے لوں گا، میں نے تجھے جو کچھ دیا وہ تیری یا تیرے صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عزت کی وجہ سے نہیں دیا تھا بلکہ اس لیے دیا تھا تاکہ تو میرا غلام بن جائے، پھر میں تجھے بکریاں چرانے پر لوٹا دوں گا، جس طرح تو پہلے تھا، میرے دل پر وہی گزری جو لوگوں کے دلوں پر گزرتی ہے، میں چلا میں نے نماز کے لیے اذان کہی یہاں تک کہ میں نے عشاء کی نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر لوٹ آئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی، مجھے اجازت ملی، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، بے شک وہ مشرک آدمی جس کا میں نے آپ کو بتایا تھا جس سے میں قرض لیتا تھا اس نے اس اس طرح کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی قرض دینے کے لیے کچھ نہیں اور نہ میرے پاس کوئی چیز ہے اور وہ مجھے رسوا کرے گا، مجھے اجازت دیں میں ان قبیلوں کے پاس جاؤں جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے یہاں تک کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رزق دے جس سے وہ میرا قرض اتاریں، میں نکلا اپنے گھر آیا میں نے اپنی تلوار، موزہ، نیزہ اور جوتا اپنے سر پر رکھا اور اپنے آپ کو ایک کونے کی طرف متوجہ کیا، جب مجھے نیند آنے لگتی تو میں چونک جاتا، جب میں نے رات محسوس کی تو سو گیا یہاں تک کہ صبح کی روشنی پھوٹی، میں نے جانے کا ارادہ کیا پس ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور وہ پکار رہا تھا: اے بلال! تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو دیکھا کہ چار جانور لدے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں، میں نے اندر داخل ہونے کی اجازت لی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جا اے بلال! اللہ نے تیرے قرضے کو ادا کرنے کے لیے مال بھیجا ہے۔“ بعد میں فرمایا: ”کیا تو نے وہ چار جانور لدے ہوئے نہیں دیکھے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا وہ جانور بھی تو لے لے اور ان پر لدا ہوا سامان بھی، ان پر کپڑا اور غلہ لدا ہوا ہے، یہ مجھے فدک کے رئیس نے بھیجا ہے، ان کو لے جا اور اپنا قرض ادا کر۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا، میں نے ان کا سامان اتارا اور انہیں باندھ دیا، پھر میں نے صبح کی اذان کا ارادہ کیا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، میں بقیع کی طرف گیا، میں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں، میں نے پکارا اور میں نے کہا: جس نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرض لینا ہے وہ آ جائے، پھر میں بیچتا رہا اور قرض ادا کرتا رہا اور پیش کرتا رہا اور قرض بھی ادا کرتا رہا حتیٰ کہ زمین پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض نہ رہا، یہاں تک کہ دو یا ڈیڑھ اوقیہ بچ گیا، پھر میں مسجد میں گیا اور دن کا اکثر حصہ بیت چکا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے ہی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، میں نے سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: ”اس مال کا کیا بنا؟“ میں نے کہا: اللہ نے ہر چیز ادا کر دی ہے جو اس کے رسول پر تھی، آپ پر باقی کچھ نہیں بچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس مال سے کچھ بچا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں دو دینار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلدی اسے خرچ کر دے اور مجھے بے فکر کر، میں اس وقت تک گھر داخل نہیں ہوں گا جب تک تو مجھے بے فکر نہ کر دے گا۔“ پس ہمارے پاس کوئی بھی سائل نہ آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ہی رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے دن بھی مسجد میں رہے حتیٰ کہ دن کے آخری حصے میں دو سوار آئے، میں ان کے پاس گیا، میں نے ان کو پہنا دیا اور کھلا دیا، جب عشاء کی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس مال کا کیا بنا؟“ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بے فکر کر دیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اللہ کی حمد بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈر تھا کہ کہیں موت آ جائے اور وہ مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہو، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس آئے، ایک ایک کو سلام کہا، یہاں تک کہ سونے والی جگہ پر تشریف لائے، یہی تھا وہ جس کے بارے میں تو نے مجھ سے سوال کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11435]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2420. -- باب: التوكيل في الخصومات مع الحضور والغيبة
-- باب: جھگڑوں (مقدمات) میں حاضری اور غیاب کی صورت میں کسی کو وکیل مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11436
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، أَوْ حَدَّثَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ فِي حَاجَةٍ، فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ مُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَا أَمْرَ صَاحِبِهِمَا، فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَتَكَلَّمَ، وَكَانَ أَقْرَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ" قَالَ يَحْيَى: لِيَلِي الْكَلَامَ الْكُبْرُ، فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَوَارِيرِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ.
عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کسی کام کی غرض سے خیبر گئے، وہ ایک کھجوروں کے باغ میں علیحدہ علیحدہ ہو گئے۔ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ مار دیے گئے۔ ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ان کے چچا کے بیٹے محیصہ اور حویصہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہوں نے دونوں کا معاملہ بیان کیا۔ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بات کرنے لگے، وہ زیادہ قریبی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑا زیادہ حق دار ہے۔“ یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: کلام کا آغاز بڑے آدمی کی طرف سے ہو، پس ان دونوں نے کلام کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11436]
تخریج الحدیث: «بخاري 6142، مسلم 1669»
الحكم على الحديث: بخاري 6142، مسلم 1669
حدیث نمبر: 11437
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ: حَدَثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ جَهْمِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ:" كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَكْرَهُ الْخُصُومَةَ، فَكَانَ إِذَا كَانَتْ لَهُ خُصُومَةٌ وَكَّلَ فِيهَا عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَمَّا كَبِرَ عَقِيلٌ وَكَّلَنِي".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جھگڑے کو ناپسند کرتے تھے، جب کوئی معاملہ درپیش ہوتا تو عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو وکیل مقرر کرتے، جب وہ بوڑھے ہو گئے تو مجھے وکیل بنا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11437]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11438
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ جَهْمٌ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ وَكَّلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ بِالْخُصُومَةِ فَقَالَ: إِنَّ لِلْخُصُومَةِ قَحْمًا" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ أَبُو الزَّيَّادِ: الْقَحْمُ: الْمَهَالِكُ.
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ مدینہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں، اس کا نام جہم تھا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کو جھگڑے میں وکیل مقرر کیا، پس کہا: جھگڑے میں ہلاکت ہے۔ ابو زیاد کہتے ہیں: «قُحَمُ» ہلاکت کی جگہ کو کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11438]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2421. -- باب: فضل النيابة عمن لا يهدي
-- باب: جو شخص (نابینا ہونے وغیرہ کی وجہ سے) خود راستہ نہ پا سکتا ہو اس کی جانب سے نیابت (رہنمائی) کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11439
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ فِيمَا أَظُنُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللهِ"، قَالَ: فَأِيُّ الْعَتَاقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْفَسُهَا"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ؟ قَالَ:" فَتُعِينُ الصَّانِعَ، وَتَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" تَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّكَ؛ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخَرْجَاهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا“، اس نے پوچھا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مالک کی نظر میں زیادہ پسندیدہ ہو“، اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ایسا نہ پاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کاریگر کی مدد کر یا کسی «أَخْرَقَ» کی“، اس نے کہا: اگر میں اس کی بھی طاقت نہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے، یہ بھی صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11439]
تخریج الحدیث: «بخاري 2518، مسلم 84»
الحكم على الحديث: بخاري 2518، مسلم 84
حدیث نمبر: 11440
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالْأَجْرِ، فَقَالَ:" أَلَسْتُمْ تُصَلُّونَ وَتَصُومُونَ وَتُجَاهِدُونَ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، وَهُمْ يَفْعَلُونَ كَمَا نَفْعَلُ، يُصَلُّونَ وَيَصُومُونَ وَيُجَاهِدُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، قَالَ:" إِنَّ فِيكَ صَدَقَةً كَثِيرَةً، إِنَّ فِي فَضْلِ بَيَانِكَ عَنِ الْأَرْتَمِ تُعَبِّرُ عَنْهُ حَاجَتَهُ صَدَقَةٌ، وَفِي فَضْلِ سَمْعِكَ عَلَى السَّيِّئِ السَّمْعِ تُعَبِّرُ عَنْهُ حَاجَتَهُ صَدَقَةٌ، وَفِي فَضْلِ بَصَرِكَ عَلَى ضَرِيرِ الْبَصَرِ تَهْدِيهِ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ، وَفِي قُوَّتِكَ عَلَى الضَّعِيفِ تُعِينُهُ صَدَقَةٌ، وَفِي إِمَاطَتِكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَفِي مُبَاضَعَتِكَ أَهْلَكَ صَدَقَةٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيُؤْجَرُ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ جَعَلْتَهُ فِي غَيْرِ حِلِّهِ أَكَانَ عَلَيْكَ وِزْرٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَفَتَحْتَسِبُونَ بِالشَّرِّ وَلَا تَحْتَسِبُونَ بِالْخَيْرِ؟" وَرُوِّينَا هَذَا مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مالدار لوگ اجر میں بڑھ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نماز، روزہ اور جہاد نہیں کرتے ہو؟“ عرض کیا: کیوں نہیں، وہ بھی ایسے ہی کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں، وہ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور جہاد کرتے ہیں اور وہ صدقہ بھی کرتے ہیں، جبکہ ہم صدقہ نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ میں بیشمار صدقات ہیں: بیشک تیرا کسی نہ بولنے والے کی طرف سے بول دینا جس سے اس کی حاجت پوری ہو صدقہ ہے، اور تیرا کسی نہ سننے والے کی طرف سے سن لینا جس سے اس کی کوئی حاجت پوری ہو صدقہ ہے، اور کسی نابینا کو راستہ دکھا دینا صدقہ ہے، اور تیری طاقت کا کمزور آدمی کی مدد میں لگ جانا صدقہ ہے، اور تیرا راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے، اور تیرا اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی صدقہ ہے۔“ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت کو پورا کرے اور اسے اجر بھی ملے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے اگر تو اسے غیر محل میں پورا کرے تو تجھے گناہ ہوگا؟“ کہتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم شر کا خیال کرتے ہو اور بھلائی کا خیال نہیں کرتے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11440]
تخریج الحدیث: «بخاري 843، مسلم 595»
الحكم على الحديث: بخاري 843 ، مسلم 595
2422. -- باب: إثم من خاصم أو أعان في خصومة بباطل
-- باب: ناحق جھگڑا کرنے والے یا ناحق جھگڑے میں مدد کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 11441
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ فَقَدْ ضَادَّ اللهَ فِي مُلْكِهِ، وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ، ⦗١٣٦⦘ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ حُبِسَ فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے آگے حائل ہوگئی تو اس نے اللہ کی بادشاہت میں اس کی نافرمانی کی اور جو مقروض حالت میں فوت ہوا تو وہاں کوئی دینار اور درہم نہ ہوگا، بلکہ نیکیاں اور برائیاں ہوں گی اور جس نے جاننے کے باوجود باطل میں جھگڑا کیا تو وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہے گا حتی کہ الگ ہوجائے اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہ تھی تو وہ «رَدَغَةِ الْخَبَالِ» ”جہنمیوں کے پیپ اور خون کا ذخیرہ“ میں قید رہے گا حتی کہ اس سے نکل جائے جو کہا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11441]