السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2829. -- باب: ما جاء في النظر إلى الغلام الأمرد بالشهوة
-- باب: بے ریش لڑکے کی طرف شہوت سے دیکھنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13567
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗١٦٠⦘ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَمَّاسٍ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنِ الْوَضِينِ، عَنْ بَعْضِ الْمَشْيَخَةِ قَالَ:" كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُحَدَّ النَّظَرُ إِلَى الْغُلَامِ الْأَمْرَدِ الْجَمِيلِ الْوَجْهِ" وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ بَقِيَّةَ، عَنِ الْوَزَّاعِ بْنِ نَافِعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ بَقِيَّةَ مَا ذَكَرْنَاهُ، وَرَوَى أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ الطَّحَّانُ فِي مَعْنَاهُ حَدِيثًا مَوْضُوعًا، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا، وَفِيمَا ذَكَرْنَا مِنَ الْآيَةِ غُنْيَةٌ عَنْ غَيْرِهَا وَفِتْنَتُهُ ظَاهِرَةٌ لَا تَحْتَاجُ إِلَى خَبَرٍ يُبَيِّنُهَا، وَبِاللهِ تَعَالَى التَّوْفِيقُ، وَاللهُ سُبْحَانَهُ أَعْلَمُ.
وضین رحمہ اللہ بعض مشائخ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ خوبصورت چہرے والے بے ریش لڑکے کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
یہ روایت بقیہ سے، وہ وزاع بن نافع سے (اور وہ ضعیف ہے)، وہ ابوسلمہ سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اس کے بعض معنی کے ساتھ بھی مروی ہے، لیکن بقیہ سے مشہور وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا۔ اور ابوحفص عمر طحان نے اسی معنی میں ایک موضوع (من گھڑت) حدیث ثوری سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ اور جو آیت ہم نے ذکر کی ہے وہ دوسری چیزوں سے بے نیاز کر دیتی ہے، اور اس کا فتنہ ظاہر ہے جسے واضح کرنے کے لیے کسی روایت کی ضرورت نہیں۔ و باللہ التوفیق، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13567]
یہ روایت بقیہ سے، وہ وزاع بن نافع سے (اور وہ ضعیف ہے)، وہ ابوسلمہ سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اس کے بعض معنی کے ساتھ بھی مروی ہے، لیکن بقیہ سے مشہور وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا۔ اور ابوحفص عمر طحان نے اسی معنی میں ایک موضوع (من گھڑت) حدیث ثوری سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ اور جو آیت ہم نے ذکر کی ہے وہ دوسری چیزوں سے بے نیاز کر دیتی ہے، اور اس کا فتنہ ظاہر ہے جسے واضح کرنے کے لیے کسی روایت کی ضرورت نہیں۔ و باللہ التوفیق، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13567]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2830. -- باب: ما جاء في مصافحة الرجل الرجل
-- باب: مرد کا مرد سے مصافحہ کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13568
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قُلْتُ: أَكَانَتِ الْمُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ هَمَّامٍ.
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ مصافحہ کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13568]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6263»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13569
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا فَحَمِدَا اللهَ، وَاسْتَغْفَرَاهُ غُفِرَ لَهُمَا".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں اور اللہ کی تعریف کرتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں تو ان دونوں کو معاف کر دیا جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13569]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13570
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَكَمِ الْعَنَزِيِّ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، فَذَكَرَهُ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13570]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13571
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ، فَيَتَصَافَحَانِ، إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَارَقَا".
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں، ان کو جدا ہونے سے پہلے معاف کر دیا جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13571]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2831. -- باب: ما جاء في معانقة الرجل الرجل، إذا لم تكن مؤدية إلى تحريك شهوة
-- باب: مرد کا مرد سے معانقہ (گلے ملنے) کے متعلق جو مروی ہے جب کہ وہ شہوت ابھارنے کا سبب نہ بنے
حدیث نمبر: 13572
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ يَعْنِي خَالِدَ بْنَ ذَكْوَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ سُيِّرَ مِنَ الشَّامِ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذًا أُخْبِرُكَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سِرًّا، قُلْتُ: إِنَّهُ لَيْسَ بِسِرٍّ، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذْ لَقِيتُمُوهُ؟ قَالَ: مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي، وَبَعَثَ إِلِيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَهْلِي، فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ فَالْتَزَمَنِي، فَكَانَتْ تِلْكَ الْحَالَةُ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ.
عنزہ کے ایک آدمی نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہا، جب ان کو شام سے نکالا گیا کہ: ”میں تم سے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”تب تو میں تجھے بتلا دوں گا، مگر یہ کہ وہ کوئی راز کی بات ہو۔“ میں نے کہا: ”وہ راز کی بات نہیں ہے۔ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے مصافحہ کرتے تھے، جب تم ان سے ملاقات کرتے؟“ تو انہوں نے کہا: ”جب بھی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مصافحہ ہی کیا ہے اور میری طرف ایک دن کسی کو بھیجا اور میں گھر میں نہیں تھا۔ جب میں گھر میں آیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو میری طرف بھیجا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چارپائی پر بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے لپٹ گئے، یہ بہت اچھا موقع تھا، بہت اچھا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13572]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13573
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُقْرِئِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا حَنْظَلَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَنْحَنِي بَعْضُنَا لِبَعْضٍ إِذَا الْتَقَيْنَا؟ قَالَ:" لَا" قَالَ: فَيَلْتَزِمُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ:" لَا" قَالَ: فَيُصَافِحُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ وَقَدْ كَانَ اخْتَلَطَ، تَرَكَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ لِاخْتِلَاطِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا جب ہم ملاقات کریں تو ایک دوسرے کے لیے جھکیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“۔ پھر پوچھا: ہم ایک دوسرے کو گلے مل لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پھر پوچھا: مصافحہ کر لیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔
اس روایت کو بیان کرنے میں حنظلہ سدوسی منفرد ہیں اور وہ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، یحییٰ قطان نے ان کے اختلاط کی وجہ سے انہیں ترک کر دیا تھا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13573]
اس روایت کو بیان کرنے میں حنظلہ سدوسی منفرد ہیں اور وہ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، یحییٰ قطان نے ان کے اختلاط کی وجہ سے انہیں ترک کر دیا تھا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13573]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13574
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَسَدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ بِمَاءٍ لَهُ، فَبَلَغَهُ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، تَوَجَّهَ الْعِرَاقَ، فَلَحِقَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي أَمْرِهِ بِالرُّجُوعِ، فَأَبَى أَنْ يَرْجِعَ، فَاعْتَنَقَهُ ابْنُ عُمَرَ وَبَكَى، وَقَالَ:" أَسْتَوْدِعُكَ اللهَ مِنْ قَتِيلٍ" هَكَذَا رَوَاهُ شَبَابَةُ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما پانی پر تھے، ان کو خبر ملی کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما عراق کی طرف جا رہے ہیں تو وہ ان سے ملے، لمبی حدیث ذکر کی جس میں ان کو لوٹنے کا حکم دیا تو انھوں نے لوٹنے سے انکار کر دیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے گلے ملے اور رو پڑے اور فرمایا: «أَسْتَوْدِعُكَ اللّٰهَ مِنْ قَتِيلٍ» ”میں تجھے تیرے قتل ہونے کے ڈر سے اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13574]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13575
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ يَكْرَهُ الْمُصَافَحَةَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ، فَقَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَقَوْا صَافَحُوا، فَإِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ عَانَقَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا" وَاللهُ أَعْلَمُ.
محمد بن سیرین رحمہ اللہ مصافحہ کو ناپسند کرتے تھے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے اس بات کا ذکر شعبی رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی جب بھی ملتے تھے تو مصافحہ کرتے تھے اور جب سفر سے آتے تو گلے ملتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13575]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2832. -- باب: ما جاء في قبلة الرجل ولده
-- باب: آدمی کا اپنی اولاد کو بوسہ دینے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13576
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا قَطُّ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا بوسہ لیا اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ ساتھ بیٹھے تھے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میرے دس بیٹے ہیں، میں نے کبھی بھی ان کا بوسہ نہیں لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”بے شک جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13576]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5997۔ مسلم 2318»
الحكم على الحديث: صحيح