🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2499. -- باب: من قضى فيما بين الناس بما فيه صلاحهم ودفع الضرر عنهم على الاجتهاد
-- باب: اس شخص کے بیان میں جو لوگوں کے درمیان اجتہاد کی بنیاد پر ایسا فیصلہ کرے جس میں ان کی بھلائی ہو اور ان سے نقصان دور ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11881
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ يَحْيَى أَخْبَرَهُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَنِي الْمُغِيرَةِ أَعْتَقَ أَحَدَهُمَا أَنْ لَا يَغْرِزَ الْآخَرُ خَشَبًا فِي جُدُرِهِ، فَلَقِيَا مُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ وَرِجَالًا كَثِيرًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا:" نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ لَا يَمْنَعَ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ" فَقَالَ الْحَالِفُ: أَيْ أَخِي قَدْ عَلِمْتُ أَنه يُقْضَى لَكَ عَلَيَّ وَقَدْ حَلَفْتُ، فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ جُدُرِي، فَفَعَلَ الْآخَرُ فَغَرَزَ فِي الْأُسْطُوَانَةِ خَشَبَةً قَالَ لِي عَمْرٌو: فَأَنَا نَظَرْتُ إِلَى ذَلِكَ.
عکرمہ بن سلمہ بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنی مغیرہ کے دو بھائیوں میں سے ایک نے (غلام) آزاد کرنے کی قسم کھا لی کہ دوسرا اس کی دیوار میں لکڑی نہیں گاڑے گا، وہ دونوں مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ کو ملے اور وہاں انصار کے اور بھی لوگ تھے، انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ ”کوئی آدمی اپنے ہمسائے کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کرے۔“ تو قسم کھانے والے بھائی نے کہا: اے میرے بھائی! میں نے جان لیا کہ فیصلہ تیرے حق میں ہے اور میں قسم کھا چکا ہوں، پس تو میری دیوار کے علاوہ ستون بنا لے، پس دوسرے نے ایسا ہی کیا اور اس نے ستون میں لکڑی گاڑ دی۔ عمرو نے کہا: میں نے یہ بھی دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11881]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔الطبري في تهذيب الاثار 1162۔1163»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11882
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ خَلِيفَةَ سَاقَ خَلِيجًا لَهُ مِنَ الْعُرَيْضِ فَأَرَادَ أَنْ يُمِرَّهُ فِي أَرْضٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، فَأَبَى مُحَمَّدٌ، فَكَلَّمَ فِيهِ الضَّحَّاكُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَعَا مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لِمَ تَمْنَعُ أَخَاكَ مَا يَنْفَعُهُ وَهُوَ لَكَ نَافِعٌ، تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَلَا يَضُرُّكَ؟" فَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَمْ تَمْنَعْ، وَاللهِ لَيَمُرَّنَّ بِهِ وَلَوْ عَلَى بَطْنِكَ" هَذَا مُرْسَلٌ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ أَيْضًا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ فِي مَعْنَاهُ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ.
عمرو بن یحییٰ مازنی رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ضحاک بن خلیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لیے عریض سے ایک چھوٹی نہر (نالہ) کھودی اور اسے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی زمین سے گزارنے کا ارادہ کیا تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ اس (معاملے) کی خبر سیدنا ضحاک رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دی۔ انہوں نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور حکم دیا کہ ان کے لیے راستہ چھوڑ دے۔ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تو اپنے بھائی کو اس چیز سے کیوں روکتا ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہے اور تیرے لیے بھی؟ اول و آخر تو بھی اس سے پیئے گا (کھیتی کو پلائے گا)، تیرے لیے یہ نقصان دہ نہیں۔“ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں“، یعنی انکار کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! وہ اس (نہر) کو ضرور گزارے گا اگرچہ تیرے پیٹ سے گزرے۔“
یہ روایت مرسل (منقطع) ہے، اور یحییٰ بن سعید انصاری نے بھی اسی معنی میں روایت کیا ہے اور وہ بھی مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11882]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 1431»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11883
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ عَضُدٌ مِنْ نَخْلٍ فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهُ، وَكَانَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ يَدْخُلُ إِلَى نَخْلِهِ فَيَتَأَذَّى بِهِ وَيَشُقُّ عَلَيْهِ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يَبِيعَهُ، فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ، فَأَبَى، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَهُ، فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ، فَأَبَى، قَالَ: قَالَ:" فَهَبْهُ لِي وَلَكَ كَذَا وَكَذَا"، أَمْرٌ رَغَّبَهُ فِيهِ، فَأَبَى، فَقَالَ: أَنْتَ مُضَارٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ:" اذْهَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَهُ" وَقَدْ رُوِيَ فِي معارضته مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَا يُجْبَرُ عَلَيْهِ.
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کے بھی چند درخت تھے اور اس کے ساتھ اہل و عیال بھی تھے، اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ جب باغ میں داخل ہوتے تو اس آدمی پر مشکل اور گراں گزرتا۔ اس نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ درخت بیچ دیں لیکن سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، اس نے کہا کہ ان کا تبادلہ کر لیں، انہوں نے پھر انکار کر دیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بیچ دو“ لیکن سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بدل کے طور پر مانگے۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے پھر انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو مجھے ہبہ کر دے اور تیرے لیے اتنا اتنا ہو گا“، یہ بات آپ نے انہیں رغبت دلانے کے لیے فرمائی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نقصان پہنچانے والا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری سے فرمایا: ”جا اور اس کے درختوں کو اکھاڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11883]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداؤد 3636»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11884
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا، وَقَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عَذْقِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَبْهُ لِي"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ"، قَالَ: لَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا رَأَيْتُ أَبْخَلَ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی کہ فلاں آدمی کے میرے باغ میں درخت ہیں اور وہ مجھے تکلیف دیتا ہے اور میرے اوپر گراں گزرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: ”مجھے وہ درخت بیچ دے جو فلاں کے باغ میں ہیں۔“ اس نے انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ہبہ کر دے۔“ اس نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں درختوں کے بدلے مجھے بیچ دے۔“ اس نے پھر انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھ سے زیادہ بخیل نہیں دیکھا مگر وہ شخص جو سلام کہنے میں بخل سے کام لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11884]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11885
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ عَتَبَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّهُ خَاصَمَ يَتِيمًا لَهُ فِي عَذْقِ نَخْلَةٍ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي لُبَابَةَ بِالْعَذْقِ، فَضَجَّ الْيَتِيمُ وَاشْتَكَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي لُبَابَةَ:" هَبْ لِي هَذَا الْعَذْقَ يَا أَبَا لُبَابَةَ؛ لِكَيْ نَرُدَّهُ إِلَى الْيَتِيمِ"، فَأَبَى أَبُو لُبَابَةَ أَنْ يَهَبَهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا لُبَابَةَ، أَعْطِهِ هَذَا الْيَتِيمَ وَلَكَ مِثْلُهُ فِي الْجَنَّةِ"، فَأَبَى أَبُو لُبَابَةَ أَنْ يُعْطِيَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنِ ابْتَعْتُ هَذَا الْعَذْقَ فَأَعْطَيْتُ الْيَتِيمَ أَلِي مِثْلُهُ فِي الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ"، فَانْطَلَقَ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ ابْنُ الدَّحْدَاحَةِ، حَتَّى لَقِيَ أَبَا لُبَابَةَ فَقَالَ: يَا أَبَا لُبَابَةَ، أَبْتَاعُ مِنْكَ هَذَا الْعَذْقَ بِحَدِيقَتِي، وَكَانَتْ لَهُ حَدِيقَةُ نَخْلٍ، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ: نَعَمْ، فَابْتَاعَهُ مِنْهُ بِحَدِيقَةٍ، فَلَمْ يَلْبَثِ ابْنُ الدَّحْدَاحَةِ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَاتَلَهُمْ فَقُتِلَ شَهِيدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُبَّ عَذْقٍ مُذَلَّلٍ لِابْنِ الدَّحْدَاحَةِ فِي الْجَنَّةِ" ⦗٢٦١⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ:" لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ" فَهُوَ مُرْسَلٌ، وَهُوَ مُشْتَرَكُ الدَّلَالَةِ، وَأَمَّا حَدِيثُ الْخَشَبَةِ فَمِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ حَمَلَهُ عَلَى ظَاهِرِهِ لِحَمْلِ رُوَاتِهِ عَلَى الْوُجُوبِ كَمَا تَرَى، وَلَمْ أَجِدْ لِلشَّافِعِيِّ قَوْلًا يُخَالِفُهُ، بَلْ قَدْ نَصَّ فِي الْقَدِيمِ وَالْجَدِيدِ عَلَى مَا يُوَافِقُهُ، وَأَمَّا حَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ خَالَفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَقَدْ نَجِدُ مَنْ يَدَعُ الْقَوْلَ بِهِ عُمُومًا فِي أَنَّ كُلَّ مُسْلِمٍ أَحَقُّ بِمَا لَهُ، فَيَتَوَسَّعَ بِهِ فِي خِلَافِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: وَأَحْسِبُ قَضَاءَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْوُجُوهِ الَّتِي مَنَعَ فِيهَا الضَّرَرَ بِالْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ الضَّرَرُ عَلَيْهَا أَبْيَنَ. قَالَ فِي الْجَدِيدِ: وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ: امْرَأَةٌ ابْتُلِيَتْ فَلْتَصْبِرْ، لَا تَنْكِحُ حَتَّى يَأْتِيَهَا يَقِينُ مَوْتِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهَذَا نَقُولُ.
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پہلی چیز جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کو ڈانٹ پلائی وہ اس طرح کہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کا ایک یتیم سے باغ کے درختوں میں جھگڑا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں کا فیصلہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے حق میں کر دیا۔ یتیم پریشان ہوا اور اس نے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے ابو لبابہ! مجھے ہبہ کر دے تاکہ ہم یتیم کو دے دیں۔“ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے ہبہ کرنے سے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے ابو لبابہ! اس یتیم کو دے دو، تیرے لیے جنت میں اس کی مثل ہو گا۔“ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ ایک انصاری آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں خرید لوں اور یتیم کو دے دوں تو میرے لیے بھی جنت میں اسی طرح کے درخت ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہاں“ میں جواب دیا۔ وہ انصاری صحابی جن کا نام ابو دحداحہ رضی اللہ عنہ تھا، وہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کو ملے اور کہا: اے ابو لبابہ! یہ باغ میرے باغ کے بدلے میں مجھے بیچ دو، اور ابو دحداحہ رضی اللہ عنہ کا کھجوروں کا باغ تھا۔ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے بیچ دیا۔ ابو دحداحہ رضی اللہ عنہ زیادہ دیر زندہ نہ رہے، بلکہ جنگِ احد میں شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے ہی خوشے جنت میں ابو دحداحہ کے لیے لٹکے ہوئے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11885]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں