السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2448. -- باب: الشفعة فيما لم يقسم
-- باب: اس چیز میں شفعہ کا بیان جو ابھی تقسیم نہ کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 11574
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الشُّفْعَةُ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلَا شُفْعَةَ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفعہ اس چیز میں ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، جب حدود قائم ہوجائیں تو کوئی شفعہ نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11574]
حدیث نمبر: 11575
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا صُرِفَتِ الْحُدُودُ، وَعَرَفَتِ النَّاسُ حُدُودَهُمْ، فَلَا شُفْعَةَ بَيْنَهُمْ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حدود الگ ہو جائیں اور لوگ اپنی حدود پہچان لیں تو ان میں شفعہ باقی نہیں رہتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11575]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11576
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فِي الْأَرْضِ فَلَا شُفْعَةَ فِيهَا، وَلَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلِ نَخْلٍ".
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب زمین میں حدیں واقع ہو جائیں تو ان میں شفعہ نہیں ہے اور نہ کنویں میں شفعہ ہے اور نہ ہی کھجور کے نر درخت میں شفعہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11576]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المؤطا 2/717»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11577
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ⦗١٧٤⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِذَا وَقَعَتِ السُّهْمَانُ فَلَا مُكَابَلَةَ" قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الْمُكَابَلَةُ تَكُونُ مِنَ الْحَبْسِ، يَقُولُ: إِذَا حُدَّتِ الْحُدُودُ فَلَا يُحْبَسُ أَحَدٌ عَنْ حَقِّهِ، وَأَصْلُ هَذَا مِنَ الْكَبْلِ وَهُوَ الْقَيْدُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَالَّذِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنَ الْفِقْهِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَرَى الشُّفْعَةَ لِلْجَارِ، إِنَّمَا يَرَاهَا لِلْخَلِيطِ الْمُشَارِكِ، وَهُوَ بَيِّنٌ فِي حَدِيثٍ لَهُ آخَرَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ أَوْ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، الشَّكُّ مِنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلٍ، وَالَأرَفُ يَقْطَعُ كُلَّ شُفْعَةٍ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: الَأرَفُ: الْمَعَالِمُ وَقَالَ الْأَصْمَعِيُّ: هِيَ الْمَعَالِمُ وَالْحُدُودُ، قَالَ: وَهَذَا كَلَامُ أَهْلِ الْحِجَازِ، يُقَالُ مِنْهُ: أَرَفْتَ الدَّارَ وَالْأَرْضَ تَأْرِيفًا، إِذَا قَسَّمْتَهَا وَحَدَّدْتَهَا قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: وَقَوْلُهُ: لَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلٍ، أَظُنُّ الْفَحْلَ فَحْلَ النَّخْلِ، وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب حصے واقع ہو جائیں تو کوئی قید نہیں ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قید تو روکنے سے ہوتی ہے۔ جب حدود واقع ہو جائیں تو کسی کو اس کے حق سے روکا نہیں جا سکتا اور لفظ «الْكَبْلُ» سے مراد قید ہے۔ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہمسائے کے لیے حقِ شفعہ کے قائل نہ تھے، وہ خیال کرتے تھے کہ حقِ شفعہ شریک کے لیے ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ بھی منقول ہے کہ شفعہ نہ کنویں میں ہے اور نہ سانڈ میں اور حد بندی ہر حقِ شفعہ کو ختم کر دیتی ہے۔ عبداللہ بن ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ارف سے مراد نشانات ہیں۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ نشانات اور حدود ہیں، یہ اہل حجاز کا کلام ہے (اس میں سے) یہ بھی ہے «أَرَّفْتُ الدَّارَ وَالْأَرْضَ تَأْرِيفًا» ”جب میں نے اس کو تقسیم کر دیا اور اس کی حد بندی کر دی۔“ ابن ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کے قول «لَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلٍ» میں میرے گمان کے مطابق فحل سے مراد کھجور کا نر درخت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11577]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2449. -- باب: الشفعة بالجوار
-- باب: پڑوس کی بنیاد پر شفعہ کا حق ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11578
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ" قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الْعَرَبُ تَقُولُ: السَّقَبُ: اللَّزِيقُ قَالَ الشَّيْخُ: خَالَفَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ بِإِسْنَادِهِ.
سیدنا عمرو بن شرید رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے۔“ ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اصمعی رحمہ اللہ نے بیان کیا: «السَّقَبُ» کا مطلب چمٹا ہوا ہونا یعنی پڑوسی مراد ہے۔
ابراہیم بن میسرہ نے اس کی سند میں ان کی مخالفت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11578]
ابراہیم بن میسرہ نے اس کی سند میں ان کی مخالفت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11578]
تخریج الحدیث: «أحمد 19691»
الحكم على الحديث: أحمد 19691
حدیث نمبر: 11579
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11579]
تخریج الحدیث: «بخاري 2258»
الحكم على الحديث: بخاري 2258
حدیث نمبر: 11580
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيِّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يَقُولُ: وَضَعَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ يَدَهُ هَذِهِ عَلَى مَنْكِبِي هَذَا، أَوْ هَذَا، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا سَعْدًا، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَجَاءَ أَبُو رَافِعٍ فَقَالَ لِلْمِسْوَرِ: أَلَا تَأْمُرُ هَذَا أَنْ يَشْتَرِيَ مِنِّي بَيْتِيَّ اللَّذَيْنِ مِنْ دَارِهِ؟ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَا أَزِيدُكَ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ إِمَّا مُقَطَّعَةً وَإِمَّا مُنَجَّمَةً، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: سُبْحَانَ اللهِ لَقَدْ مَنَعْتُهُمَا مِنْ خَمْسِمِائَةٍ نَقْدًا، فَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ" مَا بِعْتُكَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ بِمَعْنَاهُ. وَفِي سِيَاقِ هَذِهِ الْقِصَّةِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْخَبَرَ وَرَدَ فِي غَيْرِ الشُّفْعَةِ، وَأَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ أَنَّهُ أَحَقُّ بِأَنْ يَعْرِضَ عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِهِ، وَإِنْ أَرَادَ بِهِ الشُّفْعَةَ فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَبُو رَافِعٍ فِيمَا رُوِيَ عَنْهُ مُتَطَوِّعٌ بِمَا صَنَعَ، وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ"، لَا يَحْتَمِلُ إِلَّا مَعْنَيَيْنِ لَا ثَالِثَ لَهُمَا، إِمَّا أَنْ يَكُونَ أَرَادَ أَنَّ الشُّفْعَةَ لِكُلِّ جَارٍ، أَوْ أَرَادَ بَعْضَ الْجِيرَانِ دُونَ بَعْضٍ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا شُفْعَةَ فِيمَا قُسِمَ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّ الشُّفْعَةَ لِلْجَارِ الَّذِي لَمْ يُقَاسِمْ دُونَ الْجَارِ الْمُقَاسِمِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَعَلَى هَذَا يُحْمَلُ مَا:.
حضرت عمرو بن شريد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا، میں ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ ہم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ہم ان کے پاس بیٹھ گئے۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے سیدنا مسور رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ ان سے نہیں کہتے کہ مجھ سے میرے وہ دونوں گھر خرید لیں جو ان کے احاطے میں ہیں؟“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں چار سو دینار سے زیادہ نہ دوں گا اور قسطوں پر دوں گا۔“ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: ”سبحان اللہ! میں نے نقد پانچ سو دینار میں نہیں دیا۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا کہ ”ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے“ تو میں تجھے کبھی فروخت نہ کرتا۔“
اس واقعہ کی روشنی میں دلیل ہے کہ خبر شفعہ کے علاوہ میں وارد ہوئی ہے اور اس نے ارادہ کیا کہ زیادہ حق اس کے پڑوسی کا ہے کہ اسے پیش کیا جائے۔ اور اگر اس سے مراد شفعہ ہو تو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے جو کیا وہ اپنی خوشی سے کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے“، اس کے دو معنی ہیں، تیسرا کوئی معنی نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ حق شفعہ ہمسایہ کے لیے ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ حق شفعہ بعض ہمسایوں کے لیے ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ ”اس چیز میں شفعہ نہیں جو تقسیم کر دی جائے“۔ یہ دلالت کرتا ہے کہ شفعہ اس ہمسائے کے لیے ہے جو تقسیم نہ کرے اور جو تقسیم کر دے اس میں حقِ شفعہ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11580]
اس واقعہ کی روشنی میں دلیل ہے کہ خبر شفعہ کے علاوہ میں وارد ہوئی ہے اور اس نے ارادہ کیا کہ زیادہ حق اس کے پڑوسی کا ہے کہ اسے پیش کیا جائے۔ اور اگر اس سے مراد شفعہ ہو تو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے جو کیا وہ اپنی خوشی سے کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے“، اس کے دو معنی ہیں، تیسرا کوئی معنی نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ حق شفعہ ہمسایہ کے لیے ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ حق شفعہ بعض ہمسایوں کے لیے ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ ”اس چیز میں شفعہ نہیں جو تقسیم کر دی جائے“۔ یہ دلالت کرتا ہے کہ شفعہ اس ہمسائے کے لیے ہے جو تقسیم نہ کرے اور جو تقسیم کر دے اس میں حقِ شفعہ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11580]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 11581
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْجِوَارِ. وَعَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ".
حضرت حسن رحمہ اللہ، سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمسائے کے بارے میں فیصلہ کیا اور ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھر کا ہمسایہ دوسروں کی نسبت اس گھر کا زیادہ حق دار ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11581]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11582
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ ⦗١٧٦⦘ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ أَخِيهِ، يَنْتَظِرُ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا، إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہمسایہ اپنے بھائی کے شفعہ کا زیادہ حق دار ہے۔ اگر وہ غائب ہو تو اس کا انتظار کیا جائے، جب دونوں کا راستہ ایک ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11582]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 11583
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: سَمِعْنَا بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ يَقُولُ: نَخَافُ أَنْ لَا يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ مَحْفُوظًا، قِيلَ لَهُ: وَمِنْ أَيْنَ قُلْتَ؟ قَالَ: إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَقَدْ رَوَى أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرٍ مُفَسَّرًا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الشُّفْعَةُ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلَا شُفْعَةَ" وَأَبُو سَلَمَةَ مِنَ الْحُفَّاظِ، وَرَوَى أَبُو الزُّبَيْرِ، وَهُوَ مِنَ الْحُفَّاظِ، عَنْ جَابِرٍ مَا يُوَافِقُ قَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ وَيُخَالِفُ مَا رَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفعہ اس چیز میں ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، جب حدود واقع ہوجائیں تو حقِ شفعہ باقی نہیں رہتا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا: ہم نے حدیث کا علم رکھنے والے بعض اہلِ علم کو یہ کہتے سنا: ہمیں اندیشہ ہے کہ یہ حدیث محفوظ نہ ہو۔ ان سے پوچھا گیا: آپ یہ کس بنا پر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اسے (عبدالملک نے) صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، جبکہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمان وضاحت کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ابو سلمہ حفاظ میں سے ہیں، اور ابو الزبیر نے بھی، جو حفاظ میں سے ہیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے وہ روایت کیا ہے جو ابو سلمہ کی روایت کے موافق اور عبدالملک بن ابی سلیمان کی روایت کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11583]
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا: ہم نے حدیث کا علم رکھنے والے بعض اہلِ علم کو یہ کہتے سنا: ہمیں اندیشہ ہے کہ یہ حدیث محفوظ نہ ہو۔ ان سے پوچھا گیا: آپ یہ کس بنا پر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اسے (عبدالملک نے) صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، جبکہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمان وضاحت کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ابو سلمہ حفاظ میں سے ہیں، اور ابو الزبیر نے بھی، جو حفاظ میں سے ہیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے وہ روایت کیا ہے جو ابو سلمہ کی روایت کے موافق اور عبدالملک بن ابی سلیمان کی روایت کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشفعة/حدیث: 11583]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح