🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2990. -- باب: طعام المتبارين وهما المتعارضان بفعليهما رئاء ومباهاة حتى يرى أيهما يغلب صاحبه
-- باب: ان دو فخر کرنے والوں کے کھانے کا بیان جو اپنے افعال کے ذریعے دکھاوے اور فخر میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جائے کہ ان میں سے کون اپنے ساتھی پر غالب آتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14599
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، نا أَبِي، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِينَ أَنْ يُؤْكَلَ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَكْثَرُ مَنْ رَوَاهُ عَنْ جَرِيرٍ لَا يَذْكُرُ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَهَارُونُ النَّحْوِيُّ ذَكَرَ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَيْضًا وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو مقابلہ باز یعنی فخر کرنے والوں کا کھانا کھانے“ سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14599]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه السجستاني 3754»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2991. -- باب: نسخ الضيق في الأكل من مال الغير إذا أذن له فيه
-- باب: دوسرے کے مال میں سے کھانے کی تنگی کے منسوخ ہونے کا بیان، جب وہ اسے اس کی اجازت دے دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14600
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: {لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ} [النساء: ٢٩] " فَكَانَ الرَّجُلُ يُحَرِّجَ أَنْ يَأْكُلَ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ بَعْدَمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَنَسَخَ ذَلِكَ الْآيَةُ الَّتِي فِي النُّورِ فَقَالَ: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ} إِلَى قَوْلِهِ {أَشْتَاتًا} [النور: ٦١] " كَذَا قَالَ يُرِيدُ قَوْلَهُ: {لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ خَالِاتِكُمْ، أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ، أَوْ صَدِيقِكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا} [النور: ٦١] ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ الْغَنِيُّ يَدْعُو الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِهِ إِلَى الطَّعَامِ قَالَ: إِنِّي لَا ⦗٤٤٩⦘ جُنَاحَ أَنْ آكُلَ مِنْهُ، قَالَ: وَالتَّجَنُّحُ الْحَرَجُ، وَيَقُولُ: الْمِسْكِينُ أَحَقُّ بِهِ مِنِّي فَأَحَلَّ فِي ذَلِكَ أَنْ يَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ وَأَحَلَّ طَعَامَ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَذَكَرَ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ فِي قَوْلِهِ: {لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ} [النور: ٦١] الْآيَةَ، إِنَّ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا إِذَا غَزَوْا خَلَّفُوا زَمْنَاهُمْ فِي بُيُوتِهِمْ فَيَدْفَعُوا إِلَيْهِمْ مَفَاتِيحَ أَبْوَابِهِمْ وَيَقُولُوا قَدْ أَحْلَلْنَا لَكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِمَّا فِي بُيُوتِنَا فَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ مِنْ ذَلِكَ يَقُولُونَ: لَا نَدْخُلُهَا وَهُمْ غُيَّبٌ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رُخْصَةً لَهُمْ. هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُرْسَلًا. وَعَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ مُرْسَلًا بِمَعْنَاهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ..
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] ”تم اپنے مالوں کو آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ تم آپس میں رضامندی سے تجارت کرو۔“ اس آیت کے نزول کے بعد مرد کسی کے پاس کھانا کھانے میں حرج محسوس کرتے تھے تو سورہ النور والی آیت نے اس کو منسوخ کر دیا: ﴿لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ...﴾ [سورة النور: 61] الی قولہ ﴿أَشْتَاتًا﴾ [سورة النور: 61] ”اور تمہارے نفس پر بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ۔ الی قولہ یا متفرق۔“ اسی طرح اس قول سے بھی یہی مراد ہے: ﴿لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا﴾ [سورة النور: 61] ”نابینا انسان پر بھی تنگی نہیں اور نہ ہی لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور بیمار پر بھی کوئی تنگی نہیں ہے اور نہ ہی تمہیں آپس میں یہ کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن کی چابیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوست کے گھر سے۔ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اکٹھے کھاؤ یا متفرق۔“ کہتے ہیں کہ غنی آدمی اپنے خاندان والے کسی غریب کو دعوت دیتا اور پھر اس کے ساتھ مل کر کھانے کو گناہ خیال کرتا اور مسکین کہتا کہ وہ مجھ سے زیادہ حق دار ہے، اور ان کے لیے وہ کھانا جائز رکھا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال رکھا۔
(ب) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ﴿لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ﴾ [سورة النور: 61] ”جب مسلمان جہاد میں جاتے تو اپنے گھروں کی چابیاں دوسروں کو دے جاتے اور کہہ دیتے: جو ہمارے گھروں میں موجود ہے کھا لینا، لیکن وہ پھر بھی حرج محسوس کرتے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرما کر رخصت عنایت فرما دی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14600]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14601
وَرَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَخْزَمَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الصَّحِيحُ حَدِيثُ يَعْقُوبَ وَمَعْمَرٍ. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، نا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، نا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى قَالُوا: نَخْشَى أَنْ لَا تَكُونَ أَنْفُسُهُمْ طَيِّبَةً وَإِنْ قَالُوهُ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ.
ابوداؤد رحمہ اللہ اسے ذکر کرتے ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں یہ دل کی خوشی سے نہ ہو، اگرچہ انہوں نے کہہ بھی دیا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صحیح یعقوب اور معمر کی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14601]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للسجستاني»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14602
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا آدَمُ، نا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" كَانَ رِجَالٌ زَمْنَى عُمْيٌ وَعُرْجٌ أُولِي حَاجَةٍ يَسْتَتْبِعُهُمْ رِجَالٌ إِلَى بُيُوتِهِمْ فَإِنْ لَمْ يَجِدُوا لَهُمْ فِي بُيُوتِهِمْ طَعَامًا ذَهَبُوا بِهِمْ إِلَى بُيُوتِ آبَائِهِمْ وَبُيُوتِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَنْ عُدَّ مَعَهُمْ مِنَ الْبُيُوتِ، فَكَرِهَ ذَلِكَ الْمُسْتَتْبَعُونَ وَقَالُوا: يَذْهَبُونَ بِنَا إِلَى بُيُوتٍ غَيْرِ بُيُوتِهِمْ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: {لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ} [البقرة: ٢٣٦] فِي ذَلِكَ وَأَحَلَّ لَهُمُ الطَّعَامَ مِنْ حَيْثُ وَجَدُوهُ" قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي إِذَا رَضِيَ بِهِ مَالِكُهُ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ مَعَ رِضَا الْمَالِكِ بِهِ فَرُفِعَ الْحَرَجُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ بِرِضَاهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ نابینا، لنگڑے اور ضرورت مند کسی کے پیچھے ان کے گھر تک جاتے۔ اگر وہ اشخاص اپنے گھروں میں ان کے لیے کھانا نہ پاتے تو ان کو اپنے والدین کے گھروں پر لے جاتے، جو انہوں نے اپنے گھروں کے ساتھ تعمیر کیے ہوتے تھے، تو پیچھے جانے والے اس کو برا خیال کرتے اور کہتے کہ وہ اپنے گھروں سے دوسرے گھروں کی طرف لے جاتے ہیں، تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ﴾ [سورة البقرة: 236] ”ان کے لیے کھانا حلال ہے جہاں بھی وہ پائیں۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مالک کی رضامندی کے باوجود حرج محسوس کرنا درست نہیں کیونکہ مالک کی رضا سے حرج ختم ہو چکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14602]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2992. -- باب: اجتماع الداعيين
-- باب: دو دعوت دینے والوں کے ایک ساتھ جمع ہو جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14603
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، نا ابْنُ نُفَيْلٍ، ح قَالَ: وَأنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَالِسِيُّ، نا النُّفَيْلِيُّ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّالَانِيُّ، ح ⦗٤٥٠⦘ وَأنا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنا أَبُو دَاوُدَ، نا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا فَإِنَّ أَقْرَبَهُمَا بَابًا أَقْرَبُهُمَا جِوَارًا وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبِ الَّذِي سَبَقَ".
حمید بن عبدالرحمن حمیری رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو دعوت دینے والے اکٹھے ہوجائیں تو قریبی دروازے والے کی دعوت قبول کر؛ کیونکہ گھر کے قریبی دروازے والا زیادہ قریبی ہمسایہ ہے، اگر کوئی پہلے آجائے تو پہلے کی دعوت کو قبول کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14603]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2993. -- باب: غسل اليد قبل الطعام وبعده
-- باب: کھانے سے پہلے اور اس کے بعد ہاتھ دھونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14604
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، نا قَيْسٌ هُوَ ابْنُ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: فِي التَّوْرَاةِ إِنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَبَعْدَهُ"، قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ غَيْرُ قَوِيٍّ وَلَمْ يَثْبُتْ فِي غَسْلِ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ حَدِيثٌ.
زاذان سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ توراۃ میں موجود تھا کہ کھانے سے پہلے وضو کرنے میں برکت ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرنا برکت ہے۔“
قیس بن ربیع مضبوط راوی نہیں ہے، اس لیے کھانے سے پہلے ہاتھوں کا دھونا حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14604]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14605
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، وَعَبَّاسٌ قَالَا: نا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا وُهَيْبٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ" وَرَوَاهُ عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رات گزاری اور اس کے ہاتھ میں چکناہٹ تھی، اس کو کسی چیز نے ڈس لیا تو وہ صرف اپنے نفس کو ملامت کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14605]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14606
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، نا زُهَيْرٌ، نا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ"، ⦗٤٥١⦘ وَحَدِيثُ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ فِي مَضْمَضَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَضْمَضَتِهِمْ بَعْدَ أَكْلِهِمُ السَّوِيقَ دَلِيلٌ فِي هَذَا الْبَابِ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، فَالْحَدِيثُ فِي غَسْلِ الْيَدِ بَعْدَ الطَّعَامِ حَسَنٌ، وَهُوَ قَبْلَ الطَّعَامِ ضَعِيفٌ، وَفِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلَاءَ ثُمَّ رَجَعَ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَتَوَضَّأْ؟ فَقَالَ:" لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سو گیا اور اس کے ہاتھ میں چکناہٹ ہو، اس کو دھویا نہیں، پھر کسی چیز نے اسے ڈس لیا تو وہ اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔“
(ب) سوید بن نعمان کی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم ستو کھانے کے بعد کلی کرتے تھے اور کتاب الطہارۃ میں حدیث، کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے بارے میں حسن ہے اور کھانے سے پہلے ہاتھوں کا دھونا، یہ ضعیف حدیث ہے۔
(ج) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء آئے اور واپس پلٹے تو کھانا لایا گیا تو کہا گیا: ”کیا آپ اللہ کے رسول وضو نہ فرمائیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیوں؟ میں نماز پڑھوں گا تو وضو کرلوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14606]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله، دون قوله يغسله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2994. -- باب: التسمية على الطعام
-- باب: کھانے پر بسم اللہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14607
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، نا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، فَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے اور کھانے کے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ تمہارے لیے نہ رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ ہی شام کا کھانا۔ جب گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی، اور جب کھانے کے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ نہیں پڑھتا تو شیطان کہتا ہے کہ تم کو رات گزارنے کی جگہ اور شام کا کھانا بھی مل گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14607]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2018»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14608
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا هِشَامٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدٌ هُوَ الْأَصَمُّ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَيْمُونِيُّ، نا رَوْحٌ، نا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا أُمُّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ فِي سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَائِعٌ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهُ لَوْ ذَكَرَ اسْمَ اللهِ لَكَفَاكُمْ فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللهِ فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ"، لَفْظُ حَدِيثِ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ کے ساتھ مل کر کھا رہے تھے تو ایک بھوکا دیہاتی آیا، اس نے دو لقمے کھائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے اللہ کا ذکر کیا، یعنی بسم اللہ پڑھی تو یہ تمہیں کفایت کر جائے گا، جب تم کھانا کھاؤ تو اللہ کا نام لیا کرو۔ اگر شروع میں اللہ کا نام لینا بھول جائے تو یہ دعا پڑھے: «بِسْمِ اللّٰهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ» ”شروع اور آخر میں اللہ کا نام ہے۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14608]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں