السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3017. -- باب: ساقي القوم آخرهم
-- باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ کا بیان کہ ”قوم کو پلانے والا خود سب کے آخر میں پیے“۔
حدیث نمبر: 14669
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: نا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ النَّاسَ عَطَشٌ فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللهِ اشْرَبْ فَقَالَ:" سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، لوگوں کو پیاس لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کہہ رہے تھے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! پیئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14669]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14670
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، نا عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصَابَهُمْ عَطَشٌ فَجَعَلَ ⦗٤٦٧⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْقِيهِمْ فَقِيلَ أَلَا تَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ" وَقَدْ رَوَيْنَا هَذَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ.
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پیاس لگ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو پلا رہے تھے تو کہا گیا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14670]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
3018. -- باب: ما يقول إذا فرغ من الطعام
-- باب: اس دعا کا بیان جو انسان کھانے سے فارغ ہونے کے بعد پڑھے۔
حدیث نمبر: 14671
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ نا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، نا أَبُو نُعَيْمٍ الْمُلَائِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ: حَمْدًا كَثِيرًا.
ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيْرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا» ”کثرت اور برکت سے بھر پور ساری تعریفیں صرف اللہ کے لیے ہیں جو نہ ختم ہوں اور نہ ان کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی دکھائی جا سکتی ہے، اے ہمارے پروردگار!“
(ب) دوسرے راویوں نے اس میں «حَمْدًا كَثِيْرًا» کا اضافہ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14671]
(ب) دوسرے راویوں نے اس میں «حَمْدًا كَثِيْرًا» کا اضافہ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14671]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5458۔ 5459»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14672
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْمُجَوِّزُ، نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، نا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ الْعَشَاءَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: وَقَالَ مَرَّةً إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَأَرْوَانَا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مَكْفُورٍ" قَالَ: وَقَالَ مَرَّةً:" لَكَ الْحَمْدُ رَبَّنَا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا"، وَفِيهِ أَخْبَارٌ أُخَرُ قَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الدَّعَوَاتِ.
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے: ” «الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا» کثرت اور برکت سے بھرپور ساری تعریفیں صرف اللہ کے لیے ہیں جو نہ ختم ہوں اور نہ ان کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی دکھائی جا سکتی ہے، اے ہمارے پروردگار!“
(ب) صحیح بخاری میں ابو عاصم سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوتے اور دوسری مرتبہ کہتے ہیں کہ جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو دعا فرماتے: ” «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَأَرْوَانَا، غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مَكْفُورٍ» تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے ہمیں سیر اور سیراب کیا، نہ ختم ہونے والی نعمت اور نہ ہی اس کی بے قدری کی جائے گی“ اور دوسری مرتبہ فرماتے: ” «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّنَا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا» اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں جو ختم نہ ہوں اور نہ ان کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی دکھائی جا سکتی، اے ہمارے پروردگار!“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14672]
(ب) صحیح بخاری میں ابو عاصم سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوتے اور دوسری مرتبہ کہتے ہیں کہ جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو دعا فرماتے: ” «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَأَرْوَانَا، غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مَكْفُورٍ» تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے ہمیں سیر اور سیراب کیا، نہ ختم ہونے والی نعمت اور نہ ہی اس کی بے قدری کی جائے گی“ اور دوسری مرتبہ فرماتے: ” «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّنَا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا» اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں جو ختم نہ ہوں اور نہ ان کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی دکھائی جا سکتی، اے ہمارے پروردگار!“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14672]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
3019. -- باب: الدعاء لرب الطعام
-- باب: کھانا کھلانے والے (میزبان) کے لیے دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q14673
قَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَ عَلَى أَبِيهِ وَقَالَ: ادْعُ لَنَا، فَقَالَ:" اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ".
ہمیں سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت پہنچی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے والد کے ہاں (مہمان بن کر) تشریف لائے اور انہوں نے عرض کیا: ”ہمارے لیے دعا فرمائیے۔“
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو نے انہیں جو رزق عطا کیا ہے اس میں ان کے لیے برکت عطا فرما، اور ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: Q14673]
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو نے انہیں جو رزق عطا کیا ہے اس میں ان کے لیے برکت عطا فرما، اور ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: Q14673]
حدیث نمبر: 14673
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ ⦗٤٦٨⦘ اللهِ قَالَ سَعْدٌ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا، وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا وَهِيَ بِأُذُنِي، وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ، وَمِنَ الْبَرَكَةِ ثُمَّ دَخَلُوا الْبَيْتَ، فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:" أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ یا کوئی دوسرے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو فرمایا: ” «السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“”تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہما نے کہا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”اور تم پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کہا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہما نے تین مرتبہ ہی جواب دیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہما بھی پیچھے چلے اور کہا: میرے والد آپ پر قربان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی سلام کیا، میرے ان کانوں نے سنا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب بھی دیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنوایا نہیں؛ کیونکہ میں پسند کرتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلامتی اور برکت کی دعا کی کثرت چاہتا تھا۔ پھر وہ گھر میں داخل ہوئے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے منقہ رکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا کر فارغ ہوئے تو فرمایا: ” «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ» ”نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا اور فرشتوں نے تمہارے لیے دعا کی اور روزے داروں نے تمہارے پاس افطار کیا۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14673]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14674
وَرَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ نا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُ الْأَنْصَارَ فَذَكَرَ قِصَّةً فِي دُخُولِهِ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ بِمَعْنَى هَذَا وَلَمْ يَشُكَّ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ نا الصَّغَانِيُّ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ نا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ فَذَكَرَهُ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی زیارت کو جاتے تھے۔۔۔ اس نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہونے کا قصہ بھی بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14674]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
3020. -- باب: ما جاء في النثار في الفرح
-- باب: خوشی کے موقع پر نچھاور کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14675
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، أنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، نا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ، وَهُوَ جَدُّهُ أَبُو أُمِّهِ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَى وَالْمُثْلَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بکھیرنے اور مثلہ کرنے“ سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14675]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2474»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14676
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو الْحَارِثِ الْوَرَّاقُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ غُلَامًا مِنَ الْكُتَّابِ حَذَقَ فَأَمَرَ أَبُو مَسْعُودٍ" فَاشْتَرَى لِصِبْيَانِهِ بِدِرْهَمٍ جَوْزًا وَكَرِهَ النُّهْبَى".
خالد بن سعد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مکتب کا ایک بچہ (پڑھائی میں) ماہر ہو گیا تو ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور اپنے بچوں کے لیے ایک درہم کے اخروٹ خریدے اور بکھیرنے کو مکروہ جانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14676]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14677
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنا السَّاجِيُّ، نا ابْنُ الْمُثَنَّى، نا عَبْدُ الصَّمَدِ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حِصْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ،" كَرِهَ نَهَابَ الْغِلْمَانِ".
خالد بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو مسعود رضی اللہ عنہ بچوں کے (بکھیری ہوئی چیزیں) لوٹنے کو ناپسند کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14677]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف