السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2887. -- باب: ما جاء في تسري العبد
-- باب: غلام کے لونڈی رکھنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13858
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ،" أَنَّ غُلَامًا لِابْنِ عَبَّاسٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" أَرْجِعْهَا فَأَبَى" قَالَ:" هِيَ لَكَ اسْتَحِلَّهَا بِمِلْكِ الْيَمِينِ"، فِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِالرُّجُوعِ إِلَيْهَا بَعْدَ تَطْلِيقَتَيْنِ، وَلَا رَجْعَةَ لِلْعَبْدِ بَعْدَهُمَا، فَكَأَنَّهُ اعْتَقَدَ أَنَّ الطَّلَاقَ لَمْ يَقَعْ، حَيْثُ لَمْ يَأْذَنْ فِيهِ، فَحِينَ أَبَى قَالَ: هِيَ لَكَ اسْتَحِلَّهَا بِمِلْكِ الْيَمِينِ، وَمَذْهَبُ الْجَمَاعَةِ عَلَى صِحَّةِ طَلَاقِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِنَّمَا أَحَلَّ اللهُ التَّسَرِّيَ لِلْمَالِكِينَ، وَلَا يَكُونُ الْعَبْدُ مَالِكًا بِحَالٍ قَالَ اللهُ تَعَالَى: {ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ} [النحل: ٧٥] ، وَذَكَرَ مَا رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ بَاعَ عَبْدًا لَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ابو معبد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک غلام تھا، اس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رجوع کرو۔ اس نے انکار کر دیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ تیری ملکیت ہونے کی وجہ سے حلال ہے (یعنی نکاح کی وجہ سے)
دلالت: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دو طلاقوں کے بعد غلام کو رجوع کا حکم دیا لیکن اس نے انکار کر دیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اعتقاد تھا کہ غلام بغیر اجازت کے طلاق نہیں دے سکتا، اس لیے تو فرمایا: یہ تمہاری ملکیت ہے (یعنی نکاح کی وجہ سے) حالانکہ ایک جماعت کا اتفاق ہے کہ اس کی طلاق درست ہے۔ واللہ اعلم
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مالکوں کو لونڈی سے شادی کرنا جائز رکھا ہے اور غلام کسی حال میں بھی مالک نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ﴾ [سورة النحل: 75] ”اللہ نے ایسے غلام کی مثال بیان کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔“
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلام فروخت کیا اور غلام کا مال بھی تھا تو مال فروخت کرنے والے کا ہے، الا یہ کہ خریدنے والا شرط لگا لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13858]
دلالت: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دو طلاقوں کے بعد غلام کو رجوع کا حکم دیا لیکن اس نے انکار کر دیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اعتقاد تھا کہ غلام بغیر اجازت کے طلاق نہیں دے سکتا، اس لیے تو فرمایا: یہ تمہاری ملکیت ہے (یعنی نکاح کی وجہ سے) حالانکہ ایک جماعت کا اتفاق ہے کہ اس کی طلاق درست ہے۔ واللہ اعلم
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مالکوں کو لونڈی سے شادی کرنا جائز رکھا ہے اور غلام کسی حال میں بھی مالک نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ﴾ [سورة النحل: 75] ”اللہ نے ایسے غلام کی مثال بیان کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔“
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلام فروخت کیا اور غلام کا مال بھی تھا تو مال فروخت کرنے والے کا ہے، الا یہ کہ خریدنے والا شرط لگا لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13858]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبل الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
2888. -- باب: نكاح المحدثين وما جاء في قول الله عز وجل: الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين
-- باب: زانیوں کے نکاح کا بیان اور اللہ عزوجل کے اس فرمان ”زانی مرد، زانی یا مشرک عورت کے سوا کسی سے نکاح نہیں کرتا اور زانی عورت سے، زانی یا مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا، اور یہ (فعل) مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q13859
بَابُ نِكَاحِ الْمُحْدِثِينَ وَمَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [النور: 3] .
باب: (زنا کے) مرتکب لوگوں کے نکاح کا بیان، اور اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں جو (روایات) آئی ہیں: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”زانی مرد نکاح نہیں کرتا مگر کسی زانیہ عورت یا مشرکہ عورت سے، اور زانیہ عورت سے نکاح نہیں کرتا مگر کوئی زانی مرد یا مشرک مرد، اور یہ مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔“ [سورة النور: 3] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13859]
حدیث نمبر: 13859
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَمُسَدَّدٌ وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مَهْزُولٍ، وَكَانَتْ تَكُونُ بِأَجْيَادَ، وَكَانَتْ مُسَافِحَةً، كَانَ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ، وَتَشْتَرِطُ لَهُ أَنْ تَكْفِيَهُ النَّفَقَةَ، فَسَأَلَ رَجُلٌ عَنْهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٢٤٧⦘ أَيَتَزَوَّجُهَا؟ فَقَرَأَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْآيَةُ: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: ٣] الْآيَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت کو ام مہزول کہا جاتا تھا، وہ اجیاد میں رہتی تھی، وہ زانیہ تھی۔ کوئی شخص اس سے شادی کرتا تو وہ شرط لگاتی کہ وہ اس کے خرچے کی بھی کفایت کرے گی تو اس سے شادی کے متعلق ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی یا (راوی کو شک ہے کہ) آپ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] ”زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13859]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13860
قَالَ: وَأنبأ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ، ثنا مُعْتَمِرٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُسَمَّى أُمَّ مَهْزُولٍ، وَأَنَّهَا كَانَتْ تَتَزَوَّجُ الرَّجُلَ عَلَى أَنْ يَأْذَنَ لَهَا فِي السِّفَاحِ وَتَكْفِيَهُ النَّفَقَةَ، فَاسْتَأْذَنَ بَعْضُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا قَالَ: فَقَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ إِلَى آخِرِهَا.
معتمر رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت ام مہزول تھی، وہ کسی شخص سے شادی کرتی تو اس شرط پر کہ وہ اس کو زنا کی اجازت دے، وہ اس شخص کا خرچہ بھی اٹھائے گی، تو بعض نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13860]
حدیث نمبر: 13861
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ، وَكَانَ رَجُلًا يَحْمِلُ الْأَسْرَى مِنْ مَكَّةَ حَتَّى يَأْتِيَ بِهِمُ الْمَدِينَةَ قَالَ: وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ يُقَالُ لَهَا عَنَاقٌ، وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ، وَأَنَّهُ وَعَدَ رَجُلًا يَحْمِلُهُ مِنْ أَسْرَى مَكَّةَ قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى ظِلِّ حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ قَالَ: فَجَاءَتْ عَنَاقٌ، فَأَبْصَرَتْ سَوَادَ ظِلِّي بِجَنْبِ الْحَائِطِ، فَلَمَّا انْتَهَتْ إِلِيَّ عَرَفَتْ قَالَتْ: مَرْثَدٌ؟ قُلْتُ: مَرْثَدٌ قَالَتْ: هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيتَ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ؟ قُلْتُ: يَا عَنَاقُ قَدْ حَرَّمَ اللهُ الزِّنَا قَالَتْ: يَا أَهْلَ الْخِيَامِ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي يَحْمِلُ أَسْرَاكُمْ، فَاتَّبِعْنِي ثَمَانِيَةٌ وَسَلَكْتُ الْخَنْدَمَةَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى كَهْفٍ أَوْ غَارٍ، فَدَخَلْتُهُ فَجَاءُوا حَتَّى جَازُوا عَلَى رَأْسِي، فَبَالُوا فَظَلَّ بَوْلُهُمْ عَلَى رَأْسِي وَأَعْمَاهُمُ اللهُ حَتَّى رَجَعُوا، وَرَجَعْتُ إِلَى صَاحِبِي، وَحَمَلْتُهُ، وَكَانَ رَجُلًا ثَقِيلًا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْإِذْخِرِ، فَفَكَكْتُ عَنْهُ كَبْلَهُ، فَجَعَلْتُ أَحْمِلُهُ وَيُعْيِينِي حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْكِحُ عَنَاقًا؟ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ، وَهِيَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً، وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ، وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [النور: ٣] ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَرْثَدُ الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ".
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ تھے، جو مکہ سے قیدی اٹھا کر مدینہ لایا کرتے تھے۔ مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی دوست رہ چکی تھی، اور انہوں نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے اٹھا لائیں گے۔ (وہ کہتے ہیں:) میں آیا یہاں تک کہ ایک چاندنی رات مکہ کی دیواروں میں سے کسی دیوار کے سائے میں پہنچا۔ عناق نامی عورت نے میرے سائے کی سیاہی کو دیوار کی جانب دیکھ لیا۔ جب وہ میرے قریب آئی تو اس نے مجھے پہچان لیا اور کہنے لگی: ”مرثد!“ میں نے کہا: ”ہاں مرثد۔“ تو کہنے لگی: ”کیا آج رات میرے پاس گزارو گے؟“ مرثد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہہ دیا کہ ”اے عناق! اللہ نے زنا کو حرام کر دیا ہے۔“ تو اس عناق نامی عورت نے آواز دی: ”اے خیموں والو! یہ شخص تمہارے قیدی اٹھا کر لے جاتا ہے۔“ کہتے ہیں: آٹھ اشخاص نے میرا پیچھا کیا اور میں خندمہ (پہاڑ) کی راہ پر چل پڑا، یہاں تک کہ میں ایک غار تک جا پہنچا اور اس میں داخل ہو گیا۔ وہ آئے اور میرے سر کے اوپر سے گزر گئے۔ انہوں نے پیشاب کیا تو ان کا پیشاب میرے سر کے اوپر گرا۔ اللہ نے ان کو اندھا کر دیا اور وہ واپس پلٹ گئے۔ میں اپنے ساتھی (قیدی) کے پاس واپس پلٹا اور اسے اٹھا لیا، وہ بھاری شخص تھا، میں اسے لے کر اذخر تک آیا اور میں نے اس کی بیڑی کو کھول دیا۔ میں اس کو اٹھاتا رہا اور وہ مجھے تھکا دیتا تھا، اس طرح میں مدینہ آیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے نکاح کر لوں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ سورہ نازل ہوئی: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النور: 3] ”زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرتی ہے اور یہ مومنوں پر حرام کیا گیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مرثد! زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی یا مشرک مرد سے نکاح کرتی ہے۔“ (صحیح لغیرہ، تقدم قبلہ) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13861]
حدیث نمبر: 13862
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ:" كُنَّ بَغَايَا مُتَعَلِّنَاتٍ، أَوْ ⦗٢٤٨⦘ مُعْلِنَاتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، بَغِيُّ آلِ فُلَانٍ، وَبَغِيُّ آلِ فُلَانٍ، فَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [النور: ٣] قَالَ: فَأَحْكَمَ اللهُ مِنْ ذَلِكَ أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ بِالْإِسْلَامِ" قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فَقِيلَ لِعَطَاءٍ: أَبَلَغَكَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دورِ جاہلیت میں زانی عورتیں اعلان کرتی تھیں کہ وہ آلِ فلاں کی زانیہ عورتیں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النور: 3] ”زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرتی ہے اور مومنوں پر یہ حرام ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے جاہلیت کے اس فعل سے منع فرما دیا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ سے کہا گیا: یہ خبر آپ کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13862]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13863
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدٌ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً، وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} [النور: ٣] قَالَ:" كُنَّ بَغَايَا فِي الْمَدِينَةِ مَعْلُومٌ شَأْنُهُنَّ فَحَرَّمَ اللهُ نِكَاحَهُنَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ" وَهُوَ قَوْلُ قَتَادَةَ.
حضرت قتادہ رحمہ اللہ، سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ میں زانیہ عورتوں کی شہرت تھی تو اللہ نے مومنوں کو ان سے نکاح کرنے سے منع فرما دیا، یہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13863]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13864
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" هُمْ رِجَالٌ كَانُوا يُرِيدُونَ نِكَاحَ نِسَاءٍ زَوَانٍ بَغَايَا مُتَعَالِنَاتٍ كُنَّ كَذَلِكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقِيلَ لَهُمْ: هَذَا حَرَامٌ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ فَحَرَّمَ اللهُ نِكَاحَهُنَّ".
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ دورِ جاہلیت کی مشہور زانیہ عورتوں سے نکاح کا ارادہ رکھتے تھے، تو ان سے کہا گیا کہ یہ حرام ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النور: 3] نازل کر دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے نکاح کو حرام قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13864]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13865
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: ٣] قَالَ:" ذَلِكَ حُكْمٌ بَيْنَهُمَا فَذَكَرَهُ"، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ:" الزَّانِي لَا يَزْنِي إِلَّا بِزَانِيَةٍ أَوْ مُشْرِكَةٍ، وَالزَّانِيَةُ لَا يَزْنِي بِهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ، يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ قَوْلَهُ يَنْكِحُ يُصِيبُ".
عبیداللہ بن ابی یزید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے متعلق پوچھا، وہ فرماتے ہیں: ”یہ حکم ان دو کے درمیان ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت سے زنا کرتا ہے اور زانیہ عورت سے زانی یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے وہ اس آیت میں «يَنْكِحُ» (نکاح کرتا ہے) سے مراد جماع کرنا لیتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13865]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت سے زنا کرتا ہے اور زانیہ عورت سے زانی یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے وہ اس آیت میں «يَنْكِحُ» (نکاح کرتا ہے) سے مراد جماع کرنا لیتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13865]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13866
أَخْبَرَنَاهُ الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّيْبُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: ٣] قَالَ:" لَا يَزْنِي إِلَّا بِزَانِيَةٍ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْمَعْنَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ زانی مرد زانیہ عورت سے ہی زنا کرتا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ہم معنیٰ حدیث دوسری سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13866]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ہم معنیٰ حدیث دوسری سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13866]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح