السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2513. -- باب: شرط القبض في الهبة
-- باب: ہبہ میں قبضہ شرط ہونے کے بیان میں
حدیث نمبر: 11949
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَنْحَلُونَ أَبْنَاءَهُمْ نُحْلًا ثُمَّ يُمْسِكُونَهَا، فَإِنْ مَاتَ ابْنُ أَحَدِهِمْ قَالَ: مَالِي بِيَدِي لَمْ أُعْطِهِ أَحَدًا، وَإِنْ مَاتَ هُوَ قَالَ: قَدْ كُنْتُ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ، مَنْ نَحَلَ نِحْلَةً لَمْ يَحُزْهَا الَّذِي نَحَلَهَا حَتَّى تَكُونَ إِنْ مَاتَ لِوَارِثِهِ فَهِيَ بَاطِلٌ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کا کیا حال ہے کہ اپنے بیٹوں کو عطیہ دیتے ہیں، پھر اسے روک لیتے ہیں۔ اگر کسی کا بیٹا مر جائے تو کہتے ہیں: میرا مال میرے پاس ہے، میں نے کسی کو نہیں دیا اور اگر وہ خود مر جائیں تو (موت سے قبل کہتے ہیں) کہ وہ میرے بیٹے کا ہے، میں نے اس کو عطا کیا تھا۔ جس نے کسی کو عطیہ دیا اور عطیہ دیے جانے والے نے اس پر قبضہ نہ کیا، پھر اس کی موت پر وہ عطیہ وارثوں کا ہے اور عطیہ کرنا باطل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11949]
تخریج الحدیث: «مالك في الموطا 1475»
الحكم على الحديث: مالك في الموطا 1475
حدیث نمبر: 11950
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11950]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11951
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" الَأَنْحَالُ مِيرَاثٌ مَا لَمْ يُقْبَضْ" وَرُوِّينَا عَنْ عُثْمَانَ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ قَالُوا: لَا تَجُوزُ صَدَقَةٌ حَتَّى تُقْبَضَ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَشُرَيْحٍ أَنَّهُمَا كَانَا لَا يُجِيزَانِهَا حَتَّى تُقْبَضَ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عطیہ دی ہوئی چیز قبضہ نہ ہونے تک میراث ہے۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صدقہ اس وقت تک جائز نہیں جب تک قبضہ نہ ہو۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور شریح رحمہ اللہ نے کہا: جب تک قبضہ نہ ہو تو عطیہ دینا جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11951]
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صدقہ اس وقت تک جائز نہیں جب تک قبضہ نہ ہو۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور شریح رحمہ اللہ نے کہا: جب تک قبضہ نہ ہو تو عطیہ دینا جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11951]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2514. -- باب: يقبض للطفل أبوه
-- باب: بچے کی طرف سے اس کا باپ قبضہ کرے گا
حدیث نمبر: 11952
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُهُمَا، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ نَحَلَ وَلَدًا لَهُ صَغِيرًا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَحُوزَ نَحْلُهُ، فَأَعْلَنَ بِهَا وَأَشْهَدَ عَلَيْهَا، فَهِيَ جَائِزَةٌ وَإِنْ وَلِيَهَا أَبُوهُ".
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے اپنے چھوٹے بچے کو عطیہ دیا جو ابھی قبضہ کی عمر کو نہیں پہنچا، اس نے اس (عطیہ) کا اعلان کیا اور اس پر گواہ بھی مقرر کیا تو وہ جائز ہے اور اس کا باپ اس کا ولی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11952]
تخریج الحدیث: «مالك 1503»
الحكم على الحديث: مالك 1503
حدیث نمبر: 11953
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَنْحَلُونَ أَوْلَادَهُمْ نِحْلَةً، فَإِذَا مَاتَ أَحَدُهُمْ قَالَ: مَالِي فِي يَدِي، وَإِذَا مَاتَ هُوَ قَالَ: قَدْ كُنْتُ نَحَلْتُهُ وَلَدِي، لَا نُحْلَةَ إِلَّا نُحْلَةً يَحُوزُهَا الْوَلَدُ دُونَ الْوَالِدِ، فَإِنْ مَاتَ وَرِثَهُ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی اولاد کو عطیہ دیتے ہیں، جب ان میں سے کوئی فوت ہو جاتا ہے تو کہتا ہے: میرا مال میرے پاس ہے۔ اگر خود فوت ہو جائے تو کہتا ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کو عطیہ دیا تھا، کوئی عطیہ نہیں ہے مگر جس پر اس کی اولاد قبضہ کر لے، والد کے علاوہ۔ پس اگر وہ فوت ہو جائے تو یہ (عطیہ) اس کی وراثت میں شامل ہو جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11953]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11954
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: فَشُكِيَ ذَلِكَ إِلَى عُثْمَانَ" فَرَأَى أَنَّ الْوَالِدَ يَحُوزُ لِوَلَدِهِ إِذَا كَانُوا صِغَارًا".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف شکایت کی گئی تو آپ کی رائے یہ تھی کہ والد اپنی اولاد کی طرف سے قبضہ کرتا ہے جبکہ وہ چھوٹی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11954]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2515. -- باب: هبة ما في يدي الموهوب له
-- باب: جو چیز جس کو ہبہ کی گئی ہو وہ اسی کے قبضے میں ہو تو اس کے ہبہ کا بیان
حدیث نمبر: 11955
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْوَرَّاقُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ لِعُمَرَ، وَكَانَ يَغْلِبُنِي فَيَتَقَدَّمُ أَمَامَ الْقَوْمِ، فَيُؤَخِّرُهُ عُمَرُ فَيَرُدُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ:" بِعْنِيهِ"، فَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" بِعْنِيهِ"، فَبَاعَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللهِ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، میں عمر رضی اللہ عنہ کے ایک جوان، سرکش اونٹ پر سوار تھا، وہ مجھ پر غلبہ پا جاتا اور سب لوگوں سے آگے گزر جاتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے واپس پیچھے لوٹا دیتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”مجھے بیچ دو۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”مجھے بیچ دو۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ! یہ آپ کا حصہ ہے جو مرضی ہے اس سے کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11955]
تخریج الحدیث: «بخاري 2116۔ مسلم 715»
الحكم على الحديث: بخاري 2116
2516. -- باب: ما جاء في هبة المشاع
-- باب: مشترکہ (غیر تقسیم شدہ) جائیداد کو ہبہ کرنے کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 11956
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَابِدُ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، أَظُنُّهُ قَالَ: ضُحًى، فَقَالَ لِي:" صَلِّهْ، أَوْ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، راوی کا خیال ہے کہ چاشت کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: ”نماز پڑھو“ یا فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھو“ اور میرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا قرض بھی ادا کیا اور زائد بھی کچھ عطا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11956]
تخریج الحدیث: «بخاري 443۔ مسلم 715»
الحكم على الحديث: بخاري 443
حدیث نمبر: 11957
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ:" بِعْتُ بَعِيرًا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَزَنَ فَأَرْجَحَ لِي، فَمَا زَالَ بَعْضُ تِلْكَ الدَّرَاهِمِ مَعِي حَتَّى أُصِيبَتْ يَوْمَ الْحَرَّةِ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
محارب بن دثار رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ بیچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وزن کر کے پورا دیا اور زائد بھی دے دیا۔ وہ درہم ہمیشہ میرے پاس رہے یہاں تک کہ حرہ کے دن نقصان پہنچا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11957]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي 1831»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11958
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنِ الْبَهْزِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ عَقِيرٌ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" دَعُوهُ؛ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبُهُ"، فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْأُثَايَةِ بَيْنَ الرُّويْبَةِ وَالْعَرْجِ إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ وَفِيهِ سَهْمٌ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا يَثْبُتُ عِنْدَهُ لَا يُرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ وَرَوَى مُسْلِمٌ الْبَطِينُ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ وَرِثَ مَوَارِيثَ فَتَصَدَّقَ بِهَا قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ فَأُجِيزَتْ.
سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کا ارادہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روحاء کے مقام پر آئے تو وہاں ایک نیل گائے زخمی پڑی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، کیونکہ ہو سکتا ہے اس کا شکار کرنے والا آ جائے“۔ پس سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ آ گئے اور وہی اس کے شکاری تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ لوگ اسے لے لیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے چلے یہاں تک کہ جب مقامِ اثایہ پر پہنچے جو رویثہ اور عرج کے درمیان ہے، تو وہاں ایک ہرن دیکھا جو سائے میں سر جھکائے کھڑا تھا اور اسے ایک تیر لگا ہوا تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اس کے پاس کھڑا ہونے کا حکم دیا تاکہ سب لوگ وہاں سے گزر جائیں اور اسے کوئی نہ چھیڑے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11958]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك في الموطا 1139»
الحكم على الحديث: صحيح