السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3508. -- باب: الإمام فيما يؤدب إن رأى تركه تركه
-- باب: امام (حکمران) تادیب (تعزیر) کے معاملات میں اگر چھوڑ دینا مناسب سمجھے تو اسے ترک کر دے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17553
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَصَابَ رَجُلٌ مِنِ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ، فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَظُمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَظُمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي أَعَظُمَ عَلَيْهِ أَمْ لَا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} [هود: ١١٤] ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَلِي هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ:" هِيَ لِمَنْ أَخَذَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ التَّيْمِيِّ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عورت سے ملامست کر لی، دخول نہیں کیا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے اسے بہت بڑا گناہ جانا، پھر وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی یہی کیا، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، (راوی کہتے ہیں:) مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے بڑا جانا یا نہیں، تو یہ آیت اتری: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ [سورة هود: 114] ”دن کے اطراف میں اور رات کے اندھیرے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں“ تو اس آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا یہ صرف میرے لیے ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میری امت میں سے ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17553]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17554
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأنا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَابْنُ أَبِي سَبْرَةَ، قَالَا:" تَشَاتَمَ رَجُلَانِ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ يَقُلْ لَهُمَا شَيْئًا، وَتَشَاتَمَا عِنْدَ عُمَرَ فَأَدَّبَهُمَا".
ابن جریج اور ابن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں تو آپ نے کچھ نہ کہا؛ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس دیں تو آپ نے انہیں ادب سکھانے کے لیے سزا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17554]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3509. -- باب: السلطان يكره رجلا على أن يدخل نهرا أو ينزل بئرا، أو يرقى نخلة
-- باب: حکمران کسی شخص کو نہر میں داخل ہونے، کنویں میں اترنے، یا کھجور کے درخت پر چڑھنے پر مجبور کرے تو اس کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 17555
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ⦗٥٦٠⦘ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَيَدَاهُ فِي أُذُنَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: يَا لَبَّيْكَاهُ، يَا لَبَّيْكَاهُ، قَالَ النَّاسُ: مَا لَهُ؟ قَالَ: جَاءَهُ بَرِيدٌ مِنْ بَعْضِ أُمَرَائِهِ أَنَّ نَهْرًا حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعُبُورِ، وَلَمْ يَجِدُوا سُفَنًا، فَقَالَ أَمِيرُهُمُ: اطْلُبُوا لَنَا رَجُلًا يَعْلَمُ غَوْرَ الْمَاءِ، فَأُتِيَ بِشَيْخٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ الْبَرْدَ وَذَاكَ فِي الْبَرْدِ، فَأَكْرَهَهُ فَأَدْخَلَهُ، فَلَمْ يُلْبِثْهُ الْبَرْدُ، فَجَعَلَ يُنَادِي: يَا عُمَرَاهُ يَا عُمَرَاهُ فَغَرِقَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ، فَأَقْبَلَ فَمَكَثَ أَيَّامًا مُعْرِضًا عَنْهُ، وَكَانَ إِذَا وَجَدَ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ فَعَلَ بِهِ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَ الرَّجُلُ الَّذِي قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَعَمَّدْتُ قَتْلَهُ، لَمْ نَجِدْ شَيْئًا يُعْبَرُ فِيهِ، وَأَرَدْنَا أَنْ نَعْلَمَ غَوْرَ الْمَاءِ، فَفَتَحْنَا كَذَا وَكَذَا، وَأَصَبْنَا كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:: لَرَجُلٌ مُسْلِمٌ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ جِئْتَ بِهِ، لَوْلَا أَنْ تَكُونَ سُنَّةً لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ، اذْهَبْ فَأَعْطِ أَهْلَهُ دِيَتَهُ، وَاخْرُجْ فَلَا أَرَاكَ.
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور ان کے دونوں ہاتھ ان کے کانوں میں تھے اور وہ کہہ رہے تھے: «يَا لَبَّيْكَاهْ، يَا لَبَّيْكَاهْ» ”اے میں حاضر ہوں، اے میں حاضر ہوں“ تو لوگوں نے کہا: انہیں کیا ہوا؟ (راوی نے) کہا: ان کے پاس ان کے بعض امراء کی طرف سے قاصد آیا ہے کہ ایک نہر ان کے اور پار جانے کے درمیان حائل ہو گئی ہے اور انہیں کشتیاں بھی نہیں ملیں۔ تو ان کے امیر نے کہا: کوئی ایسا شخص تلاش کرو جو پانی کی گہرائی جانتا ہو، تو ایک بوڑھا شخص لایا گیا، اس نے کہا: مجھے سردی کا خوف ہے، اور ان دنوں سردی تھی۔ امیر نے اسے زبردستی پانی میں داخل کر دیا۔ اس سے سردی برداشت نہ ہوئی اور وہ «يَا عُمَرَاهُ، يَا عُمَرَاهُ» ”اے عمر! اے عمر!“ پکارتے ہوئے غرق ہو گیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس (امیر) کو خط لکھا، وہ آیا تو آپ کئی دن تک اس سے منہ پھیرے رہے، اور جب آپ ان میں سے کسی پر ناراض ہوتے تو ایسا ہی کرتے تھے۔ پھر پوچھا: ”اس آدمی کا کیا ہوا جسے تم نے مار ڈالا؟“ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں نے جان بوجھ کر اسے قتل نہیں کیا، ہمیں پار جانے کے لیے کوئی چیز نہ ملی اور ہم پانی کی گہرائی جاننا چاہتے تھے، اور ہم نے فلاں فلاں علاقہ فتح کیا اور فلاں فلاں مال حاصل کیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک مسلمان آدمی مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جو تم لائے ہو۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ طریقہ بن جائے گا تو میں تیری گردن اتار دیتا، جا اور اس کے گھر والوں کو اس کی دیت دے اور چلا جا، میں تجھے (دوبارہ) نہ دیکھوں۔“ [صحیح] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17555]
3510. -- باب: السلطان يكره على الاختتان أو الصبي وسيد المملوك يأمران به، وما ورد في الختان
-- باب: حکمران کا ختنہ کرنے پر مجبور کرنا، یا نابالغ بچے (کا ولی) اور غلام کا آقا اس (ختنہ) کا حکم دیں، اور ختنے کے متعلق وارد شدہ دیگر روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17556
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: الِاخْتِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ" ⦗٥٦١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرت سے ہیں: ختنہ کرنا، زیرِ ناف بال کاٹنا، مونچھوں کو کاٹنا، ناخن کاٹنا اور بغلوں کے بال اکھاڑنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17556]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17557
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْغَزِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ عُثَيْمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ، وَاخْتَتِنْ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ أُخْبِرْتُ عَنْ عُثَيْمِ بْنِ كُلَيَبٍ، إِنَّمَا حَدَّثَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، فَكَنَّى عَنِ اسْمِهِ.
عثیم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ”اپنے سے کفر کے بال اتار دے اور ختنہ کرا لے۔“
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس سند میں ابن جریج نے جو کہا ہے کہ ”مجھے عثیم بن کلیب سے خبر دی گئی“ تو دراصل انہیں یہ حدیث ابراہیم بن ابی یحییٰ نے بیان کی تھی اور انہوں نے ان کا نام چھپا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17557]
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس سند میں ابن جریج نے جو کہا ہے کہ ”مجھے عثیم بن کلیب سے خبر دی گئی“ تو دراصل انہیں یہ حدیث ابراہیم بن ابی یحییٰ نے بیان کی تھی اور انہوں نے ان کا نام چھپا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17557]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 17558
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُنْدَارٍ الْقَزْوِينِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ سَهْلُ بْنُ أَحْمَدَ الدِّيبَاجِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الصُّوفِيُّ قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَبِي عَلِيٍّ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ الْكُوفِيِّ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَجَدْنَا فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّحِيفَةِ:" إِنَّ الْأَقْلَفَ لَا يُتْرَكُ فِي الْإِسْلَامِ حَتَّى يُخْتَتَنُ وَلَوْ بَلَغَ ثَمَانِينَ سَنَةً" وَهَذَا حَدِيثٌ يَنْفَرِدُ بِهِ أَهْلُ الْبَيْتِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار میں ایک صحیفہ ملا جس میں تھا: ”جو بھی بغیر ختنہ کے مسلمان ہو اس کو نہ چھوڑا جائے جب تک کہ وہ ختنہ نہ کر لے، چاہے وہ ۸۰ برس کا ہو۔“
اس حدیث کو اس سند کے ساتھ صرف اہلِ بیت علیہم السلام ہی روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17558]
اس حدیث کو اس سند کے ساتھ صرف اہلِ بیت علیہم السلام ہی روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17558]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ موضوع»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17559
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مَرْوَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ ⦗٥٦٢⦘ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ خَاتِنَةً تَخْتِنُ فَقَالَ:" إِذَا خَتَنْتِ فَلَا تَنْهِكِي، فَإِنَّ ذَلِكَ أَحْظَى لِلْمَرْأَةِ، وَأَحَبُّ إِلَى الْبَعْلِ".
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ختنہ کرنے والی عورت سے فرمایا: ”جب تو عورتوں کا ختنہ کرے تو حد سے نہ بڑھ کیونکہ یہ عورت کا حصہ ہے اور خاوند کے لیے باعثِ لذت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17559]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17560
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْأَشْجَعِيُّ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: عَبْدُ الْوَهَّابِ الْكُوفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ امْرَأَةً، كَانَتْ تَخْتِنُ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَنْهِكِي فَإِنَّ ذَلِكَ أَحْظَى لِلْمَرْأَةِ، وَأَحَبُّ إِلَى الْبَعْلِ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ مَجْهُولٌ، وَهَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“
امام ابوداود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن حسان مجہول ہے اور یہ حدیث ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17560]
امام ابوداود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن حسان مجہول ہے اور یہ حدیث ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17560]
حدیث نمبر: 17561
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا زَكَرِيَّا عَنْ حَدِيثٍ حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَطِيَّةَ تَخْفِضُ الْجَوَارِي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُمَّ عَطِيَّةَ اخْفِضِي وَلَا تَنْهِكِي، فَإِنَّهُ أَسْرَى لِلْوَجْهِ، وَأَحْظَى عِنْدَ الزَّوَاجِ" قَالَ الْغَلَابِيُّ: فَقَالَ أَبُو زَكَرِيَّا وَهُوَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ هَذَا لَيْسَ بِالْفِهْرِيِّ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17561]
حدیث نمبر: 17562
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَفَضْتِ فَأَشِمِّي وَلَا تَنْهِكِي، فَإِنَّهُ أَسْرَى لِلْوَجْهِ، وَأَحْظَى عِنْدَ الزَّوْجِ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا يَرْوِيهِ عَنْ ثَابِتٍ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ، لَا أَعْلَمُ يَرْوِيهِ عَنْهُ غَيْرُهُ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسے ثابت سے زائدہ بن ابی الرقاد روایت کرتے ہیں، میں نہیں جانتا کہ ان کے علاوہ کوئی اور اسے ثابت سے روایت کرتا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17562]
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسے ثابت سے زائدہ بن ابی الرقاد روایت کرتے ہیں، میں نہیں جانتا کہ ان کے علاوہ کوئی اور اسے ثابت سے روایت کرتا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17562]