🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2932. -- باب: ما جاء في نكاح المحلل
-- باب: حلالہ کرنے والے کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14194
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي اللَّيْثِ، حَدَّثَهُمْ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ:" إِذَا كَانَ يَتَزَوَّجُهَا لِيُحِلَّهَا لَهُ فَهَذَا الْمُحَلِّلُ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ فَلَا يَنْبَغِي"، وَاللهُ أَعْلَمُ.
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ اس سے شادی اس غرض سے کرے کہ وہ پہلے کے لیے حلال کرے، تو یہ حلال کرنے اور کروانے والے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14194]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2933. -- باب: من عقد النكاح مطلقا لا بشرط فيه فالنكاح ثابت وإن كانت نيتهما أو نية أحدهما التحليل
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نکاح کا عقد مطلق کیا اور اس میں کوئی شرط نہ رکھی تو نکاح ثابت ہو جائے گا اگرچہ ان دونوں کی یا ان میں سے کسی ایک کی نیت حلالہ کرنے کی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q14195
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّ النِّيَّةَ حَدِيثُ النَّفْسِ وَقَدْ وُضِعَ عَنِ النَّاسِ مَا حَدَّثُوا بِهِ أَنْفُسَهُمْ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ نیت دل کی بات ہے، اور لوگوں سے ان باتوں (کا مؤاخذہ) معاف کر دیا گیا ہے جو وہ اپنے دلوں میں سوچتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q14195]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَجَاوَزَ ⦗٣٤١⦘ اللهُ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ"، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَفِي رِوَايَةِ هِشَامٍ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان کے دل و دماغ میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں اللہ نے میری امت سے معاف کر دیے ہیں جب تک زبان سے نہ کہے یا عمل نہ کرے۔“
(ب) ہشام کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے میری امت سے معاف کر دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14195]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 127، بخاري 5269»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14196
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" طَلَّقَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ امْرَأَةً لَهُ فَبَتَّهَا، فَمَرَّ بِشَيْخٍ وَابْنٍ لَهُ مِنَ الْأَعْرَابِ فِي السُّوقِ قَدِمَا لِتِجَارَةٍ لَهُمَا، فَقَالَ لِلْفَتَى: هَلْ فِيكَ مِنْ خَيْرٍ؟ ثُمَّ مَضَى عَنْهُ ثُمَّ كَرَّ عَلَيْهِ فَكَمِثْلِهَا، ثُمَّ مَضَى عَنْهُ ثُمَّ كَرَّ عَلَيْهِ فَكَمِثْلِهَا قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَأَرِنِي يَدَكَ فَانْطَلَقَ بِهِ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ وَأَمَرَهُ بِنِكَاحِهَا فَنَكَحَهَا فَبَاتَ مَعَهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ اسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ فَإِذَا هُوَ قَدْ وَلَّاهَا الدُّبُرَ، فَقَالَتْ وَاللهِ لَئِنْ طَلَّقَنِي لَا أَنْكِحُكَ أَبَدًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَاهُ فَقَالَ:" لَوْ نَكَحْتَهَا لَفَعَلْتَ بِكَ كَذَا وَكَذَا وَتَوَاعَدَهُ، وَدَعَا زَوْجَهَا فَقَالَ:" الزَمْهَا"، وَزَادَ فِيهِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فَقَالَ وَقَالَ:" وَإِنْ عَرَضَ لَكَ أَحَدٌ بِشَيْءٍ فَأَخْبِرْنِي بِهِ".
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قریشی شخص نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دے دی تو وہ بازار میں ایک دیہاتی شیخ اور اس کے بیٹے کے پاس سے گزرا جو تجارت کی غرض سے بازار آئے تھے۔ پھر اس نے جوان سے کہا: کیا تیرے اندر بھلائی ہے؟ وہ ان کے پاس سے چلا گیا، پھر دوبارہ پلٹ کر آیا، اس نے ویسے ہی کہا، پھر وہ چلا گیا۔ اس نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: مجھے اپنا ہاتھ دکھاؤ۔ پھر وہ اس کے ساتھ گیا اور اسے خبر دی اور اس عورت سے نکاح کا حکم دیا۔ اس نے اس عورت کے ساتھ رات گزاری۔ جب اس نے صبح کی اور اجازت طلب کی تو اجازت مل گئی۔ پھر وہ اچانک اس سے پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا تو اس عورت نے کہا: اگر اب اس نے مجھے طلاق دی تو میں آئندہ کبھی بھی تجھ سے نکاح نہ کروں گی۔ اس بات کا تذکرہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ہوا تو انہوں نے اس (قریشی) کو بلایا اور فرمایا: اگر تو اس عورت سے نکاح کرتا تو میں تیرے ساتھ اس طرح اور اس طرح کرتا، اور اس کو ڈرایا، اور اس کے خاوند کو بلایا اور فرمایا: اس کو لازم پکڑو اور دوسری جگہ ہے کہ فرمایا: اگر کوئی چیز آپ کے لیے پیش آئے تو مجھے خبر دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14196]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14197
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ امْرَأَةً طَلَّقَهَا زَوْجُهَا ثَلَاثًا، وَكَانَ مِسْكِينٌ أَعْرَابِيٌّ يَقْعُدُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: هَلْ لَكَ فِي امْرَأَةٍ تَنْكِحُهَا فَتَبِيتُ مَعَهَا اللَّيْلَةَ، وَتُصْبِحُ فَتُفَارِقُهَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَكَانَ ذَلِكَ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: إِنَّكَ إِذَا أَصْبَحْتَ فَإِنَّهُمْ سَيَقُولُونَ لَكَ فَارِقْهَا فَلَا تَفْعَلْ ذَلِكَ، فَإِنِّي مُقِيمَةٌ لَكَ مَا تَرَى وَاذْهَبْ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَتْ أَتَوْهُ وَأَتَوْهَا، فَقَالَتْ: كَلِّمُوهُ فَأَنْتُمْ جِئْتُمْ بِهِ فَكَلِّمُوهُ فَأَبَى، فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" الزَمِ امْرَأَتَكَ فَإِنْ رَابُوكَ بِرِيبَةٍ فَأْتِنِي"، وَأَرْسَلَ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَشَتْ لِذَلِكَ فَنَكَّلَ بِهَا، ثُمَّ كَانَ يَغْدُو عَلَى عُمَرَ وَيَرُوحُ فِي حُلَّةٍ فَيَقُولُ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَاكَ يَا ذَا الرُّقْعَتَيْنِ حُلَّةً تَغْدُو فِيهَا وَتَرُوحُ"، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَسَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مُسْنَدًا شَاذًّا مُتَّصِلًا عَنِ ابْنِ سِيرِينَ يُوصِلُهُ عَنْ عُمَرَ مِثْلَ هَذَا الْمَعْنَى.
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت کو اس کے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں۔ ایک مسکین دیہاتی مسجد کے دروازے پر بیٹھا کرتا تھا۔ اس کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی: کیا تجھے ایک عورت میں دلچسپی ہے کہ تو اس سے نکاح کرے، ایک رات اس کے ساتھ گزارے اور صبح کو اسے جدا کر دے؟ اس نے کہا: ہاں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پھر اس کی بیوی نے اس سے کہا: جب تو صبح کرے گا تو وہ تجھ سے کہیں گے کہ اسے جدا کر دے، تو ایسا نہ کرنا، جو کچھ تو دیکھ رہا ہے میں تیرے لیے اس کا انتظام کروں گی، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جانا۔ جب صبح ہوئی تو وہ لوگ اس کے پاس بھی آئے اور عورت کے پاس بھی۔ عورت نے کہا: تم اس سے بات کرو، تم ہی اسے لے کر آئے تھے۔ انہوں نے اس سے بات کی لیکن اس نے انکار کر دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا تو انہوں نے فرمایا: اپنی بیوی کو لازم پکڑو، اگر وہ تمہیں کسی شک میں ڈالیں تو میرے پاس آ جانا۔ اور آپ نے اس عورت کو بلوایا جو اس کام کے لیے دوڑ دھوپ کر رہی تھی اور اسے عبرتناک سزا دی۔ پھر وہ مسکین صبح و شام حلہ پہن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کرتا تھا اور آپ فرماتے: تمام تعریفیں اس اللہ کی ہیں جس نے اے دو پیوندوں والے! تجھے ایسا حلہ پہنایا جس میں تو صبح و شام آتا جاتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابن سیرین سے مسند، شاذ اور متصل بھی سنی ہے، وہ اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک اسی مفہوم کے ساتھ متصل بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14197]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2934. -- باب: نكاح المحرم
-- باب: محرم (احرام باندھنے والے) کے نکاح کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14198
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّصْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَهُ عَلَى مَالِكٍ ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو ⦗٣٤٢⦘ عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَبِيهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ لِيَحْضُرَ لِذَلِكَ وَهُوَ أَمِيرُ الْحَاجِّ فَقَالَ أَبَانُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكَحُ وَلَا يَخْطُبُ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
نبیہ بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبیداللہ نے طلحہ بن عمر بنت شیبہ بن جبیر سے نکاح کا ارادہ کیا، تو انہوں نے ابان بن عثمان امیرِ حج کو دعوت دی، تو ابان کہنے لگے: میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ نکاح کرے اور نہ اس کا نکاح کیا جائے اور منگنی کا پیغام بھی نہ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14198]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1409»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14199
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنِي نَبِيهُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: بَعَثَنِي عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَعْمَرٍ وَكَانَ يَخْطُبُ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَلَى ابْنِهِ، فَأَرْسَلَنِي إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ، فَقَالَ: أَلَا أُرَاهُ أَعْرَابِيًّا" إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكَحُ"، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ.
نبیہ بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر رحمہ اللہ نے مجھے بھیجا کہ وہ اپنے بیٹے کا شیبہ بن عثمان کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ رکھتے تھے۔ انہوں نے ابان بن عثمان رحمہ اللہ کو بھی دعوت دی جو امیر الحجاج تھے تو وہ کہنے لگے: میں اس کو دیہاتی خیال کرتا ہوں؛ کیونکہ ”محرم نہ تو اپنا نکاح کرتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کا۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے یہ بیان فرمایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14199]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14200
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، وَيَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نَبِيهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكَحُ وَلَا يَخْطُبُ" قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْهُمَا، مَطَرٍ، وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَأَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نَبِيهِ بْنِ وَهْبٍ، وَرُوِيَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا، وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، ⦗٣٤٣⦘ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا بِالشَّكِّ، وَالصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ.
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ تو اپنا اور نہ ہی کسی کا نکاح کرے اور نہ ہی منگنی کا پیغام دے۔“
یہی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، مگر انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان نہیں کیا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوع بھی روایت کی گئی ہے، لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14200]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14201
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ:" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالتِ احرام میں نکاح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14201]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1410»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14202
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، وَهُوَ ابْنُ أُخْتِ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ".
یزید بن اصم رحمہ اللہ، وہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح حلال ہونے کی صورت میں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14202]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں