السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3244. -- باب: النفر يقتلون الرجل
-- باب: ایک جماعت کا کسی ایک شخص کو مل کر قتل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15975
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ ⦗٧٤⦘ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَتَلَ سَبْعَةً مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ اشْتَرَكُوا فِي دَمِ غُلَامٍ، وَقَالَ:" لَوْ تَمَالَأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَالْأَوَّلُ يَحْيَى الْقَطَّانُ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ مُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ أَرْبَعَةً قَتَلُوا صَبِيًّا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مِثْلَهُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صنعاء کے سات آدمیوں کو جو ایک بچے کے قتل میں ملوث تھے، قتل کروایا اور فرمایا: اگر سارے اہل صنعاء اس میں شریک ہوتے تو میں ان سب کو قتل کروا دیتا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی روایت ہے اور پہلے یحییٰ قطان رحمہ اللہ تھے اور بخاری میں چار آدمیوں کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15975]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی روایت ہے اور پہلے یحییٰ قطان رحمہ اللہ تھے اور بخاری میں چار آدمیوں کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15975]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15976
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ حَكِيمٍ الصَّنْعَانِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً، بِصَنْعَاءَ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَتَرَكَ فِي حِجْرِهَا ابْنًا لَهُ مِنْ غَيْرِهَا، غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ: أَصِيلٌ فَاتَّخَذَتِ الْمَرْأَةُ بَعْدَ زَوْجِهَا خَلِيلًا، فَقَالَتْ لِخَلِيلِهَا: إِنَّ هَذَا الْغُلَامَ يَفْضَحُنَا فَاقْتُلْهُ، فَأَبَى، فَامْتَنَعَتْ مِنْهُ فَطَاوَعَهَا، وَاجْتَمَعَ عَلَى قَتْلِهُ الرَّجُلُ وَرَجُلٌ آخَرُ وَالْمَرْأَةُ وَخَادِمُهَا، فَقَتَلُوهُ ثُمَّ قَطَّعُوهُ أَعْضَاءً، وَجَعَلُوهُ فِي عَيْبَةٍ مِنْ أَدَمٍ فَطَرَحُوهُ فِي رَكِيَّةٍ فِي نَاحِيَةِ الْقَرْيَةِ، وَلَيْسَ فِيهَا مَاءٌ ثُمَّ صَاحَتِ الْمَرْأَةُ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَخَرَجُوا يَطْلُبُونَ الْغُلَامَ قَالَ: فَمَرَّ رَجُلٌ بِالرَّكِيَّةِ الَّتِي فِيهَا الْغُلَامُ فَخَرَجَ مِنْهَا الذُّبَابُ الْأَخْضَرُ، فَقُلْنَا: وَاللهِ إِنَّ فِي هَذِهِ لِجِيفَةً، وَمَعَنَا خَلِيلُهَا، فَأَخَذَتْهُ رِعْدَةٌ، فَذَهَبْنَا بِهِ فَحَبَسْنَاهُ وَأَرْسَلْنَا رَجُلًا فَأَخْرَجَ الْغُلَامَ، فَأَخَذْنَا الرَّجُلَ فَاعْتَرَفَ فَأَخْبَرْنَا الْخَبَرَ فَاعْتَرَفَتِ الْمَرْأَةُ وَالرَّجُلُ الْآخَرُ وَخَادِمُهَا، فَكَتَبَ يَعْلَى، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرٌ بِشَأْنِهِمْ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِقَتْلِهِمْ جَمِيعًا، وَقَالَ:" وَاللهِ لَوْ أَنَّ أَهْلَ صَنْعَاءَ شَرِكُوا فِي قَتْلِهِ لَقَتَلْتُهُمْ أَجْمَعِينَ وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: خَرَجَ قَوْمٌ وَصَحِبَهُمْ رَجُلٌ فَقَدِمُوا وَلَيْسَ مَعَهُمْ، فَاتَّهَمَهُمْ أَهْلُهُ فَقَالَ شُرَيْحٌ: شُهُودَكُمْ أَنَّهُمْ قَتَلُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِلَّا حَلَفُوا بِاللهِ مَا قَتَلُوهُ فَأَتَوْا بِهِمْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَعِيدٌ: وَأَنَا عِنْدَهُ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمْ فَاعْتَرَفُوا قَالَ: فَسَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ، فَأَمَرَ بِهِمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُتِلُوا.
مغیرہ بن حکیم صنعانی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ صنعاء میں ایک عورت کا خاوند غائب ہو گیا۔ خاوند نے اس کی گود میں اپنا ایک بیٹا چھوڑا تھا جو دوسری بیوی سے تھا، اس لڑکے کا نام اصیل تھا۔ عورت نے خاوند کے غائب ہونے کے بعد ایک دوسرے مرد سے تعلقات بنا لیے تو وہ عورت اپنے اس آشنا سے کہنے لگی: ”اس بچے کو قتل کر دو، کیونکہ یہ ہمیں رسوا کر دے گا۔“ اس نے انکار کیا تو اس عورت نے اس سے دوستی ختم کرنے کا کہا اور اسے مجبور کیا، تو اس کو قتل کرنے کے لیے دو آدمی (عورت کا آشنا اور دوسرا ایک اور آدمی)، وہ عورت اور اس کا غلام تیار ہوئے۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا اور اس کے ٹکڑے کر کے ایک چمڑے کے تھیلے میں ڈالے اور اسے بستی کے قریب ایک ایسے کنویں میں پھینک دیا جس میں پانی نہیں تھا اور عورت نے واویلا کرنا شروع کر دیا کہ: ”میرا بچہ غائب ہو گیا ہے۔“ لوگ آئے اور بچے کی تلاش شروع کر دی۔ ایک شخص کا کنویں کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا کہ اس کنویں سے سبز رنگ کی مکھیاں نکل رہی ہیں۔ جب اس سے وہ چمڑے کا تھیلا نکالا گیا تو اس عورت کے آشنا پر کپکپی طاری ہو گئی۔ ہم نے اسے پکڑ لیا اور قید میں ڈال دیا تو اس مرد، عورت، دوسرے مرد اور ان کے غلام نے قتل کا اعتراف کر لیا۔ یعلی رضی اللہ عنہ جو اس وقت صنعاء کے امیر تھے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سب لکھ کر بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہ نے تمام کے قتل کا حکم دے دیا اور فرمایا: ”اگر سارا صنعاء اس میں شریک ہوتا تو میں سب کو قتل کروا دیتا۔“
اور سعید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ سفر پر نکلے، ایک شخص بھی ان کے ساتھ ہو لیا، وہ واپس آئے تو وہ ان کے ساتھ نہیں تھا۔ اس کے گھر والوں نے ان پر الزام لگایا تو شریح رحمہ اللہ فرمانے لگے: ”اپنے گواہ لاؤ کہ انہوں نے تمہارے آدمی کو قتل کیا ہے، ورنہ یہ اللہ کی قسم اٹھائیں گے کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا۔“ وہ انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے۔ سعید کہتے ہیں: میں ان کے پاس موجود تھا، انہوں نے ان کو جدا جدا کر کے معلوم کیا تو انہوں نے اعتراف کر لیا، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”میں حسن کا والد سردار ہوں“ اور انہوں نے انہیں قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15976]
اور سعید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ سفر پر نکلے، ایک شخص بھی ان کے ساتھ ہو لیا، وہ واپس آئے تو وہ ان کے ساتھ نہیں تھا۔ اس کے گھر والوں نے ان پر الزام لگایا تو شریح رحمہ اللہ فرمانے لگے: ”اپنے گواہ لاؤ کہ انہوں نے تمہارے آدمی کو قتل کیا ہے، ورنہ یہ اللہ کی قسم اٹھائیں گے کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا۔“ وہ انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے۔ سعید کہتے ہیں: میں ان کے پاس موجود تھا، انہوں نے ان کو جدا جدا کر کے معلوم کیا تو انہوں نے اعتراف کر لیا، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”میں حسن کا والد سردار ہوں“ اور انہوں نے انہیں قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15976]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3245. -- باب: الاثنين أو أكثر يقطعان يد رجل معا
-- باب: دو یا دو سے زائد افراد کا مل کر کسی ایک شخص کا ہاتھ کاٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ ح ⦗٧٥⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَهِدَا عَلَى رَجُلٍ أَنَّهُ سَرَقَ، فَقَطَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدَهُ، ثُمَّ أَتَيَاهُ بِآخَرَ فَقَالَا:" هَذَا الَّذِي سَرَقَ، وَأَخْطَأْنَا عَلَى الْأَوَّلِ فَلَمْ يُجِزْ شَهَادَتَهُمَا عَلَى الْآخَرِ، وَغَرَّمَهُمَا دِيَةَ يَدِ الْأَوَّلِ، وَقَالَ: لَوْ أَعْلَمُكُمَا تَعَمَّدْتُمَا لَقَطَعْتُكُمَا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ الْبَابِ.
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو آدمی آئے اور انہوں نے گواہی دی کہ اس شخص نے چوری کی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، پھر وہ دوسرے شخص کو لے کر آئے اور کہنے لگے: چور اصل میں یہ ہے، اس کے بارے میں غلط فہمی ہو گئی تھی، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی گواہی کو دوسرے کے بارے میں قبول نہیں کیا اور ان سے پہلے والے کو دیت لے کر دی اور فرمایا: اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ تم نے یہ جان بوجھ کر کیا ہے تو میں تم دونوں کے ہاتھ کاٹ دوں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ترجمۃ الباب میں ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15977]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ترجمۃ الباب میں ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15977]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3246. -- باب: من عليه القصاص في القتل وما دونه
-- باب: قتل اور اس سے کم تر (اعضاء کے نقصان) میں کس پر قصاص واجب ہوتا ہے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15978
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مُوسَى قَالَا: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يُفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ".
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، پاگل سے کہ جب تک وہ صحیح نہ ہو جائے، سوئے ہوئے سے جب تک وہ بیدار نہ ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15978]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 15979
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ أُتِيَ بِمَجْنُونٍ قَتَلَ رَجُلًا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنِ اعْقِلْهُ وَلَا تُقِدْ مِنْهُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَجْنُونٍ قَوَدٌ.
مروان بن حکم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ایک مجنوں آدمی سے قتل ہو گیا ہے تو کیا کروں؟ تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ اسے قتل نہ کرو، دیت لے لو؛ کیونکہ مجنون پر قصاص نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15979]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15980
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ يَذْكُرُ لَهُ أَنَّهُ أُتِيَ بِسَكْرَانَ قَدْ قَتَلَ رَجُلًا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنِ اقْتُلْهُ بِهِ.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مروان بن حکم رحمہ اللہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ایک شخص نے نشے کی حالت میں قتل کر دیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ اسے بھی قصاصاً قتل کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15980]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
3247. جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد -- باب: عمد القتل بالسيف أو السكين أو ما يشق بحده
قتلِ عمد اور شبہ عمد کی کیفیت و نوعیت کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: تلوار، چھری یا دھار سے کاٹنے والی کسی چیز کے ذریعے جان بوجھ کر (عمدًا) قتل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَقَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا سَخْتَوَيْهِ بْنُ مَازَيَارَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي عَازِبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ شَيْءٍ خَطَأٌ إِلَّا السَّيْفَ، وَلِكُلِّ خَطَأٍ أَرْشٌ" لَفْظُ حَدِيثِ الْعَلَوِيِّ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تلوار کے علاوہ ہر چیز میں خطا ہے اور ہر خطا میں اس کا تاوان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15981]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15982
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامُ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ خَطَأً إِلَّا السَّيْفَ يَعْنِي الْحَدِيدَةَ، وَلِكُلِّ خَطَأٍ أَرْشٌ".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تلوار کے علاوہ ہر چیز میں خطا ہے اور ہر خطا میں اس کا تاوان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15982]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15983
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ شَيْءٍ سِوَى الْحَدِيدَةِ خَطَأٌ، وَلِكُلِّ خَطَأٍ أَرْشٌ" مَدَارُ هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، وَقَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَلَا يُحْتَجُّ بِهِمَا.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوہے کے علاوہ ہر چیز میں خطا ہے اور ہر خطا میں تاوان ہے۔“
اس حدیث کا مدار جابر جعفی اور قیس بن ربیع پر ہے، اور ان دونوں سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15983]
اس حدیث کا مدار جابر جعفی اور قیس بن ربیع پر ہے، اور ان دونوں سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15983]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3248. -- باب: عمد القتل بالحجر وغيره مما الأغلب أنه لا يعاش من مثله
-- باب: پتھر یا کسی ایسی چیز سے جان بوجھ کر قتل کرنا جس کی ضرب لگنے سے عموماً جان نہیں بچتی، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15984
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَارِيَةً خَرَجَتْ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا بِحَجَرٍ، وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ: لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَكِ، فُلَانٌ؟" قَالَتْ بِرَأْسِهَا: لَا فَقَالُوا: الْيَهُودِيُّ؟ قَالَتْ بِرَأْسِهَا: نَعَمْ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بچی گھر سے نکلی، ایک یہودی نے اسے پکڑا اور پتھر سے اس کا سر کچل دیا اور جو کچھ اس نے پہنا ہوا تھا وہ لے گیا۔ اس بچی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اس میں ابھی کچھ سانسیں باقی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کس نے مارا ہے؟ کیا فلاں نے؟“ اس نے سر سے اشارہ کیا: نہیں۔ تو لوگوں نے کہا: فلاں یہودی نے؟ اس نے سر سے اشارہ کیا: ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی یہودی کو پکڑا اور اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15984]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح