🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2424. -- باب: الاعتراف بالحقوق والخروج من المظالم
-- باب: حقوق کا اعتراف کرنے اور ظلم و زیادتیوں سے نکلنے (توبہ کرنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11447
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، أنبأ نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَخْرِزَانِ خَرِيزًا وَفِي الْبَيْتِ حَدَاثٌ، فَأَخْرَجَتْ إِحْدَاهُنَّ يَدَهَا تَشْخَبُ دَمًا فَقَالَتْ: أَصَابَتْنِي هَذِهِ، وَأَنْكَرَتِ الْأُخْرَى، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَقَالَ:" لَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ نَاسٍ وَأَمْوَالَهُمُ، ادْعُهَا فَاقْرَأْ عَلَيْهَا {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [آل عمران: ٧٧] " فَقَرَأَ عَلَيْهِنَّ، فَاعْتَرَفَتْ، فَبَلَغَهُ فَسَّرَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ.
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف دو عورتوں کے بارے میں لکھا، دونوں موزے بنایا کرتی تھیں۔ گھر میں باتیں کرنے لگیں، ان میں سے ایک نکلی تو اس کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا، کہنے لگی: مجھے اس عورت نے تکلیف پہنچائی ہے اور دوسری انکار کر رہی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں لکھا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا ہے کہ ”قسم مدعی علیہ پر ہے“ اور کہا کہ ”اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے تو لوگ دوسرے لوگوں کے خون اور اموال کا دعویٰ کرنے لگیں گے“۔ اس عورت کو بلاؤ اور اسے یہ آیت پڑھ کر سناؤ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور نہ اللہ ان سے کلام کریں گے اور نہ ان کی طرف نظرِ رحمت سے دیکھیں گے قیامت کے دن اور نہ ان کو پاک کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے“۔ جب ان عورتوں پر یہ آیت تلاوت کی تو اس عورت نے اعتراف کر لیا۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خبر ملی تو خوش ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإقرار/حدیث: 11447]
تخریج الحدیث: «بخاري 4552»

الحكم على الحديث: بخاري 4552
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11448
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ حَبِيبُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ دَاوُدَ الْقَزَّازُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ مِنْ أَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ مَالِهِ فَلْيُحَلِلْهَا مِنْ صَاحِبِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ حِينَ لَا يَكُونُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، فَإِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَتْ عَلَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی پر ظلم کیا ہو، اس کی عزت پر یا اس کے مال پر، تو وہ اسے دنیا میں ہی حل کر لے اس سے پہلے کہ اس سے مانگا جائے اور اس وقت اس کے پاس کوئی مال و دولت نہ ہوگی، بلکہ اگر نیک اعمال ہوں گے تو اس کے ظلم کے مطابق اس سے لے لیے جائیں گے اور اگر نیک عمل نہ ہوئے تو اس کے ساتھی کی برائیاں لی جائیں گی اور اس (ظالم) پر ڈال دی جائیں گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإقرار/حدیث: 11448]
تخریج الحدیث: «بخاري 6534»

الحكم على الحديث: بخاري 6534
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2425. -- باب: من يجوز إقراره
-- باب: جس شخص کا اقرار کرنا جائز (معتبر) ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11449
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا غَيْلَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ ⦗١٣٨⦘ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفَرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ"، فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَاسْتَغْفَرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ"، فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِمَّ أُطَهِّرُكَ؟" قَالَ: مِنَ الزِّنَا، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبِهِ جُنُونٌ؟" فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ، فَقَالَ:" أَشَرِبْتَ خَمْرًا؟" فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَثَيِّبٌ أَنْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، وَكَانَ النَّاسُ فِيهِ فِرْقَتَيْنِ، قَائِلٌ يَقُولُ: قَدْ هَلَكَ مَاعِزٌ عَلَى أَسْوَأِ عَمَلِهِ، لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: مَا تَوْبَةٌ أَفْضَلَ مَنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ، إِنْ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ: اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ، قَالَ: فَلَبِثُوا بِذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ:" اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ"، قَالَ: فَقَالُوا: غَفَرَ اللهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهَا".
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! لوٹ جا اور اللہ سے توبہ و استغفار کر۔“ وہ تھوڑی دور جا کر پھر واپس پلٹ آئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! لوٹ جا اور اللہ سے توبہ و استغفار کر۔“ وہ تھوڑی دور جا کر پھر واپس پلٹ آئے اور کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی طرح فرمایا، جب وہ چوتھی مرتبہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کس چیز سے پاک کروں؟“ انہوں نے عرض کی: ”زنا سے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ مجنون تو نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ مجنون نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس نے شراب پی ہے؟“ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے ماعز رضی اللہ عنہ کے منہ کی بو سونگھنے کی کوشش کی لیکن کچھ محسوس نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول!۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں رجم کر دیا گیا۔ اب لوگوں کے دو گروہ بن گئے۔ کچھ یہ کہہ رہے تھے کہ ماعز رضی اللہ عنہ اپنے برے عمل کی وجہ سے ہلاک ہو گئے اور ان کی غلطی نے انہیں گھیر لیا ہے، جبکہ کچھ لوگ کہہ رہے تھے: ”ماعز رضی اللہ عنہ کی توبہ سے افضل کسی کی توبہ نہیں ہو سکتی، کیونکہ انہوں نے خود آکر اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دے دیا اور عرض کی کہ مجھے پتھروں سے رجم کر دیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ دو یا تین دن گزرے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور بیٹھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماعز کے لیے استغفار کرو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”اللہ ماعز بن مالک (رضی اللہ عنہ) کو معاف فرمائے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر پوری امت کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإقرار/حدیث: 11449]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1695»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11450
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ فِي قِصَّةِ الرَّجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَغَيْرِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انہوں نے خبر دی دو آدمیوں کے قصے کی، وہ دونوں اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس سلمی کو حکم دیا کہ: ”وہ دوسرے آدمی کی بیوی کے پاس جائے، اگر وہ اعتراف کرلے تو اس کو رجم کر دے۔“ پس اس نے اعتراف کر لیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإقرار/حدیث: 11450]
تخریج الحدیث: «بخاري 6828، مسلم 1698»

الحكم على الحديث: بخاري 6828، مسلم 1698
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11451
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ" أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا، أَفُلَانٌ، أَفُلَانٌ؟ ⦗١٣٩⦘ حَتَّى سَمَّى الْيَهُودِيَّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَبَعَثَ إِلَى الْيَهُودِيِّ، فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی کو اس حالت میں پایا گیا کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچلا گیا تھا، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ کس نے یہ کیا، فلاں نے؟ فلاں نے؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا، اس (لونڈی) نے اپنے سر سے اشارہ کیا، اس یہودی کو بلایا گیا، اس نے اعتراف کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں میں رکھ کر کچل دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإقرار/حدیث: 11451]
تخریج الحدیث: «بخاري 2413، مسلم 1672»

الحكم على الحديث: بخاري 2413، مسلم 1672
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11452
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيُّ، أَنَّ رَجُلًا أَقَرَّ عِنْدَ شُرَيْحٍ ثُمَّ ذَهَبَ يُنْكِرُ، فَقَالَ لَهُ شُرَيْحٌ:" شَهِدَ عَلَيْكَ ابْنُ أُخْتِ خَالَتِكَ" قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ أَنَّ شُرَيْحًا قَالَ لَهُ:" شَهِدَ عَلَيْكَ ابْنُ أُخْتِ خَالَتِكَ".
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے شریح رحمہ اللہ کے پاس اقرار کیا، پھر انکار کرنے لگا، شریح رحمہ اللہ نے اسے کہا: تیری خالہ کی بہن کے بیٹے نے تیرے بارے میں گواہی دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإقرار/حدیث: 11452]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن سعد 6/136»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2426. -- باب: من لا يجوز إقراره
-- باب: جس شخص کا اقرار کرنا جائز (معتبر) نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11453
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي مُوسَى، قَالَا: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يُفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا جاتا ہے: بچے سے حتیٰ کہ بالغ ہو جائے اور مجنون سے حتیٰ کہ وہ ٹھیک ہو جائے اور سوئے ہوئے سے حتیٰ کہ وہ جاگ پڑے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإقرار/حدیث: 11453]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11454
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ الصَّقْرِ السُّكَّرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وُضِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَنْبِجِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُصَفَّى، وَالْمَحْفُوظُ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنِ الْوَلِيدِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، كِلَاهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت سے غلطی، بھول اور جس پر انہیں مجبور کیا گیا ہو، اسے درگزر کر دیا گیا ہے۔“
ولید بن مسلم سے محفوظ روایت اوزاعی عن عطاء عن ابن عباس، اور ولید عن ابن لہیعہ عن موسیٰ بن وردان عن عقبہ بن عامر کے طریق سے ہے، دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإقرار/حدیث: 11454]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2427. -- باب: الاستثناء في الكلام
-- باب: کلام میں استثناء کرنے (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11455
حَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا، مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے (99) نام ہیں، ایک کم سو، جس نے ان کو یاد کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ بے شک اللہ طاق ہے اور وہ طاق کو پسند کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإقرار/حدیث: 11455]
تخریج الحدیث: «بخاري 2736، مسلم 2677»

الحكم على الحديث: بخاري 2736، مسلم 2677
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2428. -- باب: ما جاء في إقرار المريض لوارثه
-- باب: بیمار شخص کے اپنے وارث کے حق میں اقرار کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11456
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ:" إِنْ أَقَرَّ الْمَرِيضُ لِوَارِثٍ أَوْ لِغَيْرِ وَارِثٍ جَازَ" وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي يَحْيَى السَّاجِيِّ أَنَّهُ قَالَ: رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَاءٍ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّ إِقْرَارَهُ جَائِزٌ. قَالَ الْبُخَارِيُّ وَقَالَ الْحَسَنُ: أَحَقُّ مَا يَصْدُقُ بِهِ الرَّجُلُ آخِرُ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا وَأَوَّلُ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَأَوْصَى رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنْ لَا تَكْشِفَ الْفَزَارِيَّةُ عَمَّا أُغْلِقَ عَلَيْهِ بَابُهَا قَالَ: وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَا يَجُوزُ إِقْرَارُهُ لِسُوءِ الظَّنِّ بِالْوَرَثَةِ، وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ؛ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ"، وَلَا يَحِلُّ مَالُ الْمُسْلِمِينَ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آيَةُ الْمُنَافِقِ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ"، وَقَالَ اللهُ تَعَالَى {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا} [النساء: ٥٨] ، فَلَمْ يَخُصَّ وَارِثًا وَلَا غَيْرَهُ.
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر مریض اپنے وارث یا غیر وارث کے لیے اقرار کرے تو جائز ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ آدمی کو سچا اس وقت سمجھنا چاہیے، جب دنیا میں اس کا آخری دن اور آخرت میں اس کا پہلا دن ہو، اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ ان کی بیوی فزاریہ کے دروازے میں جو مال بند ہے وہ نہ کھولا جائے۔ بعض لوگوں نے کہا: اس کا اقرار کرنا جائز نہیں، بدگمانی کی بنا پر اپنے وارث کے لیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدگمانی سے بچو بیشک بدگمانی جھوٹی بات ہے“ اور مسلمانوں کا مال حلال نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: ”منافق کی نشانی یہ بھی ہے جب اسے امانت دی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے“ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ [سورة النساء: 58] ”بیشک اللہ نے حکم دیا امانتوں کو ان کے اہل کی طرف پہنچا دو۔“ پس اللہ نے وارث یا غیر وارث کی کوئی تخصیص نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإقرار/حدیث: 11456]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں