السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3403. -- باب: ما يحرم به الدم من الإسلام زنديقا كان أو غيره
-- باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
حدیث نمبر: 16837
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ:" شَهِدْتُ مِنْ نِفَاقِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ ثَلَاثَ مَجَالِسَ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تین مجالس میں عبداللہ بن ابی کے نفاق کا مشاہدہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16837]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16838
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ لِأَصْحَابِهِ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ، ⦗٣٤٥⦘ وَقَالَ: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَبَعَثَنِي إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ بِاللهِ مَا فَعَلَ، قَالَ: فَقَالُوا: كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مَا قَالُوا، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقِي فِي {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} [المنافقون: ١] ، قَالَ: وَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ، فَلَوَّوْا رُءُوسَهُمْ، وَقَوْلُهُ: {كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ} [المنافقون: ٤] ، قَالَ: كَانُوا رِجَالًا أَجْمَلَ شَيْءٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ زُهَيْرٍ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، لوگوں کو اس میں بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا: ”جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، ان پر تم خرچ نہ کرنا یہاں تک کہ وہ آپ کے ارد گرد سے ہٹ جائیں“ اور ”ہم مدینہ جا کر اس سے ان ذلیلوں کو نکال دیں گے۔ ہم عزت والے ہیں“ تو میں نے یہ سنا اور جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر پوچھا تو اس نے قسم اٹھا دی کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کہا، تو لوگ کہنے لگے: زید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا ہے، تو میرے دل میں جو انہوں نے کہا تھا خیال آیا، تو اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق میں ﴿سورة المنافقون﴾ نازل فرما دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا: ”آؤ تمہارے لیے دعائے مغفرت کر دوں“ تو انہوں نے اپنے سر پھیر لیے۔ یہ لوگ بہت خوبصورت تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16838]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16839
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ تَبُوكَ، وَمَا كَانَ عَلَى الثَّنِيَّةِ مِنْ هَمِّ الْمُنَافِقِينَ أَنْ يَرْجُمُوا فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا كَانَ مِنْ أَقْوَالِهِمْ وَإِطْلَاعِ اللهِ سُبْحَانَهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَسْرَارِهِمْ، قَالَ: فَانْحَدَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الثَّنِيَّةِ وَقَالَ لِصَاحِبَيْهِ، يَعْنِي حُذَيْفَةَ وَعَمَّارًا:" هَلْ تَدْرُونَ مَا أَرَادَ الْقَوْمُ؟" قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَادُوا أَنْ يَرْجُمُونِي فِي الثَّنِيَّةِ، فَيَطْرَحُونِي مِنْهَا" فَقَالَا: أَفَلَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ إِذَا اجْتَمَعَ إِلَيْكَ النَّاسُ؟ فَقَالَ:" أَكْرَهُ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ وَضَعَ يَدَهُ فِي أَصْحَابِهِ يَقْتُلُهُمْ" ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي دُعَائِهِ إِيَّاهُمْ، وَإِخْبَارِهِ إِيَّاهُمْ بِسَرَائِرِهِمْ، وَاعْتِرَافِ بَعْضِهِمْ وَتَوْبَتِهِمْ، وَقَبُولِهِ مِنْهُمْ مَا دَلَّ عَلَى هَذَا قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ حُصَيْنَ بْنَ نُمَيْرٍ فَقَالَ لَهُ:" وَيْحَكَ مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟" قَالَ: حَمَلَنِي عَلَيْهِ أَنِّي ظَنَنْتُ أَنَّ اللهَ لَمْ يُطْلِعْكَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا إِذْ أَطْلَعْكَ اللهُ عَلَيْهِ وَعَلِمْتَهُ فَإِنِّي أَشْهَدُ الْيَوْمَ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، وَأَنِّي لَمْ أُؤْمِنْ بِكَ قَطُّ قَبْلَ السَّاعَةِ يَقِينًا، فَأَقَالَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَثْرَتَهُ، وَعَفَا عَنْهُ بِقَوْلِهِ الَّذِي قَالَ.
ابن اسحاق قصہ تبوک کے بارے میں کہتے ہیں: ثنیہ مقام پر منافقین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے باخبر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ مقام سے ہٹ گئے اور اپنے دو ساتھیوں حذیفہ اور عمار رضی اللہ عنہما سے کہا: ”کیا تم جانتے ہو قوم نے کیا ارادہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے ثنیہ میں مجھے مارنے کا ارادہ کیا“ تو دونوں کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب لوگ آپ کے پاس وہاں جمع ہو رہے تھے، آپ ہمیں حکم کرتے، ہم ان کو قتل کر دیتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اچھا نہیں لگا کہ لوگ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کروا رہا ہے۔“
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ پھر حصین بن نمیر کو بلایا گیا اور اسے کہا گیا: تو برباد ہو، تو ایسا کیوں کر رہا تھا؟ کہنے لگا: واللہ! مجھے یقین تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ نہیں چلے گا لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی اور مجھے پتہ چل گیا اور میں آج گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں کبھی آپ پر ایمان نہ لاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16839]
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ پھر حصین بن نمیر کو بلایا گیا اور اسے کہا گیا: تو برباد ہو، تو ایسا کیوں کر رہا تھا؟ کہنے لگا: واللہ! مجھے یقین تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ نہیں چلے گا لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی اور مجھے پتہ چل گیا اور میں آج گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں کبھی آپ پر ایمان نہ لاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16839]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16840
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ هُوَ ابْنُ زَكَرِيَّا، ثنا عَبَّاسٌ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: وَقَفَ عَلَيْنَا حُذَيْفَةُ، وَنَحْنُ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ:" لَقَدْ نَزَلَ النِّفَاقُ عَلَى مَنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكُمْ، قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ يَكُونُ هَذَا وَاللهُ يَقُولُ: {إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ} [النساء: ١٤٥] ؟ قَالَ: فَلَمَّا تَفَرَّقُوا فَلَمْ يَبْقَ غَيْرِي رَمَانِي بِحَصَاةٍ فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَمَّا تَابُوا كَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ⦗٣٤٦⦘ مِنْ قَوْلِ حُذَيْفَةَ: عَجِبْتُ مِنْ ضَحِكِهِ، يَعْنِي ضَحِكَ عَبْدِ اللهِ، وَقَدْ عَرَفَ مَا قُلْتُ: لَقَدْ أُنْزِلَ النِّفَاقَ عَلَى قَوْمٍ كَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ، ثُمَّ تَابُوا فَتَابَ اللهُ عَلَيْهِمْ.
اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہم پر کھڑے ہوئے اور ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ انہوں نے فرمایا: ”نفاق تم سے بہتر پر نازل ہوا۔“ ہم نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ تو فرماتا ہے: ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ﴾ [سورة النساء: 145] ۔ انہوں نے فرمایا: جب سب جدا جدا ہو گئے اور میرے علاوہ کوئی نہ بچا تو انہوں نے فرمایا: ”جب وہ توبہ کر لیں تو وہ تم سے بہتر ہو گئے۔“ اور مجھے کنکری سے مارا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16840]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16841
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرُلُّسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ فَمَرَّ بِنَا حُذَيْفَةُ فَقَالَ:" لَقَدْ نَزَلَ النِّفَاقُ عَلَى مَنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكُمْ" فَقُلْنَا: سُبْحَانَ اللهِ فَضَحِكَ عَبْدُ اللهِ وَمَضَى، فَمَرَّ بِنَا حُذَيْفَةُ فَرَمَانِي بِالْحَصْبَاءِ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّ صَاحِبَكُمْ عَلِمَ عِلْمًا فَضَحِكَ، نَزَلَ عَلَيْهِمُ النِّفَاقُ ثُمَّ تِيبَ عَلَيْهِمْ" وَأَمَّا قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُنَافِقِينَ: {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا} [التوبة: ٨٤] ، فَسَبَبُ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَةِ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16841]
حدیث نمبر: 16842
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ مَاتَ أَبُوهُ فَقَالَ: أَعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ، وَأُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَأَسْتَغْفِرَ لَهُ، فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَقَالَ:" إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي" فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ جَاءَهُ عُمَرُ وَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكَ اللهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ؟ قَالَ:" أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ، قَالَ: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ} [التوبة: ٨٠] " قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} [التوبة: ٨٤] ، قَالَ: فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کا بیٹا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اپنی قمیض عطا فرمائیں تاکہ اس میں میں اسے کفن دوں اور آپ اس پر نماز پڑھیں اور میرے والد کے لیے بخشش کی دعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی قمیض دے دی اور فرمایا: ”جب کفن سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتانا۔“ جب نماز کا ارادہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو منافق پر نماز سے روکا نہیں گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80] “ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی تو یہ آیت نازل ہو گئی: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنا بھی چھوڑ دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16842]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16843
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ دُعِيَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُصَلِّي عَلَى ابْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَكَذَا وَكَذَا؟ ⦗٣٤٧⦘ أُعَدِّدُ عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ" فَلَمَّا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ قَالَ:" إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ، لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي إِنْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا" فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَتَانِ فِي بَرَاءَةَ: {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ} [التوبة: ٨٤] ، قَالَ: فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، وَاللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَهَذَا يُبَيِّنُ مَا قُلْنَا، فَأَمَّا أَمْرُهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ صَلَاتَهُ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مُخَالِفَةٌ صَلَاةَ غَيْرِهِ، وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَضَى إِذْ أَمَرَهُ بِتَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُ، وَقَضَى أَنْ لَا يَغْفِرَ لِمُقِيمٍ عَلَى شِرْكٍ، فَنَهَاهُ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى مَنْ لَا يُغْفَرُ لَهُ، وَلَمْ يَمْنَعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ مُسْلِمًا، وَلَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ بَعْدَ هَذَا أَحَدًا، وَتَرْكُ الصَّلَاةِ مُبَاحٌ عَلَى مَنْ قَامَتْ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَقَدْ عَاشَرَهُمْ حُذَيْفَةُ يَعْرِفُهُمْ بِأَعْيَانِهِمْ، ثُمَّ عَاشَرَهُمْ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُمْ يُصَلَّى عَلَيْهِمْ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا وُضِعَتْ جِنَازَةٌ فَرَأَى حُذَيْفَةَ، فَإِنْ أَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اجْلِسْ جَلَسَ، وَإِنْ قَامَ مَعَهُ صَلَّى عَلَيْهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَلَمْ يَمْنَعْ هُوَ وَلَا أَبُو بَكْرٍ قَبْلَهُ وَلَا عُثْمَانُ بَعْدَهُ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ، وَلَا شَيْئًا مِنْ أَحْكَامِ الْإِسْلَامِ، وَقَدْ أَعَلَمَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تُوُفِّيَ اشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِينَةِ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سابقہ روایت
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے قول کو واضح کرتی ہے کہ ان پر نماز نہ پڑھی جائے اور مجھے امید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے ان پر نماز سے روکا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس پر بھی نماز پڑھیں اسے معاف کر دیا جاتا ہے اور جو شرک پر قائم ہو اس کی بخشش بھی نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر نماز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا گیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو نہیں روکا۔ مسلمان ان پر نمازیں پڑھتے تھے۔ حضرت حذیفہ، عمر اور ابوبکر رضی اللہ عنہم تمام پڑھتے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تو جو بھی جنازہ رکھا جاتا وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے۔ اگر وہ انکار کر دیتے تو نہ پڑھاتے، اگر ساتھ کھڑے ہو جاتے تو پڑھا دیتے۔ نہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روکا اور نہ عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ان پر نماز سے روکا اور نہ ہی ایسی کوئی چیز اسلام کے احکام سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16843]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے قول کو واضح کرتی ہے کہ ان پر نماز نہ پڑھی جائے اور مجھے امید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے ان پر نماز سے روکا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس پر بھی نماز پڑھیں اسے معاف کر دیا جاتا ہے اور جو شرک پر قائم ہو اس کی بخشش بھی نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر نماز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا گیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو نہیں روکا۔ مسلمان ان پر نمازیں پڑھتے تھے۔ حضرت حذیفہ، عمر اور ابوبکر رضی اللہ عنہم تمام پڑھتے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تو جو بھی جنازہ رکھا جاتا وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے۔ اگر وہ انکار کر دیتے تو نہ پڑھاتے، اگر ساتھ کھڑے ہو جاتے تو پڑھا دیتے۔ نہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روکا اور نہ عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ان پر نماز سے روکا اور نہ ہی ایسی کوئی چیز اسلام کے احکام سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16843]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16844
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي قِصَّةِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِرٌ إِلَى تَبُوكَ نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ لَيُوحَى إِلَيْهِ، وَأَنَاخَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَضَتِ النَّاقَةُ تَجُرُّ زِمَامَهَا مُنْطَلِقَةً، فَتَلَقَّاهَا حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ بِزِمَامِهَا يَقُودُهَا حَتَّى أَنَاخَهَا وَقَعَدَ عِنْدَهَا، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ إِلَى نَاقَتِهِ فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقَالَ: حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي مُسِرٌّ إِلَيْكَ سِرًّا لَا تُحَدِّثَنَّ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا، إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ"، رَهْطٍ ذَوِي عَدَدٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ يَظُنُّ عُمَرُ أَنَّهُ مِنْ أُولَئِكِ الرَّهْطِ أَخَذَ بِيَدِ حُذَيْفَةَ فَقَادَهُ، فَإِنْ مَشَى مَعَهُ صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنِ انْتَزَعَ مِنْ يَدِهِ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ، وَأَمَرَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيْهِ ⦗٣٤٨⦘ هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک کی طرف گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر گئے تاکہ آپ کی طرف وحی کی جائے تو اونٹنی نے اٹھ کر بھاگنا چاہا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی لگام کو پکڑ لیا اور اس کے پاس بیٹھ گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو اونٹنی کی طرف آئے اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: حذیفہ بن یمان، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں ایک راز بتاتا ہوں، کسی کو نہ بتانا کہ مجھے فلاں فلاں پر (نمازِ جنازہ) پڑھنے سے منع کر دیا گیا ہے،“ پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ رکھتے، جس (کے جنازے) کے متعلق سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ انکار کر دیتے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے، اور ایک دوسری سند سے موصولاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16844]
یہ روایت مرسل ہے، اور ایک دوسری سند سے موصولاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16844]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16845
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ غَزَا تَبُوكَ نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ وَرَاحِلَتُهُ بَارِكَةٌ، فَقَامَتْ تَجُرُّ زِمَامَهَا حَتَّى لَقِيَهَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَأَخَذَ بِزِمَامِهَا فَاقْتَادَهَا حَتَّى رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَأَنَاخَهَا ثُمَّ جَلَسَ عِنْدَهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقَالَ: حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي أُسِرُّ إِلَيْكَ أَمْرًا فَلَا تَذْكُرَنَّهُ، إِنِّي قَدْ نُهِيتُ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ" رَهْطٍ ذَوِي عَدَدٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، لَمْ يُعْلِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِكْرَهُمْ لِأَحَدٍ غَيْرِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ إِذَا مَاتَ رَجُلٌ يَظُنُّ أَنَّهُ مِنْ أُولَئِكِ الرِّهْطِ أَخَذَ بِيَدِ حُذَيْفَةَ فَاقْتَادَهُ إِلَى الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَإِنْ مَشَى مَعَهُ حُذَيْفَةُ صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنِ انْتَزَعَ حُذَيْفَةُ يَدَهُ فَأَبَى أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ انْصَرَفَ عُمَرُ مَعَهُ فَأَبَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُصَلَّى عَلَيْهِ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک میں تھے تو آپ پر وحی کا نزول ہوا۔۔۔ آگے سابقہ روایت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16845]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16846
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ:" مَا بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ هَذِهِ الْآيَةِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ" أَظُنُّهُ أَرَادَ قَوْلَهُ: {فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ} [التوبة: ١٢] ، قَالَ:" وَمَا بَقِيَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلَّا أَرْبَعَةٌ" قَالَ: وَخَلْفَنَا أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مَعْشَرَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَدْرُونَ مَا لَا نَدْرِي، تَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلَّا أَرْبَعَةٌ، فَمَا بَالُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَنْقُرُونَ بُيُوتَنَا تَحْتَ اللَّيْلِ؟ قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أُولَئِكَ الْفُسَّاقُ، أَجَلْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلَّا أَرْبَعَةٌ، إِنَّ أَحَدَهُمْ لَشَيْخٌ كَبِيرٌ لَوْ شَرِبَ الْمَاءَ الْبَارِدَ مَا وَجَدَ بَرْدَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَأَظُنُّهُ أَرَادَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ الَّذِينَ سَمَّاهُمْ لَهُ رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں میں سے صرف تین بچے ہیں، گویا آپ کا اشارہ اس آیت کی طرف تھا ﴿فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾ [سورة التوبة: 12] اور فرمایا: منافقین سے صرف چار بچے ہیں۔ کہتے ہیں: ہمارے پیچھے ایک دیہاتی بیٹھا تھا، وہ کہنے لگا: تم صحابہ کی جماعت ہو تم جانتے ہو، ہم نہیں جانتے؛ تمہارا خیال ہے کہ صرف چار منافق بچے ہیں تو وہ کون ہیں جو راتوں کو ہمارے گھروں کا شیرازہ بکھیرتے ہیں؟ تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: وہ فاسق ہیں اور منافقین میں سے چار ہی بچے ہیں، ان میں سے ایک بہت بوڑھا ہے کہ اگر وہ ٹھنڈا پانی بھی پیے تو اس ٹھنڈک کو نہیں پا سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16846]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح