السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2952. -- باب: ما يجوز أن يكون مهرا
-- باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14391
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٌّ أَنْبَأَ السَّاجِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُثَنَّى، يَقُولُ: مَا سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، وَلَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ، شَيْئًا قَطُّ وَبِمَعْنَاهُ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ⦗٣٩٤⦘ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِ ذَلِكَ.
ابن مثنیٰ فرماتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمن بن مہدی کو کبھی نہیں سنا کہ انہوں نے ہمیں سفیان کے واسطے سے داؤد بن یزید سے کوئی روایت بیان کی ہو، اور عمرو بن علی نے بھی اسی معنی کی بات کہی ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14391]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14391]
حدیث نمبر: 14392
أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" الصَّدَاقُ مَا تَرَاضَى بِهِ الزَّوْجَانِ".
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حق مہر وہ ہے جس پر میاں بیوی راضی ہوجائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14392]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14393
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ قَالَ: بُشِّرَ رَجُلٌ بِجَارِيَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ: هَبْهَا لِي فَذُكِرَ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَقَالَ:" لَمْ تَحِلَّ الْمَوْهُوبَةُ لِأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ أَصْدَقَهَا سَوْطًا فَمَا فَوْقَهُ جَازَ" وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ:" وَلَوْ أَصْدَقَهَا سَوْطًا أُحِلَّتْ لَهُ".
یزید بن عبداللہ بن قسیط رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو بیٹی (کی پیدائش) کی خوشخبری دی گئی تو ایک دوسرے آدمی نے کہا: اسے مجھے ہبہ کر دو۔ اس کا تذکرہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے سامنے ہوا تو وہ فرمانے لگے: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہبہ کی گئی عورت کسی کے لیے حلال نہیں ہے، اگر مرد عورت کو ایک کوڑا یا اس سے زیادہ حقِ مہر دے دے تو وہ جائز ہے۔“ اور دوسری جگہ پر ہے کہ ”اگر ایک کوڑا حقِ مہر دے دے تو وہ اس کے لیے حلال ہو جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14393]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافي في الام 5/60»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14394
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي يَحْيَى قَالَ: سَأَلْتُ رَبِيعَةَ كَمْ أَقَلُّ الصَّدَاقِ؟ فَقَالَ:" مَا تَرَاضَى بِهِ الْأَهْلُونَ"، قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ دِرْهَمًا؟ قَالَ:" وَإِنْ كَانَ نِصْفَ دِرْهَمٍ" قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ؟ قَالَ:" وَلَوْ كَانَ قَبْضَةً مِنْ حِنْطَةٍ أَوْ حَبَّةَ حِنْطَةٍ وَاللهُ أَعْلَمُ".
ابن ابی یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ربیعہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ حق مہر کتنا کم ہونا چاہیے؟ فرماتے ہیں: جتنے پر گھر والے راضی ہو جائیں، میں نے کہا: اگرچہ ایک درہم ہی ہو۔ فرمانے لگے: اگرچہ نصف درہم ہی کیوں نہ ہو۔ میں نے کہا: اگر اس سے بھی کم ہو؟ فرماتے ہیں: اگرچہ ایک مٹھی گندم یا گندم کے دانے ہی کیوں نہ ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14394]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2953. -- باب: ما جاء في حبس الصداق عن المرأة
-- باب: عورت کا مہر روک لینے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14395
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مِنْ أَعْظَمِ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللهِ رَجُلٌ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا طَلَّقَهَا وَذَهَبَ بِمَهْرِهَا وَرَجُلٌ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا فَذَهَبَ بِأُجْرَتِهِ وَآخَرُ يَقْتُلُ دَابَّةً عَبَثًا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص عورت سے شادی کرنے اور اپنی حاجت پوری کرلینے کے بعد اسے طلاق دے دے اور اس کا مہر بھی لے جائے، اور ایسا شخص جس نے کسی سے کام کروایا اور اس کی اجرت لے گیا، اور وہ شخص جس نے کسی کی سواری کو فضول میں قتل کر دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14395]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14396
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُصَيْنِ بْنِ الْقَاسِمِ الْقَصَّاصُ، مَوْلَى قُرَيْشٍ قَالَ: سَمِعْتُ السَّكَنَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" حُبُّ الْأَنْصَارِ إِيمَانٌ، وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى صَدَاقٍ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يُعْطِيَهَا فَهُوَ زَانٍ" ⦗٣٩٥⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ عَنِ السَّكَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَرُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ عَنْ صُهَيْبٍ مَرْفُوعًا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار سے محبت ایمان ہے اور انصار سے بغض کفر ہے اور وہ شخص جو عورت سے شادی حق مہر پر کرتا ہے لیکن ادا کرنے کا ارادہ نہیں ہے تو یہ زانی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14396]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14397
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ قَالَ: سَمِعْتُ صُهَيْبَ بْنَ سِنَانٍ، يُحَدِّثُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَصْدَقَ امْرَأَةً صَدَاقًا وَاللهُ يَعْلَمُ مِنْهُ أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَيْهَا فَغَرَّهَا بِاللهِ وَاسْتَحَلَّ فَرْجَهَا بِالْبَاطِلِ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ زَانٍ".
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جس نے عورت کو حق مہر دینے کا ارادہ ظاہر کیا اور اللہ جانتا ہے کہ وہ حقیقت میں حق مہر ادا نہیں کرنا چاہتا، تو اس نے اسے اللہ کے نام پر دھوکا دیا اور باطل طریقے سے شرمگاہ کو حلال کیا، وہ قیامت کے دن زانی ہونے کی حالت میں اللہ سے ملاقات کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14397]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2954. -- باب: النكاح على تعليم القرآن
-- باب: قرآن مجید سکھانے پر (بطورِ مہر) نکاح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14398
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟" فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا"، فَقَالَ: مَا أَجِدُ شَيْئًا قَالَ:" الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟" قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ..
ابو حازم، حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”میں نے اپنا نفس آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے“، وہ زیادہ دیر کھڑی رہی تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو ضرورت نہیں تو میرا نکاح کر دیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس حق مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟“ وہ کہتا ہے: ”میری یہ چادر ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چادر تو نے اس کو دے دی تو پھر تو بغیر چادر کے رہ جائے گا، کچھ تلاش کرو“، اس نے کہا: ”میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کرو“، تلاش کے باوجود اس کو کچھ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ کہنے لگا: ”فلاں فلاں سورت یاد ہے“، اس نے نام لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14398]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه، وقد تقدم كثيرا»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14399
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، أنبأ زَائِدَةُ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِبَعْضِ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ. وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَتَمُّ وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" هَلْ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا؟" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" انْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا تُعَلِّمُهَا مِنَ الْقُرْآنِ" ⦗٣٩٦⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَقَالَ: انْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَعَلِّمْهَا مِنَ الْقُرْآنِ.
ابو حازم حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، انہوں نے مالک رحمہ اللہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کی اور مالک رحمہ اللہ کی حدیث مکمل ہے، اس کے آخر میں ہے: ”کیا تو نے قرآن سے کچھ پڑھا ہوا ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ میں نے تیرا نکاح اس عورت سے کر دیا ہے، آپ اس کو قرآن کی تعلیم دیں گے۔“
(ب) ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ ”جاؤ میں نے تیرا نکاح اس عورت سے کر دیا ہے، تو اس کو قرآن کی تعلیم دے دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14399]
(ب) ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ ”جاؤ میں نے تیرا نکاح اس عورت سے کر دیا ہے، تو اس کو قرآن کی تعلیم دے دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14399]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14400
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عَسَلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوَ قِصَّةِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ لَمْ يَذْكُرِ الْإِزَارَ وَالْخَاتَمَ، فَقَالَ: مَا تَحْفَظُ مِنَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَالَّتِي تَلِيهَا قَالَ: قُمْ فَعَلِّمْهَا عِشْرِينَ آيَةً وَهِيَ امْرَأَتُكَ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَفِي رِوَايَةِ الرَّازِيِّ" وَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا" وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ عَسَلٍ فَأَرْسَلَهُ.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے قصے کی طرح ہی نقل فرماتے ہیں، لیکن اس میں چادر اور انگوٹھی کا تذکرہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: ﴿سورة البقرة﴾ اور اس سے ملی ہوئی سورت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ، اسے بیس آیات کی تعلیم دے دو، یہ آپ کی بیوی ہے“ اور رازی کی روایت میں ہے کہ ”میں نے تیرا نکاح اس عورت سے کر دیا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14400]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف