السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3453. -- باب: ما جاء في حد قذف المحصنات
-- باب: پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17132
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، لَمْ يَذْكُرْ عَائِشَةَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ مِمَّنْ تَكَلَّمَ بِالْفَاحِشَةِ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ: حَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ، وَمِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ النُّفَيْلِيُّ: وَيَقُولُونَ الْمَرْأَةُ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17132]
حدیث نمبر: 17133
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: وَسَمِعْتُ نَاسًا، مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ:" إِنَّ أَصْحَابَ الْإِفْكِ جُلِدُوا الْحَدَّ، وَلَا نَعْلَمُ ذَلِكَ فَشَا.
فلیح بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے اہل علم لوگوں سے سنا کہ اصحابِ افک کو حد کے طور پر کوڑے لگے تھے، اور ہم نہیں جانتے کہ یہ بات مشہور ہوئی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17133]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17134
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْقَاسِمُ ابْنُ أَخِي خَلَّادٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:" بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثِ بْنِ بَكْرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِقْرَارِهِ بِالزِّنَا بِامْرَأَةٍ، وَإِنْكَارِهَا، وَجَلْدِهِ مِائَةً، وَلَمْ يَكُنْ تَزَوَّجَ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شُهُودُكَ أَنَّكَ خَبَثْتَ بِهَا فَإِنَّهَا تُنْكِرُ؟ فَإِنْ كَانَ لَكَ شُهَدَاءُ جَلَدْتُهَا، وَإِلَّا جَلَدْتُكَ حَدَّ الْفِرْيَةِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَا لِي شُهَدَاءُ، فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ بنو لیث بن بکر کا ایک شخص آیا۔ پھر اس کے اقرار اور عورت کے انکار والی لمبی حدیث ذکر کی۔ وہ غیر شادی شدہ تھا تو آپ نے اس کو سو کوڑے لگائے اور پھر فرمایا: ”جس پر تو نے الزام لگایا ہے گواہ لا۔“ تو اس کے پاس گواہ نہیں تھے، پھر آپ نے اسے حدِ قذف لگائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17134]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17135
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ابْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ، امْرَأَةٌ سَمَّاهَا، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا فَأَنْكَرَتْ" فَرَجَمَهُ وَتَرَكَهَا".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے فلاں عورت سے زنا کیا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے معلوم کروایا تو اس نے انکار کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کر دیا اور اس عورت کو چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17135]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17136
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمَجْنُونِ الْحَنَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِرَجُلٍ: يَا فَاعِلُ بِأُمِّهِ، فَقَدَّمَنِي إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ" فَضَرَبَنِي الْحَدَّ" قَالَ يَعْقُوبُ: سَلَمَةُ يُكَنَّى بِأَبِي عَيْثَمَةَ، مِنْ بَنِي شَيْبَانَ، وَقَالَ شُعْبَةُ: عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ.
سلمہ بن مجنون حنفی کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو کہا کہ اے اپنی ماں سے زیادتی کرنے والے، تو وہ مجھے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا تو انہوں نے مجھ پر حد لگائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17136]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17137
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ عَنْ رَاحِلَتِي، فَعَقَلْتُهَا فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَحَلَّ عِقَالَهَا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا فَاعِلُ بِأُمِّهِ، قَالَ: فَقَدَّمَنِي إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ" فَضَرَبَنِي ثَمَانِينَ سَوْطًا"، قَالَ: فَأَنْشَأْتُ أَقُولُ:.
ابومیمونہ کہتے ہیں: میں مدینہ آیا، اپنی سواری کو باندھا اور مسجد میں داخل ہوا تو ایک شخص آیا اور میری سواری کو کھولنے لگا، تو میں نے اسے کہا: اے اپنی ماں سے بدفعلی کرنے والے! تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے اسّی کوڑے مارے، تو میں نے یہ شعر کہا: کاش! اگر تم مجھے دیکھ لیتے، آج کے دن مجھے کھڑا کر کے اسّی کوڑے مارے گئے، لیکن میں صبر کرنے والا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17137]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17138
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ:" مَنْ قَالَ لِلرَّجُلِ: يَا لُوطِيُّ، جُلِدَ الْحَدَّ".
ابوزناد رحمہ اللہ اہل مدینہ کے فقہاء سے روایت کرتے ہیں کہ جو کسی کو کہے: ”اے لوطی!“ تو اسے حدِ تہمت کے کوڑے لگیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17138]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3454. -- باب: العبد يقذف حرا
-- باب: غلام کا کسی آزاد شخص پر تہمت لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17139
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّهُ قَالَ:" جَلَدَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ عَبْدًا فِي فِرْيَةٍ ثَمَانِينَ" قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: أَدْرَكْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَالْخُلَفَاءَ هَلُمَّ جَرَّا، مَا رَأَيْتُ أَحَدًا جَلَدَ عَبْدًا فِي فِرْيَةٍ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ.
ابوزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے غلام کو بھی حدِ قذف کے اسی کوڑے مارے۔
ابوزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ اور دوسرے بہت سے خلفاء رضی اللہ عنہم کو چالیس سے زیادہ کوڑے مارتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17139]
ابوزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ اور دوسرے بہت سے خلفاء رضی اللہ عنہم کو چالیس سے زیادہ کوڑے مارتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17139]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17140
وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ:" لَقَدْ أَدْرَكْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْخُلَفَاءِ، فَلَمْ أَرَهُمْ يَضْرِبُونَ الْمَمْلُوكَ فِي الْقَذْفِ إِلَّا أَرْبَعِينَ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ.
سابقہ روایت کی طرح عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ والی بات ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17140]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3455. -- باب: من قال: لا حد إلا في القذف الصريح
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک صرف صریح تہمت لگانے پر ہی حد واجب ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 17141
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ ⦗٤٣٩⦘ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، قَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا أَلْوَانُهَا؟" قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" هَلْ فِيهَا أَوْرَقُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مِمَّ ذَاكَ؟" قَالَ: ذَاكَ عِرْقٌ نَزَعَهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَعَلَّ ابْنَكَ نَزَعَهُ عِرْقٌ" لَفْظُ حَدِيثِ الْأَسْفَاطِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ میری بیوی نے ایک سیاہ بچے کو جنم دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کا رنگ کیسا ہے؟“ اس نے کہا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کہاں سے آیا ہے؟“ اس نے کہا: اسے کسی رگ نے کھینچا ہو گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہارے اس بیٹے کو بھی کسی رگ نے کھینچنا ہو گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17141]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح