السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3366. -- باب: ما جاء في تنبيه الإمام على من يراه أهلا للخلافة بعده
-- باب: امام کا اس شخص کی طرف اشارہ (تنبیہ) کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان جسے وہ اپنے بعد خلافت کا اہل سمجھتا ہو۔
حدیث نمبر: 16581
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ، لَهُ، أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَكَتَبَهُ لِي بِخَطِّهِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا زَائِدَةُ، ثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ لَهَا: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: بَلَى، ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ⦗٢٦١⦘ أَصَلَّى النَّاسُ؟" فَقُلْتُ: لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" ضَعُوا مَاءً فِي الْمِخْضَبِ"، قَالَتْ: فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟" قُلْنَا: لَا، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، قَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ"، فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟" قُلْتُ: لَا، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، فَقَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ"، فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟" قُلْنَا: لَا، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، والنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَأَتَاهُ الرَّسُولُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ بِأَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا: يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تِلْكَ الْأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ، لِصَلَاةِ الظُّهْرِ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَى إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لَا يَتَأَخَّرَ، قَالَ:" أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ"، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ، بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي بِهِ عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا، فَمَا أَنْكَرَ مِنْه شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
عبیداللہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور عرض کیا: آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بتائیے؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن میں پانی رکھو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پانی رکھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا، پھر اٹھنے لگے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا تو پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ بتایا گیا: آپ کا انتظار کر رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پانی رکھنے کا فرمایا اور غسل فرمایا، پھر اٹھنے لگے لیکن پھر غشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا تو پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ بتایا گیا: آپ کا انتظار کر رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پانی رکھنے کا فرمایا اور غسل فرمایا، پھر اٹھنے لگے لیکن پھر غشی طاری ہو گئی، پھر ہوش آیا تو پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ عرض کیا گیا: لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اور وہ مسجد میں عشاء کی نماز کے لیے بیٹھے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ نماز پڑھا دیں۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام ملا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نماز پڑھائیں؛ کیونکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے رقیق القلب تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ زیادہ حق دار ہیں، چنانچہ اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی نمازیں پڑھاتے رہے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں بہتری محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے، جن میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے، ظہر کے وقت مسجد میں آئے، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹو اور فرمایا: ”مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں جو بیان کیا ہے وہ مجھے سناؤ، تو میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے سب باتوں کی تصدیق کی اور فرمایا: کیا انہوں نے اس دوسرے شخص کا نام نہیں بتایا جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے فرمایا: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16581]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16582
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَعَاوَدَتْهُ مِثْلَ مَقَالَتِهَا، فَقَالَ:" أَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَدْ عَاوَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى مُعَاوَدَتِهِ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ ⦗٢٦٢⦘ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِلَّا أَنِّي عَلِمْتُ أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ إِلَّا تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَعْدِلَ النَّاسُ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حمزہ بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے فرمایا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: یا رسول اللہ! ابوبکر رضی اللہ عنہ رقیق القلب ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگ ان کی آواز نہیں سن سکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”ابوبکر کو کہو نماز پڑھائیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر اپنی بات دہرائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یوسف کی صواحب جیسی ہو، ابوبکر کو کہو نماز پڑھائیں۔“
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے یہ بات اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہی تھی کہ مجھے ڈر تھا کہ لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بدشگونی نہ لیں؛ کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑا ہوگا لوگ اسے برا سمجھیں گے، تو میں نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16582]
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے یہ بات اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہی تھی کہ مجھے ڈر تھا کہ لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بدشگونی نہ لیں؛ کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑا ہوگا لوگ اسے برا سمجھیں گے، تو میں نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16582]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16583
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَ زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، فَقَالَ أُخْرَى:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ"، قَالَ: فَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زَائِدَةَ.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ نماز پڑھائیں“، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کرنے لگیں: یا رسول اللہ! ابوبکر «رَقِيقُ الْقَلْبِ» ”رقیق القلب“ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو کہو کہ نماز پڑھائیں، تم تو «صَوَاحِبُ يُوسُفَ» ”صواحبِ یوسف“ سے ہو“، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی امامت کروائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16583]
تخریج الحدیث: «متفق عليه»
الحكم على الحديث: متفق عليه
حدیث نمبر: 16584
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الصَّيْرَفِيُّ، ثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْحَكَّانِيُّ، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَكَانَ، تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الْإِثْنَيْنِ، وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ، كَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ يَنْظُرُ إِلَيْنَا، وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ، قَالَ: فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ بِرُؤْيَتِهِ وَنَحْنُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرَحٍ بِرَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ:" فَأَشَارَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْخَى السِّتْرَ، فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کے دوران امامت کروائی یہاں تک کہ پیر کا دن ہوا تو لوگ نماز کی صف میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرے کا پردہ ہٹا کر دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مصحف کا ورق ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ ہمیں پتا چل گیا، قریب تھا کہ ہم نمازیں توڑ دیتے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے تاکہ صف میں کھڑے ہو جائیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے آ جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا: ”نماز مکمل کر لو۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں داخل ہو گئے اور پردہ گرا دیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16584]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16585
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ يَوْمًا، فَكَانَ إِذَا وَجَدَ خِفَّةً صَلَّى، وَإِذَا ثَقُلَ صَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
محمد بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۱۳ دن بیمار رہے، جس دن طبیعت ٹھیک ہوتی، خود نماز پڑھاتے اور جس دن طبیعت زیادہ خراب ہوتی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16585]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16586
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ:" مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، قَالَ: فَأَتَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ يَؤُمَّ النَّاسَ، فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّْمَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَعُوذُ بِاللهِ أَنْ نَتَقَدَّْمَ أَبَا بَكْرٍ".
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض کی گئی تو انصار کہنے لگے: ایک امیر ہم میں سے اور ایک تم میں سے ہوگا، تو عمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: ”اے انصاریو! کیا تمہیں نہیں پتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کے لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے کیا تھا؟ تو تم میں سے کون خوشی سے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے ہونا چاہتا ہے؟“ تو انصار کہنے لگے: ”ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں کہ ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16586]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16587
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صالحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، كَانَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ كَسَرَ سَيْفَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَخَطَبَ النَّاسَ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِمْ وَقَالَ: وَاللهِ" مَا كُنْتُ حَرِيصًا عَلَى الْإِمَارَةِ يَوْمًا وَلَا لَيْلَةً قَطُّ، وَلَا كُنْتُ فِيهَا رَاغِبًا، وَلَا سَأَلْتُهَا اللهَ فِي سِرٍّ وَلَا عَلَانِيَةٍ، وَلَكِنِّي أَشْفَقْتُ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَمَا لِي فِي الْإِمَارَةِ مِنْ رَاحَةٍ، وَلَكِنْ قُلِّدْتُ أَمْرًا عَظِيمًا مَا لِي بِهِ طَاقَةٌ، وَلَا يُدَانُ إِلَّا بِتَقْوِيَةِ اللهِ، ولَوَدِدْتُ أَنَّ أَقْوَى النَّاسِ عَلَيْهَا مَكَانِي عَلَيْهَا الْيَوْمَ، فَقَبِلَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْهُ مَا قَالَ، وَمَا اعْتَذَرَ بِهِ، وَقَالَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: مَا غَضِبْنَا إِلَّا لِأَنَّا أُخِّرْنَا عَنِ الْمُشَاوَرَةِ، وَإِنَّا نَرَى أَبَا بَكْرٍ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَا بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُ لَصَاحِبُ الْغَارِ، وَثَانِي اثْنَيْنِ، وَإِنَّا لَنَعْرِفُ شَرَفَهُ وَكُبْرَهُ، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ بِالنَّاسِ وَهُوَ حَيٌّ".
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار کو توڑ دیا تھا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کے سامنے اپنا عذر پیش کیا اور فرمایا: واللہ! مجھے کبھی کسی دن یا رات امارت کا لالچ نہیں رہا اور نہ میں اس کی رغبت رکھتا تھا اور نہ ظاہری اور نہ پوشیدہ میں نے اللہ سے اس کا سوال کیا، لیکن مجھے فتنے کا ڈر تھا، اور امارت میں میرے لیے کوئی راحت نہیں، بلکہ مجھے تو ایسے بڑے کام کا ذمہ دار بنا دیا گیا ہے کہ جس کو میں اٹھا نہیں سکتا مگر صرف اللہ کی مدد کے ساتھ۔ میری تو خواہش ہے کہ آج اس کام کے لیے لوگوں میں سب سے زیادہ طاقتور شخص میری جگہ ہوتا۔ تو مہاجرین نے ان کی بات اور عذر کو قبول کیا اور سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم تو صرف اس لیے ناراض تھے کہ ہمیں مشورے سے پیچھے رکھا گیا، ورنہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ حق دار سمجھتے ہیں۔ وہ غار والے ساتھی اور دو میں سے دوسرے ہیں، اور ہم ان کے شرف اور بزرگی کو جانتے ہیں۔ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16587]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16588
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَل عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي بُدِئَ فِيهِ، فَقُلْتُ: وَارَأْسَاهُ، قَالَ:" لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ وَأَنَا حَيُّ فَأُصَلِّي عَلَيْكِ وَأَدْفِنُكِ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ غَيْرَى: كَأَنِّي بِكَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ نِسَائِكَ، قَالَ:" أَنَا وَارَأْسَاهُ، ادْعِي لِي أَبَاكِ وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ، وَيَقُولُ قَائِلٌ، وَيَأْبَى اللهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی ابتدا ہوئی تو اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف لائے، میں نے کہا: ”ہائے میرا سر“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ اگر تو میری زندگی میں فوت ہوگئی تو میں تجھ پر نماز پڑھوں گا اور تجھے دفن کروں گا“۔ فرماتی ہیں: میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس دن اپنی بعض بیویوں کے ساتھ خوش ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَا رَأْسَاهُ» ”ہائے میرا سر، اپنے والد اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے کچھ لکھ دوں؛ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ بعد میں کوئی تمنا کرے اور کوئی بات کہے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ جبکہ مؤمنین اور اللہ اس کا انکار کریں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16588]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16589
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثَنَا جَدِّي، ثَنَا أَبُو ثَابِتٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، وَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ رَجَعْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ؟ كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ، قَالَ:" إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ" لَفْظُ حَدِيثِهِ عَنِ الشَّعْرَانِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي ثَابِتٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مُوسَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کچھ بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوبارہ آنا۔“ وہ کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! اگر میں دوبارہ آؤں اور آپ نہ ملیں تو؟“ (یعنی آپ فوت ہو جائیں تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں نہ ہوں تو ابوبکر کے پاس آ جانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16589]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16590
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْن عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أَنْبَأَ الضَّحَّاكُ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى، لِرِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ، وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ".
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی پیروی کرو اور عمار رضی اللہ عنہ کی سیرت اپنانا اور ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کے عہد کو لازم پکڑنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16590]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح