السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2606. -- باب: الوصية بالثلث
-- باب: ایک تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12573
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ فِي الْوَصِيَّةِ لَكَانَ أَفْضَلَ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، أَوْ كَبِيرٌ" لَفْظُ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَعِيسَى فِي الْوَصِيَّةِ: لَكَانَ أَفْضَلَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر لوگ وصیت میں ثلث سے کم کر کے ربع کر دیں تو یہ افضل ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ثلث بھی زیادہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12573]
تخریج الحدیث: «بخاري 2743۔ مسلم 1629»
الحكم على الحديث: بخاري 2743
حدیث نمبر: 12574
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْصَى بِخُمْسِ مَالِهِ وَقَالَ:" لَا أَرْضَى مِنْ مَالِي إِلَّا بِمَا رَضِيَ اللهُ بِهِ مِنْ غَنَائِمِ الْمُسْلِمِينَ" وَقَالَ قَتَادَةُ: وَكَانَ يُقَالُ: الْخُمُسُ مَعْرُوفٌ، وَالرُّبُعُ، جُهْدٌ وَالثُّلُثُ يُجِيزُهُ الْقُضَاةُ.
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں علم ہوا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے مال سے خمس کی وصیت کی اور فرمایا: میں اپنے مال میں سے صرف اسی پر راضی ہوں جس پر اللہ مسلمانوں کی غنیمتوں میں سے راضی ہوا ہے، اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: کہا جاتا تھا: خمس اچھا ہے اور ربع مشقت ہے اور ثلث کو قاضی جائز قرار دیتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12574]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12575
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا ابْنُ رَجَاءٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" الَّذِي يُوصِي بِالْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي يُوصِي بِالرُّبُعِ، وَالَّذِي يُوصِي بِالرُّبُعِ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي يُوصِي بِالثُّلُثِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں جس نے خمس کی وصیت کی، منقول ہے کہ وہ اس سے افضل ہے جس نے ربع کی وصیت کی اور وہ افضل ہے جس نے ربع کی وصیت کی اس سے جس نے ثلث کی وصیت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12575]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12576
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ، أنا الشُّرَيْحِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَأَنْ أُوْصِيَ بِالرُّبُعِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُوصِيَ بِالثُّلُثِ، فَمَنْ أَوْصَى بِالثُّلُثِ فَلَمْ يَتْرُكْ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے نزدیک ربع کی وصیت کرنا ثلث سے زیادہ پسندیدہ ہے، پس جس نے ثلث کی وصیت کی اس نے (ورثاء کے لیے) کچھ نہیں چھوڑا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12576]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2607. -- باب: من استحب ترك الوصية إذا لم يترك شيئا كثيرا استبقاء على ورثته
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس نے ورثاء کی خاطر مال بچانے کے لیے وصیت ترک کرنے کو مستحب قرار دیا جب وہ زیادہ مال نہ چھوڑ رہا ہو
حدیث نمبر: 12577
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَهُوَ مَرِيضٌ يَعُودُهُ، فَأَرَادَ أَنْ يُوصِيَ، فَنَهَاهُ وَقَالَ:" إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا} [البقرة: ١٨٠] مَالًا، فَدَعْ مَالَكَ لَوَرَثَتِكَ".
حضرت علی رضی اللہ عنہ بنی ہاشم کے ایک بیمار آدمی کی عیادت کے لیے گئے۔ اس نے وصیت کا ارادہ کیا۔ آپ نے اسے منع کر دیا اور کہا: اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ [سورة البقرة: 180] پس اپنا مال اپنے ورثاء کے لیے چھوڑ دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12577]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 15351»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12578
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا هِشَامٌ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، لَمْ يَقُلْ: مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، وَقَالَ: فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا} [البقرة: ١٨٠] ، وَإِنَّكَ إِنَّمَا تَدَعُ شَيْئًا يَسِيرًا، فَدَعْهُ لِعِيَالِكَ؛ فَإِنَّهُ أَفْضَلُ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِن تَرَكَ خَيْرًا﴾ [سورة البقرة: 180] اور تو تو تھوڑی سی چیز چھوڑ رہا ہے، پس اسے اپنے اہل و عیال کے لیے چھوڑ دے، یہ افضل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12578]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12579
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لَهَا رَجُلٌ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ، قَالَتْ:" كَمْ مَالُكَ؟" قَالَ: ثَلَاثَةُ آلَافٍ، قَالَتْ:" كَمْ عِيَالُكَ؟" قَالَ: أَرْبَعَةٌ، فَقَالَتْ:" قَالَ اللهُ سُبْحَانَهُ {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا} [البقرة: ١٨٠] ، وَإِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يَسِيرٌ، فَاتْرُكْهُ لِعِيَالِكَ؛ فَهُوَ أَفْضَلُ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان کو کہا: میں وصیت کا ارادہ رکھتا ہوں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کتنے مال کی؟ اس نے کہا: تین ہزار کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تیرا خاندان کتنا ہے؟ اس نے کہا: چار افراد ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ [سورة البقرة: 180] یہ تو تھوڑا سا مال ہے۔ اسے اپنے اہل کے لیے چھوڑ دے یہی افضل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12579]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 2/ 567»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12580
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" إِذَا تَرَكَ الْمَيِّتُ سَبْعَمِائَةِ دِرْهَمٍ فَلَا يُوصِي".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب میت کا ترکہ سات سو درہم ہو تو وصیت نہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12580]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه سعيد بن منصور 2/ 659»
الحكم على الحديث: ضعيف
2608. -- باب: ما جاء في قوله عز وجل وليخش الذين لو تركوا من خلفهم ذرية ضعافا خافوا عليهم فليتقوا الله وليقولوا قولا سديدا وما ينهى عنه من الإضرار في الوصية
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو اگر اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جائیں تو انہیں ان کا اندیشہ ہو، پس انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور سیدھی بات کہنی چاہیے“ کے متعلق جو مروی ہے اور وصیت میں نقصان پہنچانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 12581
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ:" {وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ} [النساء: ٩] ، يَعْنِي الرَّجُلَ يَحْضُرُهُ الْمَوْتُ فَيُقَالُ لَهُ: تَصَدَّقْ مِنْ مَالِكَ، وَأَعْتِقْ، وَأَعْطِ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَنُهُوا أَنْ يَأْمُرُوهُ بِذَلِكَ، يَعْنِي مَنْ حَضَرَ مِنْكُمْ مَرِيضًا عِنْدَ الْمَوْتِ فَلَا يَأْمُرُهُ أَنْ يُنْفِقَ مَالَهُ فِي الْعِتْقِ وَالصَّدَقَةِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَكِنْ يَأْمُرُهُ أَنْ يُبَيِّنَ مَا لَهُ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ وَيُوصِي مِنْ مَالِهِ لِذِي قَرَابَتِهِ الَّذِينَ لَا يَرِثُونَ، يُوصِي لَهُمْ بِالْخُمُسِ أَوِ الرُّبُعِ، يَقُولُ: أَيَسُرُّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ وَلَهُ وَلَدٌ ضِعَافٌ، يَعْنِي صِغَارًا، أَنْ يَتْرُكَهُمْ بِغَيْرِ مَالٍ؛ فَيَكُونُوا عِيَالًا عَلَى النَّاسِ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ تَأْمُرُوهُ بِمَا لَا تَرْضَوْنَ بِهِ لِأَنْفُسِكُمْ وَلِأَوْلَادِكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا الْحَقَّ مِنْ ذَلِكَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت ﴿وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ﴾ [سورة النساء: 9] کے بارے میں منقول ہے، یعنی آدمی کو موت آنے لگے تو اسے کہا جائے: اپنے مال سے صدقہ کرو اور آزاد کر دو اور اس سے اللہ کے راستے میں دو۔ پس منع کیا گیا ہے کہ وہ اسے ایسی باتوں کا حکم دیں، یعنی تم میں سے کوئی جس مریض کو موت آئے اس کے پاس آکر اسے یہ حکم نہ دے کہ وہ اپنے مال سے خرچ کر دے۔ آزاد کرنے میں، صدقہ میں، اللہ کے راستہ میں اسے حکم دے کہ وہ واضح کرے اس پر کیا قرض ہے یا کسی دوسرے پر اس کا قرض ہے اور اپنے مال سے وصیت کرے ان رشتہ داروں کے لیے جو وارث نہ ہوں، ان کے لیے خمس یا ربع کی وصیت کرے اور وہ کہے: ”تم میں سے کسی کو پسند ہے کہ جب وہ فوت ہو اور اس کی اولاد چھوٹی ہو اور وہ اسے بغیر مال کے چھوڑ دے اور وہ لوگوں کی محتاج ہو جائے؟“ یہ درست نہیں کہ تم اس بات کا حکم دو جو اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے پسند نہیں کرتے، لہٰذا حق بات کہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12581]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12582
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا" فَهَذَا الرَّجُلُ يَحْضُرُ الرَّجُلَ عِنْدَ مَوْتِهِ فَيُسْمِعُهُ يُوصِيهِ يَضُرُّ بِوَرَثَتِهِ، فَأَمَرَ اللهُ سُبْحَانَهُ الَّذِي يُسْمِعُهُ أَنْ يَتَّقِيَ اللهَ وَيُفَقِّهَهُ وَيُسَدِّدَهُ لِلصَّوَابِ، وَلْيَنْظُرْ لِوَرَثَتِهِ كَمَا يُحِبُّ أَنْ يُصْنَعَ بِوَرَثَتِهِ إِذَا خَشِيَ عَلَيْهِمُ الضَّيْعَةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ﴾ [سورة النساء: 9] یعنی آدمی دوسرے کے پاس اس کی موت کے وقت حاضر ہوتا اور اسے ایسی وصیت کرتے سنتا جس سے اس کے ورثاء کو نقصان پہنچتا۔ اللہ تعالیٰ نے سننے والے کو حکم دیا کہ وہ اللہ سے ڈرے اور اسے سمجھائے اور درست بات کی طرف اس کی رہنمائی کرے اور اس کے ورثاء کا خیال کرے جیسے پسند کرتا ہے کہ اس کے اپنے ورثاء سے کیا جائے، جب ان پر فقر کا ڈر ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12582]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف