السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2843. -- باب: ما جاء في إنكاح الثيب
-- باب: شوہر دیدہ (بیوہ یا مطلقہ) عورت کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13686
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: آمَتْ خَنْسَاءُ بِنْتُ خِدَامٍ، فَزَوَّجَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: زَوَّجَنِي أَبِي وَأَنَا كَارِهَةٌ، وَقَدْ مَلَكْتُ أَمْرِي وَلَمْ يُشْعِرْنِي، فَقَالَ:" لَا نِكَاحَ لَهُ انْكِحِي مَنْ ⦗١٩٤⦘ شِئْتِ"، فَنَكَحَتْ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ"، هَذَا مُرْسَلٌ وَهُوَ شَاهِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ.
خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو ان کے باپ نے اس کی شادی اس سے کردی جس کو وہ ناپسند کرتی تھی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میرے باپ نے میری ایسی جگہ پر شادی کی ہے جس کو میں ناپسند کرتی ہوں، حالانکہ میں اپنے نفس کی خود مالک ہوں اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (کیا ہوا) نکاح نہیں ہے، تو جہاں چاہتی ہے وہاں نکاح کرلے“ تو اس نے ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے شادی کرلی۔
یہ روایت مرسل ہے اور پچھلی روایت کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13686]
یہ روایت مرسل ہے اور پچھلی روایت کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13686]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13687
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ ثَيِّبًا كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا" وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَسَمَّى الْمَرْأَةَ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِدَامٍ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ مَوْصُولًا وَالْمُرْسَلُ لَهُ أَصَحُّ وَفِيمَا مَضَى مِنَ الْمَوْصُولِ كِفَايَةٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے اپنی شادی شدہ بیٹی کا، جو پہلے ایک آدمی کے نکاح میں رہ چکی تھی، نکاح کر دیا تو اس نے اسے ناپسند کیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح رد کر دیا۔
عمر بن ابی سلمہ نے اسے اپنے والد سے روایت کیا اور اس عورت کا نام خنساء بنت خذام بتایا اور اسے مرسل ذکر کیا، اور ان سے موصول بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن ان سے مرسل زیادہ صحیح ہے، اور گزشتہ موصول روایات کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13687]
عمر بن ابی سلمہ نے اسے اپنے والد سے روایت کیا اور اس عورت کا نام خنساء بنت خذام بتایا اور اسے مرسل ذکر کیا، اور ان سے موصول بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن ان سے مرسل زیادہ صحیح ہے، اور گزشتہ موصول روایات کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13687]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 13688
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزَنَجِرْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ" امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا وَلَهَا مِنْهُ وَلَدٌ، فَخَطَبَهَا عَمُّ وَلَدِهَا إِلَى وَالِدِهَا، فَقَالَ لَهُ: زَوِّجْنِيهَا، فَأَبَى، فَزَوَّجَهَا غَيْرَهُ بِغَيْرِ رَضًا مِنْهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَزَوَّجْتَهَا غَيْرَ عَمِّ وَلَدِهَا؟" قَالَ: نَعَمْ زَوَّجْتُهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ لَهَا مِنْ عَمِّ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَزَوَّجَهَا عَمَّ وَلَدِهَا كَذَا قَالَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا، اس کا ایک لڑکا تھا۔ لڑکے کے چچا نے اس عورت سے منگنی کا پیغام اس کے والد کی طرف بھیجا کہ تو اس کی شادی مجھ سے کر دے تو اس نے انکار کر دیا، اس نے اس عورت کی شادی اس کی رضامندی کے بغیر کر دی تو وہ عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف آدمی بھیجا پھر کہا: ”کیا تو نے اس کی شادی اس کے بیٹے کے چچا کے علاوہ کسی اور سے کر دی؟“ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے اس کی شادی اس کے بیٹے کے چچا سے بہتر لڑکے سے کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں تفریق کر دی اور اس کے بیٹے کے چچا سے اس کی شادی کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13688]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 13689
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدُ آبَادِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي، وَأَنَا كَارِهَةٌ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ عَمَّ وَلَدِي قَالَ: فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مُرْسَلٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ.
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی، اس نے عرض کیا: میرے والد نے میری شادی ایسی جگہ پر کی ہے جس کو میں ناپسند کرتی ہوں، میں اپنے بیٹے کے چچا سے شادی کرنا چاہتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح رد کر دیا۔
یہی صحیح ہے کہ یہ ابوسلمہ سے مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13689]
یہی صحیح ہے کہ یہ ابوسلمہ سے مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13689]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2844. -- باب: ما جاء في إنكاح اليتيمة
-- باب: یتیم بچی کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13690
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا".
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یتیمہ سے اس کے نفس کے بارے میں پوچھا جائے گا، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی اجازت ہے، اور اگر وہ انکار کرے تو اس پر (نکاح) جائز نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13690]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13691
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ ⦗١٩٥⦘ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ، وَإِنْ أَنْكَرَتْ لَمْ تُكْرَهْ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یتیمہ سے اس کے نفس کے بارے میں پوچھا جائے گا، اگر وہ خاموش ہو تو اس کی اجازت ہے، اگر وہ انکار کر دے تو جبر نہ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13691]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13692
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ قَالَ: ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ، مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ ابْنَةً لَهُ مِنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَهُمَا خَالِايَ، فَخَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ ابْنَةَ عُثْمَانَ، فَزَوَّجَنِيهَا، فَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ إِلَى أُمِّهَا، فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ، فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قُدَامَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ ابْنَةُ أَخِي وَأَوْصَى بِهَا إِلِيَّ، فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عُمَرَ وَلَمْ أُقَصِّرْ بِالصَّلَاحِ وَالْكَفَاءَةِ، وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ وَإِنَّهَا حَطَّتْ إِلَى هَوَى أُمِّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ يَتِيمَةٌ، وَلَا تُنْكَحُ إِلَّا بِإِذْنِهَا"، فَانْتُزِعَتْ مِنِّي وَاللهِ بَعْدَ أَنْ مُلِّكْتُهَا فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور خولہ بنت حکیم بن امیہ سے ایک بیٹی چھوڑی اور اپنے بھائی سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کو اس کے بارے میں وصیت کی اور یہ دونوں میرے ماموں تھے۔ میں نے قدامہ کی طرف شادی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے میری اس سے شادی کر دی اور مغیرہ اس کی ماں کی طرف گیا۔ اس نے ان کو مال کی طرف رغبت دی تو وہ لالچ میں آگئی اور لڑکی بھی ماں کی خواہش کی طرف مائل ہوگئی۔ حتیٰ کہ یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا تو قدامہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے اور اس نے مجھے اس کے بارے میں وصیت کی تھی تو میں نے اس کی شادی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کر دی اور میں نے نیکی اور کفو (برابری) میں کوئی کمی نہیں کی، لیکن وہ ایک عورت ہے اور اپنی ماں کی خواہش کی طرف مائل ہو گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ یتیمہ ہے، لہٰذا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔“ تو وہ لڑکی مجھ سے جدا کر دی گئی، اللہ کی قسم! جبکہ میں اس کا مالک بن گیا تھا اور انہوں نے اس کی شادی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13692]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13693
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَزَوَّجَ ابْنَةَ خَالِهِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ: فَذَهَبَتْ أُمُّهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي تَكْرَهُ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفَارِقَهَا، وَقَالَ:" لَا تُنْكِحُوا الْيَتَامَى حَتَّى تَسْتَأْمِرُوهُنَّ، فَإِنْ سَكَتْنَ فَهُوَ إِذْنُهُنَّ"، فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَ عَبْدِ اللهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ماموں عثمان بن مظعون کی بیٹی سے شادی کی۔ اس کی ماں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئی اور کہا: میری بیٹی اس کو ناپسند کرتی ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کروا دی اور فرمایا: ”تم یتیمہ کا نکاح نہ کرو، یہاں تک کہ ان سے مشورہ کرلو۔ اگر وہ خاموشی اختیار کریں یہ ان کی رضا مندی ہے۔“ پھر عبداللہ کے بعد اس سے مغیرہ بن شعبہ نے شادی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13693]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13694
وَأَخْبَرَنَا بِهِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي مَوْضِعٍ آخَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تَزَوَّجَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ صَاعِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ وَأَبِي عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ایضاً [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13694]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13695
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ ⦗١٩٦⦘ سُوَيْدٍ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا بَلَغَ النِّسَاءُ نَصَّ الْحَقَائِقِ، فَالْعَصَبَةُ أَوْلَى، وَمَنْ شَهِدَ فَلْيَشْفَعْ بِخَيْرٍ".
سیدنا معاویہ بن سوید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کی کتاب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات دیکھی کہ جب عورتیں حقائق کو پہچاننے لگیں تو عصبہ زیادہ حق دار ہوں گے اور جو کوئی حاضر ہو وہ بہتر سفارش کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13695]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح