🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2590. -- باب: كيفية المقاسمة بين الجد والإخوة والأخوات
-- باب: دادا اور بھائیوں بہنوں کے درمیان تقسیم کی کیفیت کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12439
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنَ الْبَصْرَةِ فِي سِتَّةِ إِخْوَةٍ وَجَدٍّ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنْ أَعْطِهِ سُبْعَ الْمَالِ".
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بصرہ سے لکھا کہ چھ بھائیوں اور دادے کے بارے میں فیصلہ کریں تو علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اسے مال کا ساتواں حصہ دے دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12439]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12440
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ كَانَ يَجْعَلُ الْجَدَّ أَخًا حَتَّى يَكُونَ سَادِسًا".
عبداللہ بن سلمہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دادے کو بھائی کی مانند بناتے تھے، یہاں تک کہ وہ چھ ہوجائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12440]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12441
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" كَانَ يُشْرِكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى سِتَّةٍ هُوَ سَادِسُهُمْ، فَإِذَا كَثُرُوا أَعْطَاهُ السُّدْسَ، وَيُعْطِي كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ، وَلَا ⦗٤٠٩⦘ يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ مَعَ الْجَدِّ، وَلَا يُقَاسِمُ بِأَخٍ لِأَبٍ أَخًا لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَلَا يَزِيدُ الْجَدَّ مَعَ الْوَلَدِ عَلَى السُّدُسِ، إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ غَيْرُهُ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَجَدٍّ أَعْطَى الْأُخْتَ النِّصْفَ، وَجَعَلَ النِّصْفَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأَخِ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ وَأُخْتٌ لِأَبٍ وَجَدٍّ جَعَلَهَا مِنْ عَشَرَةٍ: لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ خَمْسَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْجَدِّ سَهْمَانِ، وَلِلْأَخِ لِلْأَبِ سَهْمَانِ، وَلِلْأُخْتِ لِلْأَبِ سَهْمٌ".
ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دادے کو بھائیوں کے ساتھ چھ تک شریک کرتے تھے اور وہ ان میں چھٹا ہوتا تھا، جب وہ زیادہ ہوتے تو دادے کو «سُدُس» دیتے تھے اور ہر حصہ دار کو اس کا حصہ دیتے تھے، اور اخیافی بھائی بہن کو دادے کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے اور نہ علاتی بھائی کے ساتھ حقیقی بھائی کے لیے تقسیم کرتے تھے، اور دادے کو اولاد کے ساتھ «سُدُس» سے زیادہ نہ دیتے تھے مگر یہ کہ اس کے علاوہ کوئی نہ ہو، اور جب حقیقی بہن اور علاتی بھائی ہوتا دادے کے ساتھ تو بہن کو نصف اور نصف دادے اور بھائی کو دے دیتے تھے، اور جب حقیقی بہن اور علاتی بھائی، بہن اور دادا ہوتے تو دس حصے کرتے اور نصف یعنی پانچ حقیقی بہن کو اور دو حصے دادے کو اور دو حصے علاتی بھائی کو اور ایک حصہ علاتی بہن کو دے دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12441]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12442
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا إِبْرَاهِيمُ، أنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ" يُشْرِكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ، فَإِنْ كَانَ الثُّلُثُ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَيُعْطِي كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ، وَلَا يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ مَعَ الْجَدِّ، وَلَا يُقَاسِمُ بِأَخٍ لِأَبٍ أَخًا لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَلَا يُوَرِّثُ ابْنَ الْأَخِ مَعَ الْجَدِّ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَجَدٍّ أَعْطَى الْأُخْتَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ النِّصْفَ، وَلَا يُعْطِي الْأَخَ شَيْئًا، وَإِذَا كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ وَأَخَوَاتٌ وَجَدٌّ وَمَنْ لَهُ مَعَهُمْ فَرِيضَةٌ أَعْطَى كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ، فَإِنْ كَانَ ثُلُثُ مَا يَبْقَى خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ ثُلُثَ مَا بَقِيَ، وَإِنْ كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ قَاسَمَ، وَإِنْ كَانَ سُدُسُ جَمِيعِ الْمَالِ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ السُّدُسَ، وَإِنْ كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ سُدُسِ جَمِيعِ الْمَالِ قَاسَمَ".
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دادے کو بھائیوں کے ساتھ «الثُّلُثُ» ”تہائی“ تک شریک کرتے تھے۔ اگر اس کے لیے «الثُّلُثُ» ”تہائی“ بہتر ہوتا تو اس کو «الثُّلُثُ» ”تہائی“ دے دیتے اور ہر حصہ دار کو اس کا حصہ دے دیتے تھے اور اخیافی بھائی بہن کو دادے کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے اور نہ علاتی بھائی کے لیے حقیقی بھائی کے ساتھ تقسیم کرتے تھے اور نہ ہی بھتیجے کو دادے کے ساتھ وارث بناتے تھے اور جب حقیقی بہن، علاتی بھائی اور دادا ہوتا تو حقیقی بہن کو نصف اور دادے کو نصف دیتے اور بھائی کو کچھ نہ دیتے تھے اور جب بھائی، بہن اور دادا ہوتے تو ہر حصہ دار کو اس کا حصہ دیتے اور اگر باقی ماندہ «الثُّلُثُ» ”تہائی“ ہوتا اور اس کے لیے تقسیم سے بہتر ہوتا تو اس کو باقی ماندہ کا «الثُّلُثُ» ”تہائی“ دے دیتے تھے اور اگر اس کے لیے تقسیم بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے۔ اگر مکمل مال سے «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ تقسیم سے بہتر ہوتا تو اس کو «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ دیتے تھے۔ اگر اس کے لیے «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ سے تقسیم بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12442]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12443
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، فِي ابْنَةٍ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ، وَلِلْأُخْتِ مَا بَقِيَ، وَكَذَا قَالَ فِي ابْنَةٍ وَأُخْتَيْنِ وَجَدٍّ، وَفِي ابْنَةٍ وَأَخَوَاتٍ وَجَدٍّ".
ابراہیم اور شعبی رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ بیٹی، بہن اور دادے کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق بیٹی کے لیے نصف، دادے کے لیے سدس اور بہن کے لیے باقی ماندہ ہے، اور اسی طرح بیٹی، دو بہنوں اور دادے کے بارے میں اور بیٹی، زیادہ بہنوں اور دادے کے بارے میں کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12443]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12444
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي ابْنَةٍ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ، قَالَ:" مِنْ أَرْبَعَةٍ؛ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ سَهْمَانِ، وَلِلْجَدِّ سَهْمٌ، وَلِلْأُخْتِ سَهْمٌ، وَإِنْ كَانَتَا أُخْتَيْنِ فَمِنْ ثَمَانِيَةٍ؛ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ أَرْبَعَةٌ، وَلِلْجَدِّ سَهْمَانِ، وَلِلْأُخْتَيْنِ سَهْمٌ سَهْمٌ، فَإِنْ كَانَتْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ فَمِنْ عَشَرَةٍ؛ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ خَمْسَةٌ، وَلِلْجَدِّ سَهْمَانِ، وَهُوَ خُمُسُ مَا بَقِيَ، وَلِلْأَخَوَاتِ سَهْمٌ سَهْمٌ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیٹی، بہن اور دادا کے بارے میں کہا: چار حصے ہوں گے، یعنی نصف یعنی دو حصے بیٹی کے لیے، دادا کے لیے ایک حصہ اور بہن کے لیے بھی ایک حصہ۔ اگر دو بہنیں ہوں تو آٹھ حصوں سے: بیٹی کے لیے نصف، یعنی چار حصے اور دادا کے لیے دو حصے اور دو بہنوں کے لیے ایک ایک حصہ ہوگا۔ اگر تین بہنیں ہوں تو دس حصوں سے: بیٹی کے لیے نصف، یعنی پانچ، دادا کے لیے دو حصے اور باقی تین حصے تینوں بہنوں کے لیے ایک ایک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12444]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12445
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ" كَانَ يُشْرِكُ الْجَدَّ إِلَى الثُّلُثِ مَعَ الْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ، فَإِذَا بَلَغَ الثُّلُثَ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَكَانَ لِلْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ مَا بَقِيَ، وَلَا يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ مَعَ الْجَدِّ شَيْئًا، وَلَا ⦗٤١٠⦘ يُقَاسِمُ بِهِمْ، وَكَانَ يُقَاسِمُ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ مَعَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَلَا يُوَرِّثُهُمْ شَيْئًا، وَإِذَا كَانَ أَخًا لِأَبٍ وَأُمٍّ وَجَدٌّ أَعْطَاهُ النِّصْفَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ النِّصْفَ، وَإِذَا كَانَا أَخَوَيْنِ وَجَدٌّ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَإِنْ زَادُوا أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَمَا بَقِيَ كَانَ لِلْإِخْوَةِ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ وَجَدٌّ أَعْطَاهَا الثُّلُثَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ الثُّلُثَيْنِ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتَانِ وَجَدٌّ أَعْطَاهُمَا النِّصْفَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ النِّصْفَ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَبْلُغْنَ خُمُسًا، فَإِذَا بَلَغْنَ خُمُسًا أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَخَوَاتِ، فَإِنْ لَحِقَتْ فَرَائِضُ امْرَأَةٍ أَوْ زَوْجٍ أَوْ أُمٍّ أَعْطَى أَهْلَ الْفَرَائِضِ فَرَائِضَهُمْ، وَمَا بَقِيَ قَاسَمَ الْإِخْوَةَ وَالْأَخَوَاتِ، فَإِنْ كَانَ ثُلُثُ مَا بَقِيَ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ ثُلُثَ مَا بَقِيَ، وَإِنْ كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ ثُلُثِ مَا بَقِيَ قَاسَمَ، وَإِنْ كَانَ سُدُسُ جَمِيعِ الْمَالِ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ السُّدُسَ، وَإِنْ كَانَ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ سُدُسِ جَمِيعِ الْمَالِ قَاسَمَ. وَفِي الْأَكْدَرِيَّةِ إِذَا كَانَ زَوْجٌ وَأُمٌّ وَأُخْتٌ وَجَدٌّ جَعَلَهَا مِنْ تِسْعَةٍ ثُمَّ ضَرَبَهَا فِي ثَلَاثَةٍ فَكَانَ مِنْ سَبْعَةٍ وَعِشْرِينَ، فَأَعْطَى الزَّوْجَ تِسْعَةَ أَسْهُمٍ، وَأَعْطَى الْأُمَّ سِتَّةَ أَسْهُمٍ، وَأَعْطَى الْجَدَّ ثَمَانِيَةَ أَسْهُمٍ، وَأَعْطَى الْأُخْتَ أَرْبَعَةَ أَسْهُمٍ".
ابراہیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ثلث تک شریک کرتے تھے، جب (حصہ) ثلث تک پہنچ جاتا تو اس کو ثلث دیتے تھے اور باقی ماندہ بھائیوں اور بہنوں کے لیے (ہوتا) تھا، اور وہ اخیافی بھائی اور بہن کو دادا کے ساتھ وارث نہیں بناتے تھے اور نہ ان کو تقسیم میں شمار کرتے تھے، اور علاتی بھائیوں کو حقیقی بھائیوں کے ساتھ (شمار کر کے) تقسیم کرتے تھے اور انہیں کسی چیز کا وارث نہیں بناتے تھے، اور جب حقیقی بھائی اور دادا ہوتے تو دونوں کو نصف نصف دے دیتے تھے، اور جب دو بھائی اور دادا ہوتے تو ان کو ثلث دیتے تھے، اور جب وہ (بھائی) زیادہ ہوتے تو دادا کو ثلث اور باقی ماندہ بھائیوں کو دے دیتے تھے، اور جب بہن اور دادا ہوتے تو بہن کو ثلث اور دادا کو دو ثلث دیتے تھے، اور جب دو بہنیں اور دادا ہوتے تو دونوں بہنوں کو نصف اور دادا کو بھی نصف دیتے تھے، یہاں تک کہ پانچ بہنیں ہوں تب بھی ایسا ہی تھا، جب (بہنیں) پانچ ہو جاتیں تو دادا کو ثلث اور باقی بہنوں کو دے دیتے تھے۔ پس اگر (ان حصوں کے ساتھ) عورت، خاوند اور ماں کے حصے مل جاتے تو ہر صاحبِ فرائض کو اس کا حصہ دیتے اور باقی ماندہ بھائیوں اور بہنوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اگر (باقی کا) ثلث اس (دادا) کے لیے تقسیم سے بہتر ہوتا تو اس کو ثلث دے دیتے تھے، اگر ثلث سے تقسیم اس کے لیے بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے، اور اگر سارے مال کا سدس اس کے لیے تقسیم سے بہتر ہوتا تو سدس اسے دے دیتے تھے، اور اگر سدس سے تقسیم بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے، اور «الأَكْدَرِيَّةُ» میں جبکہ خاوند، ماں، بہن اور دادا ہوتے تو اس (مسئلے) کو نو حصوں میں کرتے، پھر نو کو تین سے ملاتے تھے تو یہ ستائیس ہو گئے، پھر خاوند کو نو حصے دیتے، ماں کو چھ حصے دیتے، دادا کو آٹھ حصے دیتے اور بہن کو چار حصے دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12445]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12446
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ح وَأنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْخَلَّالِيُّ، وَأنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" وَمِيرَاثُ الْجَدِّ أَبِي الْأَبِ مَعَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ أَنَّهُم يُخَلَّفُونَ وَيُبْدَأُ بِأَحَدٍ إِنْ شَرَكَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْفَرَائِضِ فَيُعْطَى فَرِيضَتَهُ، فَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ فِي ذَلِكَ وَيَحْسِبُ أَنَّهُ أَفْضَلُ لِحَظِّ الْجَدِّ الثُّلُثُ مِمَّا يَحْصُلُ لَهُ وَلِلْإِخْوَةِ، أَمْ يَكُونُ أَخًا وَيُقَاسِمُ الْإِخْوَةَ فِيمَا حَصَلَ لَهُمْ وَلَهُ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ، أَوِ السُّدُسُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ كُلِّهِ فَارِغًا؟ فَأِيُّ ذَلِكَ مَا كَانَ أَفْضَلَ لِحَظِّ الْجَدِّ أُعْطِيَهُ، وَكَانَ مَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ بَيْنَ الْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ، إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ وَاحِدَةٍ تَكُونُ قَسْمُتهُمْ فِيهَا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَهِيَ امْرَأَةٌ تُوِفِّيَتْ وَتَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَجَدَّهَا وَأُخْتَهَا لِأَبِيهَا، فَيُفْرَضُ لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، ثُمَّ يُجْمَعُ سُدُسُ الْجَدِّ وَنِصْفُ الْأُخْتِ فَيُقَسَّمُ أَثْلَاثًا، لِلْجَدِّ مِنْهُ الثُّلُثَانِ، وَلِلْأُخْتِ الثُّلُثُ، وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ مَعَ الْجَدِّ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ إِخْوَةٌ لِأُمٍّ وأب كَمِيرَاثِ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ وَالْأَبِ سَوَاءً، ذَكَرُهُمْ كَذَكَرِهِمْ، وَأُنْثَاهُمْ كَأُنْثَاهُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعَ الْإِخِوَةُ مِنَ الْأُمِّ وَالْأَبِ وَالْإِخْوَةُ مِنَ الْأَبِ، فَإِنَّ بَنِي الْأُمِّ وَالْأَبِ يُعَادُّونَ الْجَدَّ بِبَنِي أَبِيهِمْ، فَيَمْنَعُونَهُ بِهِمْ كَثْرَةَ الْمِيرَاثِ، فَمَا حَصَّلَ للْإِخْوَةُ بَعْدَ حَظِّ ⦗٤١١⦘ الْجَدِّ مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُ يَكُونُ لِبَنِي الْأُمِّ وَالْأَبِ خَاصَّةً دُونَ بَنِي الْأَبِ، وَلَا يَكُونُ لِبَنِي الْأَبِ مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَنُو الْأُمِّ وَالْأَبِ إِنَّمَا هِيَ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، فَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً وَاحِدَةً فَإِنَّهَا تُعَادُّ الْجَدَّ بِبَنِي أَبِيهَا مَا كَانُوا، فَمَا حَصَلَ لَهَا وَلَهُمْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ لَهَا دُونَهُمْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ أَنْ تَسْتَكْمِلَ نِصْفَ الْمَالِ كُلَّهُ، فَإِنْ كَانَ فِيمَا يُحَازُ لَهَا وَلَهُمْ فَضْلٌ عَنْ نِصْفِ الْمَالِ كُلِّهِ فَإِنَّ ذَلِكَ الْفَضْلُ يَكُونُ بَيْنَ بَنِي الْأَبِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ، فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ".
خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ دادا کی وراثت حقیقی بھائیوں کے ساتھ اس طرح ہے کہ ان کو پیچھے چھوڑا جائے گا اور پہلے اہل فرائض کو ان کے حصے دیے جائیں گے، باقی ماندہ دادا اور بھائیوں کے لیے ہے۔ اس میں غور کیا جائے گا اور حساب لگایا جائے گا تو دادے کے لیے افضل حصہ ثلث ہے جو اسے ملتا ہے اور بھائیوں یا ایک بھائی کے ساتھ تقسیم میں جو اسے حاصل ہو ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت، یا سارے مال کا سدس۔ پس ان میں سے جو بھی افضل ہو دادے کو دیا جائے گا۔ اس کے بعد جو بچے گا وہ حقیقی بھائیوں میں ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا، مگر یہ کہ کوئی ایسا حصہ ہو جس میں ان کی تقسیم اس کے علاوہ ہو، مثلاً عورت فوت ہو جائے اور خاوند، ماں، دادا اور علاتی بہن چھوڑے تو شوہر کے لیے نصف، ماں کے لیے ثلث، دادے کے لیے سدس، بہن کے لیے نصف، پھر جمع کیا جائے گا دادا کے سدس اور بہن کے نصف کو، پس اسے تین میں تقسیم کیا جائے گا، اس کے لیے دو تہائی اور بہن کے لیے ثلث ہوگا اور علاتی بھائیوں کی وراثت حقیقی بھائیوں کی طرح ہے، مذکر و مؤنث میں برابر ہوں گے۔ جب حقیقی اور علاتی بھائی جمع ہو جائیں تو حقیقی اولاد دادا کے مقابلے میں علاتی اولاد کو بھی شمار کرے گی اور ان کے ذریعے اسے زیادہ میراث لینے سے روک دیں گے۔ دادا کے حصے کے بعد جو بھائیوں کو ملے گا وہ خاص طور پر حقیقی اولاد کا ہو جائے گا، علاتی کے علاوہ اور علاتی اولاد کے لیے اس میں سے کچھ نہ ہوگا مگر یہ کہ حقیقی اولاد صرف ایک عورت ہو تو وہ دادا کے مقابلے میں علاتی اولاد کو، جتنے بھی ہوں، شمار کرے گی، پھر اس عورت اور ان کو جو کچھ ملے گا وہ اسی کا ہوگا، ان کا نہیں، یہاں تک کہ وہ پورے مال کا نصف مکمل کر لے، اور اگر اس کے اور ان کے لیے حاصل ہونے والے مال میں پورے مال کے نصف سے کچھ زائد ہو تو وہ زائد علاتی اولاد میں ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا۔ اگر زائد نہ بچے تو ان کے لیے کچھ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12446]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2591. -- باب: الاختلاف في مسألة الأكدرية
-- باب: مسئلہ اکدریہ میں اختلاف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12447
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ:" أُمٌّ وَأُخْتٌ وَزَوْجٌ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، وَلِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ مِنْ تِسْعَةٍ"، وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ:" لِلْأُخْتِ النِّصْفُ، وَلِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ مِنْ تِسْعَةِ أَسْهُمٍ، وَيُقَاسِمُ الْجَدُّ الْأُخْتَ بِسُدُسِهِ وَنِصْفِهَا، فَيَكُونُ لَهُ ثُلُثَاهُ وَلَهَا ثُلُثُهُ، تُضْرَبُ التِّسْعَةُ فِي ثَلَاثَةٍ فَتَكُونُ سَبْعَةً وَعِشْرِينَ؛ لِلْأُمِّ سِتَّةٌ، وَلِلزَّوْجِ تِسْعَةٌ، وَيَبْقَى اثْنَا عَشَرَ؛ لِلْجَدِّ ثَمَانِيَةٌ، وَلِلْأُخْتِ أَرْبَعَةٌ، وَهِيَ الْأَكْدَرِيَّةُ أُمُّ الْفُرُوجِ".
شعبی سے منقول ہے کہ ماں، بہن، خاوند اور دادا کی میراث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق یہ ہے: ماں کے لیے ثلث، بہن کے لیے نصف، خاوند کے لیے نصف اور جد کے لیے سدس نو حصوں سے، اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول میں بہن کے لیے نصف اور خاوند کے لیے نصف، ماں کے لیے ثلث اور جد کے لیے سدس نو حصوں سے، اور جد اپنے سدس کو بہن کے نصف سے ملا لے گا۔ پس جد کے لیے دو تہائی اور بہن کے لیے ثلث ہوگا، نو کو تین سے ملایا جائے گا تو یہ ستائیس بن جائیں گے؛ ماں کے لیے چھ، خاوند کے لیے نو اور باقی بارہ میں سے آٹھ جد کے لیے اور بہن کے لیے باقی چار حصے ہوں گے۔ اور یہی «الأَكْدَرِيَّةُ» ”اکدریہ“ ہے جسے «أُمُّ الْفُرُوجِ» بھی کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12447]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2592. -- باب: بيان الاختلاف في مسألة المعادة
-- باب: مسئلہ معادہ میں اختلاف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12448
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ علي الْحَافِظِ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ: أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأُخْتٍ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ:" لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ"، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ:" لِلْأُخْتَيْنِ النِّصْفُ، وَلِلْجَدِّ النِّصْفُ، وَتَرُدُّ الْأُخْتُ مِنَ الْأَبِ نَصِيبَهَا عَلَى الْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ". أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأُخْتَانِ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ:" لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتَيْنِ مِنَ الْأَبِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ، وَإِنْ كُنَّ أَخَوَاتٍ مِنَ الْأَبِ أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْنِ لَمْ يَزِدْنَ عَلَى هَذَا"، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ:" لِلْجَدِّ خُمْسَانِ، وَلِلْأَخَوَاتِ سَهْمٌ سَهْمٌ مِنْ خَمْسَةٍ، ثُمَّ تَرُدُّ الْأُخْتَانِ مِنَ الْأَبِ عَلَى الْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ النِّصْفَ، وَلَهُمَا فَضْلٌ، فَإِنْ كُنَّ ثَلَاثَ أَخَوَاتٍ أَوْ أَرْبَعَ أَخَوَاتٍ لِأَبٍ مَعَ أُخْتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَجَدٌّ لَمْ يُنْقَصِ الْجَدُّ مِنَ الثُّلُثِ شَيْئًا، وَكَانَ لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ بَيْنَ الْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ". أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ بَيْنَ الْأَخِ وَالْجَدِّ نِصْفَانِ، ⦗٤١٢⦘ وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لِلْجَدِّ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَيُلْغَى الْأَخُ مِنَ الْأَبِ وَلَا يَجْعَلُ لَهُ شَيْئًا"، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ" مِنْ عَشَرَةِ أَسْهُمٍ؛ أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ لِلْجَدِّ، وَأَرْبَعَةٌ لِلْأَخِ، وَسَهْمَانِ لِلْأُخْتِ، ثُمَّ يَرُدُّ الْأَخُ عَلَى الْأُخْتِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ فَتَسْتَكْمِلُ النِّصْفَ، وَيَبْقَى لَهُ سَهْمٌ". أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَأُخْتٌ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأَخِ وَالْأُخْتِ أَخْمَاسًا فِي الْقِسْمَةِ"، وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ:" لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ لَيْسَ لِلْأُخْتِ وَالْأَخِ مِنَ الْأَبِ شَيْءٌ"، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ" مِنْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا؛ لِلْجَدِّ الثُّلُثُ سِتَّةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْأَخِ سِتَّةٌ، وَلِلْأُخْتَيْنِ سِتَّةٌ، لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ثَلَاثَةٌ، ثُمَّ يَرُدُّ الْأَخُ وَالْأُخْتُ مِنَ الْأَبِ عَلَى الْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ النِّصْفَ تِسْعَةَ أَسْهُمٍ، وَيَبْقَى بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ". أُخْتَانِ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لِلْأُخْتَيْنِ الثُّلُثَانِ، وَمَا بَقِيَ بَيْنَ الْأَخِ وَالْجَدِّ نِصْفَانِ"، وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ:" لِلْأُخْتَيْنِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ، وَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ، وَيُطْرَحُ الْأَخُ"، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ:" مِنْ ثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ؛ لِلْجَدِّ سَهْمٌ، وَلِلْأُخْتَيْنِ سَهْمٌ، وَلِلْأَخِ سَهْمٌ، ثُمَّ يَرُدُّ الْأَخُ سَهْمَهُ عَلَى الْأُخْتَيْنِ فَاسْتَكْمَلَتَا الثُّلُثَيْنِ، وَلَمْ يَبْقَ لَهُ شَيْءٌ". أُخْتَانِ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأُخْتٌ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جَمِيعًا:" لِلْأُخْتَيْنِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ، وَلِلْجَدِّ مَا بَقِيَ، وَسَقَطَتِ الْأُخْتُ مِنَ الْأَبِ"، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ" مِنْ عَشَرَةِ أَسْهُمٍ: لِلْجَدِّ أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْأَخَوَاتِ سَهْمَانِ سَهْمَانِ، ثُمَّ تَرُدُّ الْأُخْتُ مِنَ الْأَبِ عَلَيْهِمَا سَهْمَيْنِ وَلَمْ يَبْقَ لَهَا شَيْءٌ قَاسَمَتَا بِهَا وَلَمْ تَرِثَ شَيْئًا". أُخْتَانِ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأخٌ وَأُخْتٌ لِأَبٍ وَجَدٌّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لِلْأُخْتَيْنِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ بَيْنَ الْأَخِ وَالْأُخْتِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] "، وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ:" لِلْأُخْتَيْنِ الثُّلُثَانِ، وَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ، وَيَسْقُطُ الْأَخُ وَالْأُخْتُ مِنَ الْأَبِ"، وَفِي قَوْلِ زَيْدٍ مِنْ ثَلَاثَةٍ:" لِلْجَدِّ الثُّلُثُ، وَهُوَ سَهْمٌ، وَسَهْمَانِ لِلْأُخْتَيْنِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ، قَاسَمَتَا بِهِمَا وَلَمْ يَرِثَا شَيْئًا".
ابراہیم اور شعبی سے منقول ہے کہ حقیقی بہن، علاتی بہن اور جد (دادا) کے لیے حضرت علی اور عبداللہ رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق حقیقی بہن کے لیے نصف، علاتی بہن کے لیے سدس (دو تہائی کو مکمل کرنے والا) اور باقی جد کے لیے ہے اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق دو بہنوں کے لیے نصف اور جد کے لیے بھی نصف اور علاتی بہن کا حصہ حقیقی بہن پر لوٹایا جائے گا۔
حقیقی بہن اور دو علاتی بہنیں اور جد، حضرت علی اور عبداللہ رضی اللہ عنہما کے قول میں حقیقی بہن کے لیے نصف، علاتی بہنوں کے لیے سدس (دو تہائی مکمل کرنے والا) اور باقی جد کے لیے ہے۔ اگر علاتی بہنیں دو سے زیادہ ہوں تو ان کو اس سے زیادہ نہ دیا جائے گا اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق جد کے لیے دو خمس اور بہنوں کے لیے ایک ایک حصہ پانچ میں سے، پھر دو علاتی بہنوں کو حقیقی بہن پر لوٹایا جائے گا یہاں تک کہ نصف مکمل ہو جائے اور ان دونوں کے لیے زائد ہوگا، اگر علاتی بہنیں تین یا چار ہوں حقیقی بہن اور جد کے ساتھ تو جد کے حصے کو ثلث سے کم نہیں کیا جائے گا اور حقیقی بہن کے لیے نصف ہوگا اور باقی علاتی بہنوں میں تقسیم ہوگا۔ حقیقی بہن اور علاتی بھائی اور جد، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق حقیقی بہن کے لیے نصف اور باقی نصف بھائی اور جد کے درمیان تقسیم ہوگا، اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق جد کے لیے نصف اور حقیقی بہن کے لیے نصف اور بھائی کے لیے ہم کچھ نہیں رکھتے، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں دس حصوں میں سے چار جد کے لیے اور چار بھائی کے لیے اور دو حصے بہن کے لیے، پھر بھائی، بہن پر تین حصے لوٹائے گا، پس نصف مکمل ہو جائے گا اور باقی ایک حصہ اس کا ہوگا۔ حقیقی بہن، علاتی بھائی، علاتی بہن اور جد، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق حقیقی بہن کے لیے نصف اور باقی ماندہ جد، بہن اور بھائی کے درمیان پانچ حصوں میں تقسیم ہوگا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق حقیقی بہن کے لیے نصف اور باقی جد کے لیے اور علاتی بھائی بہن کے لیے کچھ نہیں ہے، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق اٹھارہ حصوں میں سے جد کے لیے چھ حصے (ثلث) اور بھائی کے لیے چھ حصے اور دونوں بہنوں میں سے ہر ایک کے لیے تین تین، پھر علاتی بھائی بہن حقیقی بہن پر لوٹائیں گے یہاں تک کہ نصف یعنی نو حصے مکمل ہو جائیں اور ان دونوں کے لیے باقی ماندہ تین حصے ہوں گے۔
دو حقیقی بہنیں، ایک علاتی بھائی اور جد، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں دو بہنوں کے لیے دو تہائی اور باقی آدھا آدھا بھائی اور جد کے درمیان اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول میں دو بہنوں کے لیے دو تہائی اور باقی جد کے لیے اور بھائی کے لیے کچھ نہیں ہے اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں تین حصوں میں سے جد کے لیے ایک حصہ اور دو بہنوں کے لیے ایک حصہ اور بھائی کے لیے ایک حصہ، پھر بھائی اپنا حصہ بہنوں پر لوٹائے گا پس دو تہائی پورا ہوگا اور اس کے لیے باقی کچھ نہ ہوگا۔
دو حقیقی بہنیں، ایک علاتی بہن اور جد، حضرت علی اور عبداللہ رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق دو بہنوں کے لیے دو تہائی اور جد کے لیے باقی ماندہ اور علاتی بہن ساقط ہوگی اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں دس حصوں میں سے چار حصے جد کے لیے اور بہنوں کے لیے دو دو حصے، پھر علاتی بہن کے دو حصوں کو بھی حقیقی بہنوں پر لوٹایا جائے گا اور اس کے لیے باقی کچھ نہ ہوگا وہ دونوں تقسیم کر لیں گی اور علاتی بہن وارث نہ بنے گی۔
دو حقیقی بہنیں، ایک علاتی بھائی اور ایک علاتی بہن اور جد، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں دو حقیقی بہنوں کے لیے دو تہائی اور جد کے لیے سدس اور باقی بھائی اور بہن کے درمیان ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا، اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق دو بہنوں کے لیے دو تہائی اور باقی جد کے لیے اور علاتی بھائی بہن ساقط ہوں گے اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں تین میں سے جد کے لیے ثلث اور وہ ایک حصہ ہے اور دو حصے دو حقیقی بہنوں کے لیے وہ دونوں اس کو تقسیم کر لیں گی اور وہ دونوں (بہن بھائی) وارث نہیں بنیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12448]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں