السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2628. -- باب: ما جاء في الوصية للقاتل
-- باب: قاتل کے لیے وصیت کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12653
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ابْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ:" شَيْخٌ يُقَالُ لَهُ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ كَانَ يَكُونُ بِحِمْصَ، أَظُنُّهُ كُوفِيًّا، رَوَى عَنْهُ بَقِيَّةُ وَأَبُو الْمُغِيرَةِ، أَحَادِيثُهُ أَحَادِيثُ مَوْضُوعَةٌ كَذِبٌ" قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ حَمَّادٍ قَالَ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنے والد کو کہتے ہوئے سنا: شیخ مبشر بن عبید ہیں اور حمص کے رہنے والے تھے۔ میرا گمان ہے کہ وہ کوفی تھے۔ ان سے بقیہ اور ابو المغیرہ نے روایت کیا ہے، ان کی احادیث موضوع اور جھوٹی ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے مبشر بن عبید کو منکر الحدیث کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12653]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2629. -- باب: الرجوع في الوصية وتغييرها
-- باب: وصیت سے رجوع کرنے اور اسے تبدیل کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 12654
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" لِيَكْتُبِ الرَّجُلُ فِي وَصِيَّتِهِ: إِنْ حَدَثَ بِي حَدَثُ مَوْتِي قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِي هَذِهِ" وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يُغَيِّرُ الرَّجُلُ مَا شَاءَ مِنَ الْوَصِيَّةِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ آدمی کو اپنی وصیت میں یوں لکھنا چاہیے: اگر میری اس وصیت کو بدلنے سے پہلے مجھے موت کا حادثہ پیش آ جائے۔
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے، آپ نے کہا: آدمی جب چاہے وصیت بدل سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12654]
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے، آپ نے کہا: آدمی جب چاہے وصیت بدل سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12654]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12655
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ:" إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ فَإِنَّهُ يُغَيِّرُ وَصِيَّتَهُ وَمَا شَاءَ"، فَقِيلَ لَهُ: الْعَتَاقَةُ؟ قَالَ:" الْعَتَاقَةُ وَغَيْرُ الْعَتَاقَةِ".
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آدمی وصیت کرے تو وہ جب چاہے اپنی وصیت بدل سکتا ہے، حسن رحمہ اللہ سے کہا گیا: آزاد کردہ غلام کے بارے میں؟ حسن رحمہ اللہ نے کہا: غلام ہو یا کوئی بھی چیز۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12655]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2630. -- باب: المرض الذي يجوز فيه الأعطية
-- باب: اس بیماری کا بیان جس میں عطیات دینا جائز ہے
حدیث نمبر: Q12656
قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: عَادَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَصِيَّتِهِ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ بات گزر چکی ہے کہ (انہوں نے فرمایا): ”حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی بیماری میں میری عیادت کے لیے تشریف لائے جس سے میں موت کے کنارے پہنچ گیا تھا۔“ پھر انہوں نے اپنی وصیت کے بارے میں (پوری) حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: Q12656]
حدیث نمبر: 12656
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ:" رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بِأَيَّامٍ بِالْمَدِينَةِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي طَعْنِهِ، قَالَ:" فَاحْتُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ، فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ"، قَالَ:" فَقَائِلٌ يَقُولُ: لَا بَأْسَ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: نَخَافُ عَلَيْهِ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، فَعَرَفُوا أَنَّهُ مَيِّتٌ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَصِيَّتِهِ وَفِي أَمْرِ الشُّورَى رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (زخمی ہونے سے پہلے) دیکھا، پھر مدینہ میں ان کو نیزہ مارے جانے والی حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب انہیں گھر لایا گیا تو ہم بھی ان کے ساتھ تھے۔ ایک کہنے والے نے کہا: کوئی حرج نہیں، اور ایک نے کہا: ہمیں ڈر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس نبیذ لائی گئی اور آپ کو پلائی گئی، تو وہ زخم سے باہر نکل آئی۔ پھر دودھ پلایا گیا، وہ بھی زخم سے باہر نکل آیا، تو انہوں نے پہچان لیا کہ وہ وفات پا جائیں گے، پھر عمرو بن میمون رحمہ اللہ نے شوریٰ کے معاملہ والی وصیت کا ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12656]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3700»
الحكم على الحديث: صحيح
2631. -- باب: ما جاء في وصية الصغير
-- باب: نابالغ بچے کی وصیت کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12657
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ هَا هُنَا غُلَامًا يَفَاعًا لَمْ يَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ، وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ وَهُوَ ذُو مَالٍ، وَلَيْسَ لَهُ هَا هُنَا إِلَّا ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَلْيُوصِ لَهَا"، فَأَوْصَى لَهَا بِمَالٍ يُقَالُ لَهُ: بِئْرُ جُشَمَ قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ: فَبِعْتُ ذَلِكَ الْمَالَ بِثَلَاثِينَ أَلْفًا وَابْنَةُ عَمِّهِ الَّتِي أَوْصَى لَهَا هِيَ أُمُّ عَمْرِو بْنُ سُلَيْمٍ وَيُذْكَرُ عَنْ شُرَيْحٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُمَا أَجَازَا وَصِيَّةَ الصَّغِيرِ، وَقَالَا: مَنْ أَصَابَ الْحَقَّ أَجَزْنَاهُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَلَّقَ جَوَازَ وَصِيَّتِهِ وَتَدْبِيرِهِ بِثِبُوتِ الْخَبَرِ فِيهَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالْخَبَرُ مُنْقَطِعٌ؛ فَعَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيُّ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، إِلَّا أَنَّهُ ذَكَرَ فِي الْخَبَرِ انْتِسَابَهُ إِلَى صَاحِبِ الْقِصَّةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عمرو بن سلیم زرقی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ یہاں ایک نابالغ بچہ ہے غسان کا اور اس کے ورثا شام میں ہیں اور وہ مالدار ہے اور یہاں سوائے اس کے چچا کی بیٹی کے اور کوئی نہیں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے چاہیے کہ چچا کی بیٹی کے لیے وصیت کر دے۔ پس اس نے اس کے لیے مال کی وصیت کر دی، جسے «بِئْرُ جُشَمَ» ”بئرِ جشم“ کہا جاتا تھا، عمرو بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے وہ مال تیس ہزار کا بیچا اور اس کے چچا کی بیٹی جس کے لیے وصیت کی تھی اس کا نام امِ عمرو بن سلیم تھا۔ شریح اور عبداللہ بن عتبہ رحمہما اللہ سے بیان کیا گیا ہے کہ دونوں نے بچے کی وصیت کی اجازت دی ہے اور دونوں نے کہا کہ جو حق کو پہنچ گیا، ہم نے اسے اجازت دی ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی حدیث کے ثابت ہونے تک بچے والی وصیت کو معلق رکھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی خبر منقطع ہے، کیونکہ عمرو بن سلیم زرقی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا، البتہ انہوں نے اس خبر میں قصے والے شخص سے اپنی نسبت ذکر کی ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12657]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1454»
الحكم على الحديث: صحيح
2632. -- باب: وصية العبد
-- باب: غلام کی وصیت کا بیان
حدیث نمبر: 12658
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: سَأَلَ طَهْمَانُ ابْنَ عَبَّاسٍ: أَيُوصِي الْعَبْدُ؟ قَالَ:" لَا".
جندب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ طہمان نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: کیا غلام وصیت کر سکتا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12658]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 16465»
الحكم على الحديث: ضعيف
2633. -- باب: الأوصياء
-- باب: اوصیاء (جنہیں وصیت کی گئی ہو) کا بیان
حدیث نمبر: 12659
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَوْصَى إِلَى الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ، وَمُطِيعُ بْنُ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ لِمُطِيعٍ: لَا أَقْبَلُ وَصِيَّتَكَ، فَقَالَ لَهُ مُطِيعٌ: أَنْشُدُكَ اللهَ وَالرَّحِمَ، وَاللهِ مَا أَتَّبِعُ فِي ذَلِكَ إِلَّا رَأْيَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ:" لَوْ تَرَكْتُ تَرِكَةً، أَوْ عَهِدْتُ عَهْدًا إِلَى أَحَدٍ، لَعَهِدْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ؛ إِنَّهُ رُكْنٌ مِنْ أَرْكَانِ الدِّينِ".
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اور مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اپنی وصیت کا وصی بنایا۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے مطیع رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تیری وصیت قبول نہیں کرتا۔ مطیع رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: میں تجھے اللہ اور رشتہ داری کا واسطہ دیتا ہوں، اللہ کی قسم! میں اس معاملے میں صرف عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رائے کی پیروی کر رہا ہوں، میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، وہ کہتے تھے: اگر میں نے ترکہ چھوڑا یا عہد کیا تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی طرف عہد کروں گا، کیونکہ وہ دین کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12659]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12660
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنا عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: أَوْصَى عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَكَتَبَ:" إِنَّ وَصِيَّتِي إِلَى اللهِ، وَإِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَإِلَى ابْنِهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَنَّهُمَا فِي حِلٍّ وَبِلٍّ فِيمَا وَلِيَا وَقَضَيَا فِي تَرِكَتِي، وَإِنَّهُ لَا تُزَوَّجُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِي إِلَّا بِإِذْنِهِمَا، لَا تُحْضَنُ عَنْ ذَلِكَ زَيْنَبُ" قَوْلُهُ: لَا تُحْضَنُ، يَعْنِي لَا تُحْجَبُ عَنْهُ، وَلَا يُقْطَعُ دُونَهَا، قَالَهُ أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ.
عامر بن عبداللہ کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وصیت کی اور لکھا: ”میری (وصیت) اللہ کے لیے، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف ہے۔ وہ دونوں میرے ترکہ میں جو بھی انتظام اور فیصلہ کریں اس میں وہ بری الذمہ ہیں، اور میری بیٹیوں میں سے کسی کی شادی ان دونوں کی اجازت کے بغیر نہ کی جائے اور زینب کو اس سے نہ روکا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12660]
تخریج الحدیث: «حسن۔ الارواء 1663»
الحكم على الحديث: حسن
2634. -- باب: من اختار ترك الدخول في الوصايا لمن يرى من نفسه ضعفا
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنے اندر کمزوری محسوس کرتے ہوئے وصایا کی ذمہ داری لینے سے گریز کو ترجیح دی
حدیث نمبر: 12661
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلَانِيُّ بِمِصْرَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا، وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي، لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ، وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ" لَفْظُ حَدِيثِ الدُّورِيِّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! میں تجھے کمزور پاتا ہوں اور میں تیرے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں، کبھی دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور نہ کبھی یتیم کے مال کا والی بننا۔“
«(٣٥) بَابُ مَنِ اخْتَارَ الدُّخُولَ فِيهَا وَالْقِيَامَ بِكَفَالَةِ الْيَتَامَى لِمَنْ يَرَى مِنْ نَفْسِهِ قُوَّةً وَأَمَانَةً»
”جس نے اپنے اندر قوت اور امانت (محسوس کرنے) کی وجہ سے ان (وصیتوں) میں داخل ہونا اور یتیم کی کفالت کرنا پسند کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12661]
«(٣٥) بَابُ مَنِ اخْتَارَ الدُّخُولَ فِيهَا وَالْقِيَامَ بِكَفَالَةِ الْيَتَامَى لِمَنْ يَرَى مِنْ نَفْسِهِ قُوَّةً وَأَمَانَةً»
”جس نے اپنے اندر قوت اور امانت (محسوس کرنے) کی وجہ سے ان (وصیتوں) میں داخل ہونا اور یتیم کی کفالت کرنا پسند کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12661]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1826»
الحكم على الحديث: صحيح