🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3382. -- باب: الدليل على أن الفئة الباغية منهما لا تخرج بالبغي عن تسمية الإسلام
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ ان دونوں میں سے باغی گروہ اپنی بغاوت کی وجہ سے اسلام کے نام سے خارج نہیں ہوتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16710
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَآدَمُ، قَالَا: ثَنَا مُبَارَكٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ، زَادَ آدَمُ: قَالَ الْحَسَنُ: فَلَمَّا وَلِيَ، يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، مَا أُهَرِيقَ فِي سَبَبِهِ مِحْجَمَةٌ مِنْ دَمٍ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16710]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16711
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، ⦗٣٠٠⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَوْ" نَظَرْتُمْ مَا بَيْنَ جَابِرْسَ إِلَى جَابِلْق مَا وَجَدْتُمْ رَجُلًا جَدُّهُ نَبِيٌّ غَيْرِي وَغَيْرَ أَخِي، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْتَمِعُوا عَلَى مُعَاوِيَةَ، {وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ} [الأنبياء: ١١١] "، قَالَ مَعْمَرٌ: جَابِرْسَ وَجَابِلْقَ: الْمَغْرِبُ وَالْمَشْرِقُ.
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر تم جابرس اور جابلق (یعنی مشرق و مغرب) کے درمیان دیکھو تو میرے اور میرے بھائی کے سوا کوئی ایسا شخص نہیں پاؤ گے جس کا نانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہو، اور میری رائے یہ ہے کہ تم معاویہ رضی اللہ عنہ پر جمع ہو جاؤ: ﴿وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ﴾ [سورة الأنبياء: 111] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16711]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16712
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا هُشَيْمٌ، ثَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَمَّا صَالَحَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَقَالَ هُشَيْمٌ: لَمَّا سَلَّمَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَمْرَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِالنَّخِيلَةِ: قُمْ فَتَكَلَّمْ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ أَكْيَسَ الْكَيْسِ الْتُّقَى، وَإِنَّ أَعْجَزَ الْعَجْزِ الْفُجُورُ، أَلَا وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي اخْتَلَفْتُ فِيهِ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ حَقٌّ لِامْرِئٍ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنِّي، أَوْ حَقٌّ لِي تَرَكْتُهُ لِمُعَاوِيَةَ إِرَادَةَ إِصْلَاحِ الْمُسْلِمِينَ وَحَقْنِ دِمَائِهِمْ، {وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ} [الأنبياء: ١١١] " ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ.
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہما، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہو گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: ”کھڑے ہوں اور بات کریں“، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہما نے حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد! عقلمندی تقویٰ میں ہے اور عجز گناہوں میں ہے، بے شک یہ معاملہ جس میں میرا اور معاویہ (رضی اللہ عنہ) کا اختلاف تھا، یا تو ایسے شخص کا حق تھا جو مجھ سے زیادہ اس کا حق دار تھا، یا میرا حق تھا جو میں نے معاویہ کے لیے چھوڑ دیا، مسلمانوں کی اصلاح کے لیے اور ان کے خون کی حفاظت کے لیے: ﴿وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ﴾ [سورة الأنبياء: 111] “، پھر استغفار کی اور اتر گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16712]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16713
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ أَهْلِ الْجَمَلِ: أَمُشْرِكُونَ هُمْ؟ قَالَ: مِنَ الشِّرْكِ فَرُّوا، قِيلَ: أَمُنَافِقُونَ هُمْ؟ قَالَ: إِنَّ" الْمُنَافِقِينَ لَا يَذْكُرُونَ اللهَ إِلَّا قَلِيلًا، قِيلَ: فَمَا هُمْ؟ قَالَ: إِخْوَانُنَا بَغَوْا عَلَيْنَا".
ابوالبختری کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ کیا اہل جمل مشرک تھے؟ فرمایا: وہ شرک سے دور تھے۔ پوچھا: منافق تھے؟ فرمایا: ﴿وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [سورة النساء: 142] ”منافق اللہ کا ذکر تھوڑا کرتے ہیں۔“ پوچھا گیا: پھر وہ کون تھے؟ فرمایا: ہمارے مسلمان بھائی جنہوں نے ہم پر بغاوت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16713]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16714
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبَانِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنِّي" لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ مِمَّنْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ} [الأعراف: ٤٣] ".
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے امید ہے کہ میں، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما اللہ کے اس فرمان ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ﴾ [سورة الأعراف: 43، سورة الحجر: 47] میں داخل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16714]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً، ثَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ، مَوْلَى طَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ بَعْدَمَا فَرَغَ مِنْ أَصْحَابِ الْجَمَلِ، قَالَ: فَرَحَّبَ بِهِ وَأَدْنَاهُ وَقَالَ: إِنِّي" لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَنِي اللهُ وَأَبَاكَ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللهُ ⦗٣٠١⦘ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرَرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: ٤٧] ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي كَيْفَ فُلَانَةٌ؟ كَيْفَ فُلَانَةٌ؟ قَالَ: وَسَأَلَهُ عَنْ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِ أَبِيهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: لَمْ نَقْبِضْ أَرْضَكُمْ هَذِهِ السِّنِينَ إِلَّا مَخَافَةَ أَنْ يَنْتَهِبَهَا النَّاسُ، يَا فُلَانُ انْطَلِقْ مَعَهُ إِلَى ابْنِ قَرَظَةَ مَرَّةً فَلْيُعْطِهِ غَلَّةَ هَذِهِ السِّنِينَ، وَيَدْفَعْ إِلَيْهِ أَرْضَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلَانِ جَالِسَانِ، نَاحِيَةُ أَحَدِهِمَا الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ: اللهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ، أَنْ نَقْتُلَهُمْ وَيَكُونُوا إِخْوَانَنَا فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: قُومَا أَبْعَدَ أَرْضِ اللهِ وَأَسْحَقَهَا، فَمَنْ هُوَ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَنَا وَطَلْحَةُ، يَا ابْنَ أَخِي إِذَا كَانَتْ لَكَ حَاجَةٌ فَأْتِنَا، لَفْظُ حَدِيثِ الطَّنَافِسِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ: دَخَلَ عِمْرَانُ بْنُ طَلْحَةَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَلَمْ يُسَمِّ الْحَارِثَ، وَقَالَ: إِلَى بَنِي قَرَظَةَ، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ.
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو حبیبہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ساتھ عمران بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، جنگِ جمل کے بعد تو آپ نے ہمیں «مَرْحَبًا» ”مرحبا“ کہا اور اپنے قریب بٹھایا اور فرمایا: مجھے امید ہے کہ مجھے اور آپ کے والد کو اللہ اس آیت میں شامل کرے: ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ﴾ [سورة الأعراف: 43، سورة الحجر: 47] اور پھر فرمایا: اے بھتیجے! فلانہ، فلانہ، فلانہ کیسی ہیں؟ اس سے اس کے باپ کی ام ولد لونڈیوں کے بارے میں پوچھا، پھر فرمایا: ہم نے ان سالوں میں تمہاری زمین پر قبضہ صرف اس ڈر سے رکھا کہ کہیں لوگ اسے لوٹ نہ لیں اور کہا: اے فلاں! اس کے ساتھ ابن قرظہ کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ اسے ان سالوں کا غلہ دے دے اور ان کی زمین بھی لوٹا دے۔ آپ کے پہلو میں دو آدمی بیٹھے تھے، ان میں سے ایک کہنے لگا، جس کا نام حارث اعور تھا کہ اللہ سب سے بڑا عادل ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم ان سے لڑیں بھی اور پھر جنت میں وہ ہمارے بھائی بھی ہیں؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم دونوں کھڑے ہو جاؤ اور اللہ کی سب سے دور زمین میں چلے جاؤ، اگر میں اور طلحہ رضی اللہ عنہما (اس آیت کے مصداق) نہیں تو پھر اور کون ہوگا؟ اے بھتیجے! اگر کوئی ضرورت ہو تو میرے پاس آنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16715]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16716
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ الْمَنِيعِيُّ، قَالَا: ثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ الْجَعْدِ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ، حِينَ بَعَثَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَ النَّاسَ: إِنَّا" لَنَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَلَكِنَّ اللهَ ابْتَلَاكُمْ بِهَا".
حضرت عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ بھیجا کہ لوگوں کو جمع کریں تو فرمایا: ہم جانتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا دنیا و آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، لیکن اللہ نے ان کے ذریعے تمہیں آزمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16716]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16717
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا مُحَمَّدٌ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ، خَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ: إِنِّي" لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَلَكِنَّ اللهَ ابْتَلَاكُمْ بِهَا، لَيَنْظُرَ إِيَّاهُ تَتَّبِعُونَ أَوْ إِيَّاهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16717]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16718
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيُّ، ثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثَنَا عَوْفٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَاشِمَةِ: لَمَّا فَرَغَ مِنْ أَصْحَابِ الْجَمَلِ وَنَزَلَتْ عَائِشَةُ مَنْزِلَهَا، دَخَلْتُ عَلَيْهَا فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: خَالِدُ بْنُ الْوَاشِمَةِ، قَالَتْ: مَا فَعَلَ طَلْحَةُ؟ قُلْتُ: أُصِيبَ، قَالَتْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، يَرْحَمُهُ اللهُ، قَالَتْ: فَمَا فَعَلَ الزُّبَيْرُ؟ قُلْتُ: أُصِيبَ، قَالَتْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، يَرْحَمُهُ اللهُ، قُلْتُ: بَلْ نَحْنُ لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فِي زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، قَالَتْ: وَأُصِيبَ زَيْدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، يَرْحَمُهُ اللهُ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ذَكَرْتُ طَلْحَةَ فَقُلْتِ: يَرْحَمُهُ اللهُ، ⦗٣٠٢⦘ وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ فَقُلْتِ: يَرْحَمُهُ اللهُ، وَذَكَرْتُ زَيْدًا فَقُلْتِ: يَرْحَمُهُ اللهُ، وَقَدْ قَتَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَاللهِ لَا يَجْمَعُهُمُ اللهُ فِي جَنَّةٍ أَبَدًا، قَالَتْ: أَوَ لَا تَدْرِي أَنَّ رَحْمَةَ اللهِ وَاسِعَةٌ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِْيرٌ، قَالَ: فَكَانَتْ أَفْضَلَ مِنِّي،.
خالد بن واشمہ کہتے ہیں کہ جب جنگِ جمل ختم ہوگئی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی منزل میں اتر گئیں، میں ان کے پاس گیا اور کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكِ» ”آپ پر سلامتی ہو“ اے ام المومنین! انہوں نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: خالد بن واشمہ۔ پوچھا: طلحہ (رضی اللہ عنہ) کا کیا بنا؟ میں نے کہا: شہید ہوگئے۔ انہوں نے کہا: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“، اللہ ان پر رحم فرمائے۔ پوچھا: زبیر (رضی اللہ عنہ) کا کیا ہوا؟ میں نے کہا: وہ بھی شہید ہوگئے تو پھر «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا اور فرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے۔ میں نے کہا: بلکہ ہم زید بن صوحان (رضی اللہ عنہ) پر «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: کیا زید بھی شہید ہوگئے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا اور فرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے۔ میں نے کہا: اے ام المومنین! میں نے طلحہ کا ذکر کیا تو آپ نے کہا: اللہ ان پر رحم فرمائے، زبیر کا ذکر کیا تو آپ نے کہا: اللہ ان پر رحم فرمائے، اور زید کا ذکر کیا تو آپ نے کہا: اللہ ان پر رحم فرمائے، حالانکہ انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا ہے، اللہ کی قسم! اللہ انہیں کبھی ایک جنت میں جمع نہیں کرے گا۔ تو وہ فرمانے لگیں: کیا تجھے نہیں پتہ کہ اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے؟ (خالد) کہتے ہیں: تو وہ مجھ سے افضل تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16718]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16719
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثَنَا سَعدَانُ، ثَنَا إِسْحَاقُ، ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَاشِمَةِ، بِنَحْوِهِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16719]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں