🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3400. -- باب: النهي عن القتال في الفرقة ومن ترك قتال الفئة الباغية خوفا من أن يكون قتالا في الفرقة
-- باب: تفرقے کی صورت میں قتال کی ممانعت، اور اس شخص کا بیان جس نے اس خوف سے باغی گروہ سے قتال ترک کر دیا کہ کہیں یہ تفرقے والا قتال نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16803
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٣٣٢⦘ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدُبٍ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَخَذَ بَيْعَتِي عَلَى أَنْ أُقَاتِلَ مَنْ قَاتَلَ، وَأُحَارِبَ مَنْ حَارَبَ، وَإِنَّهُ يَدْعُونِي إِلَى قِتَالِ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَ: افْتَدِهِ بِمَالِكَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّهُمْ أَبَوْا إِلَّا أَنْ أُقَاتِلَ مَعَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ، وَاللهِ مَا كَذَبَنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَجِيءُ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقَدْ تَعَلَّقَ بِالرَّجُلِ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ قَتَلَنِي هَذَا" قَالَ:" فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَلَى مَا قَتَلْتَ هَذَا؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ".
ابو عمران جونی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیعت لی تھی کہ جو ان سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گا، اب وہ مجھے اہل شام سے لڑنے کے لیے بلا رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: فدیہ دے دو۔ میں نے کہا: انہوں نے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ بس یہی ہے کہ میں ان سے لڑوں، تو انہوں نے فرمایا: مجھے ایک آدمی نے بیان کیا، اور اللہ کی قسم! اس نے مجھ سے جھوٹ نہیں بولا، کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن بندہ آئے گا اور دوسرے آدمی کا ہاتھ تھامے ہو گا، وہ کہے گا: اے اللہ! اس نے مجھے قتل کیا، اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: کیوں؟ وہ کہے گا: تاکہ فلاں کی بادشاہت قائم ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16803]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16804
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى الْحُرَقَاتِ، فَنَذَرُوا وَهَرَبُوا، فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَضَرَبْنَاهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ، فَعَرَضَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَذَكَرْتُهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ السِّلَاحِ وَالْقَتْلِ، قَالَ:" أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ قَالَهَا مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَمْ لَا؟ مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟"، قَالَ: فَمَا زَالَ يَقُولُ حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍ قَالَ أَبُو ظَبْيَانَ: قَالَ سَعْدٌ: وَأَنَا وَاللهِ لَا أَقْتُلُهُ حَتَّى يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ، يَعْنِي أُسَامَةَ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللهُ: {قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ} [البقرة: ١٩٣] ؟ قَالَ سَعْدٌ: فَقَدْ قَاتَلْنَاهُمْ حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ، وَأَنْتَ وَأَصْحَابُكَ تُرِيدُونَ أَنْ نُقَاتِلَ حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرقات کی طرف بھیجا تو وہ لوگ ڈر گئے اور گھبرا گئے۔ ہم نے ایک شخص کو پکڑ لیا تو اس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھ لیا، لیکن ہم نے اسے قتل کر دیا تو مجھے اپنے نفس میں خیال محسوس ہوا، پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اسامہ! «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» سے تجھے یومِ قیامت کون بچائے گا؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو اسلحہ کے ڈر سے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اس کے دل کو پھاڑ کر دیکھا تھا؟ تجھے اسی «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» سے کون بچائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہ کہتے رہے یہاں تک کہ میں نے سوچا: کاش! میں مسلمان ہی آج ہوا ہوتا۔
ابو ظبیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ! میں (لا الہ الا اللہ کہنے والے کو) اس وقت تک قتل نہیں کروں گا جب تک کہ ذو البطین یعنی اسامہ اسے قتل نہ کرے تو ایک آدمی کہنے لگا: کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ [سورة البقرة: 193] ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فتنہ کے ختم ہونے تک تو ہم لڑے تھے، فتنہ تو باقی رہا ہی نہیں تھا، تو اور تیرے ساتھی تو چاہتے ہیں کہ فتنہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16804]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلَانِ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَا: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَنَعُوا مَا تَرَى، وَأَنْتَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَخْرُجَ؟ قَالَ:" يَمْنَعُنِي أَنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَيَّ دَمَ أَخِي الْمُسْلِمِ، قَالَ: أَوَ لَمْ يَقُلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ} [الأنفال: ٣٩] ؟ قَالَ: فَقَدْ قَاتَلْنَا حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ وَكَانَ الدِّينُ لِلَّهِ، وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ نُقَاتِلَ حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کے پاس فتنہ ابن زبیر کے بارے میں دو شخص آئے، انہوں نے کہا: جو لوگوں نے کیا ہے وہ آپ جانتے ہیں؟ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور صحابیِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو آپ کو کس چیز نے روکا کہ آپ نکلیں؟ انہوں نے فرمایا: مجھے اس چیز نے روکا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان بھائی کے خون کو حرام کیا ہے۔ تو وہ کہنے لگے: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّٰهِ﴾ [سورة الأنفال: 39] ؟ تو انہوں نے فرمایا: ایسا ہونے تک تو ہم لڑے، اب تو تم اس لیے لڑتے ہو کہ فتنہ ہو اور دین اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16805]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16806
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ الرَّزْجَاهِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الْمَعَافِرِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَا تَسْمَعُ مَا ذَكَرَ اللهُ فِي كِتَابِهِ: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا} [الحجرات: ٩] ، فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُقَاتِلَ كَمَا ذَكَرَ اللهُ فِي كِتَابِهِ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي أَعْبُرُ بِهَذِهِ الْآيَةِ وَلَا أُقَاتِلُ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَعْبُرَ بِالْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَهَا: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: ٩٣] الْآيَةَ، قَالَ: فَإِنَّ اللهَ قَالَ: {قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ} [البقرة: ١٩٣] ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" قَدْ فَعَلْنَاهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كَانَ الْإِسْلَامُ قَلِيلًا وَكَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ عَنْ دِينِهِ، أَمَّا أَنْ يَقْتُلُوهُ أَوْ يُوْثِقُوهُ حَتَّى ظَهَرَ الْإِسْلَامُ وَلَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ؟ فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لَا يُوَافِقُهُ فِيمَا يُرِيدُ قَالَ: فَمَا قَوْلُكَ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَّا عُثْمَانُ فَقَدْ عَفَا اللهُ عَنْهُ، فَكَرِهْتُمْ أَنْ تَعْفُوا عَنْهُ، وَأَمَّا عَلِيٌّ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنُهُ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَقَالَ: هَذَا بَيْتُهُ حَيْثُ تَرَوْنَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيِّ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ نہیں سنتے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ذکر فرمایا ہے: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا﴾ ”اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں“ [سورة الحجرات: 9] ، تو آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ اس طرح قتال کریں جیسا کہ اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! اس آیت کی وجہ سے مجھ پر عیب لگایا جائے اور میں قتال نہ کروں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ مجھ پر اس آیت کی وجہ سے عیب لگایا جائے جو اللہ عزوجل نے اس سے پہلے فرمائی ہے: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ ”اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے“ [سورة النساء: 93] ۔ اس نے کہا: اللہ نے تو فرمایا ہے: ﴿قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ ”ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے“ [سورة البقرة: 193] ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ کیا تھا جب اسلام (کے ماننے والے) تھوڑے تھے اور آدمی کو اس کے دین کی وجہ سے آزمائش میں ڈالا جاتا تھا، یا تو وہ اسے قتل کر دیتے یا اسے باندھ دیتے، یہاں تک کہ اسلام غالب آ گیا اور فتنہ باقی نہ رہا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ اس کی خواہش کے مطابق اس سے اتفاق نہیں کر رہے تو کہنے لگا: سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رہے عثمان تو اللہ نے انہیں معاف کر دیا، لیکن تمہیں ان کو معاف کرنا ناگوار گزرا، اور رہے علی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں، اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا: یہ ان کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16806]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16807
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ بَيَانٍ، أَنَّ وَبَرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا، أَوْ إِلَيْنَا، عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا حَسَنًا، فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: حَكِيمٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ تَرَى فِي الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ؟ قَالَ:" هَلْ تَدْرِي الْفِتْنَةَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ؟ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ، فَكَانَ الدُّخُولُ فِيهِمْ، أَوْ قَالَ: فِي دِينِهِمْ فِتْنَةٌ، وَلَيْسَ بِقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ابن عمر رضی اللہ عنہما آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ کوئی بہترین حدیث بیان کریں گے، تو ایک حکیم نامی آدمی کہنے لگا: اے ابو عبدالرحمن! فتنہ میں قتال کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: تیری ماں تجھے گم پائے، فتنہ ہے کیا؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو مشرکین سے لڑتے تھے اور ان میں (یا فرمایا: ان کے دین میں) داخل ہونا فتنہ تھا، اور یہ تمہاری بادشاہت کے لیے لڑائی جیسا نہیں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16807]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16808
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ الضُّبَعِيِّ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ صَفْوَانَ، كَانَا ذَاتَ يَوْمٍ قَاعِدَيْنِ فِي الْحِجْرِ، فَمَرَّ بِهِمَا ابْنُ عُمَرَ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَتُرَاهُ بَقِيَ أَحَدٌ خَيْرٌ مِنْ هَذَا؟ ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ: ادْعُهُ لَنَا إِذَا قَضَى طَوَافَهُ فَلَمَّا قَضَى طَوَافَهُ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، أَتَاهُ رَسُولُهُمَا فَقَالَ: هَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ⦗٣٣٤⦘ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ يَدْعُوانِكَ، فَجَاءَ إِلَيْهِمَا فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُبَايِعَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَدْ بَايَعَ لَهُ أَهْلُ الْعَرُوضِ وَأَهْلُ الْعِرَاقِ وَعَامَّةُ أَهْلِ الشَّامِ؟ فَقَالَ:" وَاللهِ لَا أُبَايِعُكُمْ وَأَنْتُمْ وَاضِعُو سُيُوفِكُمْ عَلَى عَوَاتِقِكُمْ تَصَبَّبُ أَيْدِيكُمْ مِنْ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ".
ابو العالیہ براء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ان کے پاس سے طواف کرتے ہوئے گزر ہوا، ان میں سے ایک کہنے لگا: کیا اس سے بھی اچھا کوئی آدمی باقی بچا ہے؟ دوسرے نے کہا: اسے بلاؤ۔ جب آپ رضی اللہ عنہما نے طواف پورا کر لیا اور دو رکعتیں ادا کر لیں تو قاصد نے آپ کو پیغام دیا کہ عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن صفوان آپ کو بلا رہے ہیں۔ آپ تشریف لائے تو عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ امیر المؤمنین عبداللہ بن زبیر کی بیعت کیوں نہیں کرتے؟ سب لوگوں نے، اہل عراق نے اور عام اہل شام نے ان کی بیعت کر لی ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: واللہ! میں بیعت نہیں کروں گا، تم نے اپنی تلواریں مسلمانوں کا خون بہانے کے لیے اٹھائی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16808]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16809
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ الْمُنْذِرُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ حَرْبٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: كُنْتُ جَلِيسًا لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ زَمَنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَفِي طَاعَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رُءُوسُ الْخَوَارِجِ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ وَعَطِيَّةُ بْنُ الْأَسْوَدِ وَنَجْدَةُ فَبَعَثُوا أَوْ بَعْضُهُمْ شَابًّا إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُبَايِعَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَرَأَيْتُهُ حِينَ مَدَّ يَدَهُ وَهِيَ تَرْجُفُ مِنَ الضَّعْفِ، فَقَالَ:" وَاللهِ مَا كُنْتُ لِأُعْطِيَ بَيْعَتِي فِي فُرْقَةٍ، وَلَا أَمْنَعُهَا مِنْ جَمَاعَةٍ".
سعید بن حرب عبدی کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا تھا اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی اطاعت میں خوارج کے رؤسا تھے، جن میں نافع بن ازرق، عطیہ بن اسود اور نجدہ تھے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص کو بھیجا کہ پوچھو: آپ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت کیوں نہیں کرتے؟ تو آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا جو بڑھاپے کی وجہ سے کانپ رہا تھا، فرمایا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میں تفرقہ کے لیے اپنی بیعت نہیں دوں گا اور نہ ہی جماعت سے روکوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16809]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16810
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ عَوْفٌ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ زَمَنُ أُخْرِجَ ابْنُ زِيَادٍ، وَثَبَ مَرْوَانُ بِالشَّامِ حَيْثُ وَثَبَ، وَوَثَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، وَوَثَبَ الَّذِينَ كَانُوا يُدْعَوْنَ الْقُرَّاءَ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: غُمَّ أَبِي غَمًّا شَدِيدًا فَقَالَ: انْطَلِقْ، لَا أَبَا لَكَ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهِ فِي دَارِهِ، فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ فِي ظِلِّ عُلُوٍ لَهُ مِنْ قَصَبٍ فِي يَوْمٍ حَارٍّ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَأَنْشَأَ أَبِي يَسْتَطْعِمُهُ قَالَ: يَا أَبَا بَرْزَةَ أَلَا تَرَى؟ قَالَ: فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ:" إِنِّي أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللهِ أَنِّي أَصْبَحْتُ سَاخِطًا عَلَى أَحْيَاءِ قُرَيْشٍ، إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرِيبِ كُنْتُمْ عَلَى الْحَالِ الَّذِي قَدْ عَلِمْتُمْ فِي جَاهِلِيَّتِكُمْ مِنَ الْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ وَالضَّلَالَةِ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ نَعَشَكُمْ بِالْإِسْلَامِ وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ بِكُمْ مَا تَرَوْنَ، وَإِنَّ هَذِهِ الدُّنْيَا الَّتِي أَفْسَدَتْ بَيْنَكُمْ، إِنَّ ذَاكَ الَّذِي بِالشَّامِ، يَعْنِي مَرْوَانَ، وَاللهِ مَا يُقَاتِلُ إِلَّا عَلَى الدُّنْيَا، وَإِنَّ ذَاكَ الَّذِي بِمَكَّةَ وَاللهِ إِنْ يُقَاتِلُ إِلَّا عَلَى الدُّنْيَا، وَإِنَّ الَّذِينَ حَوْلَكُمُ الَّذِينَ تَدْعُونَهُمْ قُرَّاءَكُمْ، وَاللهِ إِنْ يُقَاتِلُونَ إِلَّا عَلَى الدُّنْيَا" قَالَ: فَلَمَّا لَمْ يَدَعْ أَحَدًا قَالَ لَهُ أَبِي: فَمَا تَأْمُرُنَا إِذًا؟ قَالَ:" إِنِّي لَا أَرَى خَيْرَ النَّاسِ الْيَوْمَ إِلَّا عِصَابَةٌ مُلَبَّدَةٌ، وَقَالَ بِيَدِهِ: خِمَاصُ الْبُطُونِ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ، خِفَافُ الظُّهُورِ مِنْ دِمَائِهِمْ" ⦗٣٣٥⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ.
ابومنہال کہتے ہیں کہ جب ابن زیاد کا زمانہ تھا تو مروان نے شام میں اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے مکہ میں اور وہ لوگ جنہیں قراء کہا جاتا تھا، انہوں نے بصرہ میں قبضہ کر لیا تو میرے والد کو بہت دکھ ہوا اور کہنے لگے: اس شخص کے پاس چلو، وہ صحابیِ رسول ہیں۔ وہ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے۔ آپ اپنے گھر میں گرمی کی وجہ سے ایک سائے میں بیٹھے تھے تو ہم بھی بیٹھ گئے، تو میرے والد کہنے لگے: اے ابوبرزہ! کیا آپ نہیں دیکھ رہے؟ تو آپ نے سب سے پہلے یہ بات کہی کہ میں تو اللہ سے اجر چاہتا ہوں، میں تو قریشی سرداروں سے ناراض ہوں۔ اے عرب کے لوگو! تم تو گمراہی و ضلالت اور ذلت کی زندگی گزار رہے تھے، اللہ نے تمہیں اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بلند کیا یہاں تک کہ تم اس مقام تک پہنچ گئے جو تم دیکھ رہے ہو۔ اس دنیا نے تمہیں برباد کر دیا، مروان بھی، ابن زبیر رضی اللہ عنہما بھی اور وہ بصرہ کے قراء بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں، تو میرے والد نے پوچھا: تو اب ہم کیا کریں؟ فرمایا: میں تو اب سب سے بہتر اس جماعت کو سمجھتا ہوں جو اپنے گھروں سے چمٹے ہوئے ہیں، لوگوں کے مال سے ان کے پیٹ خالی ہیں اور ان کی پیٹھیں لوگوں کے خون کے بوجھ سے ہلکی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16810]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16811
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْمُسَيِّبِ الضَّبِّيُّ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَعَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَا: قَالَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ لِأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ: أَلَا تَخْرُجُ فَتُقَاتِلَ مَعَنَا؟ فَقَالَ:" إِنَّ أَبِي وَعَمِّي شَهِدَا بَدْرًا، وَإِنَّهُمَا عَهِدَا إِلِيَّ أَنْ لَا أُقَاتِلَ أَحَدًا يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ. فَإِنْ أَنْتَ جِئْتَنِي بِبَرَاءَةٍ مِنَ النَّارِ قَاتَلْتُ مَعَكَ" قَالَ: فَاخْرُجْ عَنَّا، قَالَ: فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ:.
قیس بن ابی حازم اور عامر شعبی رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ مروان نے سیدنا ایمن بن خریم رضی اللہ عنہ کو کہا: ”تم ہمارے ساتھ کیوں نہیں شامل ہو کر لڑتے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”میرے والد اور چچا (جو کہ) بدر میں شریک ہوئے (رضی اللہ عنہما)، انہوں نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ میں کبھی کلمہ پڑھنے والے کے خلاف نہیں لڑوں گا۔ اگر تم مجھے گارنٹی دے دو کہ تم مجھے جہنم سے بچا لو گے تو میں تمہارے ساتھ مل کر لڑتا ہوں۔“ تو مروان نے کہا: ”چلا جا یہاں سے۔“ تو وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکلے:
میں کسی نماز پڑھنے والے سے نہیں لڑ سکتا
اس کی تو بادشاہت ہے اور مجھے گناہ ہو
کیا میں کسی مسلمان کو بغیر جرم کے قتل کروں

ایسے سلطان پر کہ دوسرا بھی قریش سے ہو
اللہ کی پناہ ایسی جہالت اور جوش سے
میری پوری زندگی کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16811]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3401. -- باب: أمان المرأة المسلمة والرجل المسلم حرا كان أو عبدا
-- باب: مسلمان عورت اور مسلمان مرد، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، کی دی گئی امان (پناہ) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16812
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ جَمَاعَةٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے، ان کا ادنیٰ بھی اس میں برابر ہے اور جس نے مسلمان کے ذمے کو توڑا، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور اس کی نہ نفلی اور نہ فرضی کوئی بھی عبادت قبول نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16812]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں