السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3070. -- باب: الاختيار للزوج أن لا يطلق إلا واحدة
-- باب: شوہر کے لیے اس بات کو پسند کرنے کا بیان کہ وہ صرف ایک ہی طلاق دے۔
حدیث نمبر: 14942
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ قَالَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ وَأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ وَمَنْصُورٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، مَعْنَاهُمْ كُلُّهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَمَّا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرِوَايَةُ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ" أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ أَوْ أَمْسَكَ".
ابو وائل رحمہ اللہ بھی ان کے ہم معنیٰ روایت نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس کو رجوع کا حکم فرمایا یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، اس کے بعد طلاق دینا چاہے یا روکنا چاہے، اس کی مرضی ہے۔“
(ب) نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رجوع کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر حیض آئے اور پاک ہو جائے، اگر چاہے تو طلاق دے یا روک لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14942]
(ب) نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رجوع کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر حیض آئے اور پاک ہو جائے، اگر چاہے تو طلاق دے یا روک لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14942]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14943
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، نا إِسْمَاعِيلُ، أنا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ رَادُّهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ فَيَرْكَبُ الْحُمُوقَةَ ثُمَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَإِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ قَالَ: {وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا} [الطلاق: ٢] وَإِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللهَ فَلَا أَجِدُ لَكَ مَخْرَجًا عَصَيْتَ رَبَّكَ وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ وَإِنَّ اللهَ قَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ} [الطلاق: ١] " فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ" هَكَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ ثَلَاثًا.
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ان کے پاس آکر ایک شخص نے کہا: اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش ہو گئے، ہم نے گمان کیا کہ اس کی بیوی کو واپس کر دیں گے۔ پھر فرمانے لگے کہ تم میں کوئی ایک بے وقوفی والا کام کرتا ہے، پھر کہتا ہے: اے ابن عباس! اے ابن عباس! اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا﴾ [سورة الطلاق: 2] ”جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نکالنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔“ آپ اللہ سے ڈرے نہیں، میں آپ کے لیے نکالنے کی راہ نہیں پاتا، آپ نے اللہ کی نافرمانی کی ہے آپ کی بیوی آپ سے جدا ہو گئی۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”ان کی عدت کے شروع میں۔“ اس روایت میں اسی طرح تین (طلاقوں) کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14943]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه السجستاني 2197»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14944
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ قَالَ: عَصَيْتَ رَبَّكَ وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ لَمْ تَتَّقِ اللهَ فَيَجْعَلْ لَكَ مَخْرَجًا، ثُمَّ قَرَأَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ} [الطلاق: ١] " فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ".
مجاہد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی تھیں، انہوں نے فرمایا کہ تو نے اللہ کی نافرمانی کی، تیری بیوی تجھ سے الگ ہو گئی، تو اللہ سے ڈرا نہیں تاکہ اللہ تیرے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا۔ پھر یہ آیت پڑھی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”ان کی عدت کے شروع میں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14944]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14945
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا ابْنُ صَاعِدٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْفًا قَالَ:" أَمَّا ثَلَاثٌ فَتَحْرُمُ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ وَبَقِيَّتُهُنَّ عَلَيْكَ وِزْرٌ أَتَّخَذْتَ آيَاتِ اللهِ هُزُوًا؟" ⦗٥٤٣⦘ فَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ جَعَلَ الْوِزْرَ فِيمَا فَوْقَ الثَّلَاثِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنِ الزَّنْجِيِّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي مِائَةٍ قَالَ: وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ آيَاتِ اللهِ هُزُوًا، قَالَ الشَّافِعِيُّ فَعَابَ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ كُلَّ مَا زَادَ مِنْ عَدَدِ الطَّلَاقِ الَّذِي لَمْ يَجْعَلِ اللهُ إِلَيْهِ وَلَمْ يَعِبْ عَلَيْهِ مَا جَعَلَ اللهُ إِلَيْهِ مِنَ الثَّلَاثِ.
سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دیں، فرمانے لگے: تین طلاقوں نے تیری بیوی کو تجھ پر حرام کر دیا اور باقی تیرے ذمے گناہ ہے جو تو نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا ہے، تو یہ حدیث تین سے زیادہ طلاقیں دینے کے گناہ پر دلالت کرتی ہے۔
(ب) حضرت عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے 100 سو طلاقوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ 97 ستانوے میں تم نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تین سے زیادہ طلاقیں دینے پر عیب لگایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14945]
(ب) حضرت عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے 100 سو طلاقوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ 97 ستانوے میں تم نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تین سے زیادہ طلاقیں دینے پر عیب لگایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14945]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14946
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي اللَّيْثِ حَدَّثَهُ، نا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" مَنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَ لِلسُّنَّةِ كَمَا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيُنْظِرْهَا حَتَّى تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا فِي غَيْرِ جِمَاعٍ وَيُشْهِدُ رَجُلَيْنِ ثُمَّ لِيُنْظِرْهَا حَتَّى تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ فَإِنْ شَاءَ رَاجَعَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کا ارادہ مسنون طلاق کا ہو تو وہ ایسا طریقہ اختیار کرے جس کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے کہ وہ حیض کے بعد طہر کا انتظار کرے، پھر اس طہر میں بغیر جماع کے طلاق دے دے اور دو مردوں کو گواہ بنائے، پھر وہ حیض کے بعد طہر کا انتظار کر لے، اگر چاہے تو رجوع کر لے اور چاہے تو طلاق دے دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14946]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14947
وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" طَلَاقُ السُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا فِي كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً فَإِذَا كَانَ آخِرُ ذَلِكَ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللهُ بِهَا" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيُّ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ نا الْحُسَيْنُ وَالْقَاسِمُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الْمَحَامِلِيُّ قَالَا: نا أَبُو السَّائِبِ سَلَمُ بْنُ جُنَادَةَ نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ فَذَكَرَهُ وَنَحْنُ هَكَذَا نَسْتَحِبُّ أَنْ يَفْعَلَ، وَقَدْ رُوِّينَا أَيْضًا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ جَعَلَ الْعُدْوَانَ فِي الزِّيَادَةِ عَلَى الثَّلَاثِ وَاللهُ أَعْلَمُ وَهُوَ فِيمَا رَوَاهُ يُوسُفُ الْقَاضِي عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ⦗٥٤٤⦘ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً قَالَ: بَانَتْ بِثَلَاثٍ وَسَائِرُ ذَلِكَ عُدْوَانٌ.
ابواحوص سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ طلاق دینے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ ہر طہر میں طلاق دی جائے۔ جب یہ آخری ہو تو یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے۔
(ب) حفص بن غیاث، اعمش سے ذکر کرتے ہیں کہ اس طرح طلاق دینا ہم مستحب سمجھتے ہیں۔
(ج) مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کسی آدمی نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے فرمایا کہ تین کی وجہ سے وہ جدا ہو گئیں اور باقی ساری نافرمانی کا ذریعہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14947]
(ب) حفص بن غیاث، اعمش سے ذکر کرتے ہیں کہ اس طرح طلاق دینا ہم مستحب سمجھتے ہیں۔
(ج) مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کسی آدمی نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے فرمایا کہ تین کی وجہ سے وہ جدا ہو گئیں اور باقی ساری نافرمانی کا ذریعہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14947]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14948
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا ابْنُ زُهَيْرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةً قَالَ:" بَانَتْ مِنْكَ بِثَلَاثٍ وَسَائِرُهُنَّ مَعْصِيَةٌ".
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی ہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تین کی وجہ سے وہ جدا ہو گئیں اور باقی ساری نافرمانی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14948]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14949
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا حُمَيْدٌ عَنْ وَاقِعِ بْنِ سَحْبَانَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ قَالَ:" أَثِمَ بِرَبِّهِ وَحَرُمَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ" قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ عَيْبَهُ فَقَالَ: أَلَا تَرَى أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَكْثَرَ اللهُ فِينَا مِثْلَ أَبِي نُجَيْدٍ.
حمید، واقع بن سحبان سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا جس وقت وہ مسجد میں تھے۔ اس شخص نے کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی ہے۔ پھر اس آدمی نے جا کر سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس اس کا ذکر کیا۔ وہ اس پر عیب نکالنے کا ارادہ رکھتا تھا اور کہنے لگا: آپ کا کیا خیال ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما اس طرح کہتے ہیں؟ تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ رب العزت ابونجید رضی اللہ عنہما جیسے شخص ہم میں زیادہ کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14949]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
3071. -- باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات
-- باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
حدیث نمبر: Q14950
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 229] وَقَالَ: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] ⦗545⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَالْقُرْآنُ وَاللهُ أَعْلَمُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ مَنْ طَلَّقَ زَوْجَةً لَهُ دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا ثَلَاثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ.
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ ”طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے، پھر یا تو دستور کے مطابق روک لینا ہے یا اچھے طریقے سے رخصت کر دینا ہے۔“ [سورة البقرة: 229]
اور فرمایا: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [سورة البقرة: 230]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس قرآن، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، خواہ اس سے دخول کر چکا ہو یا نہ کیا ہو، تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: Q14950]
اور فرمایا: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [سورة البقرة: 230]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس قرآن، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، خواہ اس سے دخول کر چکا ہو یا نہ کیا ہو، تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: Q14950]
حدیث نمبر: 14950
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، نا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ الْمَكِّيُّ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَ الرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ مَا شَاءَ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَإِنْ طَلَّقَهَا مِائَةً أَوْ أَكْثَرَ إِذَا ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا حَتَّى قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: وَاللهِ لَا أُطَلِّقُكِ فَتَبِينِي مِنِّي، وَلَا أُؤْوِيكِ إِلِيَّ، قَالَتْ: وَكَيْفَ ذَاكَ، قَالَ: أُطَلِّقُكِ فَكُلَّمَا هَمَّتْ عِدَّتُكِ أَنْ تَنْقَضِيَ ارْتَجَعْتُكِ ثُمَّ أُطَلِّقُكِ وَأَفْعَلُ هَكَذَا فَشَكَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] فَاسْتَأْنَفَ النَّاسُ الطَّلَاقَ مَنْ شَاءَ طَلَّقَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُطَلِّقْ" وَرَوَاهُ أَيْضًا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَالْحُمَيْدِيُّ عَنْ يَعْلَى بْنِ شَبِيبٍ وَكَذَلِكَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ بِمَعْنَاهُ وَرُوِيَ نُزُولُ الْآيَةِ فِيهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مرد اپنی عورت کو جب چاہتا طلاق دے دیتا، اگرچہ سو یا اس سے زیادہ ہوتیں۔ جب عدت گزرنے سے پہلے بیوی کو واپس لاتا تو اپنی بیوی سے کہہ دیتا: نہ تو طلاق دے کر تجھے اپنے سے دور کروں گا اور نہ ہی اپنے پاس جگہ دوں گا۔ اس عورت نے کہا: وہ کیسے؟ کہتا: میں تجھے طلاق دوں گا جب تیری عدت ختم ہونے کے قریب ہوگی، پھر میں تجھ سے رجوع کر لوں گا پھر میں تجھے طلاق دوں گا اور اس طرح کرتا رہوں گا۔ اس عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس شکایت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، کچھ نہیں فرمایا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] تو لوگوں نے نئے سر سے طلاق دینا شروع کی، جو چاہے طلاق دے دے جو چاہے طلاق نہ دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14950]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن