السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2566. -- باب: فرض الابنتين فصاعدا
-- باب: دو یا دو سے زائد بیٹیوں کے مقررہ حصے کا بیان
حدیث نمبر: 12311
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جِئْنَا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الْأَسْوَافِ، وَهِيَ جَدَّةُ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ بِابْنَتَيْنِ لَهَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَاتَانِ ابْنَتَا ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقَدِ اسْتَفَاءَ عَمُّهُمَا مَالَهُمَا وَمِيرَاثَهُمَا كُلَّهُ، فَلَمْ يَدَعْ مَالًا إِلَّا أَخَذَ، فَمَا تَرَى يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَوَاللهِ لَا تُنْكَحَانِ أَبَدًا إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْضِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ"، فَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ {يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ} [النساء: ١١] الْآيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُ لِيَ الْمَرْأَةَ وَصَاحِبَهَا"، فَقَالَ لِعَمِّهِمَا:" أَعْطِهِمَا الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَمَا بَقِيَ فَلَكَ" قَوْلُهُ: اسْتَفَاءَ مَالَهُمَا، مَعْنَاهُ: اسْتَرَدَّ وَاسْتَرْجَعَ حَقَّهُمَا مِنَ الْمِيرَاثِ، وَأَصْلُهُ مِنَ الْفَيْءِ وَهُوَ الرُّجُوعُ، قَوْلُهُ: ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ خَطَأٌ، إِنَّمَا هُوَ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ ہم اسواف میں انصار کی ایک عورت کے پاس آئے۔ وہ خارجہ بن زید کی دادی تھی۔ راوی نے حدیث بیان کی اور کہا: ایک عورت دو بیٹیوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ دونوں بیٹیاں ثابت بن قیس کی ہیں، وہ آپ کے ساتھ احد میں شہید کر دیے گئے تھے اور ان کے چچا نے ان کا مال لے لیا ہے اور ان کی ساری وراثت بھی لے لی ہے، ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ پس آپ کا کیا خیال ہے اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! وہ مال کے بغیر کبھی نکاح بھی نہیں کر پائیں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بارے میں فیصلہ کریں گے“ تو سورہ نساء کی آیت نازل ہوئی: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ﴾ [سورة النساء: 11] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت اور اس کے ساتھ والے (چچا) کو بلاؤ“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چچا سے فرمایا: ”ان کو دو تہائی دے دو اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو اور جو باقی بچے گا وہ تیرا ہے“۔
«قَوْلُهُ: اسْتَفَاءَ مَالَهُمَا» کا معنی ہے کہ ”وہ ان کی وراثت کے حق کی طرف لوٹا ہے“۔
«ثابت بن قیس» کہنا غلطی ہے، درست سعد بن ربیع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12311]
«قَوْلُهُ: اسْتَفَاءَ مَالَهُمَا» کا معنی ہے کہ ”وہ ان کی وراثت کے حق کی طرف لوٹا ہے“۔
«ثابت بن قیس» کہنا غلطی ہے، درست سعد بن ربیع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12311]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12312
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ السَّرْحِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ وَغَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ امْرَأَةَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ سَعْدًا هَلَكَ وَتَرَكَ ابْنَتَيْنِ، قَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا هُوَ الصَّوَابُ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سعد فوت ہو گئے ہیں اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں، پھر حدیث بیان کی۔
امام ابوداود رحمہ اللہ نے کہا: یہی درست ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12312]
امام ابوداود رحمہ اللہ نے کہا: یہی درست ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12312]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2567. -- باب: ميراث أولاد الابن
-- باب: پوتے اور پوتیوں کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12313
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْخَلَّالِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ⦗٣٧٧⦘ أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ، قَالَ:" وَمِيرَاثُ الْوَلَدِ أَنَّهُ إِذَا تُوُفِّيَ رَجُلٌ أَوِ امْرَأَةٌ فَتَرَكَ ابْنَةً وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ، فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ مِنَ الْإِنَاثِ كَانَ لَهُنَّ الثُّلُثَانِ، فَإِنْ كَانَ مَعَهُنَّ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ لَا فَرِيضَةَ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ، وَيُبْدَأُ بِأَحَدٍ إِنْ شَرَكَهُمْ بِفَرِيضَةٍ فَيُعْطَى فَرِيضَتَهُ، فَمَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بَيْنَهُمْ، {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] " قَالَ:" وَمَنْزِلَةُ وَلَدِ الْأَبْنَاءِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهُمْ وَلَدٌ، كَمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ سَوَاءٌ، ذَكَرُهُمْ كَذَكَرِهِمْ، وَأُنْثَاهُمْ كَأُنْثَاهُمْ، يَرِثُونَ كَمَا يَرِثُونَ، وَيَحْجُبُونَ كَمَا يَحْجُبُونَ، فَإِنِ اجْتَمَعَ الْوَلَدُ وَوَلَدُ الِابْنِ فَكَانَ فِي الْوَلَدِ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ لَا مِيرَاثَ مَعَهُ لِأَحَدٍ مِنْ وَلَدِ الِابْنِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْوَلَدُ ذَكَرًا وَكَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَأَكْثَرَ مِنَ الْبَنَاتِ فَإِنَّهُ لَا مِيرَاثَ لِبَنَاتِ الِابْنِ مَعَهُنَّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعَ بَنَاتِ الِابْنِ ذَكَرٌ هُوَ مِنَ الْمُتَوَفَّى بِمَنْزِلَتِهِنَّ، أَوْ هُوَ أَطْرَفُ مِنْهُنَّ، فَيَرُدُّ عَلَى مَنْ بِمَنْزِلَتِهِ وَمَنْ فَوْقَهُ مِنْ بَنَاتِ الْأَبْنَاءِ فَضْلًا إِنْ فَضَلَ، فَيُقَسِّمُونَهُ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ، فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْوَلَدُ إِلَّا ابْنَةً وَاحِدَةً فَتَرَكَ ابْنَةَ ابْنٍ فَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ مِنْ بَنَاتِ الِابْنِ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ فَلَهُنَّ السُّدُسُ تَتِمَّةَ الثُّلُثَيْنِ، فَإِنْ كَانَ مَعَ بَنَاتِ الِابْنِ ذَكَرٌ هُوَ بِمَنْزِلَتِهِنَّ فَلَا سُدُسَ لَهُنَّ وَلَا فَرِيضَةَ، وَلَكِنْ إِنْ فَضَلَ فَضْلٌ بَعْدَ فَرِيضَةِ أَهْلِ الْفَرَائِضِ كَانَ ذَلِكَ الْفَضْلُ لِذَلِكَ الذَّكَرِ وَلِمَنْ بِمَنْزِلَتِهِ مِنَ الْإِنَاثِ، {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ، وَلَيْسَ لِمَنْ هُوَ أَطْرَفُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ، فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُنَّ".
سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ اولاد کی وراثت (کا حکم یہ ہے کہ) جب کوئی مرد یا عورت فوت ہو جائے اور وہ ایک بیٹی چھوڑے تو اس کے لیے نصف (آدھا حصہ) ہے۔ اگر دو یا اس سے زیادہ (بیٹیاں) ہوں تو ان کے لیے دو تہائی ہے۔ اگر ان کے ساتھ مذکر (بیٹا) بھی ہو تو ان میں سے کسی کے لیے (مقررہ) حصہ نہیں، بلکہ اگر کوئی مقررہ حصے والا ان کے ساتھ شریک ہو تو پہلے اسے اس کا حصہ دیا جائے گا، اس کے بعد جو (مال) باقی بچے گا وہ ان کے درمیان ہو گا، مذکر کے لیے دو مونثوں کے برابر حصہ۔ راوی نے کہا: بیٹوں کی اولاد کا مقام، جب ان سے اوپر کوئی اولاد نہ ہو، بالکل اولاد کی طرح ہے، یعنی پوتے پوتیاں، بیٹے اور بیٹیوں کی مثل ہیں۔ وہ (پوتے پوتیاں) اسی طرح وارث بنیں گے جس طرح (بیٹے اور بیٹیاں) وارث بنتے ہیں اور اسی طرح (دوسروں کو وراثت سے) روکیں گے جس طرح وہ روکتے ہیں۔ اگر اولاد اور پوتے پوتیاں جمع ہو جائیں اور اولاد میں کوئی مذکر ہو تو اس کی موجودگی میں پوتے پوتیوں میں سے کسی کے لیے وراثت نہیں۔ اگر اولاد میں مذکر نہ ہو اور دو یا اس سے زائد بیٹیاں ہوں تو ان کے ساتھ پوتیوں کے لیے وراثت میں کوئی حصہ نہ ہو گا، سوائے اس کے کہ پوتیوں کے ساتھ کوئی مذکر ہو جو میت سے ان پوتیوں کے درجے میں ہو یا ان سے نیچے کے درجے میں ہو، تو وہ اپنے درجے والی اور اپنے سے اوپر والی پوتیوں پر بچا ہوا مال لوٹائے گا اگر کچھ بچے، اور وہ اسے ”مذکر کے لیے دو مونثوں کے برابر“ کے تناسب سے تقسیم کریں گے۔ اگر کچھ نہ بچے تو ان کے لیے کچھ نہیں۔ اگر اولاد میں صرف ایک بیٹی ہو اور ایک پوتی یا ایک ہی درجے کی کئی پوتیاں ہوں تو دو تہائی کی مقدار پوری کرنے کے لیے ان کے لیے چھٹا حصہ (سدس) ہے۔ اگر پوتیوں کے ساتھ ان کے درجے کا کوئی مذکر ہو تو ان کے لیے نہ چھٹا حصہ ہے اور نہ ہی کوئی مقررہ (فرض) حصہ، البتہ ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو زائد بچ جائے وہ اس مذکر اور اس کے درجے کی مونث کے لیے ہو گا، مذکر کے لیے دو مونثوں کے برابر، اور جو ان سے نیچے کے درجے میں ہیں ان کے لیے کچھ نہیں۔ اگر کچھ زائد نہ بچے تو ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12313]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12314
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ" فِي ابْنَتَيْنِ وَبَنَاتِ ابْنٍ وَبَنِي ابْنٍ وَأُخْتَيْنِ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ، أَنَّهَا أَشْرَكَتْ بَيْنَ بَنَاتِ الِابْنِ وَبَنِي الِابْنِ، وَبَيْنَ الْإِخْوَةِ والْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ فِيمَا بَقِيَ، يَعْنِي {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] " قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ لَا يُشْرِكُ بَيْنَهُمْ، يَعْنِي يَجْعَلُ مَا بَقِيَ لِلذَّكَرِ دُونَ الْإِنَاثِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ دو بیٹیوں، پوتیوں، پوتوں، دو حقیقی بہنوں، بھائیوں اور علاتی بہنوں کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوتیوں اور پوتوں کو اور بھائیوں اور (علاتی) بہنوں کو، جو باقی بچا اس میں ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت شریک کیا، اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان کو شریک نہ کرتے تھے، یعنی باقی ماندہ مال صرف مذکر کے لیے رکھتے تھے نہ کہ عورتوں کے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12314]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12315
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَدِمَ مَسْرُوقٌ مِنَ الْمَدِينَةِ وَهُوَ يُشْرِكُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ: أَكَانَ أَحَدٌ أَثْبَتَ عِنْدَكَ مِنْ عَبْدِ اللهِ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنِّي قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَرَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَأَهْلَ الْمَدِينَةِ يُشْرِكُونَ بَيْنَهُمْ فِي رَجُلٍ تَرَكَ أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَإِخْوَةً وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ، وَتَرَكَ بَنَاتٍ وَبَنَاتِ ابْنٍ وَبَنِي ابْنٍ".
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسروق رحمہ اللہ مدینہ سے آئے اور وہ ان کو شریک کرتے تھے، علقمہ رحمہ اللہ نے انھیں کہا: کیا آپ کے نزدیک کوئی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ معتبر تھا؟ مسروق رحمہ اللہ نے کہا: نہیں، لیکن میں مدینہ میں گیا، میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور مدینہ والوں کو دیکھا، وہ ایسے آدمی میں شریک کرتے تھے جس نے حقیقی بہنیں، بھائی، علاتی بہنیں، بیٹیاں، پوتیاں اور پوتے چھوڑے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12315]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12316
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِهِ وَعَنْ أَصْحَابِ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ: هَذَا مَا اخْتَلَفَ فِيهِ عَلِيٌّ وَعَبْدُ اللهِ وَزَيْدٌ:" ابْنَتَانِ ⦗٣٧٨⦘ وَابْنُ ابْنٍ وَابْنَةُ ابْنٍ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَزَيْدٍ: لِلِابْنَتَيْنِ الثُّلُثَانِ، وَمَا بَقِيَ لِابْنِ الِابْنِ وَابْنَةِ الِابْنِ، {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ، وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ: لِلِابْنَتَيْنِ الثُّلُثَانِ، وَمَا بَقِيَ لِلذَّكَرِ دُونَ الْأُنْثَى؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَزِيدُ الْبَنَاتِ عَلَى الثُّلُثَيْنِ، ابْنَةٌ وَابْنَةُ ابْنٍ وَابْنُ ابْنٍ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَزَيْدٍ: لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ فَلِابْنِ الِابْنِ وَلِبَنَاتِ الِابْنِ، {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ، وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ: لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِبَنَاتِ الِابْنِ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِابْنِ الِابْنِ".
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جس چیز میں علی، عبداللہ اور زید رضی اللہ عنہم نے اختلاف کیا، وہ یہ ہے: دو بیٹیاں، پوتا، پوتی اور ایک قول کے مطابق علی اور زید رضی اللہ عنہما نے دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی اور جو باقی بچا وہ پوتے اور پوتی میں ﴿لِلَّذَكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم کیا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی اور باقی مذکر کے لیے ہو گا نہ کہ مونث کے لیے؛ کیونکہ وہ بیٹیوں کے لیے دو تہائی سے زیادہ کے قائل نہ تھے۔
بیٹی، پوتی اور پوتا؛ علی اور زید رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق بیٹی کے لیے نصف اور جو باقی ہو گا وہ پوتے اور پوتیوں کے درمیان ﴿لِلَّذَكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت ہو گا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق بیٹی کے لیے نصف اور پوتیوں کے لیے دو تہائی مکمل کرنے والا اور جو باقی بچے وہ پوتے کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12316]
بیٹی، پوتی اور پوتا؛ علی اور زید رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق بیٹی کے لیے نصف اور جو باقی ہو گا وہ پوتے اور پوتیوں کے درمیان ﴿لِلَّذَكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت ہو گا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق بیٹی کے لیے نصف اور پوتیوں کے لیے دو تہائی مکمل کرنے والا اور جو باقی بچے وہ پوتے کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12316]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2568. -- باب: فرض ابنة الابن مع ابنة الصلب ليس معهما ذكر
-- باب: سگی بیٹی کے ساتھ پوتی کے مقررہ حصے کا بیان جب ان کے ساتھ کوئی مرد نہ ہو
حدیث نمبر: 12317
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبُو عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، وَقَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَسَأَلَهُمَا عَنِ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ، فَقَالَا: لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ مَا بَقِيَ، وَقَالَا لَهُ: انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ اللهِ فَسَلْهُ؛ فَإِنَّهُ سَيُتَابِعُنَا، قَالَ: فَأَتَى عَبْدَ اللهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ {قَدْ ضَلَلْتُ} إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ، وَلَكِنْ أَقْضِي فِيهَا كَمَا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَلِلْأُخْتِ مَا بَقِيَ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ جَنَاحٍ: بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ..
ہزیل بن شرحبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی ابو موسیٰ اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے ان سے سوال کیا کہ بیٹی، پوتی اور حقیقی بہن کے بارے میں کیا حکم ہے؟ دونوں نے کہا: ”بیٹی کے لیے نصف اور باقی ماندہ حقیقی بہن کے لیے ہے“ اور اسے کہا: ”جاؤ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس اس سے سوال کرو، وہ بھی ہماری متابعت کریں گے۔“ وہ آدمی عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سارا معاملہ ذکر کیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس وقت گمراہ ہوں گا اور ہدایت پر نہ ہوں گا، لیکن میں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ کروں گا: ”بیٹی کے لیے نصف، پوتی کے لیے سدس، دو تہائی کو مکمل کرنے والا اور بہن کے لیے جو باقی بچے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12317]
تخریج الحدیث: «بخاري 6239»
الحكم على الحديث: بخاري 6239
حدیث نمبر: 12318
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ: لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا. قَالَ سُفْيَانُ: لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ.
سفیان نے اسی معنی میں حدیث بیان کی کہ ”میں اس بارے وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا“، یا فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے“۔ اس طرح سفیان نے کہا: ”بیٹی کے لیے نصف، پوتی کے لیے سدس اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12318]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2569. -- باب: من لم يورث ابن الأخ مع الجد شيئا
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے دادا کے ساتھ بھتیجے کو کوئی وراثت نہیں دی
حدیث نمبر: 12319
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ وَالْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيًّا وَعَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ" كَانَا لَا يُوَرِّثَانِ ابْنَ الْأَخِ مَعَ الْجَدِّ".
ابراہیم سے روایت ہے کہ سیدنا علی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما بھتیجے کو دادا کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12319]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12320
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٣٧٩⦘ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ:" مَا وَرَّثَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَخًا لِأُمٍّ، وَلَا ابْنَ أَخٍ، مَعَ جَدٍّ شَيْئًا".
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں میں سے کوئی بھی اخیافی بھائی کو اور بھتیجے کو دادے کے ساتھ وارث نہ بناتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12320]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف