السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3056. -- باب: ما جاء في خضاب النساء
-- باب: عورتوں کے خضاب لگانے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14831
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدٌ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ الرَّمَّامُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَنِ الْخِضَابِ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَتْ: كَانَ سَيِّدِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَكْرَهُ رِيحَهُ أَوْ لَا يُحِبُّ رِيحَهُ وَلَيْسَ يُحَرِّمُ عَلَيْكُنَّ أَخَوَاتِي أَنْ تَخَضَّبْنَ" وَقَدْ مَضَى سَائِرُ مَا رُوِيَ فِيهِ فِي بَابِ مَا تُبْدِي الْمَرْأَةُ مِنْ زِينَتِهَا.
کریمہ بنت ہمام کہتی ہیں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی تو ایک عورت نے بالوں کو مہندی سے رنگنے کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میرے سردار یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو کو ناپسند کرتے تھے یا (فرمایا:) اس کی بو کو پسند نہیں کرتے تھے، لیکن اے میری بہنو! تمہارے لیے مہندی لگانا حرام نہیں ہے۔ اس بارے میں باقی روایات اس باب میں گزر چکی ہیں کہ عورت اپنی زینت میں سے کیا ظاہر کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14831]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3057. -- باب: ما لا يجوز للمرأة أن تتزين به
-- باب: ان چیزوں کا بیان جن کے ساتھ عورت کا زیب و زینت کرنا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14832
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، نا مُسَدَّدٌ، نا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَعَنَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرٍ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سرمہ بھرنے اور بھروانے والی پر، اور جو اپنے سر میں مصنوعی بال لگاتی ہے اور جو لگواتی ہے“ لعنت فرمائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14832]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14833
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا جَرِيرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَعَنَ اللهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ" فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللهِ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ ⦗٥١٠⦘ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] قَالَتْ: فَإِنِّي رَأَيْتُ شَيْئًا مِنْ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ، قَالَ: فَاذْهَبِي فَانْظُرِي فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ تُجَامِعْنَا لَفْظُ حَدِيثِ إِسْحَاقَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سرمہ بھرنے والیوں اور بھروانے والیوں، بھنوؤں اور رخسار کے بال اکھیڑنے والیوں اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کو باریک بنانے والیوں اور اللہ کی تخلیق کو بدلنے والیوں پر اللہ کی لعنت ہے“ تو بنو اسد قبیلے کی ایک عورت کو یہ خبر ملی جس کو ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی تلاوت کرتی تھی۔ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے آپ کی طرف سے ایک حدیث پہنچی ہے کہ آپ سرمہ بھرنے والیوں اور بھروانے والیوں اور بھنوؤں کو اکھیڑنے والیوں اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کو باریک بنانے والیوں اور اللہ کی تخلیق کو بدلنے والیوں پر لعنت کرتے ہیں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں کیوں نہ اس پر لعنت کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ کی کتاب میں لعنت کی گئی ہے۔ اس عورت نے کہا: میں نے دونوں تختیوں کے درمیان، یعنی پورے قرآن مجید کی تلاوت کی ہے مجھے اس میں وہ بات نہیں ملی جو آپ کہہ رہے ہیں تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے وضاحت فرمائی: اگر تو نے قرآن مجید کی تلاوت کی ہوتی تو اس میں اس حکم کو پالیتی کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”جو رسول تمہیں دے دیں لے لو اور جس سے منع کر دیں رک جاؤ۔“ اس عورت نے جواب دیا کہ میں نے یہ اشیاء آپ کی عورت پر دیکھی ہیں تو کہنے لگے: جاؤ جا کر دیکھو تو اس نے جا کر دیکھا تو کچھ بھی نہ پایا۔ کہنے لگی: میں نے کچھ نہیں دیکھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر وہ ایسی ہوتی تو ہم کبھی اس سے جماع ہی نہ کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14833]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ" تَفْسِيرُ الْوَاصِلَةِ الَّتِي تَصِلُ الشَّعْرَ بِشَعْرِ النِّسَاءِ، وَالْمُسْتَوْصِلَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا، وَالنَّامِصَةُ الَّتِي تَنْقُشُ الْحَاجِبَ حَتَّى تُرِقَّهُ، وَالْمُتَنَمِّصَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا، وَالْوَاشِمَةُ الَّتِي تَجْعَلُ الْخِيلَانَ فِي وَجْهِهَا بِكُحْلٍ أَوْ مِدَادٍ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا" قَالَ الْفَرَّاءُ:" النَّامِصَةُ الَّتِي تَنْتِفُ الشَّعْرَ مِنَ الْوَجْهِ وَمِنْهُ قِيلَ لِلْمِنْقَاشِ الْمِنْمَاصِ لِأَنَّهُ يُنْتَفُ بِهِ".
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «الْوَاصِلَةُ» ”وہ عورت ہے جو عورتوں کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال ملاتی ہے“، «الْمُسْتَوْصِلَةُ» ”بال لگوانے والی“، «النَّامِصَةُ» ”بھنوؤں کو باریک کرنے والی“ اور «الْمُتَنَمِّصَةُ» ”بھنوؤں کے بال باریک کروانے والی“ ہے۔ «الْوَاشِمَةُ» ”ایسی عورت جو چہرے کے تل سرمہ یا سیاہی سے بھرے“ اور «الْمُسْتَوْشِمَةُ» ”تل بھروانے والی“ ہے۔
فراء رحمہ اللہ کہتے ہیں: «النَّامِصَةُ» ”چہرہ سے بال اکھیڑنے والی ہے“ اور «الْمِنْمَاصُ» ”جس کے ذریعے وہ بال اکھیڑتی ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14834]
فراء رحمہ اللہ کہتے ہیں: «النَّامِصَةُ» ”چہرہ سے بال اکھیڑنے والی ہے“ اور «الْمِنْمَاصُ» ”جس کے ذریعے وہ بال اکھیڑتی ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14834]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14835
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ" كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَغْرِزُ ظَهْرَ كَفِّهَا أَوْ مِعْصَمِهَا بِإِبْرَةٍ أَوْ مِسَلَّةٍ حَتَّى تُؤَثِّرَ فِيهِ ثُمَّ تَحْشُوهُ بِالْكُحْلِ أَوْ بِالنَّئُورِ فَيَخْضَرُّ يُقَالُ مِنْهُ وَشَمَتْ تَشِمُ وَشْمًا فَهِيَ وَشْمَةٌ وَالْأُخْرَى مَوْشُومَةٌ وَمُسْتَوْشِمَةٌ وَأَمَّا الْمُتَفَلِّجَاتُ فَهِيَ مِنْ تَفْلِيجِ الْأَسْنَانِ وَتَوْشِيرِهَا وَهُوَ أَنْ تُحَدِّدَهَا حَتَّى تَكُونَ فِي أَطْرَافِهَا رِقَّةٌ كَمَا تَكُونُ فِي أَسْنَانِ الْأَحْدَاثِ تَفْعَلُهُ الْمَرْأَةُ الْكَبِيرَةُ الْمُتَشَبِّهَةُ بِأُولَئِكَ" هَذَا مَعْنَى قَوْلِ أَبِي عُبَيْدَةَ وَأَبِي عُبَيْدٍ.
ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اپنی ہتھیلی کے ظاہر یا کلائی میں سوئی سے زخم کر کے سرمے یا پاؤڈر سے بھر دے تو یہ سبز ہو جاتا ہے۔
«التَّفْلِيْجُ» دانتوں کو باریک کرنا، ان کو تیز کرنا تاکہ ان کی اطراف باریک ہو جائیں جیسے جوانی میں ہوتے ہیں۔ یہ بوڑھی عورت نوجوان لڑکیوں کی مشابہت کی غرض سے کرتی ہے۔ یہی ابوعبیدہ رحمہ اللہ اور ابوعبید رحمہ اللہ کے قول کا معنیٰ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14835]
«التَّفْلِيْجُ» دانتوں کو باریک کرنا، ان کو تیز کرنا تاکہ ان کی اطراف باریک ہو جائیں جیسے جوانی میں ہوتے ہیں۔ یہ بوڑھی عورت نوجوان لڑکیوں کی مشابہت کی غرض سے کرتی ہے۔ یہی ابوعبیدہ رحمہ اللہ اور ابوعبید رحمہ اللہ کے قول کا معنیٰ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14835]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3058. -- باب: الوجه الذي تحل به الفدية
-- باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: Q14836
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} [البقرة: 229] .
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾ ”اور تمہارے لیے حلال نہیں کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ بھی واپس لو، سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس (مال) میں کوئی گناہ نہیں جو عورت (اپنی جان چھڑانے کے لیے) فدیہ میں دے دے۔“ [سورة البقرة: 229] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: Q14836]